- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 412
حدیث مبارکہ
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ مَنْ شَهِدَ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَاَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ اَلْقَاهَا اِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ اَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ. ( ) وَ فِی رِوَایَۃٍ لِمُسْلِم : مَنْ شَهِدَ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارَ. ( )
عن عبادة بن الصامت رضى الله عنه قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من شهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله وان عيسى عبد الله ورسوله وكلمته القاها الى مريم وروح منه والجنة حق والنار حق ادخله الله الجنة على ما كان من العمل. ( ) و فی روایۃ لمسلم : من شهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله حرم الله عليه النار. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عُبادَہ بن صامترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” جس نے اس بات کی گواہی دی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے اور رسول ہیں ، حضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَاماللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے ، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے حضرت مریمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے روح ہیں ۔ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے ، تواللہ عَزَّوَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا اس کے عمل جیسے بھی ہوں ۔ “مسلم شریف کی ایک روایت میں یوں ہے : ’’جو اس بات کی گواہی دے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں ، تواللہ عَزَّوَجَلَّاُس پر آگ ( یعنی جہنم ) کو حرام فرما دے گا ۔ ‘‘
شرح حدیث
مذکورہ حدیث کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جواللہ عَزَّوَجَلَّ، اس کے رسول ، حشر و نشر اور جنت و دوزخ پر ایمان رکھتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے جنت میں داخل فرمائے گا خواہ اُس کے اعمال جیسے بھی ہوں ، اِس حدیث میں اس شخص کے لیے بخشش کی بہت بڑی امید ہے جو ایمان کے ساتھ اِس دنیا سے چلا جائے اگر چہ وہ گناہ گار ہو ، اس نے بہت گناہ کیے ہوں پھر بھیاللہ عَزَّوَجَلَّاسے بالآخر جنت میں داخلہ عطا فرمائے گا ۔
¥کیا مسلمان جہنم میں نہیں جائیں گے ؟معلوم ہوا کہ جس نے حدیث میں مذکور باتوں کی گواہی دی تواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔عَلَّامَہ عَبْدُ الرَّؤُوف مَنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں : ’’ جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی وحدانیت اور محمد مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کی گواہی دے یاتو ابتدا میں ( رحمتِ الٰہی سے بغیر حساب و کتاب کے ) جنت میں داخل ہو گا یا پھر اپنے گناہوں کی سزا پاکر ( گناہوں سے ) پاک ہوکرداخل ہوگا ۔ بہر حال مؤمن جنت میں داخل ضرور ہوگا ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوا کہ کوئی بھی گناہ گار مؤمن جہنم میں جائے گا ہی نہیں؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو معاف کردیا جائے گا لیکن یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی مسلمان جہنم میں نہیں جائے گا بلکہ گناہ گار مسلمان جہنم میں جائیں گے اور سزا پوری ہونے سے قبل انہیں معاف کردیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اہلِ سنت کا مذہب یہ ہے کہ جو شخص توحید پر مرا وہ قطعا ہر حال میں جنت میں داخل ہوگا ( ہاں اس کے دخول میں تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ ) اگر وہ گناہوں سے محفوظ رہا ، یا گناہ تو ہوئے لیکن اُس نے شرک و کبیرہ گناہوں سے سچی توبہ کرلی اور پھر توبہ کے بعدکبھی کوئی گناہ نہیں کیا تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور جہنم میں بالکل نہیں جائیں گے اور جس نے کبیرہ گناہ کیے ہوں گے اور پھربغیر توبہ کے مر گیا تو اس کا معاملہاللہ عَزَّوَجَلَّکی مشیت پر ہے ، اگر وہ چاہے
