Main Icon

باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 717

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اِنِّي اُرِيْدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِیْ فَقَالَ: زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى، قَالَ: زِدْنِيْ، قَالَ: وَغَفَرَ ذَنْبَكَ، قَالَ: زِدْنِيْ، قَالَ: وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ.

عن انس رضي الله عنه قال:جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! اني اريد سفرا فزودنی فقال: زودك الله التقوى، قال: زدني، قال: وغفر ذنبك، قال: زدني، قال: ويسر لك الخير حيثما كنت.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں سفر کرنا چاہتا ہوں مجھے زادِ راہ عنایت فرمائیے۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرمائے۔“ اُس نے عرض کی:زیادہ دیجئے۔فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے گناہ بخش دے۔“عرض کی:اور زیادہ عطا کیجئے۔ فرمایا: ”تم جہاں کہیں بھی ہواللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے لیے بھلائی کو آسان کردے۔“

شرح حدیث

مسافرکوتقویٰ کی دعا دو:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص سفر پر روانہ ہورہا ہو تو اُسے تقویٰ، مغفرت اور ہر جگہ ہر معاملے میں خیرو بھلائی کی دعا دی جائے کیونکہ تقویٰ ایسا توشہ ہے جو دنیا و آخرت کے سفر میں کام آتا ہے، جسے یہ مل جائے اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں، تقویٰ کی وجہ سے انسان سفر میں لوگوں سے سوال کرنے سے بچتا ہے اور گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا: ”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں سفر پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے زادِراہ عنایت فرمادیجئے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ممکن ہے کہ یہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں سفر پر جانے کی اجازت لینے کے لیے آئے ہوں جیساکہ پہلے بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحضورعَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں عمرہ پر جانے کی اجازت لینے آئے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں اجازت پہلے ہی مل چکی ہو اب صرف دعائیں لینے کے لیے حاضر ہوئے ہوں اور آپ نے سائل کی حالت سے یہ جان لیا ہوگا کہ ان کی زادِ راہ سے مراد دُعا ہے اسی لیے آپعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں دعا دیتے ہوئے فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتجھے تقویٰ کا زادِ راہ عطا کرے“ آپ نے تقویٰ کی دعا اس لیے دی کہ یہ بہترین زادِراہ ہے،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے:﴿وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-﴾(پ۲،البقرۃ:۱۹۷)ترجمۂ کنزالایمان:’’اور توشہ (سفرکا خرچ) ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے۔‘‘اورتقویٰ اس لیے بہتر توشہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان دُشوار گزار گھاٹی (یعنی آخرت کے سفر) کو طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے بندہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت کے سبب قیامت کے دن مَصَائِب سے نَجات حاصل کرےگا۔ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ مسافر کا اپنے اصحاب کے پاس جانا اور ان سے دعاؤں کا سوال کرنا مستحب ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدصحابہ ہرموقع پرحضورسے دعائیں لیتے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”(اُس شخص نے زادِراہ کا مطالبہ کیا) زاد، وہ زائد کھانا ہے جو مسافر کی موجودہ ضرورت سے بچا ہوا آئندہ کام آوے۔ معلوم ہوا کہ صحابہ ٔکرام حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے لیے توشہ ٔدارَین سمجھتے تھے اور ہر موقعہ پر آپ سے دعائیں کراتے تھے اپنی دعاؤں پر کفایت نہ کرتے تھے۔ پھر اس شخص نے عرض کیا کہ مزید عطا کیجئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے گناہ بخش دے۔“یعنی تمہیں دنیا میں لوگوں سے غنا دے کہ تم سوال سے بچو اور آخرت کے لیے نیک اعمال کی توفیق بخشے، بہت جامع دعا ہے۔ اس کے بعد اس نے عرض کی:” حضور اور زیادہ عطا فرمائیے۔“ یعنی ابھی فقیر کی سیری نہیں ہوئی داتا کچھ اور ملے۔ دنیا میں صبر بہتر،آخرت کے معاملہ میں بے صبری و حرص افضل۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”تم جہاں کہیں بھی ہواللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے لیے بھلائی کو آسان کردے۔“ یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں جیتے مرتے،قبر و حشر میں ایسی بھلائیاں عطا فرما وے جس سے تمہیں پوری کامیابی نصیب ہو۔حَیْثُ مَاکُنْتَ(یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو) میں سفر، حَضر، زندگی و قبر ہر جگہ داخل ہے۔سُبْحَانَ اﷲسائل کی جھولی بھردی، نہ معلوم اِن الفاظ سے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کیا دے دیا ہو اور سائل نے کیا کچھ لے لیا،یہ تو دینے والے اور لینے والے جانیں۔
مذکورہ حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر پر جاتے وقت بزرگانِ دِین و اولیاءِ کرام کی خدمت میں حاضری دےکر دعا کی درخواست کرنی چاہیے کہ ان کی دعاؤں کی برکت سے سفر میں درپیش آنے والی مصیبتوں سے محفوظ رہے گا اور اسی طرح جب کوئی عزیز یا رشتہ دار سفر پر روانہ ہورہا تو اُسے بھی دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں اور ممکن ہو تو اُسے الوداع کرنے کے لیے کچھ دور تک اس کے ساتھ جائیں کہ یہ سنت ہے نیز آپ کے اس عمل سے اس کا دل خوش ہو جائے گا اور مسلمان کا دل خوش کرنا بہت بڑی عبادت ہے۔
مدنی گلدستہ’’پرہیزگار ‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) جب کوئی شخص سفر پر روانہ ہو رہا ہوتو اسے تقویٰ کی دعا دینی چاہیے کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے سفر میں لوگوں سے سوال کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(2) مسافر کا اپنے دوست اَحباب کے پاس جانا اور اُن سے دعاؤں کا سوال کرنا مستحب ہے۔
(3) سفر پر جانے والے کودیگر دعاؤں کے ساتھ مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان کردہ یہ دعا بھی دینی چاہیے: ”
زَوَّدَكَ اللّٰہ التَّقْوَى وَغَفَرَ ذَنْبَكَ وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ“ یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں تقویٰ کا زادِراہ عطا فرمائے ،تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارے لیے بھلائی کو آسان کردے۔
(4) ’’زاد‘‘اس کھانے کو کہتے ہیں جو مسافر کو موجودہ ضرورت سے زیادہ ہو اور بعد کے لیے ذخیرہ کیا گیا ہو۔
(5) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہر موقعہ پرحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دعائیں کرواتے تھے اور صرف اپنی دعاؤں پر اِکتفا نہیں کرتے تھے۔
(6) حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جب اس شخص کو حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے دعا عطا فرمائی تو اس نے اور زیادہ کی خواہش ظاہر کی پھر حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے اور دعائیں عطا فرمائیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے معاملے میں صبر جبکہ آخرت کے معاملے میں بے صبری اور حرص افضل ہے۔
(7) جب بھی سفر پر جانے کا ارادہ ہو تو پہلے بزرگانِ دِین و علماءِ کرام
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے لیے دعائیں کروائے،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے چاہا تو سفر میں عافیت رہے گی۔
(8) جب کوئی دوست یا عزیز سفر پر روانہ ہو رہا ہوتو اُسے چھوڑنے کے لیے اس کے ساتھ کچھ دور تک جانا سنت ہے نیز اس سے اُس کا دل بھی خوش ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سفر پر جانے سے پہلے صالحین ودیگر سے دعائیں کروانے اور سفر و حَضر میں تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 717