- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 716
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ يَزِيْدَ الْخَطْمِيّ الصَّحَابِیِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَرَادَ اَنْ يُوَدِّعَ الْجَيْشَ قَالَ:اَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُمْ وَاَمَانَتَكُمْ وَخَواتِيْمَ اَعْمَالِكُمْ.
عن عبدالله بن يزيد الخطمي الصحابی رضي الله عنه قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يودع الجيش قال:استودع الله دينكم وامانتكم وخواتيم اعمالكم.
حدیث ترجمہ
صحابی رسول حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن یزید خطمیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی لشکر کو رخصت کرنا چاہتے تو فرماتے: ”میں تمہارے دِین، تمہاری امانت اور تمہارے آخری اَعمال کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سُپرد کرتا ہوں۔“
شرح حدیث
مذکورہ حدیثِ پاک میں لشکر کو رخصت کرتے وقت پڑھی جانے والی دعا بیان کی گئی ہے اورسابقہ حدیثِ پاک میں بھی یہ دعا بیان کی گئی تھی، وہاں ایک شخص کا ذکر تھا اور یہاں لشکر کا ذکر ہے جبکہ دونوں اَحادیث کا مضمون ایک ہی ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”معلوم ہوا کہ لشکرِ اسلام جنگی سامان کے ساتھ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعائیں بھی ساتھ لیتا تھا،محمود غزنوی جب سومناتھ مندر(پر) حملہ آور ہوا تھا تو حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی کی دعائیں اور ان کا جُبَّہ ساتھ لایا تھا،ان مجاہدین کی تلواریں آستانہ ٔ محبوبین پر دھاردار ہوتی تھیں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمسافر کورب کے سپردکردیں:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ جب کسی کا کوئی عزیز یا چاہنے والا یا مسلمانوں کا کوئی قافلہ سفر پر روانہ ہورہا ہو تو اس کے دِین، مال و اسباب اور خاتمہ کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی امان میں دے دینا چاہیے۔ حضرت سَیِّدُنَا حکیم لقمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”جب کوئی چیزاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کی جاتی ہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی حفاظت فرماتا ہے۔“ کیونکہ بندہ بہت کمزور اور عاجز چیز ہے اور اسے جو اسباب دیئے گئے ہیں وہ بھی اسی کی طرح کمزور ہیں تو جب بندہ اسباب سے پیچھا چُھڑا کر ان سے سبکدوشی اختیار کرتا ہے اور اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے کسی چیز کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حفاظت میں دے دیتا ہے اور خود اس کی حفاظت سے بری ہوکراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو اس کا وکیل بنادیتا ہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس چیز کی حفاظت فرماتا ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّبہترین حفاظت فرمانے والا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم جب بھی سفر پر جانے کا ارادہ کریں تو اپنے دوست احباب سے ضرور مل کر جائیں ”حدیثِ پاک میں ہےکہ جب تم میں سے کوئی سفر کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو سلام کرے کیونکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّان کی دعا کے طفیل اس کی خیر میں اضافہ فرمائے گا۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:” سفر پر جانے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے جان پہچان والے مسلمان بھائیوں کے گھروں پر جائے، انہیں الوداع کہے اور اُن سے دعائیں کروائے۔ نیز مسافر و مقیم دونوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو کہیں:”اَسْتَوْدِعُ اللّٰہ دِيْنَكَ وَاَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيْمَ عَمَلِكَ“ یعنی میں تیرے دِین، تیری امانت اور تیرے خاتمۂ عمل کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کرتا ہوں، اور مقیم کو چاہیے کہ وہ زیادہ دعائیں دے اور اسے بھلائی کے ساتھ روانہ کرے۔ سفر پر جانے والے کو چاہیے کہ وہ لوگوں سے ملاقات کرے اور انہیں سلام کرے اور جب مسافر لوٹ آئے تو لوگوں کو چاہیے کہ اس سے ملاقات کریں اور بخیر و عافیت لوٹنے پر مبارکباد پیش کریں۔ نیز ایک مسئلہ بھی ذہن نشین فرمالیں کہ اگر رشتہ داروں یا پڑوسیوں میں سے کوئی کافر ہوتو اس کے یہاں نہیں جائیں گے اور نہ ہی اسے الوداع کریں گے کیونکہ الوداع کرنے کا مقصد دعائیں لینا ہے اور ان کی دعاؤں کا کوئی فائدہ نہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے:﴿وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ(۱۴)﴾( پ۱۳،الرعد:۱۴)ترجمۂ کنزالایمان:اورکافروں کی ہردعابھٹکتی پھرتی ہے۔حملاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حفاظت میں دے دیا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک سے ہمیں یہ ترغیب ملتی ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان سفر پر روانہ ہورہا ہو تو اسکی جان و مال عزت و آبرو اور دِین کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی امان میں دے دیں اور جب ہم خود کسی سفر پر جانے کا ارادہ کریں تو اپنے گھروالوں اور مال و اسباب وغیرہ کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سُپرد کرکے جائیں، جب ہم سفر سے واپس لوٹیں گے تواِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں وہ تمام چیزیں مل جائیں گی جو ہم نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی امان میں دی ہوں گی کیونکہ جب کوئی چیزاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی امان میں دے دی جائے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس چیز کی حفاظت فرماتا ہے اور جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکسی چیز کی حفاظت فرمائے تو وہ ضائع نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ مروی ہے کہ خلیفہ دوم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہلوگوں میں مال تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص اپنے بیٹے کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہواتوآپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’میں نے کسی کو کسی کے اتنا مشابہ نہیں دیکھا جتنا یہ لڑکا تمہارے مشابہ ہے۔‘‘تو اس شخص نے عرض کی:اے امیر المؤ منینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ!میں اس لڑکے کے بارے میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں وہ یہ کہ میں نے سفر پر جانے کا ارادہ کیا، اس وقت میری بیوی اس سے حاملہ تھی، اس نے کہا:’’تم مجھے اس حالت میں چھو ڑ کر جا رہے ہو؟‘‘ میں نے کہا:’’ جو تمہا رے پیٹ میں ہے میں نے اسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ میں دیا۔‘‘یہ کہہ کر میں رخصت ہوگیا، جب سفر سے لوٹا تو بیوی انتقال کر چکی تھی، ہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے(ہمارے اور بقیع مبارک کے مابین کوئی چیز حائل نہ تھی) کہ اچانک ہم نے ایک قبر پر آگ کا شعلہ دیکھا،میں نے لوگوں سے کہا: ”یہ آگ کیسی ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ آگ فلاں عورت کی قبر پر ہے ہم اسے ہر رات ملاحظہ کرتے ہیں۔“ میں نے کہا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! وہ تو روزہ داراور بہت عبادت گزار تھی۔“ چنانچہ،پھاوڑا لے کر ہم اس کی قبر پرگئے، جب قبر کھودی تودیکھا کہ ایک چراغ جل رہا تھااوریہ بچہ ہاتھ پاؤ ں ہلارہا تھا، تومجھ سے کہا گیا:’’یہ تیری امانت ہے، اگر تواس کی ماں کو بھیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی امان میں دے جاتا تو ضرو راسے بھی پاتا۔‘‘(یہ واقعہ سن کر)امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’ایک کوا دوسرے کوے کے ساتھ جتنی مشابہت رکھتا ہےیہ لڑکا اس سے بھی زیادہ تمہارے مشابہ ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’الرحمٰن‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجب بھی کسی سفر پر تنہا یا اجتماعی طورپر جہاد وغیرہ کے لیے روانہ ہونے کا ارادہ کرتے تو پہلے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی خدمت میں حاضر ہوکر دعائیں حاصل کرتے۔
(2) جب کوئی چیزاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی امان میں دے دی جائے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی حفاظت فرماتاہے کیونکہ بندہ بہت کمزور ہے اور جب وہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئےاپنی چیز کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حفاظت میں دے دیتا ہے تو پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس چیز کی حفاظت فرماتا ہے۔
(3) سفر پر جانے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ جان پہچان والے مسلمانوں کے گھر پر جاکر ان سے ملاقات کرے اور ان سے دعائیں لے تاکہ سفر میں خیر و عافیت رہے۔
(4) جب کوئی سفر پر جارہا ہو تو مقیم لوگوں کو چاہیے کہ اسے خوب دعائیں دیں اور جب وہ سفر سے لوٹ آئے تو اس سے ملاقات کرنے کے لیے جائیں اور سلامتی کے ساتھ لوٹنے پر مبارکباد پیش کریں۔
(5) اگر رشتہ داروں یا پڑوسیوں میں سے کوئی کافر ہو تو مسافر اُسے الوداع نہ کہے کیونکہ الوداع کرنے کا مقصد دعائیں لینا ہے اور کافر کی دعاؤں کا کوئی فائدہ نہیں۔
(6) مسافر و مقیم دونوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کردیں کیونکہ جو چیزاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کردی جاتی ہےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی حفاظت فرماتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سفر پر جاتے وقت شریعت کے مطابق دوست اَحباب سے الوداع ہونے اور اُن سے دعائیں لینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 716