Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 423

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي اَيُّوبَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْلَا اَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللهُ خَلْقًا يُذْنِبُوْنَ فَيَسْتَغْفِرُوْنَ فيَغْفِرُ لَهُمْ . ( )

عن ابي ايوب رضی اللہ عنہ ، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول : لولا انكم تذنبون لخلق الله خلقا يذنبون فيستغفرون فيغفر لهم . ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ایوب انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : ” اگر تم لوگ گناہ نہیں کروگے تواللہ عَزَّوَجَلَّایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے پھراللہ عَزَّوَجَلَّسے توبہ کریں گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُنہیں معاف فرمادے گا ۔ “

شرح حدیث

صحابہ کرام کا خوفِ خدا :” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’یہ حدیث لوگوں کو گناہوں پر اُبھارنے کے لیے نہیں بلکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تسلی کے لیے اور اُن کے خوفِ خدا کی شدت میں کمی کرنے کے لیے ہے کیونکہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر خوفِ خدا کا اتنا غلبہ تھا کہ اُن میں سے بعض حضرات عبادت کے لیے آبادی سے بھاگ کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے گئے اور بعض نے اپنی عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور بعض نے نیند کو

چھوڑ دیا تھا ۔ نیز اس حدیث میں
اللہ عَزَّوَجَلَّسے مغفرت ملنے کی بڑی اُمید ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
گناہ کرنے والی قوم کی پیدائش :مذکورہ حدیث میں فرمایا کہ اگر تم گناہ نہ کروگے تو وہ دوسری قوم کو لائے گا جو گناہ کریں گے اوراللہ عَزَّوَجَلَّانہیں معاف فرمائے گا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہاللہ عَزَّوَجَلَّگناہ کروانے کے لیے ایک قوم کو پیدا کرے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے علمِ ازلی میں ایک قوم ایسی ہے جسے وہ پیدا کرے گا اور وہ گناہ کریں گے ، پھر معافی مانگیں گے تواللہ عَزَّوَجَلَّاُنہیں معاف فرمائے گا ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جو کچھ ہونے والا ہے وہاللہ عَزَّوَجَلَّکے علمِ ازلی میں ہے اور اس کے علم میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ گنہگاروں کو بخشے گا ، اگر یہ فرض کیا جائے کہ گناہ ہی نہ ہوں تواللہ عَزَّوَجَلَّایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں معاف فرمائے گا ۔ “ ( )
¥
گنہگاروں کو بخشنااللہکو پسند ہے :اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث گناہوں میں مگن لوگوں کی تسلی کے لیے نہیں ( جیسا کہ بعض کم علم لوگوں نے گمان کیا ، بے شک انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکو اسی لیے مبعوث کیا گیا تاکہ وہ گنہگاروں کو گناہوں کی دلدل سے باہر نکالیں ۔ ) ، بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّکی مغفرت کے بیان اور گنہگاروں کو معاف کرنے کے کے لیے ہے تاکہ وہ توبہ میں رغبت کریں ۔ حدیث کا معنیٰ مرادی یہ ہے کہ جس طرحاللہ عَزَّ وَجَلَّکو یہ پسند ہے کہ وہ نیکوکاروں کو ثواب عطا کرے ، اسی طرح اُسے یہ بھی پسند ہے کہ وہ گنہگاروں کو معاف فرمائے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے کئی صفاتی نام اس بات کی دلیل ہیں جیسےاَلْغَفَّار( بخشنے والا )اَلْحَلِیْم(حلم والا )اَلتَّوَّاب(توبہ قبول کرنے والا )اَلْعَفُوّ( معاف فرمانے والا ) ۔اللہ عَزَّوَجَلَّنے بندوں کو ایک فطرت پر پیدا نہیں فرمایا جیسا کہ ملائکہ تمام کے تمام ایک ہی فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں کہ وہ گناہوں سے پاک ہیں بلکہ اس نے بندوں کو الگ الگ فطرت پر پیدا کیا ، بندوں میں سے کچھ اپنی خواہشاتِ نفس کی طرف مائل ہیں اُن کا نفس جو چاہتا ہے وہ وہی

