- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 428
اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 428
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الْكَافِرَ اِذَا عَمِلَ حَسَنَةً اُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا وَاَمَّا الْمُؤْمِنُ فَاِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى
طَاعَتِهِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ : اِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطٰى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَاَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ لِلَّهِ تَعَالٰی فِي الدُّنْيَا حَتّٰى اِذَا اَفْضٰى اِلَى الْآخِرَةِ لَمْ یَکُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزٰى بِهَا. ( )
عن انس رضی اللہ عنہ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ان الكافر اذا عمل حسنة اطعم بها طعمة من الدنيا واما المؤمن فان الله تعالی يدخر له حسناته في الآخرة ويعقبه رزقا في الدنيا على
طاعته.وفی روایۃ : ان الله لا يظلم مؤمنا حسنة يعطى بها في الدنيا ويجزى بها في الآخرة واما الكافر فيطعم بحسنات ما عمل لله تعالی في الدنيا حتى اذا افضى الى الآخرة لم یکن له حسنة يجزى بها. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” جب کافر کوئی نیک عمل کرتاہے تواُس کے بدلے میں دنیا میں ہی اس کو کھاناکھلا دیا جاتاہے اورمؤمن کی نیکیوں کواللہ عَزَّ وَجَلَّآخرت کے لیے جمع فرماتا ہے اور دنیا میں اُس کو رِزق اُس کی اِطاعت اور فرمانبرداری کرنے پر عطا فرماتا ہے ۔ “ ایک روایت میں یوں ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّبندۂ مؤمن پر نیکیوں میں زیادتی و ظلم نہیں فرماتا ، بعض نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی عطا فرمادیتا ہے اور کچھ کی جزا آخرت میں عطا فرما ئے گا اور کافر کی وہ نیکیاں جو اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے کی ہوتی ہیں ان کے بدلے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کو دنیا میں ہی کھانا کھلا دیتا ہے یہاں تک کہ جباللہ عَزَّ وَجَلَّکافر کوآخرت میں لائے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کا اُس کو بدلہ دیا جائے ۔ ‘‘
شرح حدیث
کافر خسارے میں ہے :نزہۃ القاری میں ہے : علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کافر اگر کفر پر مرے تو اُس کے اَعمالِ حسنہ پر کوئی ثواب نہیں ملے گا ۔ لیکن جو اِسلام سے مشرف ہوا اور اِسلام پر مَرااسے زمانہ کفر کی نیکیوں کا ثواب ملے گا یا نہیں اِس میں اختلاف ہے ، ابن بطال اور دوسرے محققین کہتے ہیں کہ اُن اَعمالِ خیر کا ثواب ملے گا مگر امام قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہودوسرے ائمہ محققین فرماتے ہیں کہ زمانہ کفر کے اَعمالِ خیر پر اسے اجر نہیں ملے گا اور اُصول کے یہی مطابق ہے ، اس لیے کہ نیکی کو نیکی ہونے کے لیے نیتِ طاعت ضروری ہے اور کافر نیت کا اَہل نہیں ، یہ ہوسکتا ہے کہ بعض خصوصیات کی وجہ سے کسی خاص کافر کو کچھ اجر ملے جیسے ابولہب کے عذاب میں تخفیف ہوئی ۔ ( )
¥مؤمنوں پر ربّ تعالٰی کا فضل وکرم :یہاللہ عَزَّوَجَلَّکا بڑا فضل وکرم ہے کہ مؤمن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی اُسے نیکیوں کا اجر ملے گا ۔ چنانچہمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی مؤمن کو اس کی نیکیوں کا فائدہ دنیا میں بھی ملتا ہے ، ربّ تعالیٰ فرماتا ہے : (α وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲)وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-) (پ۲۸ ،الطلاق: ۳ ، ۲ ) (ترجمۂ کنزالایمان: اورجواللہسے ڈرےاللہاس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو ۔ ) تقویٰ کی برکت سے ہر آفت سے نجات ، رزق میں فراخی ، عزت و عظمت سب ملتی ہے مگر یہاں کی چیزوں سے اس کی آخرت کی جزاکم نہیں ہوتی جیسے سرکاری ملازم کا بھتہ تنخواہ میں نہیں کٹتا اور کافر کی دنیاوی تکالیف آخرت کے عذاب کو کم نہیں کرتیں جیسے ملزم کی حوالات کا زمانہ جیل کی مدت میں نہیں کٹتا ۔ ( آخرت میں کافر کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کا اجر اسے دیا جائے ۔ ) یعنی کافر جو دنیا میں ہو ا ، دھوپ ، غذا پانی وغیرہ کھاپی لیتا ہے وہ اس کی نیکیوں کے حساب میں آجاتا ہے ۔ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کا حساب صاف ہوچکا ہوگا وہاں کچھ نہ پائے گا ۔ مؤمن دنیا میں قانون سے کھاتا پیتا ہے ، آخرت میں محبت سے اجر پائے گا ۔ قانون میں حساب ہے ، محبت میں بے حسابی ۔ ہوٹل میں کھانا حساب سے ملتا ہے ، دعوت میں بغیر حساب کے کہ ہوٹل قانون کی جگہ ، دعوت محبت کا ظہور : (α یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ) مؤمن کی دنیاوی تکالیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں حتی کہ بیماریاں ، فکریں ، رِزق کی تنگی سب کفارات ہیں : (α مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ)کا یہ ہی مطلب ہے ۔ ‘‘ ( )
¥ایک جملہ دنیا وآخرت کی تباہی کا سبب :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہاللہ عَزَّوَجَلَّکا بڑا فضل وکرم ہے کہ مؤمن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی اُسے اجر ملے گا ۔ مگر ہمیشہ بندے کو ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس سے میرے اعمال تباہ وبرباد ہوجائیں کہ بسا اوقات ایک جملہ بھی دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب بن جاتا ہے ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” بنی اسرائیل کے دو شخصوں کے مابین دوستی تھی ، ان میں سے ایک گناہوں میں مبتلا رہتا تھا اور دوسرا عبادت گزار تھا ۔ عبادت گزار جب بھی گناہگار کو دیکھتا تو اسے گناہوں سے باز رہنے کا کہتا ۔ ایک روز اُس نے اسے کوئی گناہ کرتے دیکھا تو باز رہنے کا
کہا ۔ گناہگار نے کہا : مجھے میرے رب پر چھوڑ دو ، کیا تم مجھ پر نگران ہو؟عبادت گزار نے کہا : خدا کی قسم !اللہ عَزَّ وَجَلَّتیری مغفرت نہیں فرمائے گایا تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا ۔ مرنے کے بعد دونوں جب بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوئے تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے عبادت گزار سے فرمایا : کیا تجھے میرے متعلق سب کچھ علم ہے یا میرے اختیارات تیرے قبضے میں ہیں ؟ گناہگار سے ارشاد فرمایا : جا میری رحمت سے جنت میں دخل ہوجا ۔ اور عبادت گزار کے متعلق فرمایا : اسے جہنم میں لے جاؤ ۔ ‘‘ اس کے بعد حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں میری جان ہے ! اس عبادت گزار نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا وآخرت تباہ کردی ۔ ‘‘ ( )
یا خدا میری مغفرت فرما ……… باغِ فردوس مرحمت فرما
دِین اسلام پر مجھے یاربّ ……… اِستقامت تو مرحمت فرما
تو گناہوں کو کر معافاللہ……… میری مقبول معذرت فرما
مصطفے ٰ کا وسیلہ توبہ پر ……… تو عنایت مداومت فرمامدنی گلدستہ
’’مدینہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)کافر اگر کوئی نیکی کرتا ہے تو اس نیکی کا بدلہ اُسے دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے ۔
(2) کافر جب خدا کی بار گاہ میں جائے گا تو اس کے پا س کوئی نیکی نہ ہو گی ۔
(3) مسلمان کی نیکیاں آخرت میں جمع ہوتی رہتی ہیں ۔
(4) مسلمان کی کوئی بھی نیکی ضائع نہیں ہوتی ۔
(5) بندہ مؤمن کو جو دنیامیں رزق ملتا ہے وہاللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت اور فرما برداری کرنے کے صلہ میں ملتا ہے جبکہ آخرت میں جو اسے جزا دی جائے گی وہ فضل خداوندی کے سبب ہوگی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا وآخرت دونوں کی بھلائیاں عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 428