- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 712
باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 712
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَاَمَا اْلاَحَادِيْثُ فَمِنْهَا:حَدِيْثُ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّذِيْ سَبَقَ فِيْ بَابِ اِكْرامِ اهْلِ بَيْتِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْنَا خَطِيْبًا فَحَمِدَ اللهَ وَاَثْنٰی عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ:اَمَّا بَعْدُ! اَلَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ يُوْشِكُ اَنْ يَاْتِيَ رَسُوْلُ رَبِّيْ فَاُجِيْبَ وَاَنَا تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَلَيْنِ:اَوَّلُهُمَا:كِتَابُ اللهِ فِيْهِ الْهُدٰى وَالنُّوْرُ فَخُذُوْا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوْا بِهِ“ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيْهِ، ثُمَّ قَالَ:وَاَهْلُ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ.
واما الاحاديث فمنها:حديث زيد بن ارقم رضي الله عنه الذي سبق في باب اكرام اهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا خطيبا فحمد الله واثنی عليه ووعظ وذكر ثم قال:اما بعد! الا ايها الناس انما انا بشر يوشك ان ياتي رسول ربي فاجيب وانا تارك فيكم ثقلين:اولهما:كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله، واستمسكوا به“ فحث على كتاب الله ورغب فيه، ثم قال:واهل بيتي اذكركم الله في اهل بيتي.
حدیث ترجمہ
مذکورہ باب کی احادیث میں سے حضرت سَیِّدُنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوالی حدیث بھی ہے کہ جورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَہل بیت کرام کی تعظیم والے باب میں گزرچکی ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا زید بن ارقمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثنا کی اور لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا: ”خبردار اے لوگو! میں ایک انسان ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اُس کا پیغام قبول کرلوں، میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اُن میں سے پہلی تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے پس تماللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔“چنانچہ آپ نےکِتَابُ اللّٰہپر عمل کرنے پر ابھارا ور اس کی رغبت دلائی۔پھر فرمایا: ”اور میرے اَہل بیت، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلقاللّٰہسے ڈراتا ہوں۔“
شرح حدیث
اہل بیت کے متعلق وصیت:مذکورہ حدیث پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اُس خطبے کا ذکر ہے جس میں آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے قرآنِ مجید کو مضبوطی سے تھامنے اور اَہل بیت اَطہار کی تعظیم و توقیر کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔فیض القدیر میں ہے:”اے لوگو! میں ایک انسان ہوں قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد یعنی ملک الموت میرے پاس آجائے اورمیں اُس کا پیغام قبول کرلوں یعنی اپنی رضامندی سے موت کو اختیار کرلوں۔میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، اُن میں سے ایککِتابُ اللّٰہہے جس میں گمراہی سے ہدایت ہے اور نور ہے تو تم اس پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے پکڑلو کیونکہ یہ قرآ نِ مجید بلند مرتبے اور سعادتِ ابدیہ تک پہنچانے کاسبب ہے اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں اور اہل بیت سے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے وہ قرابت دار مراد ہیں کہ جنہیں صدقہ دینا حرام ہے نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اہل بیت کے بارے میں اس لیے وصیت کی کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامان مصیبتوں اور بلاؤں سے واقف تھے جو آپ کے بعد اہل بیت کو پہنچنے والی تھیں، اسی لیے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈراتا ہوں مطلب یہ کہ میں نے اُن کے بارے میں جو وصیت کی ہے اور جو اُن کے احترام کا حکم دیا ہے اسے ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا۔ حدیث پاک میں ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: ”جو یہ پسند کرتا ہے کہ اُس کی عمر دراز ہو اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اسے جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مجھے میرے اہل بیت کے معاملے میں اچھا بدلہ دے اور جو اہل بیت کے معاملے میں مجھے اچھا بدلہ نہیں دے گا اس کی عمر سے برکت ختم ہوجائے گی اور وہ قیامت کے دن میرے سامنے سیاہ چہرے میں آئے گا۔“کیاصِرف قرآن پر عمل کرنا ممکن ہے؟مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے قرآنِ مجید کو مضبوطی سے تھامنے کی وصیت فرمائی ہے کیونکہ قرآنِ مجید میں عقائد و اَعمال کی ہدایت ہے اور یہ دنیا میں دِل کا نور ہے، قیامت میں پلِ صراط کا نور۔قرآن کریم کو ایسی مضبوطی سے تھامو کہ زندگی اس کے سائے میں گزرے، موت اس کے سائے میں آئے۔ خیال رہے کہکتابُ اللّٰہمیں سنتِرسولُ اللّٰہبھی داخل ہے کہ وہکتابُ اللّٰہکی شرح اور اس پر عمل کرانے والی ہے،سنت کے بغیرکتابُ اللّٰہپر عمل ناممکن ہے، لہٰذا یہ نہیں کہاجاسکتا کہ صرف قرآن کافی ہے حدیث کی ضرورت نہیں بلکہ فقہ بھیکتابُ اللّٰہکی ہی شرح یا حاشیہ ہے۔
نوٹ: مذکورہ حدیث کی تفصیلی شرح جاننے کے لیے فیضان ریاض الصالحین، جلدچہارم،باب 43 کی حدیث نمبر 346 کا مطالعہ کیجئے۔مدنی گلدستہ’’اَہل بیت‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) کامل مسلمان بننے کے لیے قرآنِ مجید اور اَہل بیت کی محبت دو لازمی اُمُور ہیں۔
(2)اللّٰہ عَزَّوَجَلَّجب اپنے انبیا کی روح قبض کرنے کا اِرادہ فرماتا ہے تو انہیں اختیار عطا کرتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو موت کو قبول کریں اور اگر چاہیں تو بعد میں ان کی روح قبض کی جائے۔
(3) قرآنِ مجید دنیا میں دل اور قیامت میں پل صراط کا نور ہے اور قرآنِ پاک کو مضبوطی سے تھام کر اس پر عمل کرنا بلند مقام حاصل ہونے اور دائمی سعادت مندی کا پیش خیمہ ہے۔
(4) قرآنِ پاک پر عمل کےلیے سنت پر عمل ضروری ہے بغیر اس کے قرآن پرعمل ممکن نہیں۔
(5) حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اہل بیت کی تعظیم اور ان سے اچھا برتاؤ کرنے کی وصیت اس لیے فرمائی کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامان مصیبتوں سے واقف تھے جو آپ کے بعد اہل بیت کو پہنچنے والی تھیں۔
(6) اَہل بیت کے معاملے میں اچھا بدلہ دینے والے کی عمر اور نعمتوں میں برکت ہوتی ہے اور جو اچھا بدلہ نہ دے اس کی عمر سے برکت ختم ہوجاتی ہے اور وہ قیامت کے دِن سیاہ شکل میں حاضر ہوگا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں قرآنِ مجید پر عمل کرنے اور اَہل بیت کی تعظیم و تکریم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 712