- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 423
اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 423
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي اَيُّوبَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْلَا اَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللهُ خَلْقًا يُذْنِبُوْنَ فَيَسْتَغْفِرُوْنَ فيَغْفِرُ لَهُمْ . ( )
عن ابي ايوب رضی اللہ عنہ ، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول : لولا انكم تذنبون لخلق الله خلقا يذنبون فيستغفرون فيغفر لهم . ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ایوب انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : ” اگر تم لوگ گناہ نہیں کروگے تواللہ عَزَّوَجَلَّایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے پھراللہ عَزَّوَجَلَّسے توبہ کریں گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُنہیں معاف فرمادے گا ۔ “
شرح حدیث
صحابہ کرام کا خوفِ خدا :” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’یہ حدیث لوگوں کو گناہوں پر اُبھارنے کے لیے نہیں بلکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تسلی کے لیے اور اُن کے خوفِ خدا کی شدت میں کمی کرنے کے لیے ہے کیونکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر خوفِ خدا کا اتنا غلبہ تھا کہ اُن میں سے بعض حضرات عبادت کے لیے آبادی سے بھاگ کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے گئے اور بعض نے اپنی عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور بعض نے نیند کو
چھوڑ دیا تھا ۔ نیز اس حدیث میںاللہ عَزَّوَجَلَّسے مغفرت ملنے کی بڑی اُمید ہے ۔ ‘‘ ( )
¥گناہ کرنے والی قوم کی پیدائش :مذکورہ حدیث میں فرمایا کہ اگر تم گناہ نہ کروگے تو وہ دوسری قوم کو لائے گا جو گناہ کریں گے اوراللہ عَزَّوَجَلَّانہیں معاف فرمائے گا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہاللہ عَزَّوَجَلَّگناہ کروانے کے لیے ایک قوم کو پیدا کرے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے علمِ ازلی میں ایک قوم ایسی ہے جسے وہ پیدا کرے گا اور وہ گناہ کریں گے ، پھر معافی مانگیں گے تواللہ عَزَّوَجَلَّاُنہیں معاف فرمائے گا ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جو کچھ ہونے والا ہے وہاللہ عَزَّوَجَلَّکے علمِ ازلی میں ہے اور اس کے علم میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ گنہگاروں کو بخشے گا ، اگر یہ فرض کیا جائے کہ گناہ ہی نہ ہوں تواللہ عَزَّوَجَلَّایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں معاف فرمائے گا ۔ “ ( )
¥گنہگاروں کو بخشنااللہکو پسند ہے :اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث گناہوں میں مگن لوگوں کی تسلی کے لیے نہیں ( جیسا کہ بعض کم علم لوگوں نے گمان کیا ، بے شک انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکو اسی لیے مبعوث کیا گیا تاکہ وہ گنہگاروں کو گناہوں کی دلدل سے باہر نکالیں ۔ ) ، بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّکی مغفرت کے بیان اور گنہگاروں کو معاف کرنے کے کے لیے ہے تاکہ وہ توبہ میں رغبت کریں ۔ حدیث کا معنیٰ مرادی یہ ہے کہ جس طرحاللہ عَزَّ وَجَلَّکو یہ پسند ہے کہ وہ نیکوکاروں کو ثواب عطا کرے ، اسی طرح اُسے یہ بھی پسند ہے کہ وہ گنہگاروں کو معاف فرمائے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے کئی صفاتی نام اس بات کی دلیل ہیں جیسےاَلْغَفَّار( بخشنے والا )اَلْحَلِیْم(حلم والا )اَلتَّوَّاب(توبہ قبول کرنے والا )اَلْعَفُوّ( معاف فرمانے والا ) ۔اللہ عَزَّوَجَلَّنے بندوں کو ایک فطرت پر پیدا نہیں فرمایا جیسا کہ ملائکہ تمام کے تمام ایک ہی فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں کہ وہ گناہوں سے پاک ہیں بلکہ اس نے بندوں کو الگ الگ فطرت پر پیدا کیا ، بندوں میں سے کچھ اپنی خواہشاتِ نفس کی طرف مائل ہیں اُن کا نفس جو چاہتا ہے وہ وہی
کرتے ہیں ، پھراللہ عَزَّوَجَلَّانہیں گناہوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے اور گناہوں کے پاس جانے سے ڈراتا ہے اور انہیں توبہ کا راستہ دکھاتا ہے ، پھر اگر وہ گناہوں سے بچتے ہیں تو ان کا اجر و ثواباللہ عَزَّوَجَلَّکے ذمہ کرم پر ہے اور اگر وہ خطا کرے تو پھر بھی توبہ کا راستہ اُن کے پاس ہے ۔ پسرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ( اس حدیث سے یہ سمجھانے کا ) قصد فرمایا کہ اگر تم بھی ملائکہ کی فطرت پر پیدا کیے جاتے توربّ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے پھراللہ عَزَّوَجَلَّاپنی صفتِ غفاری کے مقتضیٰ کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ فرمائے گا ۔ بے شکغَفَّاراس بات کا تقاضا کرتا ہے کہمَغْفُور( جسے بخشا جائے وہ موجود ) ہو جیسا کہرَزَّاق( رزق دینے والا ) اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہمَرْزُوْق( جس کو رزق دیا جائے وہ موجود ) ہو ۔ ‘‘ ( )
مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’اس حدیث کا مقصد لوگوں کو گناہ پر دلیر کرنا نہیں بلکہ توبہ کی طرف مائل کرنا ہے یعنی اے انسانو ! اگر تم بھی فرشتوں کی طرح سارے ہی معصوم بے گناہ ہوتے تو کوئی قوم ایسی پیدا کی جاتی جو غلطی و خطاء سے گناہ کرلیا کرتی پھر توبہ کرتی اسے ربّ تعالیٰ معاف کرتا کیونکہ خلقت ربّ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہے اور جیسے ربّ کی صفترَزَّاقہے ایسے ہی اس کی صفتغَفَّاربھی ہے ۔ رَزَّاقیت کا ظہور رِزق و مَرزوق سے ہوتا ہے ، غفاریت کی جلوہ گری گناہ اور گنہگار سے ہوتی ہے ۔ جو یہ حدیث دیکھ کر گناہ پر دلیر ہو اور پھر گناہ کرے تو کافر ہوا اور یہاں ذکر گناہ کا ہے نہ کہ کفر کا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اے گنہگار ! ربّ کی رحمت سے مایوس نہ ہو بلکہ توبہ کر لے وہ غفور رحیم ہے ، تجھ سے گناہ کا صدور تقاضائے حکمت الٰہی ہے ، تم سے کوئی گناہ نہ ہویہ ناممکن ہے ۔ ‘‘ ( )
¥رحمت الٰہی کی اُمید ونااُمیدی دِلانے کا انجام :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو ربّ تعالیٰ کی رحمت سے امید دلائی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّبڑا بخشنے والا اور غفور رحیم ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کو ربّ کی رحمت سے مایوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی رحمت الٰہی سے امید
بندھانی چاہیے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ حضرت اَبان بن ابی عیاشعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاباُمید کا کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے ۔ کسی نے انہیں خواب میں دیکھ کر حال دریافت کیا تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اپنی بارگاہِ عالی میں کھڑا کرکے اِستفسار فرمایا : تو امید کا کثرت سے ذکر کیوں کرتا تھا؟ میں نے عرض کی : ’’ میں چاہتا تھا کہ مخلوق کے دل میں تیری محبت اُجاگر کروں ۔ یہ سن کراللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بخش دیا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا زید بن اَسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ پچھلی اُمَّت میں ایک شخص تھا جوخوب عبادت کرتاتھا ، نفس پر سختی اور لوگوں کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے مایوس کرتاتھا ۔ وہ مرگیااور بارگاہِ اِلٰہی میں حاضر ہوا تو اس نے کہا : اے میرے ربّ ! میرے لئے تیرے ہاں کیااجرہے ؟ربّ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” آگ ۔ “اس نے کہا : میری عبادت وریاضت کا کیا ہوا؟ربّ تعالیٰ نے فرمایا : ” جس طرح تو لوگوں کو دنیا میں میری رحمت سے مایوس کرتا تھا آج کے دن میں تجھے اپنی رحمت سے مایوس کرتا ہوں ۔ ‘‘ ( )برائیوں پہ پشیماں ہو رحم فرمادے………ہے تیرے قہر پہ حاوی تری عطا یاربّرہائی مجھ کو ملے کاش نفس وشیطاں سے………ترے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یاربّمدنی گلدستہ
’’یا غَفَّار ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور
اُن کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر خوفِ خدا کا اتنا غلبہ تھا کہ بعض صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندنیا سے کنارہ کشی کرکے پہاڑوں کی طرف نکل گئے ۔
(2) اِس حدیث کا مقصداللہ عَزَّوَجَلَّکی بے پایاں رحمت و مغفرت بیان کرناہے ۔
(3) گنہگاروں کو معاف کرنااللہ عَزَّوَجَلَّکو پسند ہے ۔
(4)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفتِ غفاری اِس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی گنہگار ہو جسے وہ معاف فرمائے ۔
(5) حدیث کا ایک مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی رحمتِ الٰہی سے مایوس نہ ہو ۔
(6) جب بندے سے گناہ ہوتا ہے تو وہ اپنے گناہ کا اِعتراف کرتا ہے ، اس پر نادم ہوتا ہے پھر اپنے ربّ سے توبہ و اِستِغفار کرتا ہے اور بندے کااپنے گناہوں سے معافی مانگنا ربّ تعالیٰ کو پسند ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی پاک بارگاہ میں توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 423