Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 414

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! مَا

الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ : مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ. ( )

عن جابر رضی اللہ عنہ قال : جاء اعرابی الی النبی صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ! ما

الموجبتان؟ فقال : من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة ومن مات يشرك به شيئا دخل النار. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک اعرابی حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لازم کرنے والی دو چیزیں کیا ہیں؟ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” جو اس حال میں مرا کہ اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس حال میں مَرا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا ۔ “

شرح حدیث

صرف شرک چھوڑنا کافی نہیں :مذکورہ حدیثِ پاک میں فرمایا کہ ” جو شخص ایمان کے ساتھ اس دنیا سے گیا وہ جنت میں جائے گا ۔ “ اس میں بھی بخشش کی بہت بڑی امید ہے کہ چاہے تمہارے گناہ کتنے ہی ہوں اگر تم ایمان کے ساتھ اس دنیا سے گئے تو تم جنت میں جاؤگے ۔ نیز حدیث میں فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنت میں جانے کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ بساللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ شرک نہ کرو باقی ضروریاتِ دین کو مانو یا نہ مانو؟ تو ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو تمام ضروریاتِ دِین پر ایمان لائے وہ جنت میں داخل ہوگا اور ظاہر ہے کہ بندہ اسی وقت مؤمن ہوگا جب کہ اسلام کے تمام ارکان پر ایمان لائے گا ۔ چنانچہ علامہ عبد الرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” حدیث میں صرف شرک کی نفی پر اکتفا ہے کہ توحید کا دعویٰ دراصل رسالت کا ثبوت ہے کیونکہ جس نےاللہ عَزَّوَجَلَّکے رسولوں کو جھٹلایا اس نےاللہ عَزَّوَجَلَّہی کو جھٹلایا اور جس نےاللہ عَزَّوَجَلَّکو جھٹلایا وہ مشرک ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے تم کہو کہ جس نے وضو کیا اس کی نماز صحیح ہوگئی مطلب یہ ہوتا ہے کہ نماز کی تمام شرائط کے ساتھ اسے ادا کیا تو نماز صحیح ہوگئی ۔ بالکل اسی طرح اس حدیث کا مطلب ہے کہ جو اس حال میں مرا کہ وہ ایمان کے تمام اجمالی اور تفصیلی اَحکام پر اِجمالاً اور تفصیلاً ایمان لایا تو وہ جنت میں داخل ہوگایعنی اُس کا اَنجام جنت میں داخلہ ہوگا اور اگر اُسے جہنم میں ڈال دیا گیا تو گناہوں سے پاکی

کے لیے ڈالا جائے گاپھر وہ جنت میں ہی جائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥
حدیث میں شرک سے مرادکفر ہے :حدیث میں شرک سے مراد کفر ہے یعنی جو کفر کی حالت میں مرا وہ جہنم میں جائے گااور جو ایمان کی حالت میں مرا وہ جنت میں جائے گا ۔مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی کفر کرتا ہوا ( مرا ) جس کی ایک قسم شرک بھی ہے ۔ دیکھو دہریہ ، آریہ وغیرہ سب جہنمی ہیں اگرچہ مشرک نہیں ، ایسے مقامات میں شرک سے مراد کفر ہوتا ہے ، اس کا مقابل ایمان ہے نہ کہ توحید ۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّوَجَلَّایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے ، اور بلا حساب جنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’مسجد ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
بندے کے گناہ جتنے بھی ہوں اگر وہ اس دنیا سے ایمان کی حالت میں رخصت ہوگا تواللہ عَزَّوَجَلَّاپنے فضل و کرم سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔
(2) شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے کیونکہ گناہ گار مسلمان اپنی سزا پاکر جنت میں جائیں گے ۔
(3) صرف شرک سے بچنا جنت میں جانے کے لیے کافی نہیں بلکہ اسلام کے تمام ارکان و احکام کو ماننا بھی ضروری ہے کیونکہ یہاں شرک کا مطلب کفر ہے یعنی جو اسلام کے تمام احکام کو مانتا ہوا اِس دنیا سے گیا وہ جنت میں جائے گا لہٰذا دہریہ اور آریہ وغیرہ جہنمی ہیں کیونکہ اگرچہ وہ مشرک نہیں لیکن وہ مسلمان بھی نہیں ۔
(4) جو شخص کفر کی حالت میں مرا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ اِیمان پر اِستقامت عطا فرمائے ، ایمان پر ہی خاتمہ نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 414