Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 436

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ اَنْ يَاْكُلَ الْاَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا اَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا. ( )

عن انس بن مالك رضی اللہ عنہ ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ان الله ليرضى عن العبد ان ياكل الاكلة فيحمده عليها او يشرب الشربة فيحمده عليها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے وہ فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے سے خوش ہوتا ہے جو کھانا کھاکر اُس کی حمد کرے یا پانی پی کر اُس کی حمد کرے ۔ ‘‘

شرح حدیث

رحمتِ الٰہی کے قربان :مذکورہ حدیث پاک میں گنہگار مسلمانوں کے لیے مغفرت کی بڑی امید ہے کہ وہ کھانا کھائیں یا پانی پئیں پھراللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کریں تواللہ عَزَّ وَجَلَّان سے خوش ہوتا ہے حالانکہ کھانا کھانا اور پانی پینا انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس میں اُس کا اپنا ہی فائدہ ہے مگر قربان جائیے اپنے ربّ کی رحمت کے کہ اُسی کا دیا

ہوا رزق کھاکراگر بندہ حمدِ الٰہی کے صرف دو لفظ بول دے تو
اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندے سے خوش ہوجاتا ہے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے جب خوش ہونا بولا جائے تو اِس سے مراد یا تو بندے کے عمل کو قبول کرنا ہے یا پھر اُس کا ارادہ ہے ۔ جباللہ عَزَّ وَجَلَّاس کھانے سے خوش ہوجاتا ہے جو اُس کی حمد کا سبب ہے حالانکہ کھانے کا نفع خود اُس بندے کو ہے تو پھر اس حمد پر کیونکر خوش نہ ہوگا جس میں بندے کا کوئی ( دنیاوی ) نفع نہ ہو ۔ ‘‘ ( )رَحْمتِ حق ” بہا“نہ می جوید…… رَحْمتِ حق ” بہانہ“ می جویدیعنیاللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ” بہا“قیمت نہیں مانگتی بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت تو ” بہانہ“ ڈھونڈتی ہے ۔
¥
حمدِ باری کا اعلٰی درجہ :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ”اَ کْلَۃٌ“کے ہمزہ کو اگر زبر کے ساتھ پڑھیں تو اس کا معنیٰ ہوگا : ایک وقت کا پیٹ بھر کر کھانا اور اگر’’اُ کْلَۃٌ‘‘ ہمزہ پر پیش کے ساتھ پڑھیں تو اِس کا معنیٰ ہوگا : ایک لقمہ ۔ اورایک ایک لقمے پر حمدِ باری بجالانابہت اعلیٰ درجے کا شکر ہے لیکن یہاں حدیث میں پہلے معنی زیادہ موافق ہیں کیونکہ اس کے بعد’’الشَّرْبَةَ‘‘ کا لفظ ہے جس کا معنیٰ ہے ایک دفعہ پانی پینا ( نہ کہ ایک گھونٹ پینا ) ۔ ‘‘ ( )
¥
کھانے کے بعداللہکی حمدکرو :مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ اگرکسی وقت تھوڑا سا کھانا بھی کھائے ، ایک آدھ لقمہ تب بھی خدا کی حمد کرے ۔ دوسرے یہ کہ کھاتے وقت ہر لقمہ پراللہکی حمد کرے ، ہم نے بعض بزرگوں کو کھانے کے ہر لقمے اور پانی کے ہر گھونٹ پر حمد کرتے دیکھا ہے ۔ ‘‘ ( )

¥
کھانے کے بعد حمد مستحب ہے :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں ہے کہ کھانے اور پینے کے بعداللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرنا مستحب ہے ۔ بخاری شریف میں حمدِ باری تعالیٰ کرنے کی صفت یوں بیان کی گئی ہے : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيْرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا‘‘ اس کے علاوہ اور بھی روایات ہیں اور اگر صرفاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہہ دیا جائے تب بھی حمد کی سنت ادا ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( )گناہوں کی معافی کا نسخہ :حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد حمدِ باری تعالی کرنی چاہیے اس سے رب تعالیٰ راضی ہوتا ہے چنانچہ ترمذی شریف میں فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’جو شخص کھانا کھائے اور یہ کلمات پڑھے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ وہ کلِمات یہ ہیں : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ھٰذَا وَ رَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَاقُوَّ ۃٍیعنی تمام تعریفیںاللہتعالیٰکے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھاناکِھلایا اور میری کسی مَہارت وقوت کے بِغیر مجھے یہ رِزق عطا فرمایا ۔ ‘‘ ( )امیراہلسنت اور کھانے کھاتے ہوئےذکرُاللہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آج کے اس پرفتن دور میں جہاں لوگ سنن ومستحبات پر عمل تو دور کی بات فرائض وواجبات کو بھی ترک کرتے نظر آتے ہیں ، امیراہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی ذات اس کوشش میں مصروفِ عمل ہے کہ تمام مسلمان نہ صرف فرائض وواجبات بلکہ سنن ومستحبات کے بھی عامل بن جائیں ، ہر مسلمان کی زندگی پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کے سانچے میں ڈھل جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاکثرمعاملات میں حتّٰی کہ کھانا کھاتے ہوئے بھی اسلامی بھائیوں کی اس بہترین انداز میں مدنی تربیت فرماتے نظر آتے ہیں کہ جس سے ان کا کھانا بھی عبادت بن جائے ۔ کھانے کی سنتوں اور آداب کے حوالے چندجھلکیاں ملاحظہ فرمائیے :

