Main Icon

باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 974

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ اُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ:بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ:الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ قَالَ: سُبْحٰنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّا اِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ:اللہُ اَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ:سُبْحَانَكَ اِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ اِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيْلَ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! مِنْ اَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ قَالَ:رَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِنْ اَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: اِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ اِذَا قَالَ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوبِيْ يَعْلَمُ اَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِيْ.

عن علي بن ربيعة قال: شهدت علي بن ابی طالب رضي اللہ عنه اتي بدابة ليركبها فلما وضع رجله في الركاب قال:بسم الله فلما استوى على ظهرها قال:الحمد لله ثم قال: سبحن الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وانا الى ربنا لمنقلبون ثم قال: الحمد لله ثلاث مرات ثم قال:اللہ اكبر ثلاث مرات ثم قال:سبحانك اني ظلمت نفسي فاغفر لي انه لا يغفر الذنوب الا انت ثم ضحك فقيل يا امير المؤمنين! من اي شيء ضحكت؟ قال:رايت النبي صلى الله عليه وسلم فعل كما فعلت ثم ضحك فقلت: يا رسول الله! من اي شيء ضحكت؟ قال: ان ربك يعجب من عبده اذا قال اغفر لي ذنوبي يعلم انه لا يغفر الذنوب غيري.

حدیث ترجمہ

حضرت علی بن ربیعہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کے پاس سواری کے لیے ایک گھوڑا لایا گیا جب آپ نے اُس کی رکاب پر پاؤں رکھا تو فرمایا:”بِسْمِ اللَّهِ“جب سواری کی پیٹھ پر سیدھے بیٹھ گئے تو فرمایا: ”اَلْحَمْدُلِلَّهِ“پھریہ کہا:’’سُبْحٰنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّا اِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَیعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اِسے ہمارے قابو میں دیا اور ہم اس کو مطیع کرنے والے نہ تھے۔ بے شک ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۔‘‘پھر تین بار”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“ کہا پھر تین بار”اللّٰہ اَكْبَرُ“ کہا پھر یہ الفاظ کہے:”سُبْحَانَكَ اِ نِّي ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ اِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَیعنی پاک ہے تیری ذات بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ تو مجھے بخش دے،بے شک تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔پھرآپ ہنسے۔آپ سے پوچھا گیا:اے امیر المؤمنین! آپ کس بات پر ہنسے؟ فرمایا :میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اسی طرح کرتے دیکھا جس طرح میں نے کیا ۔ پھر جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرائےتو میں نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کس وجہ سے مسکرائے؟توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”تمہارا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے:اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمیرے گناہ بخش دے۔ربّ فرماتا ہے:میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث شریف میں اس بات کا ذکر ہے کہ شیر خدا حضرت سَیِّدُنا علی المرتضٰیکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمجب سواری پر بیٹھتے تو سفر کی دعا پڑھتے اور گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہمیں بھی چاہیے کہ سفر پر روانہ ہوتے وقت سفر کی دعا پڑھیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں کیونکہ جب بندہ رب تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگتا ہے تو اس سے وہ خوش ہوتا ہے۔قولی و فعلی سنت پر عمل:*(تین بار ”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“ کہا)یہ حمدسواری ملنے کے شکریہ پر ہے یعنی خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے ہماری آسانی کے لیے ہم کو سواری بخشی،بہت لوگ مجبورًا پیدل سفر کرتے ہیں۔*(تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا) میری خطاؤں و گناہوں کے باوجود تو نے مجھے یہ سواری وغیرہ کی نعمتیں بخشیں تو مجھے امید ہے کہ تو اپنے کرم سے مجھے معافی بھی دے دے گا میں نے وہ ہی کیا جو گنہگار کرتے ہیں تو وہ ہی کر جو ستارو غفار کی شان ہے۔ *(پھر آپ مسکرائے)یعنی مسکرائے ٹھٹھا نہ لگایا،مسکرانا اظہار خوشی کے لیے ہوتا ہے ٹھٹھا دل کی غفلت سے۔ اسی لیے حضور انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّممسکراتے بہت تھے ٹھٹھا(یعنی قہقہہ) کبھی نہ لگاتے تھے۔*(میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اسی طرح کرتے دیکھا جس طرح میں نے کیا)یعنی میں قولی و عملی سنتوں پر عمل کررہا ہوں۔ اس موقع پر یہ دعا مانگنا سنت قولی ہے او راس وقت تبسم کرنا سنت عملی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے حالات کی نقل کرتے تھے اسے ثواب سمجھتے تھے اور یہ بھی پتہ لگا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی ہر سنت پر عمل کرنا باعث ثواب ہے حتّٰی کہ ہنسنا اور رونا بھی۔خلاصہ یہ ہے کہ میں حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی موافقت میں ہنس رہا ہوں اورحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے رب تعالیٰ کی موافقت میں تبسم فرمایا تھا تو یہ عمل سنتِ رسول بھی ہے اور سنتِ الٰہیہ بھی۔رب تعالیٰ تعجب کرنے،ہنسنے سے پاک ہے اس لیے وہاں ان الفاظ کے معنے ہوتے ہیں خوش ہونا۔رب تعالیٰ کی رضا وخوشی اس کی شان کے لائق ہے،ہماری ر ضا و خوشی ہماری حیثیت کے موافق ہے۔*(رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے)معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ اس بندے سے بہت راضی و خوش ہوتا ہے جو اپنے کو بے کس و گنہگار جانے اوررب تعالیٰ کو قادِر و غفار جانے۔یہ ہی حال بارگاہِ مصطفوی کا ہے کہ وہاں بھی بے کَسی پر رحم بہت ہوتا ہے۔شعر
دیکھی جو بے کَسی تو انہیں رحم آگیا ……… گھبرا کے ہو گئے وہ گنہگار کی طرف
مدنی گلدستہ’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس کے پاس گاڑی پر سفر کرنے کی سہولت ہو یا اپنی گاڑی ہو اُسے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت عطا فرمائی جس کی بدولت ہمارا سفر آرام سے گزر جاتا ہے۔
(2) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیشہ مسکرایا کرتے تھے،قہقہہ نہیں لگاتے تھے۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قولی اور فعلی دونوں سنتوں پر عمل کرتے۔
(4) رب تعالیٰ تعجب کرنےاور ہنسنے سے پاک ہے۔
(5) α اللّٰہ عَزَّوَجَلَّا ُس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جواُس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق سفر پر روانہ ہونے اور سفر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 974