Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 428

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الْكَافِرَ اِذَا عَمِلَ حَسَنَةً اُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا وَاَمَّا الْمُؤْمِنُ فَاِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى

طَاعَتِهِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ : اِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطٰى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَاَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ لِلَّهِ تَعَالٰی فِي الدُّنْيَا حَتّٰى اِذَا اَفْضٰى اِلَى الْآخِرَةِ لَمْ یَکُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزٰى بِهَا. ( )

عن انس رضی اللہ عنہ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ان الكافر اذا عمل حسنة اطعم بها طعمة من الدنيا واما المؤمن فان الله تعالی يدخر له حسناته في الآخرة ويعقبه رزقا في الدنيا على

طاعته.وفی روایۃ : ان الله لا يظلم مؤمنا حسنة يعطى بها في الدنيا ويجزى بها في الآخرة واما الكافر فيطعم بحسنات ما عمل لله تعالی في الدنيا حتى اذا افضى الى الآخرة لم یکن له حسنة يجزى بها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” جب کافر کوئی نیک عمل کرتاہے تواُس کے بدلے میں دنیا میں ہی اس کو کھاناکھلا دیا جاتاہے اورمؤمن کی نیکیوں کواللہ عَزَّ وَجَلَّآخرت کے لیے جمع فرماتا ہے اور دنیا میں اُس کو رِزق اُس کی اِطاعت اور فرمانبرداری کرنے پر عطا فرماتا ہے ۔ “ ایک روایت میں یوں ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّبندۂ مؤمن پر نیکیوں میں زیادتی و ظلم نہیں فرماتا ، بعض نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی عطا فرمادیتا ہے اور کچھ کی جزا آخرت میں عطا فرما ئے گا اور کافر کی وہ نیکیاں جو اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے کی ہوتی ہیں ان کے بدلے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کو دنیا میں ہی کھانا کھلا دیتا ہے یہاں تک کہ جباللہ عَزَّ وَجَلَّکافر کوآخرت میں لائے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کا اُس کو بدلہ دیا جائے ۔ ‘‘

شرح حدیث

کافر خسارے میں ہے :نزہۃ القاری میں ہے : علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کافر اگر کفر پر مرے تو اُس کے اَعمالِ حسنہ پر کوئی ثواب نہیں ملے گا ۔ لیکن جو اِسلام سے مشرف ہوا اور اِسلام پر مَرااسے زمانہ کفر کی نیکیوں کا ثواب ملے گا یا نہیں اِس میں اختلاف ہے ، ابن بطال اور دوسرے محققین کہتے ہیں کہ اُن اَعمالِ خیر کا ثواب ملے گا مگر امام قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہودوسرے ائمہ محققین فرماتے ہیں کہ زمانہ کفر کے اَعمالِ خیر پر اسے اجر نہیں ملے گا اور اُصول کے یہی مطابق ہے ، اس لیے کہ نیکی کو نیکی ہونے کے لیے نیتِ طاعت ضروری ہے اور کافر نیت کا اَہل نہیں ، یہ ہوسکتا ہے کہ بعض خصوصیات کی وجہ سے کسی خاص کافر کو کچھ اجر ملے جیسے ابولہب کے عذاب میں تخفیف ہوئی ۔ ( )
¥
مؤمنوں پر ربّ تعالٰی کا فضل وکرم :یہاللہ عَزَّوَجَلَّکا بڑا فضل وکرم ہے کہ مؤمن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی اُسے نیکیوں کا اجر ملے گا ۔ چنانچہمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُالْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی مؤمن کو اس کی نیکیوں کا فائدہ دنیا میں بھی ملتا ہے ، ربّ تعالیٰ فرماتا ہے : (α وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲)وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-) (پ۲۸ ،الطلاق: ۳ ، ۲ ) (ترجمۂ کنزالایمان: اورجواللہسے ڈرےاللہاس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو ۔ ) تقویٰ کی برکت سے ہر آفت سے نجات ، رزق میں فراخی ، عزت و عظمت سب ملتی ہے مگر یہاں کی چیزوں سے اس کی آخرت کی جزاکم نہیں ہوتی جیسے سرکاری ملازم کا بھتہ تنخواہ میں نہیں کٹتا اور کافر کی دنیاوی تکالیف آخرت کے عذاب کو کم نہیں کرتیں جیسے ملزم کی حوالات کا زمانہ جیل کی مدت میں نہیں کٹتا ۔ ( آخرت میں کافر کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کا اجر اسے دیا جائے ۔ ) یعنی کافر جو دنیا میں ہو ا ، دھوپ ، غذا پانی وغیرہ کھاپی لیتا ہے وہ اس کی نیکیوں کے حساب میں آجاتا ہے ۔ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کا حساب صاف ہوچکا ہوگا وہاں کچھ نہ پائے گا ۔ مؤمن دنیا میں قانون سے کھاتا پیتا ہے ، آخرت میں محبت سے اجر پائے گا ۔ قانون میں حساب ہے ، محبت میں بے حسابی ۔ ہوٹل میں کھانا حساب سے ملتا ہے ، دعوت میں بغیر حساب کے کہ ہوٹل قانون کی جگہ ، دعوت محبت کا ظہور : (α یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ) مؤمن کی دنیاوی تکالیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں حتی کہ بیماریاں ، فکریں ، رِزق کی تنگی سب کفارات ہیں : (α مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ)کا یہ ہی مطلب ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
ایک جملہ دنیا وآخرت کی تباہی کا سبب :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہاللہ عَزَّوَجَلَّکا بڑا فضل وکرم ہے کہ مؤمن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی اُسے اجر ملے گا ۔ مگر ہمیشہ بندے کو ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس سے میرے اعمال تباہ وبرباد ہوجائیں کہ بسا اوقات ایک جملہ بھی دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب بن جاتا ہے ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” بنی اسرائیل کے دو شخصوں کے مابین دوستی تھی ، ان میں سے ایک گناہوں میں مبتلا رہتا تھا اور دوسرا عبادت گزار تھا ۔ عبادت گزار جب بھی گناہگار کو دیکھتا تو اسے گناہوں سے باز رہنے کا کہتا ۔ ایک روز اُس نے اسے کوئی گناہ کرتے دیکھا تو باز رہنے کا

