Main Icon

باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 714

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اِسْتَاْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَاَذِنَ وَقَالَ:لَا تَنْسَنَا يَا اُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ، فَقَالَ: كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِيْ اَنَّ لِيْ بِهَا الدُّنْيَا.وَفِيْ رِوَايَةٍ قَالَ:اَشْرِكْنَا يَااُخَيَّ في دُعَائِكَ.

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: استاذنت النبي صلى الله عليه وسلم في العمرة فاذن وقال:لا تنسنا يا اخي من دعائك، فقال: كلمة ما يسرني ان لي بها الدنيا.وفي رواية قال:اشركنا يااخي في دعائك.

حدیث ترجمہ

امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عمرہ کے لیے جانے کی اجازت مانگی تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اجازت عطا کی اور ارشاد فرمایا: ”اے میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھول نہ جانا۔“ حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ ایسی بات ارشاد فرمائی کہ اس کے بدلے مجھے پوری دنیا بھی مل جائے تو خوشی نہ ہو۔اور ایک روایت میں ہے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک کرلینا۔“

شرح حدیث

اہم اُمُور میں استاد اور شیخ سے اجازت لو:حدیثِ پاک میں اِس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عمرہ کرنے کے لیے جانے کی اجازت مانگی تو حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں اجازت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ مذکورہ حدیث پاک کی باب سے یہی مناسبت ہے کہ اس میں سفر پر جانے والے سے دعا کا کہا گیا ہے۔ حضرت سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُعمرہ کرنے اس لیے جانا چاہتے تھے کہ آپ نے اِسلام سے پہلے عمرہ کی نذر مانی تھی جو پوری نہ کرسکے تھے کہ مسلمان ہوگئے،پھر حضور ِانورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مسئلہ پوچھا تو فرمایا نذر پوری کر و تب آپ عمرہ کے لیے حضورِانورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اجازت سے روانہ ہوئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاگرد استاد سے اور مرید اپنے شیخ سے اپنے اہم امور میں اجازت طلب کریں خاص طور پر ان نیک کاموں میں ضرور اجازت طلب کریں جو باہم اجتماعِیَّت کے ساتھ کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی غیر موجودگی سے اُستاد اور شیخ باخبر ہوں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُؕ(پ۱۸،النور:۶۲)ترجمۂ کنزالایمان:ایمان والے تو وہی ہیں جواللّٰہاور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں۔
اسی طرح حضرت سَیِّدُنا عمر
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اجازت طلب کی اور حضور نے انہیں مغفرت کی دعا دیتے ہوئے اجازت مَرْحَمت فرمائی۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو بھائی کہنا کیسا؟مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بھائی کہہ کر مخاطب فرمایا یہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی انتہائی شفقت ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو حضرت عمر کو بھائی فرمایا یہ انتہائی کرمِ کریمانہ ہے،جیسے سلطان اپنی رعایا سے کہے میں تمہارا خادم ہوں مگر کسی مسلمان کا حق نہیں کہ حضورِانورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوبھائی کہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:﴿لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ-﴾(پ۱۸،النور:۶۳)(ترجمۂ کنزالایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالوجیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔)اسی لیے کبھی صحابہ کرام نے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھائی کہہ کر نہ پکارا،روایتِ حدیث میں تمام صحابہ یہی کہتے تھے:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ(یعنی نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا)۔نیز نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا: اے بھائی!ہمیں دعا میں یاد رکھنایعنی مکہ مُعَظَّمہ پہنچ کرہرمقبول دعا میں اپنے ساتھ میرے لیے بھی دعا کرنا معلوم ہوا کہ حاجی سے دعا کرانا اور وہاں پہنچ کر دعا کرنے کے لیے کہنا سنت ہے۔صوفیائے کرام اِس جملے کے معنی یہ کرتے ہیں کہ اے عمر! ہر دعا میں ہم پر درود شریف پڑھنا ہمارے درود کو نہ بھولنا تاکہ اس کی برکت سے تمہاری دعائیں قبول ہوں۔