٭ آپ کھانا کھانے سے قبل اچھی اچھی نیتوں کرواتے ہیں تاکہ کھانے کے ساتھ ساتھ ثواب کا خزانہ بھی ہاتھ آجائے کہ مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اور جتنی نیتیں زیادہ اتنا ثواب زیادہ ۔
٭ کھانے سے قبل کھانے کا وضو کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں کہ یہ سنت مبارکہ ہے اور احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔
٭کھانا کھاتے ہوئے سنت کے مطابق بیٹھنے اور کھانا بھی سنت کے مطابق تین انگلیوں سے کھانے کی ترغیب دلاتے ہیں ۔ نیز تین انگلیوں سے کھانا کھانے کی سنت پرعمل کی معاونت کے لیے ربربینڈ بھی تقسیم فرماتے ہیں تاکہ اسلامی بھائی تین انگلیوں سے کھانے کی سنت پر بھی عمل کرکے ثواب کمائیں ۔
٭کھانا کھانے سے قبل
بسم اللہاور کھانے کی دعا وغیرہ پڑھنے کی بھی ترغیب دلاتے ہیں تاکہ روایات کے مطابق شیطان اس کھانے میں شریک نہ ہوسکے ۔
٭مذکورہ حدیث پاک کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہر لقمہ کھانے اور ہر گھونٹ پینے سے قبل
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا نام لینے اور لقمہ کھالینے اور گھونٹ پی لینے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّکہنے کی ترغیب دلاتے ہیں ۔ نیز ہر لقمہ پریَاوَاجِدُکہنے کی بھی ترغیب دلاتے ہیں کہ روایات کے مطابق کھانا کھاتے وقت ہر نوالے پریَاوَاجِدُپڑھنے سے وہ کھانا پیٹ میں نور ہوگا اور مرض دور ہوگا ۔
٭کھانا کھانے کے دوران بھی کھانے کی مختلف سنتیں اور آداب بیان فرماتے رہتے ہیں ۔
٭کھانا کھانے کے بعد شکر الٰہی بجالانے اور کھانے کے بعد کی دعائیں پڑھنے کی بھی ترغیب دلاتے ہیں ، آپ کو بارہا دیکھا گیا ہے کہ آپ کھانے کے بعد حمد الٰہی پر مشتمل پانچ دعائیں پڑھتے ہیں ، نیز کھانے کے بعد سورۂ اخلاص اور سورۂ قریش کی تلاوت کرنا بھی آپ کے معمول میں شامل ہے ۔
کھانا کھانے کی سنتیں اورآداب کی تفصیلی معلومات کے لیے شیخ طریقت ، امیراہلسنت
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف’’آداب طعام ‘‘ کا مطالعہ کیجیے ۔
مری عادتیں ہوں بہتر بنوں سنتوں کا پیکر ……… مجھے متقی بنانا مدنی مدینے والے
شہاایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں ……… تری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے

تری سنتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر ……… چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے
مدنی گلدستہ
’’یا رحمٰن ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
کھاناکھانے یا پانی پینے کے بعداللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرنی چاہیے کیونکہ اس سےاللہ عَزَّوَجَلَّخوش ہوتا ہے ۔
(2)
اللہکریم کی رحمت بندے کو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے کہ جس چیز میں ہمارا اپنا فائدہ ہے اس پر حمد کرنے سے بھی ربّ تعالیٰ ہم سے راضی ہوجاتا ہے ۔
(3) ہر ہر لقمے پر حمدِ باری تعالیٰ بجالانا اعلیٰ درجے کا شکر ہے ۔
(4)
اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی کھانے کے ہر ہر لقمے اور پانی کے ہر ہر گھونٹ پراللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرتے ہیں ۔
(5) کھاناکھانے اور پانی پینے کے بعد
اللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرنا مستحب ہے ۔
(6) صرف
اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہنے سے بھی حمدِ باری تعالیٰ ہوجاتی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کھانا سنت کے مطابق کھانے ، کھانے کے دوران بھیذکرُاللہسے غافل نہ ہونے اور کھانے کے بعد شکراورحمدِ الٰہی بجالانے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 436