- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 436
اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 436
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ اَنْ يَاْكُلَ الْاَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا اَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا. ( )
عن انس بن مالك رضی اللہ عنہ ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ان الله ليرضى عن العبد ان ياكل الاكلة فيحمده عليها او يشرب الشربة فيحمده عليها. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے وہ فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے سے خوش ہوتا ہے جو کھانا کھاکر اُس کی حمد کرے یا پانی پی کر اُس کی حمد کرے ۔ ‘‘
شرح حدیث
رحمتِ الٰہی کے قربان :مذکورہ حدیث پاک میں گنہگار مسلمانوں کے لیے مغفرت کی بڑی امید ہے کہ وہ کھانا کھائیں یا پانی پئیں پھراللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کریں تواللہ عَزَّ وَجَلَّان سے خوش ہوتا ہے حالانکہ کھانا کھانا اور پانی پینا انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس میں اُس کا اپنا ہی فائدہ ہے مگر قربان جائیے اپنے ربّ کی رحمت کے کہ اُسی کا دیا
ہوا رزق کھاکراگر بندہ حمدِ الٰہی کے صرف دو لفظ بول دے تواللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندے سے خوش ہوجاتا ہے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے جب خوش ہونا بولا جائے تو اِس سے مراد یا تو بندے کے عمل کو قبول کرنا ہے یا پھر اُس کا ارادہ ہے ۔ جباللہ عَزَّ وَجَلَّاس کھانے سے خوش ہوجاتا ہے جو اُس کی حمد کا سبب ہے حالانکہ کھانے کا نفع خود اُس بندے کو ہے تو پھر اس حمد پر کیونکر خوش نہ ہوگا جس میں بندے کا کوئی ( دنیاوی ) نفع نہ ہو ۔ ‘‘ ( )رَحْمتِ حق ” بہا“نہ می جوید…… رَحْمتِ حق ” بہانہ“ می جویدیعنیاللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ” بہا“قیمت نہیں مانگتی بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت تو ” بہانہ“ ڈھونڈتی ہے ۔
¥حمدِ باری کا اعلٰی درجہ :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ”اَ کْلَۃٌ“کے ہمزہ کو اگر زبر کے ساتھ پڑھیں تو اس کا معنیٰ ہوگا : ایک وقت کا پیٹ بھر کر کھانا اور اگر’’اُ کْلَۃٌ‘‘ ہمزہ پر پیش کے ساتھ پڑھیں تو اِس کا معنیٰ ہوگا : ایک لقمہ ۔ اورایک ایک لقمے پر حمدِ باری بجالانابہت اعلیٰ درجے کا شکر ہے لیکن یہاں حدیث میں پہلے معنی زیادہ موافق ہیں کیونکہ اس کے بعد’’الشَّرْبَةَ‘‘ کا لفظ ہے جس کا معنیٰ ہے ایک دفعہ پانی پینا ( نہ کہ ایک گھونٹ پینا ) ۔ ‘‘ ( )
¥کھانے کے بعداللہکی حمدکرو :مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ اگرکسی وقت تھوڑا سا کھانا بھی کھائے ، ایک آدھ لقمہ تب بھی خدا کی حمد کرے ۔ دوسرے یہ کہ کھاتے وقت ہر لقمہ پراللہکی حمد کرے ، ہم نے بعض بزرگوں کو کھانے کے ہر لقمے اور پانی کے ہر گھونٹ پر حمد کرتے دیکھا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥کھانے کے بعد حمد مستحب ہے :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں ہے کہ کھانے اور پینے کے بعداللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرنا مستحب ہے ۔ بخاری شریف میں حمدِ باری تعالیٰ کرنے کی صفت یوں بیان کی گئی ہے : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيْرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا‘‘ اس کے علاوہ اور بھی روایات ہیں اور اگر صرفاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہہ دیا جائے تب بھی حمد کی سنت ادا ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( )گناہوں کی معافی کا نسخہ :حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد حمدِ باری تعالی کرنی چاہیے اس سے رب تعالیٰ راضی ہوتا ہے چنانچہ ترمذی شریف میں فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’جو شخص کھانا کھائے اور یہ کلمات پڑھے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ وہ کلِمات یہ ہیں : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ھٰذَا وَ رَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَاقُوَّ ۃٍیعنی تمام تعریفیںاللہتعالیٰکے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھاناکِھلایا اور میری کسی مَہارت وقوت کے بِغیر مجھے یہ رِزق عطا فرمایا ۔ ‘‘ ( )امیراہلسنت اور کھانے کھاتے ہوئےذکرُاللہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آج کے اس پرفتن دور میں جہاں لوگ سنن ومستحبات پر عمل تو دور کی بات فرائض وواجبات کو بھی ترک کرتے نظر آتے ہیں ، امیراہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی ذات اس کوشش میں مصروفِ عمل ہے کہ تمام مسلمان نہ صرف فرائض وواجبات بلکہ سنن ومستحبات کے بھی عامل بن جائیں ، ہر مسلمان کی زندگی پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کے سانچے میں ڈھل جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاکثرمعاملات میں حتّٰی کہ کھانا کھاتے ہوئے بھی اسلامی بھائیوں کی اس بہترین انداز میں مدنی تربیت فرماتے نظر آتے ہیں کہ جس سے ان کا کھانا بھی عبادت بن جائے ۔ کھانے کی سنتوں اور آداب کے حوالے چندجھلکیاں ملاحظہ فرمائیے :
٭ آپ کھانا کھانے سے قبل اچھی اچھی نیتوں کرواتے ہیں تاکہ کھانے کے ساتھ ساتھ ثواب کا خزانہ بھی ہاتھ آجائے کہ مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اور جتنی نیتیں زیادہ اتنا ثواب زیادہ ۔
٭ کھانے سے قبل کھانے کا وضو کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں کہ یہ سنت مبارکہ ہے اور احادیث میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔
٭کھانا کھاتے ہوئے سنت کے مطابق بیٹھنے اور کھانا بھی سنت کے مطابق تین انگلیوں سے کھانے کی ترغیب دلاتے ہیں ۔ نیز تین انگلیوں سے کھانا کھانے کی سنت پرعمل کی معاونت کے لیے ربربینڈ بھی تقسیم فرماتے ہیں تاکہ اسلامی بھائی تین انگلیوں سے کھانے کی سنت پر بھی عمل کرکے ثواب کمائیں ۔
٭کھانا کھانے سے قبلبسم اللہاور کھانے کی دعا وغیرہ پڑھنے کی بھی ترغیب دلاتے ہیں تاکہ روایات کے مطابق شیطان اس کھانے میں شریک نہ ہوسکے ۔
٭مذکورہ حدیث پاک کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہر لقمہ کھانے اور ہر گھونٹ پینے سے قبلاللہ عَزَّ وَجَلَّکا نام لینے اور لقمہ کھالینے اور گھونٹ پی لینے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّکہنے کی ترغیب دلاتے ہیں ۔ نیز ہر لقمہ پریَاوَاجِدُکہنے کی بھی ترغیب دلاتے ہیں کہ روایات کے مطابق کھانا کھاتے وقت ہر نوالے پریَاوَاجِدُپڑھنے سے وہ کھانا پیٹ میں نور ہوگا اور مرض دور ہوگا ۔
٭کھانا کھانے کے دوران بھی کھانے کی مختلف سنتیں اور آداب بیان فرماتے رہتے ہیں ۔
٭کھانا کھانے کے بعد شکر الٰہی بجالانے اور کھانے کے بعد کی دعائیں پڑھنے کی بھی ترغیب دلاتے ہیں ، آپ کو بارہا دیکھا گیا ہے کہ آپ کھانے کے بعد حمد الٰہی پر مشتمل پانچ دعائیں پڑھتے ہیں ، نیز کھانے کے بعد سورۂ اخلاص اور سورۂ قریش کی تلاوت کرنا بھی آپ کے معمول میں شامل ہے ۔
کھانا کھانے کی سنتیں اورآداب کی تفصیلی معلومات کے لیے شیخ طریقت ، امیراہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف’’آداب طعام ‘‘ کا مطالعہ کیجیے ۔
مری عادتیں ہوں بہتر بنوں سنتوں کا پیکر ……… مجھے متقی بنانا مدنی مدینے والے
شہاایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں ……… تری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے
تری سنتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر ……… چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والےمدنی گلدستہ
’’یا رحمٰن ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)کھاناکھانے یا پانی پینے کے بعداللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرنی چاہیے کیونکہ اس سےاللہ عَزَّوَجَلَّخوش ہوتا ہے ۔
(2)اللہکریم کی رحمت بندے کو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے کہ جس چیز میں ہمارا اپنا فائدہ ہے اس پر حمد کرنے سے بھی ربّ تعالیٰ ہم سے راضی ہوجاتا ہے ۔
(3) ہر ہر لقمے پر حمدِ باری تعالیٰ بجالانا اعلیٰ درجے کا شکر ہے ۔
(4)اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی کھانے کے ہر ہر لقمے اور پانی کے ہر ہر گھونٹ پراللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرتے ہیں ۔
(5) کھاناکھانے اور پانی پینے کے بعداللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرنا مستحب ہے ۔
(6) صرفاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہنے سے بھی حمدِ باری تعالیٰ ہوجاتی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کھانا سنت کے مطابق کھانے ، کھانے کے دوران بھیذکرُاللہسے غافل نہ ہونے اور کھانے کے بعد شکراورحمدِ الٰہی بجالانے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 436