- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 717
باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 717
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اِنِّي اُرِيْدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِیْ فَقَالَ: زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى، قَالَ: زِدْنِيْ، قَالَ: وَغَفَرَ ذَنْبَكَ، قَالَ: زِدْنِيْ، قَالَ: وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ.
عن انس رضي الله عنه قال:جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! اني اريد سفرا فزودنی فقال: زودك الله التقوى، قال: زدني، قال: وغفر ذنبك، قال: زدني، قال: ويسر لك الخير حيثما كنت.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں سفر کرنا چاہتا ہوں مجھے زادِ راہ عنایت فرمائیے۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرمائے۔“ اُس نے عرض کی:زیادہ دیجئے۔فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے گناہ بخش دے۔“عرض کی:اور زیادہ عطا کیجئے۔ فرمایا: ”تم جہاں کہیں بھی ہواللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے لیے بھلائی کو آسان کردے۔“
شرح حدیث
مسافرکوتقویٰ کی دعا دو:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص سفر پر روانہ ہورہا ہو تو اُسے تقویٰ، مغفرت اور ہر جگہ ہر معاملے میں خیرو بھلائی کی دعا دی جائے کیونکہ تقویٰ ایسا توشہ ہے جو دنیا و آخرت کے سفر میں کام آتا ہے، جسے یہ مل جائے اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں، تقویٰ کی وجہ سے انسان سفر میں لوگوں سے سوال کرنے سے بچتا ہے اور گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ ایک شخص نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا: ”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں سفر پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے زادِراہ عنایت فرمادیجئے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ممکن ہے کہ یہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں سفر پر جانے کی اجازت لینے کے لیے آئے ہوں جیساکہ پہلے بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحضورعَلَیْہِ السَّلَامکی بارگاہ میں عمرہ پر جانے کی اجازت لینے آئے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں اجازت پہلے ہی مل چکی ہو اب صرف دعائیں لینے کے لیے حاضر ہوئے ہوں اور آپ نے سائل کی حالت سے یہ جان لیا ہوگا کہ ان کی زادِ راہ سے مراد دُعا ہے اسی لیے آپعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں دعا دیتے ہوئے فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتجھے تقویٰ کا زادِ راہ عطا کرے“ آپ نے تقویٰ کی دعا اس لیے دی کہ یہ بہترین زادِراہ ہے،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے:﴿وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-﴾(پ۲،البقرۃ:۱۹۷)ترجمۂ کنزالایمان:’’اور توشہ (سفرکا خرچ) ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے۔‘‘اورتقویٰ اس لیے بہتر توشہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان دُشوار گزار گھاٹی (یعنی آخرت کے سفر) کو طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے بندہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت کے سبب قیامت کے دن مَصَائِب سے نَجات حاصل کرےگا۔ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ مسافر کا اپنے اصحاب کے پاس جانا اور ان سے دعاؤں کا سوال کرنا مستحب ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدصحابہ ہرموقع پرحضورسے دعائیں لیتے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”(اُس شخص نے زادِراہ کا مطالبہ کیا) زاد، وہ زائد کھانا ہے جو مسافر کی موجودہ ضرورت سے بچا ہوا آئندہ کام آوے۔ معلوم ہوا کہ صحابہ ٔکرام حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے لیے توشہ ٔدارَین سمجھتے تھے اور ہر موقعہ پر آپ سے دعائیں کراتے تھے اپنی دعاؤں پر کفایت نہ کرتے تھے۔ پھر اس شخص نے عرض کیا کہ مزید عطا کیجئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے گناہ بخش دے۔“یعنی تمہیں دنیا میں لوگوں سے غنا دے کہ تم سوال سے بچو اور آخرت کے لیے نیک اعمال کی توفیق بخشے، بہت جامع دعا ہے۔ اس کے بعد اس نے عرض کی:” حضور اور زیادہ عطا فرمائیے۔“ یعنی ابھی فقیر کی سیری نہیں ہوئی داتا کچھ اور ملے۔ دنیا میں صبر بہتر،آخرت کے معاملہ میں بے صبری و حرص افضل۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”تم جہاں کہیں بھی ہواللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے لیے بھلائی کو آسان کردے۔“ یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں جیتے مرتے،قبر و حشر میں ایسی بھلائیاں عطا فرما وے جس سے تمہیں پوری کامیابی نصیب ہو۔حَیْثُ مَاکُنْتَ(یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو) میں سفر، حَضر، زندگی و قبر ہر جگہ داخل ہے۔سُبْحَانَ اﷲسائل کی جھولی بھردی، نہ معلوم اِن الفاظ سے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کیا دے دیا ہو اور سائل نے کیا کچھ لے لیا،یہ تو دینے والے اور لینے والے جانیں۔
مذکورہ حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر پر جاتے وقت بزرگانِ دِین و اولیاءِ کرام کی خدمت میں حاضری دےکر دعا کی درخواست کرنی چاہیے کہ ان کی دعاؤں کی برکت سے سفر میں درپیش آنے والی مصیبتوں سے محفوظ رہے گا اور اسی طرح جب کوئی عزیز یا رشتہ دار سفر پر روانہ ہورہا تو اُسے بھی دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں اور ممکن ہو تو اُسے الوداع کرنے کے لیے کچھ دور تک اس کے ساتھ جائیں کہ یہ سنت ہے نیز آپ کے اس عمل سے اس کا دل خوش ہو جائے گا اور مسلمان کا دل خوش کرنا بہت بڑی عبادت ہے۔مدنی گلدستہ’’پرہیزگار ‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) جب کوئی شخص سفر پر روانہ ہو رہا ہوتو اسے تقویٰ کی دعا دینی چاہیے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے سفر میں لوگوں سے سوال کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(2) مسافر کا اپنے دوست اَحباب کے پاس جانا اور اُن سے دعاؤں کا سوال کرنا مستحب ہے۔
(3) سفر پر جانے والے کودیگر دعاؤں کے ساتھ مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان کردہ یہ دعا بھی دینی چاہیے: ”زَوَّدَكَ اللّٰہ التَّقْوَى وَغَفَرَ ذَنْبَكَ وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ“ یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں تقویٰ کا زادِراہ عطا فرمائے ،تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارے لیے بھلائی کو آسان کردے۔
(4) ’’زاد‘‘اس کھانے کو کہتے ہیں جو مسافر کو موجودہ ضرورت سے زیادہ ہو اور بعد کے لیے ذخیرہ کیا گیا ہو۔
(5) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہر موقعہ پرحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دعائیں کرواتے تھے اور صرف اپنی دعاؤں پر اِکتفا نہیں کرتے تھے۔
(6) حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جب اس شخص کو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے دعا عطا فرمائی تو اس نے اور زیادہ کی خواہش ظاہر کی پھر حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے اور دعائیں عطا فرمائیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے معاملے میں صبر جبکہ آخرت کے معاملے میں بے صبری اور حرص افضل ہے۔
(7) جب بھی سفر پر جانے کا ارادہ ہو تو پہلے بزرگانِ دِین و علماءِ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے لیے دعائیں کروائے،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے چاہا تو سفر میں عافیت رہے گی۔
(8) جب کوئی دوست یا عزیز سفر پر روانہ ہو رہا ہوتو اُسے چھوڑنے کے لیے اس کے ساتھ کچھ دور تک جانا سنت ہے نیز اس سے اُس کا دل بھی خوش ہوتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سفر پر جانے سے پہلے صالحین ودیگر سے دعائیں کروانے اور سفر و حَضر میں تقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 717