Main Icon

باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 712

جلد 6

حدیث مبارکہ

وَاَمَا اْلاَحَادِيْثُ فَمِنْهَا:حَدِيْثُ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّذِيْ سَبَقَ فِيْ بَابِ اِكْرامِ اهْلِ بَيْتِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْنَا خَطِيْبًا فَحَمِدَ اللهَ وَاَثْنٰی عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ:اَمَّا بَعْدُ! اَلَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ يُوْشِكُ اَنْ يَاْتِيَ رَسُوْلُ رَبِّيْ فَاُجِيْبَ وَاَنَا تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَلَيْنِ:اَوَّلُهُمَا:كِتَابُ اللهِ فِيْهِ الْهُدٰى وَالنُّوْرُ فَخُذُوْا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوْا بِهِ“ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيْهِ، ثُمَّ قَالَ:وَاَهْلُ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ.

واما الاحاديث فمنها:حديث زيد بن ارقم رضي الله عنه الذي سبق في باب اكرام اهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا خطيبا فحمد الله واثنی عليه ووعظ وذكر ثم قال:اما بعد! الا ايها الناس انما انا بشر يوشك ان ياتي رسول ربي فاجيب وانا تارك فيكم ثقلين:اولهما:كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله، واستمسكوا به“ فحث على كتاب الله ورغب فيه، ثم قال:واهل بيتي اذكركم الله في اهل بيتي.

حدیث ترجمہ

مذکورہ باب کی احادیث میں سے حضرت سَیِّدُنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوالی حدیث بھی ہے کہ جورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَہل بیت کرام کی تعظیم والے باب میں گزرچکی ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا زید بن ارقمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثنا کی اور لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا: ”خبردار اے لوگو! میں ایک انسان ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اُس کا پیغام قبول کرلوں، میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اُن میں سے پہلی تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے پس تماللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔“چنانچہ آپ نےکِتَابُ اللّٰہپر عمل کرنے پر ابھارا ور اس کی رغبت دلائی۔پھر فرمایا: ”اور میرے اَہل بیت، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلقاللّٰہسے ڈراتا ہوں۔“

شرح حدیث

اہل بیت کے متعلق وصیت:مذکورہ حدیث پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اُس خطبے کا ذکر ہے جس میں آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے قرآنِ مجید کو مضبوطی سے تھامنے اور اَہل بیت اَطہار کی تعظیم و توقیر کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔فیض القدیر میں ہے:”اے لوگو! میں ایک انسان ہوں قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد یعنی ملک الموت میرے پاس آجائے اورمیں اُس کا پیغام قبول کرلوں یعنی اپنی رضامندی سے موت کو اختیار کرلوں۔میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، اُن میں سے ایککِتابُ اللّٰہہے جس میں گمراہی سے ہدایت ہے اور نور ہے تو تم اس پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے پکڑلو کیونکہ یہ قرآ نِ مجید بلند مرتبے اور سعادتِ ابدیہ تک پہنچانے کاسبب ہے اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں اور اہل بیت سے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے وہ قرابت دار مراد ہیں کہ جنہیں صدقہ دینا حرام ہے نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اہل بیت کے بارے میں اس لیے وصیت کی کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامان مصیبتوں اور بلاؤں سے واقف تھے جو آپ کے بعد اہل بیت کو پہنچنے والی تھیں، اسی لیے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈراتا ہوں مطلب یہ کہ میں نے اُن کے بارے میں جو وصیت کی ہے اور جو اُن کے احترام کا حکم دیا ہے اسے ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا۔ حدیث پاک میں ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: ”جو یہ پسند کرتا ہے کہ اُس کی عمر دراز ہو اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اسے جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مجھے میرے اہل بیت کے معاملے میں اچھا بدلہ دے اور جو اہل بیت کے معاملے میں مجھے اچھا بدلہ نہیں دے گا اس کی عمر سے برکت ختم ہوجائے گی اور وہ قیامت کے دن میرے سامنے سیاہ چہرے میں آئے گا۔“کیاصِرف قرآن پر عمل کرنا ممکن ہے؟مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے قرآنِ مجید کو مضبوطی سے تھامنے کی وصیت فرمائی ہے کیونکہ قرآنِ مجید میں عقائد و اَعمال کی ہدایت ہے اور یہ دنیا میں دِل کا نور ہے، قیامت میں پلِ صراط کا نور۔قرآن کریم کو ایسی مضبوطی سے تھامو کہ زندگی اس کے سائے میں گزرے، موت اس کے سائے میں آئے۔ خیال رہے کہکتابُ اللّٰہمیں سنتِرسولُ اللّٰہبھی داخل ہے کہ وہکتابُ اللّٰہکی شرح اور اس پر عمل کرانے والی ہے،سنت کے بغیرکتابُ اللّٰہپر عمل ناممکن ہے، لہٰذا یہ نہیں کہاجاسکتا کہ صرف قرآن کافی ہے حدیث کی ضرورت نہیں بلکہ فقہ بھیکتابُ اللّٰہکی ہی شرح یا حاشیہ ہے۔
نوٹ: مذکورہ حدیث کی تفصیلی شرح جاننے کے لیے فیضان ریاض الصالحین، جلدچہارم،باب 43 کی حدیث نمبر 346 کا مطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’اَہل بیت‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) کامل مسلمان بننے کے لیے قرآنِ مجید اور اَہل بیت کی محبت دو لازمی اُمُور ہیں۔
(2)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّجب اپنے انبیا کی روح قبض کرنے کا اِرادہ فرماتا ہے تو انہیں اختیار عطا کرتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو موت کو قبول کریں اور اگر چاہیں تو بعد میں ان کی روح قبض کی جائے۔
(3) قرآنِ مجید دنیا میں دل اور قیامت میں پل صراط کا نور ہے اور قرآنِ پاک کو مضبوطی سے تھام کر اس پر عمل کرنا بلند مقام حاصل ہونے اور دائمی سعادت مندی کا پیش خیمہ ہے۔
(4) قرآنِ پاک پر عمل کےلیے سنت پر عمل ضروری ہے بغیر اس کے قرآن پرعمل ممکن نہیں۔
(5) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اہل بیت کی تعظیم اور ان سے اچھا برتاؤ کرنے کی وصیت اس لیے فرمائی کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامان مصیبتوں سے واقف تھے جو آپ کے بعد اہل بیت کو پہنچنے والی تھیں۔
(6) اَہل بیت کے معاملے میں اچھا بدلہ دینے والے کی عمر اور نعمتوں میں برکت ہوتی ہے اور جو اچھا بدلہ نہ دے اس کی عمر سے برکت ختم ہوجاتی ہے اور وہ قیامت کے دِن سیاہ شکل میں حاضر ہوگا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں قرآنِ مجید پر عمل کرنے اور اَہل بیت کی تعظیم و تکریم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 712