Main Icon

باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 721

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ في شَاْنِهِ كُلِّهِ: فِيْ طُهُوْرِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم یعجبه التيمن في شانه كله: في طهوره وترجله وتنعله.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے تمام کاموں میں دائیں جانب سے ابتدا کرنے کو پسند فرماتے تھے،(جیساکہ)اپنی طہارت میں، کنگھی کرنے میں اور نعلین مبارک پہننے میں۔“

شرح حدیث

دائیں جانب پرہمیشگی:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہمیں اپنے تمام کاموں میں سیدھی جانب کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی اپنے تمام کاموں میں دائیں جانب کو مقدم رکھتے تھے۔ حدیث پاک میں بیان کیا گیا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہر کام کی ابتدا دائیں جانب سے فرماتے تھے، یہاں تمام کاموں سے وہ کام مراد ہیں جو قابلِ تکریم (اچھے واعلیٰ)اور زینت کے قبیل سے ہوں اور ان کا تعلق افعالِ مقصودہ سے ہو، بہر حال وہ کام کہ جنہیں بائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہے یا وہ افعال جو بالذّات مقصود نہیں ہوتے جیساکہ بیت الخلاء میں داخل ہونا، مسجد سے باہر آنا وغیرہ ان جیسے افعال میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامبائیں جانب کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اور جن کاموں کو دائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہے آپعَلَیْہِ السَّلَامانہیں ہر صور ت دائیں ہاتھ سے ہی سر انجام دیتے اور اپنے اس عمل کو سفر و حَضر، فراغت و مشغولیت میں کبھی ترک نہ فرماتے، ہاں اگر کسی مجبوری کی بنا پر آپ دایاں ہاتھ استعمال نہ کر سکتے تو پھر بایاں ہاتھ استعمال فرماتے۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامکے ہر کام کو دائیں جانب سے کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نیک فال کو پسند فرماتے تھے اور سیدھی جانب میں نیک فال ہے کہ یہ جنتیوں کی جانب ہے۔ نیز مذکورہ حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہےحضورعَلَیْہِ السَّلَامطہارت حاصل کرنے، کنگھی کرنے اور نعلین مبارک پہننے میں دائیں جانب سے ابتدا فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کرنے میں پہلے سیدھے ہاتھ کو اور اسی طرح پہلے سیدھے پاؤں کو دھونا اور غسل کرنے، کنگھی کرنے، بال مونڈنے میں بھی دائیں طرف سے شروع کرنا، جوتا پہلے سیدھے پاؤں میں پہننا، نماز میں امام کی دائیں جانب کھڑے ہونا، مسجد میں بھی دائیں جانب کھڑے ہونا اور کھانے پینے میں سیدھا ہاتھ استعمال کرنا مستحب ہے۔مسجدِنبوی میں بائیں جانب افضل ہے:مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ تین چیزیں (یعنی طہارت حاصل کرنا، کنگھی کرنا اور نعلین مبارک میں دائیں جانب کو مقدم کرنا) بطورِ مثال ارشاد فرمائی گئیں ورنہ سُرمہ لگانا، ناخُن و بغل کے بال لینا، حجامت اور مونچھیں کٹوانا، مسجد میں آنا اور مسواک کرنا وغیرہ سب میں سنت یہ ہے کہ داہنے ہاتھ یا داہنی جانب سے ابتداء کرےکیونکہ نیکیاں لکھنے والا فرشتہ داہنی طرف رہتا ہے اس کی وجہ سے یہ سمت افضل ہے حتّٰی کہ داہنا پڑوسی بائیں پڑوسی سے زیادہ مستحقِ سلوک ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ دوسری مسجدوں میں صف کا داہنا حصہ بائیں سے افضل مگر مسجدِ نبوی میں بایاں حصہ داہنے سے افضل کیونکہ وہ روضۂ مطہرہ سے قریب ہے۔روضۂ مطہرہ دل ہے اور دل بائیں طرف ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ان کا ماخَذ یہ حدیث بھی ہے۔ صوفیائےکرام کے اقوال بے دلیل نہیں ہوتےکیونکہ جب نیکیاں لکھنے والے فرشتے کی وجہ سے داہنا حصہ بائیں سے افضل ہوا تو وہاں قُربِ مصطفوی کی وجہ سے بائیں سمت افضل ہوگی۔چنانچہ سرکار(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)فرماتے ہیں کہ نماز میں داہنی جانب نہ تھوکو نہ جوتا رکھو کیونکہ ادھر رحمت کا فرشتہ ہے۔کنگھی کرنے کے آداب:مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکنگھی کرتے ہوئے دائیں جانب سے ابتدا فرماتے تھے، اسی ضمن میں کنگھی کرنے سے متعلق آداب ملاحظہ فرمائیے: (1) کنگھی کرتے ہوئے سیدھی جانب سے ابتدا کریں۔ (2) بیچ کی مانگ نکالیں کہ یہ سنت ہے۔(3) بال بکھرے ہوئے نہ چھوڑیں بلکہ ان میں کنگھی کیا کریں، حدیث پاک میں ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف فرما تھے، ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی طرف اشارہ کیا، گویا بالوں کے درست کرنے کا حکم دے رہے ہیں، وہ شخص درست کرکے واپس آیا تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ” کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا ہے گویا وہ شیطان ہے؟“مدنی گلدستہ’’جبلِ نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامقابلِ تکریم تمام اُمورمیں دائیں جانب سے ابتداء فرماتے تھے۔
(2) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامصرف ان کاموں میں بائیں جانب کو ترجیح دیتے تھے جو کام بائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہیں یا وہ بالذّات مقصود نہیں ہیں جیساکہ مسجد سے باہر آنا یا بیت الخلاء میں جانا وغیر ہ۔
(3) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ہر کام کو سیدھے ہاتھ سے کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نیک فال کو پسند فرماتے تھے اور سیدھے ہاتھ میں نیک فال یہ ہے کہ جنتیوں کی جانب ہے۔
(4) تمام مساجد میں دائیں جانب افضل ہے لیکن مسجدِنبوی میں قُربِ مُصطفوی ہونے کی وجہ سے بائیں جانب افضل ہے۔
(5) نماز میں دائیں جانب تھوکنے اور چپل رکھنے سے بچنا چاہیے کہ اس جانب رحمت کا فرشتہ ہوتا ہے۔
(6) سر اور داڑھی کے بالوں کو بکھرا ہوا نہ چھوڑیں بلکہ ان میں کنگھی کریں اور کنگھی کرتے ہوئے سیدھی جانب سے ابتدا کریں اور سر میں بیچ کی مانگ نکالیں کہ یہ سنت ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں تمام کاموں میں سنت کے مطابق ابتدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 721