حضور کے لیے اعلیٰ درجہ کی دعا آپ پر درود شریف پڑھنا ہےصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم،کریم کے پیاروں کو دعائیں دینا درحقیقت اس سے مانگنے کی تدبیر ہے، ہمارا بھکاری ہمارے دروازے پر آکر ہمارے جان و مال، اولاد کو دعائیں دیتا ہے ہم سے بھیک پاتا ہے۔ہم بھی رب تعالیٰ کے محبوب کو دعائیں دیں رب تعالیٰ سے بھیک لیں۔مسافر سے دعا کرواؤ:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے جو دعا کا فرمایا اس سے مقامِ عبودیت میں عاجزی اور اِنکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے شخص سے دعا کا کہنا مقصود ہے جس کا ہدایت پر ہونا معلوم ہو اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس عمل سے اُمت کو صالحین اور عبادت کرنے والوں سے دعا کروانے کی خواہش کرنے پر اُبھارا ہے نیز ان کے لیے اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ دعا کرنے والا صرف اپنے لیے دعانہ کرے بلکہ اپنی دعا میں اپنے قرابت داروں اور محبت کرنے والوں کو بھی شامل کرلے خاص طور پر ان دعاؤں میں کہ جو مقام قبولیت میں مانگی جائیں۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے دعا کرنے کا کہا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقیم کا مسافر کو دعا کرنے کا کہنا اور اُسے بابرکت جگہوں پر دعا کرنے کے لیے وصیت کرنا مُستحب ہے اگرچہ مقیم مسافر سے افضل ہو اور اگرچہ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ مسافر اس کے لیے دعا کرے گا تب بھی اسے یاد دلانے میں کوئی حرج نہیں خاص طورپر ایسی صورت میں کہ جب وہ سفرِ عبادت پر روانہ ہو رہا ہو جیسے حج، عمرہ اور جہاد وغیرہ تو ایسے سفر پر جانے والے سے لازمی طورپر دعا کی درخواست کرے کہ حدیثِ پاک میں ہے ”حاجی کی مغفرت کردی جاتی ہے اور اس کی بھی جس کے لیے حاجی مغفرت کی دعا کرے۔“دنیاکی ہر چیز سے افضل کلمات:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں اپنی دعا میں یاد رکھنا بھول نہ جانا۔“حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے یہ الفاظ سن کر حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبہت خوش ہوئے، فرماتے ہیں کہ ”ان کلمات کے بدلے مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو مجھے خوشی نہ ہو۔“مُفَسِّرِ شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”حضرتِ عمر کا یہ فرمان فخریہ نہیں بلکہ شکریَہ کے طور پر ہے یعنی حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے بھائی کے خطاب سے نوازا،معلوم ہوا کہ میں دنیا وآخرت میں صحیح مؤمن ہوں، پھر مجھے حکمِ دعا کہ حضور کو دعائیں دوں،معلوم ہوا کہ میرا منہ حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا کے لائق ہے،پھر فرمایا: مجھے بھولنا نہیں،معلوم ہوا کہ میرا دل کاشانۂ یار بننے کے لائق ہے،یہ ایسی بشارتیں ہیں کہ تمام دنیا کی نعمتیں ان پرقربان ہیں۔“
نوٹ: مذکورہ حدیث کی تفصیلی شرح کے لیے فیضانِ ریاض الصالحین، جلدچہارم، باب نمبر45، حدیث نمبر373 کا مطالعہ فرمائیں۔
مدنی گلدستہ’’غوثِ اعظم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے اہم اُمُور میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے اجازت لیتے تھے اسی وجہ سے شاگرد اور مرید کے لیے بہتر ہے کہ وہ بھی اپنے اہم امور میں اُستاد اور پیر صاحب سے اجازت لے لیا کریں۔
(2) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بھائی کہہ کر مخاطب فرمانا انتہائی شفقت کی بنا پر تھا لیکن کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو بھائی کہے۔
(3) حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجی سے دعا کروانا اور وہاں پہنچ کر دعا کرنے کے لیے کہنا سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا میں حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر درود پڑھنا نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
(4) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو دعا کا فرمانا مقامِ عبودیت میں عاجزی کرنے کے لیے اور اُمَّت کو اس بات پر ابھار نے کے لیے تھا کہ وہ نیک لوگوں سے دعا کروانے کی خواہش کیا کریں۔
(5) دعا کرنے والے کو چاہیے کہ اپنے قرابت داروں اور اہلِ محبت کے لیے بھی دعا کرے۔
(6) مقیم کا مسافر کو دعا کرنے کے لیے کہنا مُستحب ہے اور خاص طورپر اس صورت میں ضرور دعا کرنے کی وصیت کرے جب وہ نیک سفر پر یا بابرکت مقامات کی زیارت کے لیے جارہا ہو۔
(7) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو اپنے لیے دعا کا فرمانا حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بلند مقام و مرتبے پر دلالت کرتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں نیک و پرہیزگار لوگوں سے نیز حج و عمرہ کے لیے جانے والے خوش نصیب مسلمانوں سے دعائیں کروانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 714