تو اسے معاف فرماکر جنت میں داخل کردے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے ، پھر جنت میں داخل فرما دے ، بہر حال جو بھی ایمان پر مرا وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا اگرچہ اس نے گناہ کیے ہوں جیسے کوئی بھی کافر کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ( اگرچہ بظاہر اس نے جتنی بھی نیکیاں کی ہوں ) ۔ ( )
¥نیکیاں ضروری ہیں :حدیث پاک میں ہے کہ ایمان والے شخص کواللہ عَزَّوَجَلَّجنت میں داخل فرمائے گا خواہ اس کے اعمال کیسے بھی ہوں ۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اب نیک اعمال کی ضرورت نہیں کیوں کہ بے شک جنت میں داخلہ ایمان کی بنیاد پر ہی ہوگا لیکن جنت میں مراتب اَعمال کے مطابق ہی ملیں گے جس کی نیکیاں زیادہ ہوں گی وہ اعلیٰ درجے میں ہوگا اور جس کی نیکیاں کم ہوں گی وہ ادنیٰ درجے میں ہوگا جیسا کہمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اعلیٰ درجے کے متقی کو جنت کا اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اور ادنیٰ متقی کو وہاں کا ادنیٰ مقام ، یہ اُن لوگوں کے لئے ہے جنہیں جنت کسب سے ملے ، جو دوسروں کے طفیل جنت میں جائیں گے وہ اُن کے ساتھ رہیں گے جیسے مسلمانوں کے شیر خوار بچے اور بیویاں ۔ لہٰذا حضرت ابراہیم ابنِرسولُ ﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اَزواجِ پاک جنت میں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ہوں گے ۔ خیال رہے کہ جنت میں داخلہ ایمان کی بنا پر ہوگا ، وہاں کے مَراتِبِ اَعمال کے مطابق ۔ جنت کا داخلہ تین طرح کا ہے کَسبی ، وَہبی ، عطائی یہاں کَسبی کا ذکر ہے ۔ ‘‘ ( )
¥بڑے دھوکوں میں سے ایک دھوکہ :حضرت سَیِّدُنَا یحیی بن مُعاذ رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’میرے نزدیک بڑے دھوکوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی مغفرت کی امید رکھتے ہوئے بغیر کسی ندامت کے گناہوں میں مشغول رہے اور عبادت کے بغیراللہ عَزَّ وَجَلَّکے قُرب کی امید رکھے اور جہنم کا بیج بو کر جنت کی کھیتی کا منتظر رہے اور گناہوں کے ارتکاب کے باوجود اطاعت گزاروں کے گھر کا طالب رہے ، نیز بغیر عمل کے ثواب کا انتظار کرے اور
زیادتی کے باوجوداللہ عَزَّ وَجَلَّسے تمنا رکھے ۔ ‘‘ پھر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ شعر پڑھا :تَرْجُوْا النَّجَاۃَ وَلَمْ تَسْلُکْ مَسَالِکَھَا………اَنَّ السَّفِیْنَۃَ لَا تَجْرِیْ عَلَی الْیَبَسِترجمہ : ’’ تم نجات کی امید تو رکھتے ہو مگر اس کے راستوں پر نہیں چلتے ، یقیناً کشتی خشکی پر نہیں چلا کرتی ۔ ‘‘ ( )
¥حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکا ذِکر خاص کیوں؟مذکورہ حدیث پاک میں حضرت سَیِّدُنَا عیسٰیرُوْحُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی رسالت کا ذکر خاص طور پر فرمایا ، باقی انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکا ذکر نہیں فرمایا گیا ، دراصل خاص اُن کا ذکر یہود و نصاریٰ کا رد کرنے کے لیے ہے ۔ چنانچہ اسی حدیث پاک کے تحت ” مرآۃ المناجیح“میں ہے : ’’یہ فرمان نہایت جامع ہے ۔ عیسائی جناب مسیح کو خدا کا بیٹااور بی بی مریم کو ربّ کی بیوی کہتے تھے ۔ یہودی جناب مسیح کی نبوت کے بھی انکاری تھے اور پاک بتول مریم کو تہمت لگاتے تھے ۔ اس ایک کلمہ میں دونوں کی نفیس تردید ہوگئی ۔ زمانہ موجودہ کے قادیانی آپ کو یوسف نجار کا بیٹا کہتے ہیں اور حضرت مریم کا نکاح ان سے ثابت کرتے ہیں ۔ اس میں ان کی بھی اعلیٰ تردید ہے کہ اگر جناب مسیح باپ کے بیٹے ہوتے تو اسی طرف آپ کی نسبت ہوتی ، قرآن نے بھی انہیں عیسیٰ بن مریم فرمایا حالانکہ فرماتا ہے : (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ) ‘‘ ( ) (پ۲۱ ،الاحزاب: ۵ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو ۔ )
