Main Icon

باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 972

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيْرِهِ خَارِجًا اِلٰي سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثاً ثُمَّ قَالَ:سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّا اِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْئَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْاَهْلِ اللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْ ءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْاَهْلِ وَالْوَلدِ واِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِیْهِنَّ : آيِبُوْنَ تَائِبُونَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ.

عن ابن عمر رضي اللہ عنهما ان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم كان اذا استوى على بعيره خارجا الي سفر كبر ثلاثا ثم قال:سبحن الذی سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وانا الى ربنا لمنقلبون اللهم انا نسئلك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم هون علينا سفرنا هذا واطو عنا بعده اللهم انت الصاحب في السفر والخليفة في الاهل اللهم اني اعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنظر وسو ء المنقلب في المال والاهل والولد واذا رجع قالهن وزاد فیهن : آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر پر جانے کے لیے سواری پر بیٹھ جاتے تو تین بار تکبیر(اللّٰہ اَکْبَر) کہتے پھریہ کلمات ادا فرماتے:”سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّا اِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْئَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْاَهْلِ اللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْ ءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْاَهْلِ وَالْوَلدِیعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اِسے ہمارے قابو میں دیا اور ہم اس کو مطیع کرنے والے نہ تھے۔بے شک ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہم تجھ سے اپنے سفر میں بھلائی، تقویٰ اور تیرے پسندیدہ عمل پر توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمارے اِس سفر کو ہم پر آسان کردے اور مسافت کو لپیٹ دے۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا والی ہے۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقتوں سے، ناخوشگوار منظر سے اور مال اور اہل وعیال کی طرف بُری واپسی سے۔“ جب حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر سے واپس لوٹتے تو یہی کلمات کہتےاورساتھ میں ان کلمات کا اضافہ کرتے:”آيِبُوْنَ تَائِبُونَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَیعنی ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی ثنا کرنے والے ہیں۔“

شرح حدیث

جامع دعا:*(تین بار تکبیر کہتے)چونکہ اونٹ وغیرہ بلند چیز پر سوار ہوتے وقت انسان کو اپنی بلندی نظر آتی ہے اس لیے حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمان موقعوں پر رب تعالیٰ کی کبریائی بیان فرماتے تھے۔چنانچہ ٹیلہ پہاڑی پر چڑھتے وقت بھی تکبیر کہتے تھے یا اس تعجب پر تکبیر کہتے کہ رب تعالیٰ نے ایسے جانور کو ہمارے قبضہ میں کیسے کردیا جب کہ مکھی،مچھر ہمارے قبضہ سے باہر ہیں۔*(سُبْحَانَ الَّذِیاِلٰى قَولِہِ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ)یہ قرآن شریف کی آیت ہے۔اس میں ہم اپنے عجز، رب تعالیٰ کی رحمت کا اقرار کرتے ہیں کہ کہاں ہم جیسے ضعیف النسیان انسان اور کہاں یہ قوی جانور مگر رب تعالیٰ کی مہر بانی ہے کہ یہ ہمارے تابع فرمان ہیں، یہ ہماری بہادری نہیں بلکہ رب تعالیٰ کی مہربانی ہے۔دیکھو ہرن،نیل،گائے بلکہ مکھی وغیرہ کسی طرح ہمارے قابو میں نہیں آتے حالانکہ وہ اونٹ و ہاتھی سے کہیں کمزور ہیں۔پھر اپنے مَعاد کا بھی ذِکر فرمایا کہ ہمارے یہ قبضے قدرتیں رہنے والی نہیں۔ہم ایک دن عاجز ہو کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوں گے ہمیں وہ وقت یاد ہے، ہم متکبر نہیں،زندگی کی سواری سے بھی ایک دن اترنا پڑے گا۔*جو کوئی خشکی کی سواری،ریل،موٹر، ہوائی جہاز،تانگہ وغیرہ پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھ لے تواِنْ شَآءَ اللّٰہہر آفت سے محفوظ رہے گا۔*(ہم تجھ سے اپنے سفر میں بھلائی، تقویٰ اور تیرے پسندیدہ عمل پر توفیق کا سوال کرتے ہیں)سفر میں کبھی ساتھیوں سے لڑائی بھی ہوجاتی ہے اور نیک اعمال میں کمی بھی۔ اس لیے رب تعالیٰ سے بِریعنی بھلائی کی بھی توفیق مانگی اور پرہیزگاری کی بھی۔تقویٰ سفر کا روحانی توشہ ہے،بِر سے مراد یا تو ساتھیوں سے اچھا سلوک ہے یارب تعالیٰ کی عطا یا نیک اعمال اور تقویٰ سے مراد بدخلقی،لڑائی،جھگڑے اور بدعملیوں سے بچنا۔ *(اس سفر کو ہم پر آسان کردے)یعنی سفر میں ہم کو بدنی و روحانی راحتیں عطا فرما اور دراز سفر کومختصر کردے۔جب ر ب چاہے تو طویل راستے کو چھوٹا کردیتا ہے۔فرشتے،جنات ہمارے دورنظر خیال کے لیے، نیز اَنبیا و اَولیا کے لیے دور دراز سفر بہت چھوٹے ہوجاتے ہیں۔حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سفر معراج میں کروڑوں میل آنا جانا طے کیے۔اس دعا کی برکت سےاِنْ شَآءَاللّٰہطویل سفر ہلکا بھی ہوجائے گا اور سفر کی تکلیف سے بھی امن رہے گی۔*(بُری واپسی سے)یعنی اس سفر میں نہ تو میں بُرائی کے ساتھ لوٹوں کہ گھر والے مجھے دیکھ کر گھبرا جائیں اور نہ ہی گھر والے کسی آفت میں مبتلا ہوں کہ میں واپسی پر انہیں دیکھ کر گھبرا جاؤں۔بہت جامع دعا ہے اس میں چوری،ہلاکت و دیگر ناگہانی آفات سے پناہ مانگ لی گئی۔مدنی گلدستہ’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بلندی پر چڑھتے وقت
اللّٰہ اَکْبَرکہنا سنت ہے۔
(2) ہمیشہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت کا اِقرار اوراپنے عجز کا اظہار کرتے رہنا چاہیے۔
(3) خشکی کی سواری،ر یل،کار،موٹرسائیکل،ہوائی جہاز،تانگاوغیرہ پر سوار ہوتے وقت قرآن شریف میں موجود سفر کی دعا پڑھ لینی چاہیے
اِنْ شَآءَ اللّٰہہرآفت سے حفاظت رہے گی۔(4) ∞تقویٰ اور پرہیزگاری سفر کا روحانی توشہ ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سفر پر روانہ ہوتےوقت سفر کی مسنون دعا پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 972