Main Icon

باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 727

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَتَى مِنًى فَاَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ اَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ خُذْ وَاَشَارَ اِلَى جَانِبِهِ الْاَيْمَنِ ثُمَّ الْاَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيْهِ النَّاسَ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:لَمَّا رَمَى الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْاَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا اَبَا طَلْحَةَ الْاَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاَعْطَاهُ اِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْاَيْسَرَ فَقَالَ:احْلِقْ فَحَلَقَهُ فَاَعْطَاهُ اَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ: اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ.

عن انس رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى منى فاتى الجمرة فرماها ثم اتى منزله بمنى ونحر ثم قال للحلاق خذ واشار الى جانبه الايمن ثم الايسر ثم جعل يعطيه الناس.وفی روایۃ:لما رمى الجمرة ونحر نسكه وحلق ناول الحلاق شقه الايمن فحلقه ثم دعا ابا طلحة الانصاري رضي الله عنه فاعطاه اياه ثم ناوله الشق الايسر فقال:احلق فحلقه فاعطاه ابا طلحة فقال: اقسمه بين الناس.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنیٰ میں تشریف لائے تو جمرہ(عقبہ) کے پاس گئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منٰی میں اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور قربانی کی پھر حجام سے اپنی دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ بال اُتارو پھر بائیں جانب اشارہ فرمایا پھر وہ بال مبارک لوگوں میں تقسیم فرمائے۔اور ایک روایت میں ہے: جب جمرہ کو کنکریاں ماریں اور اپنی قربانی کو ذبح فرمادیا تو سر منڈوانے کے لیے اپنی دائیں جانب حجام کی طرف کی، حجام نے اس جانب سے بال مبارک اُتارے تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بلایا اور انہیں وہ بال عطا فرمادیے، پھر اپنی بائیں جانب حجام کی طرف بڑھائی اور فرمایا :یہ بال اُتاردو، حجام نے وہ جانب مونڈدی پھر یہ بال بھی حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو عطا کیے اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کردو۔“

شرح حدیث

مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جب بال کٹوائے جائیں یا حلق کروایا جائے تو سیدھی جانب سے ابتدا کرنی چاہیے۔ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بھی سر منڈواتے وقت حجام کو پہلے اپنے سر کی دائیں جانب اشارہ کرکے حکم ارشاد فرمایا کہ یہاں سے مونڈو پھر بائیں جانب سے مونڈنے کا حکم دیا۔ مرآۃ المناجیح میں ہے: اس سے معلوم ہوا کہ حجامت میں دایاں حصہ پہلے، بایاں حصہ بعد میں منڈانا چاہیے، امام ابوحنیفہ (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرمایا کرتے تھے کہ نائی کا دایاں اور بایاں معتبر ہے کہ فاعل وہ ہے، اس صورت میں مخلوق کا بایاں پہلے منڈے گا دایاں بعد میں مگر یہ حدیث سن کر امام صاحب نے اپنے قول سے رجوع کرلیا اور فرمایا کہ حدیث قیاس پر مقدم ہے اگر نائی پیچھے کھڑا ہو کر حجامت بنائے تو دونوں کا دایاں بایاں ایک ہی سمت میں ہوگا۔ حجامت کے بعد لب و داڑھی بنوانا، پھر ناخُن ترشوانا سنت ہے۔
حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بال مبارک جن سے منڈوائے ان کا نام حضرت سَیِّدُنَامَعْمَرْبنعبداللّٰہہے، قرشی عدوی ہیں اور قدیمُ الاسلام ہیں۔ جب حضرتمَعْمَرْرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحاضر ہوئے اور ہاتھ میں استرہ پکڑ کر بال مونڈنے لگے تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اےمَعْمَرْ! تجھےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے رسول نے اپنے کان کی لو پر قدرت دی ہے اور تیرے ہاتھ میں استرہ ہے۔“مطلب یہ کہ ہوشیار رہو اور اس نعمت کی قدر کرو۔ حضرتمَعْمَرْرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:بیشک یہاللّٰہتعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے اور یہ اس کا مجھ پر احسان ہے، حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ہاں ایسا ہی ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدحضور کےموئے مبارک کی فضیلت:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بال مبارک منڈوانے کے بعد حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بلایا اور انہیں موئے مبارک عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں لوگوں میں تقسیم کردو۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”اس موقعہ پر حضورِ اَنور نے اپنے ناخُن شریف بھی لوگوں میں تقسیم کرائے، یہ بال و ناخُن تبرک کے لیے ساروں میں تقسیم کیے گئے، ان میں سے بعض حضرات تو یہ تبرکات اپنی قبروں میں لے گئے تاکہ وہاں کی مشکلات آسان ہوں جیسے حضرت امیرِمعاویہ و عمرو ابنِ عاص وغیرہم اور بعض حضرات چھوڑ گئے تاکہ قیامت تک مسلمان ان کی زیارت کرتے رہیں۔ چنانچہ آج تک مختلف جگہ یہ بال شریف موجود ہیں اور ان کی زیارتیں ہورہی ہیں،صحابہ کرام ان بالوں کو پانی میں غوطہ دے کر دواءً پیتے تھے۔ اِس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ انسان کے بال جُدا ہوکر بھی پاک ہیں۔ دوسرے یہ کہتعالیٰ نے حضور کے بعض اَجزاءِ بدن شریف محفوظ رکھے ہیں۔ تیسرے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات خصوصاً حضور کے بال و ناخُن شریف سنبھال کر رکھنا، اُن کی زیارت کرنا، اُن سے شفا حاصل کرنا، اُن کے تَوَسُّل سے دعائیں مانگنا، قبر میں انہیں ساتھ لے جانا سب جائز و بہتر ہے کہ یہ تقسیم انہی مقاصد کے لیے ہوئی تھی۔مدنی گلدستہ’’بریلی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بال منڈواتے وقت پہلے سر کی دائیں جانب سے بال منڈوانے چاہئیں پھر بائیں جانب سے۔
(2) بال منڈوانے میں حجامت کرانے والے کی دائیں جانب کا اعتبار ہے نہ کہ حجام کی دائیں جانب کا، اگر حجام پیچھے کھڑے ہو کر حجامت بنائے گا تو پھر دائیں جانب دونوں کی ایک ہی سمت میں ہوگی۔
(3) حجامت کے بعد مونچھیں اور داڑھی بنوانا پھر ناخُن ترشوانا سنت ہے۔
(4) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بال مبارک اور ناخُن شریف تبرک کے طورپر تقسیم فرمائے۔
(5) بزرگوں کے تبرکات خصوصًا حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکے موئے مبارک اور ناخُن شریف کی زیارت کرنا، ان سے شفا حاصل کرنا، ان کے وسیلے سے دعائیں مانگنا اور انہیں قبر میں رکھنا جائز و بہتر ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق حجامت بنوانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 727