Main Icon

باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 987

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:اَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى اِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ قَالَ: آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ فَلَمْ يَزَلْ يَقُوْلُ ذٰلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِيْنَةَ.

عن انس رضي الله عنه قال:اقبلنا مع النبی صلى الله عليه وسلم حتى اذا كنا بظهر المدينة قال: آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون فلم يزل يقول ذلك حتى قدمنا المدينة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہم حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ (غزوۂ خیبر سے) واپس لوٹےحتّٰی کہ جب مدینہ طیبہ کے سامنے پہنچےتو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَیعنی ہم لوٹنےوالے ہیں،توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والےاور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں۔“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسلسل یہ کلمات کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔

شرح حدیث

آيِبُوْنَاورتَائِبُوْنَسے مراد:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:آيِبُوْنَسے مرادہماللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف لوٹنے والے ہیں،اس میں یہ اشارہ ہے کہ ہم اپنے وطن کی طرف لوٹنے والے ہیں۔تَائِبُوْنَیعنی ہم توبہ کرنے والے ہیں اور توبہ یہ ہے کہ جو چیز شریعت میں مذموم ہو اس سے اس چیز کی طرف رجوع کرنا جو شریعت میں محمود ہو۔علامہ شہاب الدین قَسْطَلَّانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس توبہ کرنے میں عبادت میں کوتاہی کی طرف اشارہ ہے اور حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا بطورِ عاجزی ہے یا تعلیمِ اُمَّت کے لئے ہے۔“( )دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:”حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیشہ تائب ،عابد اور ساجد رہا کرتے اور یہ بات انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکے آداب میں شامل ہے کہ وہ حضرات صرف اور صرف خود کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکامحتاج ہونے کا اظہار کرتے ہیں تاکہ اس کا شکر خوب ادا ہواگرچہ وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے پاس اپنے مقام کو جانتے ہیں اور اس خوف سے امن میں ہیں جس میں دوسرے مبتلا ہیں۔“مدنی گلدستہ’’توبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) سفر سے واپسی پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر اور اس کی حمد بجا لانی چاہیے۔
(2) عبادت میں کوتاہی پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ کرنی چاہیے۔
(3) حضور نبی پاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیشہ تائب،عابد اور ساجد رہے۔
(4) انبیاء
عَلَیْہِمُ السَّلَاماپنے مقام کو جانتے ہیں اور اس خوف سے امن میں ہیں جس میں دوسرے مبتلا ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سفر سے بخیریت لوٹنے پر اس کی حمد اور شکر بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 987