Main Icon

باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 723

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِیْ غَسْلِ اِبْنَتِهِ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: ابْدَاْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الوُضُوْ ءِمِنْهَا.

عن ام عطية رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لهن فی غسل ابنته زينب رضي الله عنها: ابدان بميامنها ومواضع الوضو ءمنها.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی صاحبزادی حضرت سَیِّدَتُنا زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکو غسل دینے کے بارے میں ان سے فرمایا :’’ان کی دائیں طرف اور وضو کی جگہوں سے شروع کرنا۔“

شرح حدیث

حضرت اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا:حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکا نامنُسَیْبَہہے، صحابیہ ہیں، آپ مردہ عورتوں کو غسل دیا کرتی تھیں، مریضوں کی تیمارداری کرتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں، آپ نے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی اور غزوۂ خیبر میں بھی حاضر ہوئیں، آپ نے چالیس احادیث روایت کی ہیں جن میں سے چھ یا سات میں بخاری و مسلم دونوں متفق ہیں اور ایک روایت میں بخاری اور ایک میں مسلم منفرد ہیں، آپ سے محدثین کی ایک جماعت نے احادیث روایت کی ہیں۔حضرت زینب کی وفات:مذکورہ حدیث پاک میں دُخترِ رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکی وفات کا ذکر ہوا۔ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں جو اِعلانِ نبوت سے دس سال قبل پیدا ہوئیں، آپ کی وفات کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ آپ ہجرت کے وقت حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے ساتھ نہ جاسکیں تھیں، آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَامدینے کے لیے روانہ ہوئیں تو راستے میں کفار کی ایک جماعت مزاحمت کے لیے آپہنچی، اس جماعت میں ہبّار بن اَسود بھی تھا اس نے آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکو نیزہ مارا جس سے آپ زخمی ہوکر اونٹ سے گریں اور چونکہ حاملہ تھیں اس لیے حمل بھی ضائع ہوگیا، آپ کا یہ زخم کئی سال تک رہا اور اسی زخم میں کئی سال بیمار رہ کر آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے ۸ ہجری میں وفات پائی۔مُردےکو پہلے وضو کرائیں:مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے میت کو غسل دیتے ہوئے داہنی جانب اور اعضائے وضو سے ابتدا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”میت کو سب سے پہلے وضو کروایا جائے یعنی اس کے وہ اعضاء دھوئے جائیں جنہیں وضو میں دھونا فرض ہے اور وضو میں سیدھی جانب سے ابتدا کی جائے یعنی پہلے سیدھا ہاتھ دھوئیں پھر اُلٹا ہاتھ، اسی طرح پہلے سیدھا پاؤں دھوئیں پھر اُلٹا پاؤں اور میت کو وضو میں نہ کلی کروائیں گے اور نہ ناک میں پانی چڑھائیں گے (کیونکہ میت کے ناک اور منہ سے پانی نکالنا مشکل ہے)۔ علماء فرماتے ہیں کہ مستحب ہے کہ غسل دینے والا اپنی انگلیوں پر کپڑا لپیٹ لے اور اسے میت کے دانتوں، مسوڑھوں، ہونٹوں اور نتھنوں پر پھیر دے۔ اور مختار یہ ہے کہ میت کو وضو میں سر کا مسح کروائیں گے۔ اور میت کے پاؤں غسل کے آخر میں نہیں دھوئیں گے جیساکہ زندہ لوگ غسل کرتے ہوئے کرتے ہیں اور میت کے ہاتھ بھی سب سے پہلے نہیں دھوئے جائیں گے جیساکہ جُنبی شخص سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتا ہے کیونکہ اس نے انہیں ہاتھوں کے ذریعے طہارت حاصل کرنی ہوتی ہے جبکہ میت تو دوسروں کے ہاتھوں سے پاکی حاصل کرتی ہے اسی لیے سب سے پہلے میت کے چہرے کو دھوئیں گے۔“کفن میں تبرکات رکھنا:ایک حدیث پاک میں ہے حضرت اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ہم سے فرمایا کہ جب تم غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا پس جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ کو بتایا، پس آپ نے ہمیں اپنا تہبند عطا کیا اور فرمایا کہ اس تہبند سے ان(یعنی حضرت زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا) کو لپیٹ دو یعنی ان کا ازار بنا دو۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یعنی میرا تہبند شریف ان کے جسم سے ملا ہوا رکھو اورکفن اوپر۔ یہ تہبند کفن میں شمار نہ تھا بلکہ برکت اور قبر کی مشکلات حل کرنے کے لیے رکھا گیا۔ اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بزرگوں کے بال،ناخُن،ان کے استعمال کے کپڑے تبرُّ ک ہیں جن سے دنیا، قبر و آخرت کی مشکلات حل ہوتی ہیں، قرآن شریف میں ہے کہ یوسفعَلَیْہِ السَّلَامکی قمیض کی برکت سے یعقوبعَلَیْہِ السَّلَامکی نابینا آنکھیں روشن ہوگئیں۔اَحادیث میں ثابت ہے کہ حضرتِ امیرمعاویہ، عمرو ابنِ عاص و دیگرصحابہ ٔکرام نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ناخُن، بال وتہبند شریف اپنے ساتھ قبر میں لے جانے کے لیے محفوظ رکھے۔ دوسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات اورقرآنی آیت یا دعا کسی کپڑے یا کاغذ پرلکھ کر میت کے ساتھ قبر میں دفن کرنا جائز بلکہ سنت ہے۔ تیسرے یہ کہ ان چیزوں کے متعلق یہ خیال نہ کیا جائے کہ جب میت پھولے پھٹے گی تو ان کی بے حرمتی ہوگی، دیکھو سورۂ فاتحہ لکھ کر دھوکر بیمار کوپلاتے ہیں، یونہی آبِ زمزم برکت کے لیے پیتے ہیں حالانکہ پانی پیٹ میں پہنچ کر کیا بنتا ہے سب کو معلوم ہے۔“مدنی گلدستہ’’دُخترِ نبی ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) میت کو غسل دیتے ہوئے پہلے وضو کروائیں اور وضو میں دائیں جانب والے اعضاء کو پہلے دھوئیں۔
(2) حضرت سَیِّدَتُنَا زینب
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں، آپ کی وفات ۸ ہجری میں نیزے کے پرانے زخم سے ہوئی۔
(3) میت کے وضو کی ابتدا چہرے سے کریں گے نہ کہ ہاتھوں سے، اور میت کے پاؤں غسل کے آخر میں نہیں دھوئے جائیں گے بلکہ پہلے ہی دھو دیں گے۔
(4) میت کو وضو کراتے ہوئے ناک و منہ میں پانی نہیں ڈالیں گے بلکہ انگلیوں پر کپڑا لپیٹ کر دانتوں، ہونٹوں، مسوڑھوں اور نتھنوں پر پھیر دیں گے۔
(5) کفن اور قبر میں تبرکات رکھنے سے قبر وآخرت کی مشکلات حل ہوتی ہیں۔
(6) حضرت سَیِّدُنا امیر معاویہ و عَمرو بن عاص اور دیگر صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مُوئے مبارک، ناخن اور تہبند شریف قبر میں رکھنے کے لیے اپنے پاس حفاظت سے رکھے۔
(7) بزرگوں کے تبرکات، قرآنی آیات اور دعائیں وغیرہ کسی کپڑے یا کاغذ پر لکھ کر میت کے ساتھ قبر میں دفن کرناجائز ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں میت کو غسل دینے اور غسل میں دائیں طرف سے ابتدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 723