Main Icon

باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 725

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَجْعَلُ يَمِيْنَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذٰلِكَ.

عن حفصة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم کان يجعل يمينه لطعامه وشرابه وثيابه ويجعل يساره لما سوى ذلك.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھانے، پینے اور لباس پہننے کے لیے اپنا داہنا دستِ اقدس استعمال فرماتے تھے اور ان کے علاوہ دیگر امور کے لیے بایاں دستِ اقدس استعمال فرماتے۔

شرح حدیث

مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکھانے پینے اور لباس پہننے کے لیے دایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے اور اسی طرح تمام قابلِ تکریم(اچھے واعلیٰ) امور میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی دائیں جانب سے ہی ابتدا فرماتے تھے لیکن وہ تمام کام جو قابلِ تکریم (اچھے واعلیٰ)نہ ہوں بلکہ ادنیٰ(گھٹیا)ہوں ان میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنا بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے۔ مذکورہ حدیثِ پاک میں تین کاموں کو خاص طورپر بیان کیا گیا ہے کہ جنہیں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدائیں ہاتھ سے سرانجام دیا کرتے تھے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ السَّلَامسیدھے ہاتھ سے کھاتے اور پیتے تھے یعنی کھانے اور پینے کی چیزوں کو سیدھے ہاتھ سے منہ تک پہنچاتے تھے اور سیدھے ہاتھ سے لباس پہنتے تھے یعنی قمیص میں پہلے سیدھا ہاتھ داخل فرماتے پھر اُلٹا اسی طرح شلوار میں بھی پہلے سیدھا پاؤں داخل فرماتے پھر اُلٹا۔“کھانے کے آداب:کھانے کے اَوَّل آخر کھانے کا وضو کرے یعنی دونوں ہاتھ دھوئے ، کھانا شروع کرنے سے پہلےبِسْمِ اللّٰہشریف پڑھے،سیدھے ہاتھ سے اوراپنے سامنے سے، چھوٹے چھوٹے لقمے لے اوراچھی طرح چبا چبا کر کھائے، کھانے والوں کے چہروں کی طرف نظریں نہ جمائے (یعنی دوسروں کے لقمے نہ تاڑے )،ٹیک لگاکراور بھوک سے زیادہ نہ کھائے۔برتن کی ایک طرف سے کھائے، درمیان میں سے نہ کھائے، کھانے کے بعدانگلیوں کو چاٹ لے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد بیان کرے۔پینے کے آداب:پانی یاکوئی بھی چیزپینے سے پہلے برتن میں اچھی طرح دیکھ لے کہ کہیں کوئی موذی چیز تو نہیں، پینے سے پہلےبِسْمِ اللّٰہشریف پڑھے اورپینے کے بعداَلْحَمْدُلِلّٰہکہے، چوس چوس کر پئے اورایک ہی گھونٹ میں نہ پئے بلکہ تین سانس میں پئے، ہربار سانس لینے کے بعداللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرے اور دوبارہ پینے سے پہلےبِسْمِ اللّٰہشریف پڑھے، کھڑے ہو کر نہ پئے اور اگر اس کے ساتھ اور بھی لوگ ہوں تو پلاتے وقت اپنی سیدھی طرف سے ابتدا کرے۔لباس پہننے کے آداب:سفید لباس ہر لباس سے بہتر ہے اور سرکارِمدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کو پسندفرمایا۔ حضرت سَیِّدُنا سمرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”سفید لباس پہنو کیونکہ یہ زیادہ صاف اورپاکیزہ ہے اور اپنے مُردوں کو بھی اسی میں کفناؤ۔“ جب کپڑا پہننے لگیں تو یہ دعا پڑھیں، پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے:”اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَاوَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِحَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ“ ترجمہ:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ہے جس نے مجھے یہ پہنایا اور بغیر میری قوت وطاقت کے مجھے یہ عطا کیا۔ پہنتے وقت سیدھی طرف سے شروع کریں مثلاً جب کُرتا پہنیں تو پہلےسیدھی آستین میں سیدھا ہاتھ داخل کریں پھر اُلٹی میں، اسی طرح پاجامہ میں پہلے سیدھے پائنچے میں سیدھا پاؤں داخل کریں اور جب اُتارنے لگیں تو اس کے برعکس کریں یعنی اُلٹی طرف سے شروع کریں ۔ پہلے کُرتا پہنیں پھر پاجامہ۔مدنی گلدستہ’’حطیم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کھانے پینے اور لباس پہننے کے لیے دایاں ہاتھ استعمال کرنا چاہیے۔
(2) لباس پہنتے ہوئے پہلے سیدھا ہاتھ قمیص میں داخل کریں اور پھر اُلٹا اسی طرح شلوار پہنتے ہوئے بھی پہلے دایاں پاؤں داخل کریں اور پھر بایاں۔
(3) جب مہمان کے ساتھ کھانا کھارہے ہوں تو اس وقت تک ہاتھ نہ روکیں جب تک مہمان ہاتھ نہ روک لے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے رُکنے کی وجہ سے وہ بھی کھانے سے ہاتھ روک لے۔
(4) ہر قوم کا لباس مختلف ہوتا ہے اور مسلمان کا لباس سب سے جُدا ہے اس لیے مسلمانوں کو غیر مسلموں کا لباس اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کھانے، پینے اور پہننے میں سیدھا ہاتھ استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 725