کرتے ہیں ، پھر
اللہ عَزَّوَجَلَّانہیں گناہوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے اور گناہوں کے پاس جانے سے ڈراتا ہے اور انہیں توبہ کا راستہ دکھاتا ہے ، پھر اگر وہ گناہوں سے بچتے ہیں تو ان کا اجر و ثواباللہ عَزَّوَجَلَّکے ذمہ کرم پر ہے اور اگر وہ خطا کرے تو پھر بھی توبہ کا راستہ اُن کے پاس ہے ۔ پسرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ( اس حدیث سے یہ سمجھانے کا ) قصد فرمایا کہ اگر تم بھی ملائکہ کی فطرت پر پیدا کیے جاتے توربّ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے پھراللہ عَزَّوَجَلَّاپنی صفتِ غفاری کے مقتضیٰ کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ فرمائے گا ۔ بے شکغَفَّاراس بات کا تقاضا کرتا ہے کہمَغْفُور( جسے بخشا جائے وہ موجود ) ہو جیسا کہرَزَّاق( رزق دینے والا ) اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہمَرْزُوْق( جس کو رزق دیا جائے وہ موجود ) ہو ۔ ‘‘ ( )
مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’اس حدیث کا مقصد لوگوں کو گناہ پر دلیر کرنا نہیں بلکہ توبہ کی طرف مائل کرنا ہے یعنی اے انسانو ! اگر تم بھی فرشتوں کی طرح سارے ہی معصوم بے گناہ ہوتے تو کوئی قوم ایسی پیدا کی جاتی جو غلطی و خطاء سے گناہ کرلیا کرتی پھر توبہ کرتی اسے ربّ تعالیٰ معاف کرتا کیونکہ خلقت ربّ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہے اور جیسے ربّ کی صفت
رَزَّاقہے ایسے ہی اس کی صفتغَفَّاربھی ہے ۔ رَزَّاقیت کا ظہور رِزق و مَرزوق سے ہوتا ہے ، غفاریت کی جلوہ گری گناہ اور گنہگار سے ہوتی ہے ۔ جو یہ حدیث دیکھ کر گناہ پر دلیر ہو اور پھر گناہ کرے تو کافر ہوا اور یہاں ذکر گناہ کا ہے نہ کہ کفر کا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اے گنہگار ! ربّ کی رحمت سے مایوس نہ ہو بلکہ توبہ کر لے وہ غفور رحیم ہے ، تجھ سے گناہ کا صدور تقاضائے حکمت الٰہی ہے ، تم سے کوئی گناہ نہ ہویہ ناممکن ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
رحمت الٰہی کی اُمید ونااُمیدی دِلانے کا انجام :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو ربّ تعالیٰ کی رحمت سے امید دلائی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّبڑا بخشنے والا اور غفور رحیم ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کو ربّ کی رحمت سے مایوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی رحمت الٰہی سے امید

بندھانی چاہیے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ حضرت اَبان بن ابی عیاش
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاباُمید کا کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے ۔ کسی نے انہیں خواب میں دیکھ کر حال دریافت کیا تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اپنی بارگاہِ عالی میں کھڑا کرکے اِستفسار فرمایا : تو امید کا کثرت سے ذکر کیوں کرتا تھا؟ میں نے عرض کی : ’’ میں چاہتا تھا کہ مخلوق کے دل میں تیری محبت اُجاگر کروں ۔ یہ سن کراللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بخش دیا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا زید بن اَسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ پچھلی اُمَّت میں ایک شخص تھا جوخوب عبادت کرتاتھا ، نفس پر سختی اور لوگوں کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے مایوس کرتاتھا ۔ وہ مرگیااور بارگاہِ اِلٰہی میں حاضر ہوا تو اس نے کہا : اے میرے ربّ ! میرے لئے تیرے ہاں کیااجرہے ؟ربّ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” آگ ۔ “اس نے کہا : میری عبادت وریاضت کا کیا ہوا؟ربّ تعالیٰ نے فرمایا : ” جس طرح تو لوگوں کو دنیا میں میری رحمت سے مایوس کرتا تھا آج کے دن میں تجھے اپنی رحمت سے مایوس کرتا ہوں ۔ ‘‘ ( )برائیوں پہ پشیماں ہو رحم فرمادے………ہے تیرے قہر پہ حاوی تری عطا یاربّرہائی مجھ کو ملے کاش نفس وشیطاں سے………ترے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یاربّمدنی گلدستہ
’’یا غَفَّار ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور
اُن کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر خوفِ خدا کا اتنا غلبہ تھا کہ بعض صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندنیا سے کنارہ کشی کرکے پہاڑوں کی طرف نکل گئے ۔
(2) اِس حدیث کا مقصد
اللہ عَزَّوَجَلَّکی بے پایاں رحمت و مغفرت بیان کرناہے ۔
(3) گنہگاروں کو معاف کرنا
اللہ عَزَّوَجَلَّکو پسند ہے ۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفتِ غفاری اِس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی گنہگار ہو جسے وہ معاف فرمائے ۔
(5) حدیث کا ایک مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی رحمتِ الٰہی سے مایوس نہ ہو ۔

(6) جب بندے سے گناہ ہوتا ہے تو وہ اپنے گناہ کا اِعتراف کرتا ہے ، اس پر نادم ہوتا ہے پھر اپنے ربّ سے توبہ و اِستِغفار کرتا ہے اور بندے کااپنے گناہوں سے معافی مانگنا ربّ تعالیٰ کو پسند ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی پاک بارگاہ میں توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 423