Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 418

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ِسَبْيٌ فَاِذَا امْرَاَةٌ مِّنَ السَّبْيِ تَسْعَی اِذْ وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ اَخَذَتْهُ فَاَلْزَقَتْهُ بِبَطْنِهَا فَاَرْضَعَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْاَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟ قُلْنَا : لَا وَاللهِ فَقَالَ : لَلّٰهُ اَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا. ( )

عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ، قال : قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم سبي فاذا امراة من السبي تسعی اذ وجدت صبيا في السبي اخذته فالزقته ببطنها فارضعته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اترون هذه المراة طارحة ولدها في النار؟ قلنا : لا والله فقال : لله ارحم بعباده من هذه بولدها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کچھ قیدی لائے گئے ، پس قیدیوں میں سے ایک عورت دوڑتی پھر رہی تھی جیسے ہی اسے ایک بچہ نظر آیا اس نے بچے کو پکڑ کے اپنے سینے سے لگالیا اور دودھ پلانے لگی ،رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے ، کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے ؟“ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ” خدا کی قسم ! نہیں ۔ “ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’خدا کی قسم ! یہ عورت جتنی اپنے بچے پر مہربان ہےاللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

رحمتِ الٰہی صرف مؤمنوں کو ملے گی :حدیث پاک میں فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں پر ایک ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ “ لفظِ عباد میں تو سب بندے آجاتے ہیں خواہ وہ کافر ہوں یا مؤمن ، اس کا مطلب ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکافر بندوں پر بھی مہربان ہے ؟ اس کا جواب دیتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ” عباد کا لفظ عام ہے یعنی اس میں مسلمان اور کافر سب داخل ہیں لیکن یہاں اس کا معنی مؤمن بندوں کے ساتھ خاص ہے جیسے فرمانِ باری تعالیٰ ہے : (وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ) (پ۹ ،الاعراف:۱۵۶ )(ترجمۂ کنزالایمان: اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لئے لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں ۔ ) لہٰذا رحمتِ الٰہی وسعت کے اعتبار سے عام ہے کہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے لیکن ملے گی انہیں جن کے لیے لکھ دی گئی ہے یعنی مؤمن بندوں کو ۔ “ ( )
¥
ایک سوال اور اس کا جواب :یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث پاک میں فرمایا کہاللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں پر ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے تو وہ بندوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔ حالانکہاللہ عَزَّوَجَلَّتو اپنے بعض مؤمن بندوں کو آگ

میں ڈالے گا تو پھر وہ ماں سے زیادہ مہربان کیسے ہوا؟ اس کے جواب میں
مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’جیسے ماں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ آگ میں جلے ایسے ہی رب تعالیٰ نہیں چاہتا کہ میرا بندہ آگ میں جلے وہ تو ماں سے زیادہ مہربان ہے ۔ خیال رہے کہ یہاں چاہنا بمعنی راضی ہونا ہے نہ کہ بمعنی ارادہ کرنا ، ربّ تعالیٰ نہ کفر سے راضی ہے نہ فسق سے ، دنیا کا ہر کام ربّ تعالیٰ کے اِرادے سے ہے نہ کہ اُس کی رضا سے ، لوگ اپنی حرکتوں سے دوزخ میں جاتے ہیں ربّ تعالیٰ اُن کے اِس جانے سے راضی نہیں ، لہٰذا حدیث صاف ہے اس پر مسئلۂ تقدیر کے اعتراضات نہیں پڑ سکتے ۔ ‘‘ ( )
¥
رحمت الہٰی سے امید رکھنے والے کی نورانی قبر :حضرتِ سَیِّدُناابو غالبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ” میں تجارت کی غرض سے ملک شام آیا جایا کرتا تھا ، وہاں جانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں حضرت سَیِّدُنَا ابو امامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے ۔ میں وہاں ایک نیک شخص کے ہاں قیام کیا کرتا تھا ، ہمارے ساتھ اُس کا بھتیجا بھی رہا کرتا تھا جو اُس کا کہنا نہیں مانتا تھا ، وہ اُسے ڈانٹتا اور مارتا تھا لیکن وہ اُس کی بات نہیں مانتا تھا ۔ ایک بار وہ بیمار ہوگیا ، اس نے اپنے چچا کو وصیت کرنے کے لیے بلایا تو اس نے نے وصیت سننے سے انکار کردیا ۔ میں اُس کو ساتھ لے کر آیا ۔ چچا نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کی اور فرمایا : ” اےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے دشمن ! کیا تو نے ایسا ایسا نہیں کیا؟“ اُس کے بھتیجے نے کہا : ’’اے چچا ! آپ کو جو کہنا تھا کہہ چکے ؟ ‘‘ انہوں نے کہا : ’’ ہاں ۔ ‘‘ تو وہ نوجوان بولا : ’’اے میرے چچا ! اگراللہ عَزَّوَجَلَّمیرا معاملہ میری ماں کے سپرد کر دے تو میری ماں میرے ساتھ کیسا معاملہ فرمائے گی؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا : ’’وہ تجھے جنت میں داخل کر دے گی ۔ ‘‘ تواس نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّمجھ پر میری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ ‘‘ پھر اُس کی روح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر گئی ۔ حضرت غالبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ ہم اس کی قبر کی اینٹیں صحیح کر رہے تھے تبھی ایک اینٹ قبر میں گر گئی ، اس نوجوان کے چچا قبر میں اترے تو نکلنے میں کافی دیر ہوگئی ، میں نے پوچھا : ’’ کیا ہوا اتنی دیر کیوں ہوگئی ۔ ‘‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس کی قبر کو

نور سے بھر دیا ہے اور حدِ نظر تک وسیع فرمادیا ہے ۔ ‘‘ ( )
قبر محبوب کے جلوؤں سے بسادے مالک …… یہ کرم کردے تو میں شاد رہوں گا یاربّمدنی گلدستہ
’’قرآن ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
ایک ماں اپنے بچے پر بہت مہربان ہوتی ہے لیکن ہمارا ربّ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔
(2)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت بہت بڑی ہے اور اس نے اپنی رحمت اپنے مؤمن بندوں کے لیے لکھ دی ہے ۔
(3) جیسے ماں نہیں چاہتی کہ اس کے بچے کو کوئی نقصان پہنچے ایسے ہی ربّ تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ اس کا بندہ جہنم میں جلے ۔
(4) جو
اللہ تَعَالٰیکی رحمت سے امید رکھتا ہے تو چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو ربّ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے بخش دیتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمت کاملہ سے بخش دے ، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، کل بروز قیامت ہمیں جنت میں بلا حساب وکتاب داخلہ نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 418