¥حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکوکلمۃ اللہکہنے کی وجہ :حدیثِ پاک میں حضرت سَیِّدُنَا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکوکلمۃُ اللہکہا گیا ہے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئےمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ جناب مسیح کا لقبکَلِمَۃُاﷲہے یا اس لیے کہ آپ کی پیدائش کلمہ ٔکُنْسے ہے ۔ ربّ فرماتا ہے : (αاِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ) ۔ ۔ ۔ الخ ، آدمعَلَیْہِ السَّلَامکوکَلِمَۃُ اللہاس لیے نہیں کہتے کہ ان کے جسم کی پیدائش مٹی سے ہے ، صرف روح پھونکنا کلمۂکُنْسے ، ربّ فرماتا ہے : (α فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ)
مگر جنابِ مسیح کا جسم اور روح سبکُنْسے نطفہ ، علقہ ، مضغہ کچھ نہیں ۔ یا اس لیے کہ جنابِ مسیح از سر تا پااللہکی حجت ہیں گویا سراپا کلمہ ہیں ۔ یا اس لیے کہ آپ ایک کلمہ دم کر کے بیماروں کو تندرست ، مُردوں کو زندہ کرتے تھے ( اس سے بزرگوں کی جھاڑ پھونک ثابت ہوئی ) یا اس لیے کہ آپ نے پیدا ہوتے ہی کلمہ پڑھا کہ کہا : (اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ) ۔ ( )
¥کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت واقعی بہت بڑی ہے یہ اس کا کرم اور اس کا فضل عظیم ہے کہ وہ ہم گناہ گاروں کو ہمیشہ جہنم میں نہیں جلائے گا بلکہ بعض کو اپنے فضل و کرم سے بلا حساب ، بعض کو سزا پوری ہونے سے پہلے اور بعض کو سزا پوری کرنے کے بعد بالآخر جنت میں ہی داخل فرمائے گااگر وہ گناہ گارمسلمانوں کو بھی ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتا تو ہم جیسے گنہگاروں کا کیا ہوتا؟ آئیے ! اپنے پاک پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرلیجئے ، اپنے گناہوں پر ندامت اختیار کرلیجئے ، آئندہ نیکیاں کرنے کا عزم مصمم کرلیجئے ،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّوہ رب تعالیٰ ہماری بھی مغفرت فرمادے گا ، ہمیں بھی بلا حساب داخل جنت فرمادے گا ۔
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی ……… قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی
¥ایک حبشی کی توبہ :ایک حبشی نے سرکارمدینہ ، سُرور قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے گناہ بے شمار ہیں ، کیا میری توبہ بارگاہِ الٰہی میں قبول ہو سکتی ہے ؟ ‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’کیوں نہیں ۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’ کیا وہ مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا بھی رہا ہے ؟ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ہاں ! وہ سب کچھ دیکھتا رہا ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر حبشی نے ایک چیخ ماری اور زمین پر گرتے ہی دم توڑگیا ۔ ( )
گناہ بے عدد اور جرم بھی ہیں لاتعداد ……… معاف کردے نہ سہہ پاؤں گا سزا یاربّ
میں کرکے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں ……… حقیقی توبہ کا کردے شرف عطا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’ربِّ محمد ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)جو شخص تمام ضروریاتِ دین پر ایمان رکھے اور اسی حالت میں اس دنیا سے چلا جائے تواللہ عَزَّوَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔
(2) گناہ گار مسلماناللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل سے ابتداہی میں جنت میں چلے جائیں گے اور اگر فضلِ الٰہی نہ ہوا تو پھر پہلے اپنے گناہوں کی سزا پائیں گے پھر بالآخرجنت میں ہی جائیں گے ۔
(3) گناہوں سے بچنا بہت ضروری ہے کیونکہ گناہوں کی وجہ سے مؤمن جہنم میں جائے گا ۔
(4) نیک اَعمال کرنا بھی ضروری ہے جنت اگرچہ ایمان کی بنیاد پر ملے گی لیکن جنت میں درجے نیک اعمال کے حساب سے ملیں گے ۔
(5) جنت میں داخلہ تین طرح کا ہے : ( ۱ ) کسبی ( ۲ ) وہبی ( ۳ ) عطائی ۔
(6) حضرت سَیِّدُنَاعیسیعَلَیْہِ السَّلَامکوکلمۃُ اللہاس لئے کہتے ہیں کیونکہ آپ کی پیدائشاللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلمۂکُنسے ہوئی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے ، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، کل بروزِ قیامت ہمیں اپنے فضل وکرم سے بلا حساب جنت میں داخل فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 412