- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- حدیث نمبر 721
باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 721
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ في شَاْنِهِ كُلِّهِ: فِيْ طُهُوْرِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ.
عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم یعجبه التيمن في شانه كله: في طهوره وترجله وتنعله.
حدیث ترجمہ
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے تمام کاموں میں دائیں جانب سے ابتدا کرنے کو پسند فرماتے تھے،(جیساکہ)اپنی طہارت میں، کنگھی کرنے میں اور نعلین مبارک پہننے میں۔“
شرح حدیث
دائیں جانب پرہمیشگی:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہمیں اپنے تمام کاموں میں سیدھی جانب کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی اپنے تمام کاموں میں دائیں جانب کو مقدم رکھتے تھے۔ حدیث پاک میں بیان کیا گیا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہر کام کی ابتدا دائیں جانب سے فرماتے تھے، یہاں تمام کاموں سے وہ کام مراد ہیں جو قابلِ تکریم (اچھے واعلیٰ)اور زینت کے قبیل سے ہوں اور ان کا تعلق افعالِ مقصودہ سے ہو، بہر حال وہ کام کہ جنہیں بائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہے یا وہ افعال جو بالذّات مقصود نہیں ہوتے جیساکہ بیت الخلاء میں داخل ہونا، مسجد سے باہر آنا وغیرہ ان جیسے افعال میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامبائیں جانب کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اور جن کاموں کو دائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہے آپعَلَیْہِ السَّلَامانہیں ہر صور ت دائیں ہاتھ سے ہی سر انجام دیتے اور اپنے اس عمل کو سفر و حَضر، فراغت و مشغولیت میں کبھی ترک نہ فرماتے، ہاں اگر کسی مجبوری کی بنا پر آپ دایاں ہاتھ استعمال نہ کر سکتے تو پھر بایاں ہاتھ استعمال فرماتے۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامکے ہر کام کو دائیں جانب سے کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نیک فال کو پسند فرماتے تھے اور سیدھی جانب میں نیک فال ہے کہ یہ جنتیوں کی جانب ہے۔ نیز مذکورہ حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہےحضورعَلَیْہِ السَّلَامطہارت حاصل کرنے، کنگھی کرنے اور نعلین مبارک پہننے میں دائیں جانب سے ابتدا فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کرنے میں پہلے سیدھے ہاتھ کو اور اسی طرح پہلے سیدھے پاؤں کو دھونا اور غسل کرنے، کنگھی کرنے، بال مونڈنے میں بھی دائیں طرف سے شروع کرنا، جوتا پہلے سیدھے پاؤں میں پہننا، نماز میں امام کی دائیں جانب کھڑے ہونا، مسجد میں بھی دائیں جانب کھڑے ہونا اور کھانے پینے میں سیدھا ہاتھ استعمال کرنا مستحب ہے۔مسجدِنبوی میں بائیں جانب افضل ہے:مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ تین چیزیں (یعنی طہارت حاصل کرنا، کنگھی کرنا اور نعلین مبارک میں دائیں جانب کو مقدم کرنا) بطورِ مثال ارشاد فرمائی گئیں ورنہ سُرمہ لگانا، ناخُن و بغل کے بال لینا، حجامت اور مونچھیں کٹوانا، مسجد میں آنا اور مسواک کرنا وغیرہ سب میں سنت یہ ہے کہ داہنے ہاتھ یا داہنی جانب سے ابتداء کرےکیونکہ نیکیاں لکھنے والا فرشتہ داہنی طرف رہتا ہے اس کی وجہ سے یہ سمت افضل ہے حتّٰی کہ داہنا پڑوسی بائیں پڑوسی سے زیادہ مستحقِ سلوک ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ دوسری مسجدوں میں صف کا داہنا حصہ بائیں سے افضل مگر مسجدِ نبوی میں بایاں حصہ داہنے سے افضل کیونکہ وہ روضۂ مطہرہ سے قریب ہے۔روضۂ مطہرہ دل ہے اور دل بائیں طرف ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ان کا ماخَذ یہ حدیث بھی ہے۔ صوفیائےکرام کے اقوال بے دلیل نہیں ہوتےکیونکہ جب نیکیاں لکھنے والے فرشتے کی وجہ سے داہنا حصہ بائیں سے افضل ہوا تو وہاں قُربِ مصطفوی کی وجہ سے بائیں سمت افضل ہوگی۔چنانچہ سرکار(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)فرماتے ہیں کہ نماز میں داہنی جانب نہ تھوکو نہ جوتا رکھو کیونکہ ادھر رحمت کا فرشتہ ہے۔کنگھی کرنے کے آداب:مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکنگھی کرتے ہوئے دائیں جانب سے ابتدا فرماتے تھے، اسی ضمن میں کنگھی کرنے سے متعلق آداب ملاحظہ فرمائیے: (1) کنگھی کرتے ہوئے سیدھی جانب سے ابتدا کریں۔ (2) بیچ کی مانگ نکالیں کہ یہ سنت ہے۔(3) بال بکھرے ہوئے نہ چھوڑیں بلکہ ان میں کنگھی کیا کریں، حدیث پاک میں ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف فرما تھے، ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی طرف اشارہ کیا، گویا بالوں کے درست کرنے کا حکم دے رہے ہیں، وہ شخص درست کرکے واپس آیا تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ” کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا ہے گویا وہ شیطان ہے؟“مدنی گلدستہ’’جبلِ نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامقابلِ تکریم تمام اُمورمیں دائیں جانب سے ابتداء فرماتے تھے۔
(2) حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامصرف ان کاموں میں بائیں جانب کو ترجیح دیتے تھے جو کام بائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہیں یا وہ بالذّات مقصود نہیں ہیں جیساکہ مسجد سے باہر آنا یا بیت الخلاء میں جانا وغیر ہ۔
(3) حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ہر کام کو سیدھے ہاتھ سے کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نیک فال کو پسند فرماتے تھے اور سیدھے ہاتھ میں نیک فال یہ ہے کہ جنتیوں کی جانب ہے۔
(4) تمام مساجد میں دائیں جانب افضل ہے لیکن مسجدِنبوی میں قُربِ مُصطفوی ہونے کی وجہ سے بائیں جانب افضل ہے۔
(5) نماز میں دائیں جانب تھوکنے اور چپل رکھنے سے بچنا چاہیے کہ اس جانب رحمت کا فرشتہ ہوتا ہے۔
(6) سر اور داڑھی کے بالوں کو بکھرا ہوا نہ چھوڑیں بلکہ ان میں کنگھی کریں اور کنگھی کرتے ہوئے سیدھی جانب سے ابتدا کریں اور سر میں بیچ کی مانگ نکالیں کہ یہ سنت ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں تمام کاموں میں سنت کے مطابق ابتدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 721