- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- حدیث نمبر 727
باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 727
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَتَى مِنًى فَاَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ اَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ خُذْ وَاَشَارَ اِلَى جَانِبِهِ الْاَيْمَنِ ثُمَّ الْاَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيْهِ النَّاسَ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:لَمَّا رَمَى الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْاَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا اَبَا طَلْحَةَ الْاَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاَعْطَاهُ اِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْاَيْسَرَ فَقَالَ:احْلِقْ فَحَلَقَهُ فَاَعْطَاهُ اَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ: اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ.
عن انس رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى منى فاتى الجمرة فرماها ثم اتى منزله بمنى ونحر ثم قال للحلاق خذ واشار الى جانبه الايمن ثم الايسر ثم جعل يعطيه الناس.وفی روایۃ:لما رمى الجمرة ونحر نسكه وحلق ناول الحلاق شقه الايمن فحلقه ثم دعا ابا طلحة الانصاري رضي الله عنه فاعطاه اياه ثم ناوله الشق الايسر فقال:احلق فحلقه فاعطاه ابا طلحة فقال: اقسمه بين الناس.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنیٰ میں تشریف لائے تو جمرہ(عقبہ) کے پاس گئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منٰی میں اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور قربانی کی پھر حجام سے اپنی دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ بال اُتارو پھر بائیں جانب اشارہ فرمایا پھر وہ بال مبارک لوگوں میں تقسیم فرمائے۔اور ایک روایت میں ہے: جب جمرہ کو کنکریاں ماریں اور اپنی قربانی کو ذبح فرمادیا تو سر منڈوانے کے لیے اپنی دائیں جانب حجام کی طرف کی، حجام نے اس جانب سے بال مبارک اُتارے تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بلایا اور انہیں وہ بال عطا فرمادیے، پھر اپنی بائیں جانب حجام کی طرف بڑھائی اور فرمایا :یہ بال اُتاردو، حجام نے وہ جانب مونڈدی پھر یہ بال بھی حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو عطا کیے اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کردو۔“
شرح حدیث
مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جب بال کٹوائے جائیں یا حلق کروایا جائے تو سیدھی جانب سے ابتدا کرنی چاہیے۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بھی سر منڈواتے وقت حجام کو پہلے اپنے سر کی دائیں جانب اشارہ کرکے حکم ارشاد فرمایا کہ یہاں سے مونڈو پھر بائیں جانب سے مونڈنے کا حکم دیا۔ مرآۃ المناجیح میں ہے: اس سے معلوم ہوا کہ حجامت میں دایاں حصہ پہلے، بایاں حصہ بعد میں منڈانا چاہیے، امام ابوحنیفہ (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرمایا کرتے تھے کہ نائی کا دایاں اور بایاں معتبر ہے کہ فاعل وہ ہے، اس صورت میں مخلوق کا بایاں پہلے منڈے گا دایاں بعد میں مگر یہ حدیث سن کر امام صاحب نے اپنے قول سے رجوع کرلیا اور فرمایا کہ حدیث قیاس پر مقدم ہے اگر نائی پیچھے کھڑا ہو کر حجامت بنائے تو دونوں کا دایاں بایاں ایک ہی سمت میں ہوگا۔ حجامت کے بعد لب و داڑھی بنوانا، پھر ناخُن ترشوانا سنت ہے۔
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بال مبارک جن سے منڈوائے ان کا نام حضرت سَیِّدُنَامَعْمَرْبنعبداللّٰہہے، قرشی عدوی ہیں اور قدیمُ الاسلام ہیں۔ جب حضرتمَعْمَرْرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحاضر ہوئے اور ہاتھ میں استرہ پکڑ کر بال مونڈنے لگے تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اےمَعْمَرْ! تجھےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے رسول نے اپنے کان کی لو پر قدرت دی ہے اور تیرے ہاتھ میں استرہ ہے۔“مطلب یہ کہ ہوشیار رہو اور اس نعمت کی قدر کرو۔ حضرتمَعْمَرْرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:بیشک یہاللّٰہتعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے اور یہ اس کا مجھ پر احسان ہے، حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ہاں ایسا ہی ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدحضور کےموئے مبارک کی فضیلت:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بال مبارک منڈوانے کے بعد حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بلایا اور انہیں موئے مبارک عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں لوگوں میں تقسیم کردو۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”اس موقعہ پر حضورِ اَنور نے اپنے ناخُن شریف بھی لوگوں میں تقسیم کرائے، یہ بال و ناخُن تبرک کے لیے ساروں میں تقسیم کیے گئے، ان میں سے بعض حضرات تو یہ تبرکات اپنی قبروں میں لے گئے تاکہ وہاں کی مشکلات آسان ہوں جیسے حضرت امیرِمعاویہ و عمرو ابنِ عاص وغیرہم اور بعض حضرات چھوڑ گئے تاکہ قیامت تک مسلمان ان کی زیارت کرتے رہیں۔ چنانچہ آج تک مختلف جگہ یہ بال شریف موجود ہیں اور ان کی زیارتیں ہورہی ہیں،صحابہ کرام ان بالوں کو پانی میں غوطہ دے کر دواءً پیتے تھے۔ اِس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انسان کے بال جُدا ہوکر بھی پاک ہیں۔ دوسرے یہ کہﷲتعالیٰ نے حضور کے بعض اَجزاءِ بدن شریف محفوظ رکھے ہیں۔ تیسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات خصوصاً حضور کے بال و ناخُن شریف سنبھال کر رکھنا، اُن کی زیارت کرنا، اُن سے شفا حاصل کرنا، اُن کے تَوَسُّل سے دعائیں مانگنا، قبر میں انہیں ساتھ لے جانا سب جائز و بہتر ہے کہ یہ تقسیم انہی مقاصد کے لیے ہوئی تھی۔مدنی گلدستہ’’بریلی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بال منڈواتے وقت پہلے سر کی دائیں جانب سے بال منڈوانے چاہئیں پھر بائیں جانب سے۔
(2) بال منڈوانے میں حجامت کرانے والے کی دائیں جانب کا اعتبار ہے نہ کہ حجام کی دائیں جانب کا، اگر حجام پیچھے کھڑے ہو کر حجامت بنائے گا تو پھر دائیں جانب دونوں کی ایک ہی سمت میں ہوگی۔
(3) حجامت کے بعد مونچھیں اور داڑھی بنوانا پھر ناخُن ترشوانا سنت ہے۔
(4) حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بال مبارک اور ناخُن شریف تبرک کے طورپر تقسیم فرمائے۔
(5) بزرگوں کے تبرکات خصوصًا حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے موئے مبارک اور ناخُن شریف کی زیارت کرنا، ان سے شفا حاصل کرنا، ان کے وسیلے سے دعائیں مانگنا اور انہیں قبر میں رکھنا جائز و بہتر ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق حجامت بنوانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 727