Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 419

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِى كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : اِنَّ رَحْمَتِىْ تَغْلِبُ غَضَبِىْ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ : غَلَبَتْ غَضَبِیْ. وَفِی رِوَایَۃٍ : سَبَقَتْ غَضَبِیْ.

عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما خلق الله الخلق كتب فى كتاب فهو عنده فوق العرش : ان رحمتى تغلب غضبى. ( ) وفی روایۃ : غلبت غضبی. وفی روایۃ : سبقت غضبی.

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جباللہ عَزَّ وَجَلَّنے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اُس نے ایک کتاب میں جو اُس کے پاس عرش پر ہے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ “ایک روایت میںتَغْلِبُکے بجائےغَلَبَتْکے الفاظ ہیں ( ) جبکہ دوسری روایت میںسَبَقَتْکے الفاظ ہیں ۔ ( ) ( دونوں صورتوں میں معنیٰ وہی ہے ۔ )

شرح حدیث

ربّ تعالٰی کے پاس ہونے سے مراد :حدیث پاک میں فرمایا کہ ’’وہ تحریراللہ عَزَّوَجَلَّکے پاس ہے ۔ ‘‘ اس کے تحت ” عمدۃ القاری“میں ہے : ’’یعنی جباللہ عَزَّوَجَلَّنے مخلوق کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا تو اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ پاس رکھنے کا معنیٰ یہ نہیں کہ وہ کسی مکان میں ہے بلکہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ مخلوق سے چھپی ہوئی ہے وہ اُس کا اِدراک نہیں کرسکتے ۔ ‘‘ ( )
¥
رسولُ اللہکا علم غیب :مُفَسِّر شہِیر،حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہ تحریر یا تو لوح محفوظ میں ہے دوسری تحریروں کے ساتھ یا تحریر علیحدہ ہے جوربّ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے ، ہر وقت ربّ کی نظر میں ہے ۔ خیال رہے کہ اس قسم کی تحریریں تاکید اور اہمیت ظاہر فرمانے اور اپنے خاص بندوں کو دکھانے کے لیے ہوتی ہیں ، اس لیے نہیں کہ ربّ تعالیٰ کو اپنے بھول جانے کا خطرہ تھا لہٰذا لکھ لیانَعُوْذُ بِاللّٰہ۔ معلوم ہوا کہ وہ تحریر حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دیکھی ہے ، دیکھ کر پڑھ کر ہم کو سنارہے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
وہ تحریر کہاں ہے ؟حدیث میں ہے کہ وہ تحریر عرش پر ہے یعنی لوحِ محفوظ پر نہیں ہے ۔ ” مرآۃ المناجیح“میں ہے : ’’اس

سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریر لوح محفوظ میں نہیں ہے بلکہ خاص تختی پر ہے لوحِ محفوظ پر فرشتوں ، نبیوں ، ولیوں کی نظر ہے مگر اس تحریر پر سوا ہمارے حضور (
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے کسی کی نظر نہیں ، یہ تو حضور کا کرم ہے کہ وہ خاص تحریر ہم کو بتادی ، سنادی ، حضور ربّ کی طرف سے مختار ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
غضب کا مطلب :” تفہیم البخاری“ میں ہے : ’’ پاس رکھنے سے مراد یہ نہیں کہ وہ کسی مکان میں ہے ۔ اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ غضب کا معنیٰ ہے کسی سے انتقام کے ارادے سے دل کے خون کا جوش مارنا ۔ یہاللہتعالیٰ کے لیے متصور نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ غضب سے مراد اس کا لازم ہے وہ یہ کہ کسی کو عذاب دینے کا اِرادہ کرنا ۔ ‘‘ ( ) ( اور یہ معنیٰ ربّ تعالیٰ کے لیے بالکل درست ہے ۔ )
¥
رحمت اور غضب کیا ہے ؟حدیث پاک میں فرمایا کہ رحمت غضب پر سابق ہے حالانکہاللہ عَزَّوَجَلَّکی صفات قدیمہ ہیں تو ان کا یک دوسرے سے آگے یا پیچھے ہونا کیسے متصوّر ہے ؟ چنانچہ ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’علماء فرماتے ہیں کہ غضب اور رحمت دونوںاللہ عَزَّوَجَلَّکے ارادے کو کہتے ہیں ، لہٰذااللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی نیک بندے کوثواب اور جزاء دینے کا اِرادہ کرتا ہے تو اُسے رحمت کہتے ہیں اور جب کسی گنہگار کو سزا دینے اور اُس کی پکڑفرمانے کا اِرادہ کرتا ہے تو اِس ارادے کو غضب کہتے ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّکا ارادہ اس کی صفتِ قدیمہ ہے اسی سے وہ تمام چیزوں کا اِرادہ فرماتا ہے ، رحمت کا غضب پر سبقت لے جانے یا غالب آنے سے رحمت کی کثرت مراد ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
رحمت کے غضب پر حاوی ہونے کے معانی :حدیث پاک میں ہے : ” میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ “مُفَسِّر شہِیرمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے اس کے چند معانی بیان فرمائے ہیں : ’’٭ایک یہ کہ میری رحمت زیادہ ہے میرا عذاب و غضب کم

