Main Icon

باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1007

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ لُبَابَةَ بَشِيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ فَلَيْسَ مِنَّا.

عن ابی لبابة بشير بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: من لم يتغن بالقران فليس منا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو لُبابہ بشیر بنعَبدُ المُنْذِررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جو قرآن کو اچھی آواز کے ساتھ نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔“

شرح حدیث

حسین آواز قرآنِ پاک کا زیور ہے:مذکورہ حدیث پاک میں اچھی آواز کے ساتھ تلاوتِ قرآنِ پاک نہ کرنے کی وعید بیان کی گئی ہے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ جو خوش اِلحانی کے ساتھ قرآن نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں یعنی وہ ہمارے ہدایت یافتہ اور ہمارے طریقے پر چلنے والے لوگوں میں سے نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ”تم قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے خوبصورت بناؤ کیونکہ خوبصورت آواز قرآنِ پاک کے حُسن کو زیادہ کردیتی ہے۔“ایک روایت میں ہے کہ”ہر چیز کا زیور ہوتا ہے اور قرآن کا زیور خوبصورت آواز ہے۔“عَلَّامَہْ اِبْن اَبِیْ مُلَیْکَہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ’’اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو اس چاہیے کہ استطاعت کے مطابق اپنی آواز کو حسین بنائے۔“قرآن پڑھنے کا اندازوطریقہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(حدیث مذکور میں لفظ)”یَتَغَنَّیا توغِنَاءٌسے بنا ہےبمعنی خوش الحانی اوراچھے لہجے سے پڑھنا یا غَنَاسے بنا بمعنی بے پرواہی،بے نیازی یعنی جوشخص قرآن شریف خوش اِلحانی سے نہ پڑھے وہ ہمارے طریقے سے خارج ہے۔معلوم ہوا کہ بُری آواز والا بھی بقدرِ طاقت عمدگی سے قرآن شریف پڑھے کہ خوش آواز ہی قرآنِ کریم کا زیور ہے،جس سے تلاوت میں کشش پیدا ہوتی ہے لوگوں کے دِل مائل ہوتے ہیں اس لیے یہ تبلیغ کا ذریعہ ہے۔ یا جسےاﷲقرآن کا علم دے اور وہ لوگوں سے بے نیاز نہ ہوجائے بلکہ اپنے کو اُن کا محتاج سمجھے وہ ہمارے طریقہ یا ہماری جماعت سے خارج ہے عالِم صِرفاﷲرسول کا محتاج ہے اور باقی مخلوق عالِمِ دِین کی حاجت مند ہے اس لیے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھ کر بھیک مانگنا یا عُلما کا مالداروں کے دروازوں پر ذلت سے جانا ممنوع ہے۔اﷲتعالیٰ علمائے دِین کو کفایت بھی دے قناعت بھی۔“
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”واضح ہوکہ بہت سی احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک خوش اِلحانی سے پڑھنامستحب ہے۔خصوصاً یہ حدیث جس میں خوش الحانی نہ کرنے پر ڈانٹ موجود ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ تغنی سے مراد بلند آواز سے پڑھنا ہے اور بعض فرماتے ہیں کہ تغنی بالقرآن سے مراد یہ ہے کہ جسے قرآنِ پاک کا علم مل گیا وہ لوگوں سے بےنیاز ہوگیا اور اپنے مقصود کے ساتھ غنی ہوگیا۔ تحقیقی بات یہ ہے کہ تغنی سے مراد آواز کو خوبصورت و عمدہ بنانا ہے، اسی طرح آواز کی آرائش اُس میں رِقَّت اور سوز پیدا کرنا جس کے سننے سے دلوں میں اثر و سوز پیدا ہو اور جو خوفِ خدا،سکونِ دل اور زیادتیٔ حضورِقلب کا باعث بنے اور دل کو شوق و ذوق سے بھردے مگر خوش آوازی کے ساتھ پڑھنے میں علمِ تجوید کے قوائد کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ کلمات و حروف کو اس طرح پڑھنا جس طرح ترتیب سے موتی پروئے گئے ہوں بہت عمدہ اور بہتر انداز ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’فرقان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر چیز کا زیور ہوتا ہے اور قرآنِ پاک کا زیور اچھی آواز ہے کیونکہ اچھی آواز قرآنِ پاک کے حُسن کو اور بڑھا دیتی ہے۔
(2) اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ تلاوتِ قرآن میں اپنی قدرت کے مطابق آواز کو خوبصورت بنانے کی کوشش کرے۔
(3) اچھی آواز میں قرآنِ پاک پڑھنے سے تلاوت میں کشش پیدا ہوتی ہے، لوگوں کے دِل اس کی طرف مائل ہوتے ہیں، دل میں رِقَّت پیدا ہوتی ہے اور حضورِقلب نصیب ہوتی ہے۔
(4) قرآنِ پاک پڑھ کر بھیک مانگنا اور علما کا مالداروں کے دروازوں پر ذِلَّت سے جانا ممنوع ہے۔
(5) خوش آوازی کے ساتھ پڑھنے میں علِم تجوید کے قوائد کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھی آواز میں تلاوتِ قرآنِ پاک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1007