- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- حدیث نمبر 723
باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 723
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِیْ غَسْلِ اِبْنَتِهِ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: ابْدَاْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الوُضُوْ ءِمِنْهَا.
عن ام عطية رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لهن فی غسل ابنته زينب رضي الله عنها: ابدان بميامنها ومواضع الوضو ءمنها.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی صاحبزادی حضرت سَیِّدَتُنا زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکو غسل دینے کے بارے میں ان سے فرمایا :’’ان کی دائیں طرف اور وضو کی جگہوں سے شروع کرنا۔“
شرح حدیث
حضرت اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا:حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکا نامنُسَیْبَہہے، صحابیہ ہیں، آپ مردہ عورتوں کو غسل دیا کرتی تھیں، مریضوں کی تیمارداری کرتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں، آپ نے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی اور غزوۂ خیبر میں بھی حاضر ہوئیں، آپ نے چالیس احادیث روایت کی ہیں جن میں سے چھ یا سات میں بخاری و مسلم دونوں متفق ہیں اور ایک روایت میں بخاری اور ایک میں مسلم منفرد ہیں، آپ سے محدثین کی ایک جماعت نے احادیث روایت کی ہیں۔حضرت زینب کی وفات:مذکورہ حدیث پاک میں دُخترِ رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکی وفات کا ذکر ہوا۔ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں جو اِعلانِ نبوت سے دس سال قبل پیدا ہوئیں، آپ کی وفات کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ آپ ہجرت کے وقت حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے ساتھ نہ جاسکیں تھیں، آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَامدینے کے لیے روانہ ہوئیں تو راستے میں کفار کی ایک جماعت مزاحمت کے لیے آپہنچی، اس جماعت میں ہبّار بن اَسود بھی تھا اس نے آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکو نیزہ مارا جس سے آپ زخمی ہوکر اونٹ سے گریں اور چونکہ حاملہ تھیں اس لیے حمل بھی ضائع ہوگیا، آپ کا یہ زخم کئی سال تک رہا اور اسی زخم میں کئی سال بیمار رہ کر آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے ۸ ہجری میں وفات پائی۔مُردےکو پہلے وضو کرائیں:مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے میت کو غسل دیتے ہوئے داہنی جانب اور اعضائے وضو سے ابتدا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”میت کو سب سے پہلے وضو کروایا جائے یعنی اس کے وہ اعضاء دھوئے جائیں جنہیں وضو میں دھونا فرض ہے اور وضو میں سیدھی جانب سے ابتدا کی جائے یعنی پہلے سیدھا ہاتھ دھوئیں پھر اُلٹا ہاتھ، اسی طرح پہلے سیدھا پاؤں دھوئیں پھر اُلٹا پاؤں اور میت کو وضو میں نہ کلی کروائیں گے اور نہ ناک میں پانی چڑھائیں گے (کیونکہ میت کے ناک اور منہ سے پانی نکالنا مشکل ہے)۔ علماء فرماتے ہیں کہ مستحب ہے کہ غسل دینے والا اپنی انگلیوں پر کپڑا لپیٹ لے اور اسے میت کے دانتوں، مسوڑھوں، ہونٹوں اور نتھنوں پر پھیر دے۔ اور مختار یہ ہے کہ میت کو وضو میں سر کا مسح کروائیں گے۔ اور میت کے پاؤں غسل کے آخر میں نہیں دھوئیں گے جیساکہ زندہ لوگ غسل کرتے ہوئے کرتے ہیں اور میت کے ہاتھ بھی سب سے پہلے نہیں دھوئے جائیں گے جیساکہ جُنبی شخص سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتا ہے کیونکہ اس نے انہیں ہاتھوں کے ذریعے طہارت حاصل کرنی ہوتی ہے جبکہ میت تو دوسروں کے ہاتھوں سے پاکی حاصل کرتی ہے اسی لیے سب سے پہلے میت کے چہرے کو دھوئیں گے۔“کفن میں تبرکات رکھنا:ایک حدیث پاک میں ہے حضرت اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ہم سے فرمایا کہ جب تم غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا پس جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ کو بتایا، پس آپ نے ہمیں اپنا تہبند عطا کیا اور فرمایا کہ اس تہبند سے ان(یعنی حضرت زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا) کو لپیٹ دو یعنی ان کا ازار بنا دو۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یعنی میرا تہبند شریف ان کے جسم سے ملا ہوا رکھو اورکفن اوپر۔ یہ تہبند کفن میں شمار نہ تھا بلکہ برکت اور قبر کی مشکلات حل کرنے کے لیے رکھا گیا۔ اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بزرگوں کے بال،ناخُن،ان کے استعمال کے کپڑے تبرُّ ک ہیں جن سے دنیا، قبر و آخرت کی مشکلات حل ہوتی ہیں، قرآن شریف میں ہے کہ یوسفعَلَیْہِ السَّلَامکی قمیض کی برکت سے یعقوبعَلَیْہِ السَّلَامکی نابینا آنکھیں روشن ہوگئیں۔اَحادیث میں ثابت ہے کہ حضرتِ امیرمعاویہ، عمرو ابنِ عاص و دیگرصحابہ ٔکرام نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ناخُن، بال وتہبند شریف اپنے ساتھ قبر میں لے جانے کے لیے محفوظ رکھے۔ دوسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات اورقرآنی آیت یا دعا کسی کپڑے یا کاغذ پرلکھ کر میت کے ساتھ قبر میں دفن کرنا جائز بلکہ سنت ہے۔ تیسرے یہ کہ ان چیزوں کے متعلق یہ خیال نہ کیا جائے کہ جب میت پھولے پھٹے گی تو ان کی بے حرمتی ہوگی، دیکھو سورۂ فاتحہ لکھ کر دھوکر بیمار کوپلاتے ہیں، یونہی آبِ زمزم برکت کے لیے پیتے ہیں حالانکہ پانی پیٹ میں پہنچ کر کیا بنتا ہے سب کو معلوم ہے۔“مدنی گلدستہ’’دُخترِ نبی ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) میت کو غسل دیتے ہوئے پہلے وضو کروائیں اور وضو میں دائیں جانب والے اعضاء کو پہلے دھوئیں۔
(2) حضرت سَیِّدَتُنَا زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں، آپ کی وفات ۸ ہجری میں نیزے کے پرانے زخم سے ہوئی۔
(3) میت کے وضو کی ابتدا چہرے سے کریں گے نہ کہ ہاتھوں سے، اور میت کے پاؤں غسل کے آخر میں نہیں دھوئے جائیں گے بلکہ پہلے ہی دھو دیں گے۔
(4) میت کو وضو کراتے ہوئے ناک و منہ میں پانی نہیں ڈالیں گے بلکہ انگلیوں پر کپڑا لپیٹ کر دانتوں، ہونٹوں، مسوڑھوں اور نتھنوں پر پھیر دیں گے۔
(5) کفن اور قبر میں تبرکات رکھنے سے قبر وآخرت کی مشکلات حل ہوتی ہیں۔
(6) حضرت سَیِّدُنا امیر معاویہ و عَمرو بن عاص اور دیگر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مُوئے مبارک، ناخن اور تہبند شریف قبر میں رکھنے کے لیے اپنے پاس حفاظت سے رکھے۔
(7) بزرگوں کے تبرکات، قرآنی آیات اور دعائیں وغیرہ کسی کپڑے یا کاغذ پر لکھ کر میت کے ساتھ قبر میں دفن کرناجائز ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں میت کو غسل دینے اور غسل میں دائیں طرف سے ابتدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 723