کہ رحمت ہمیشہ رہتی ہے غضب کبھی کبھی ۔ ٭دوسرے یہ کہ میری رحمت عام ہے جس سے ہر کافر و مؤمن و جن و اِنس حصہ لے رہا ہے ، میرا غضب خاص کافر انسانوں اور جنات پر ۔ ٭تیسرے یہ کہ رحمت ملنے کے اَسباب بہت ہیں : ایمان لانا ، تو بہ کرنا ، عبادت کرنا ، رونا ، ڈرنا ، امید رکھنا ، بندوں پر رحم کرنا مگر غضب کا سبب صرف ایک ہے یعنی نافرمانی کرنا اگرچہ نافرمانی کی نوعیتیں بہت ہیں ۔ ٭چوتھے یہ کہ رحمت پہلے ہے غضب اس کے بعد ہے ، مخلوق کو پیدا فرمانا ، انہیں پالنا ، روزی دینا رحمت ، یہ پہلے ہے ، ان کی نافرمانی پر پکڑنا یہ غضب ہے جو ان رحمتوں کے بعد ہے ۔ دنیا میں بھی اس کی رحمت زیادہ ہے آخرت میں بھی زیادہ ہوگی ۔ ٭پانچویں یہ کہ
اللہکی رحمت تو بغیر سبب بھی مل جاتی ہے مگر اُس کا غضب کسی سبب سے ہی ہوتا ہے ۔ ہم پر اُس نے عالَمِ اَرواح اور ماں کے پیٹ میں رحمتیں کیں ، اُس وقت ہم کون سے اَعمال کررہے تھے ۔ ٭چھٹے یہ کہ رحمت تو ہمارے بغیر استحقاق کے بھی مل جاتی ہے مگر غضب ہمارے استحقاق سے ہی ہوتا ہے ۔ ٭ساتویں یہ کہ رحمت کی بہت قسمیں ہیں : رحمتِ ایجاد ، رحمتِ امداد ، رحمتِ توفیقِ اعمال ، رحمتِ قبول ، رحمتِ جزاءِ عمل وغیرہ مگر غضب کے اقسام بہت تھوڑے ہیں ۔ ٭آٹھویں یہ کہ خلفِ وعید جائز بلکہ واقع ہے مگر خلفِ وعد نا ممکن ہے ۔ اس کی اور وجوہ بھی ہوسکتی ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
خوف اور اُمِّید کے درمیان شخص :سیدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک شخص کے پاس تشریف لائے جو نزع کے عالَم میں تھا ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے پوچھا : ’’خود کو کیسا محسوس کر رہے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’میں اپنے آپ کو اس طرح پاتاہوں کہ گناہوں پر خوف زدہ ہوں اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہوں ۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ایسے وقت میں جب کسی بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں ( امیدوخوف ) جمع ہوجائیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی امید اسے عطا فرماتا ہے اور جس چیز سے وہ خوف زدہ ہوتا ہے اُس سے اُسے اَمن عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
گناہگاروں کا بہت بڑا آسرا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ حدیث مبارکہ ہم گناہگاروں ، سیہ کاروں ، بدکاروں کے لیے بخشش

ومغفرت کا ایک بہت بڑا آسرا ہے ، ربّ تعالیٰ نے تو ہمیں اپنی رحمت کی سبقت وغلبے کی نوید سنادی ، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ اس رحمت وبخشش کی خیرات کو لوٹتا کون ہے ؟ کاش ! ہم سب مسلمان اپنے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں سے توبہ کرلیں ، جو گناہ ہوچکے ہیں ان پر ندامت اختیار کرلیں ، آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرلیں ، نیکیوں پر کمربستہ ہوجائیں ، نیکی کی دعوت کو عام کرنے والے بن جائیں ، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنے والے بن جائیں ، برائیوں سے رُکنے والے اور روکنے والے بن جائیں ، ظاہری وباطنی تمام امراض سے خلاصی نصیب ہوجائے ، تمام اچھی خصلتوں کو اپنانے والے بن جائیں ۔
سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ عَلٰی غَضَبِیْ…… تو نے جب سے سنا دیا یاربّ
آسرا ہم گناہگاروں کا
…… اور مضبوط ہو گیا یاربّمدنی گلدستہ
’’رحمتِ خدا ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت اس کے غضب کے مقابلے میں بہت کثیر ہے ۔
(2)
اللہ عَزَّوَجَلَّکا کسی کو ثواب و جزا دینے کے اِرادے کو رحمت اور کسی کو عذاب دینے یا پکڑ فرمانے کے اِرادے کو غضب کہتے ہیں ۔
(3) حدیث میں جس تحریر کا ذکر ہے وہ لوحِ محفوظ پر نہیں بلکہ علیحدہ سے کسی اور مقام پر لکھی ہوئی ہے ۔
(4) لوحِ محفوظ پر فرشتوں ، نبیوں اور ولیوں کی نظر ہوتی ہے ۔
(5) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نظر صرف لوحِ محفوظ پرہی نہیں بلکہ عرش پر لکھی ہوئی تحریر پر بھی ہے ۔
(6) رحمتِ الٰہی بنا استحقاق کے بھی مل جاتی ہے مگر غضب استحقاق سے ہی ملتاہے ۔
(7) ∞رحمت کی بہت سی قسمیں ہیں جبکہ غضب کی چند قسمیں ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمت کاملہ میں سے حصہ عطا فرمائے ، اپنی رحمت سے ہماری

بخشش ومغفرت فرمائے ، بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 419