کہا ۔ گناہگار نے کہا : مجھے میرے رب پر چھوڑ دو ، کیا تم مجھ پر نگران ہو؟عبادت گزار نے کہا : خدا کی قسم !
اللہ عَزَّ وَجَلَّتیری مغفرت نہیں فرمائے گایا تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا ۔ مرنے کے بعد دونوں جب بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوئے تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے عبادت گزار سے فرمایا : کیا تجھے میرے متعلق سب کچھ علم ہے یا میرے اختیارات تیرے قبضے میں ہیں ؟ گناہگار سے ارشاد فرمایا : جا میری رحمت سے جنت میں دخل ہوجا ۔ اور عبادت گزار کے متعلق فرمایا : اسے جہنم میں لے جاؤ ۔ ‘‘ اس کے بعد حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں میری جان ہے ! اس عبادت گزار نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا وآخرت تباہ کردی ۔ ‘‘ ( )
یا خدا میری مغفرت فرما ……… باغِ فردوس مرحمت فرما
دِین اسلام پر مجھے یاربّ ……… اِستقامت تو مرحمت فرما
تو گناہوں کو کر معاف
اللہ……… میری مقبول معذرت فرما
مصطفے ٰ کا وسیلہ توبہ پر ……… تو عنایت مداومت فرما
مدنی گلدستہ
’’مدینہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
کافر اگر کوئی نیکی کرتا ہے تو اس نیکی کا بدلہ اُسے دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے ۔
(2) کافر جب خدا کی بار گاہ میں جائے گا تو اس کے پا س کوئی نیکی نہ ہو گی ۔
(3) مسلمان کی نیکیاں آخرت میں جمع ہوتی رہتی ہیں ۔
(4) مسلمان کی کوئی بھی نیکی ضائع نہیں ہوتی ۔
(5) بندہ مؤمن کو جو دنیامیں رزق ملتا ہے وہ
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت اور فرما برداری کرنے کے صلہ میں ملتا ہے جبکہ آخرت میں جو اسے جزا دی جائے گی وہ فضل خداوندی کے سبب ہوگی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا وآخرت دونوں کی بھلائیاں عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 428