Main Icon

باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 774

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ:حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ منْ كَانَ قَريْبَ الدَّارِ اِلَى اَهْلِهِ وَبَقِىَ قَوْمٌ فَاُتِىَ رسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ اَنْ يَّبْسُطَ فِيْهِ كَفَّهُ فَتَوَضَّاَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ.قَالُوا:كَم ْ كُنْتُمْ؟قَالَ:ثَمَانِيْنَ وَزِيَادَةً.
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِمُسْلِمٍ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم دَعَا بِاِنَاءٍ مِنْ مَاءٍفَاُتِيَ بِقَدْحٍ رَحْرَاحٍ فِيْهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ اَصَابِعَہُ فِيْهِ.قَالَ اَنَسٌ:فَجَعَلْتُ اَنْظُرُ اِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ اَصَابِعِهِ فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّاَ مَا بَيْنَ السَّبْعِيْنَ اِلَى الثَّمَانِيْنَ.

عن انس رضي الله عنه قال:حضرت الصلاة فقام من كان قريب الدار الى اهله وبقى قوم فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم بمخضب من حجارة فصغر المخضب ان يبسط فيه كفه فتوضا القوم كلهم.قالوا:كم كنتم؟قال:ثمانين وزيادة.
وفي رواية له ولمسلم:ان النبي صلى الله عليه وسلم دعا باناء من ماءفاتي بقدح رحراح فيه شيء من ماء فوضع اصابعہ فيه.قال انس:فجعلت انظر الى الماء ينبع من بين اصابعه فحزرت من توضا ما بين السبعين الى الثمانين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:نماز کا وقت ہوا تو جن لوگوں کے گھر قریب تھے وہ اٹھے اور (وضو کرنے کے لئے )اپنے گھروں کو چلے گئے،کچھ لوگ باقی رہ گئے، پھر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں پتھر کا ایک برتن لایا گیا وہ برتن اتنا چھوٹا تھا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دستِ مبارک اس میں نہ آ سکتا تھا ،اس سے تمام صحابہ کرام نے وضو کیا ،لوگوں نے حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا،آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟فرمایا:’’اسّی(80)سے کچھ اوپر۔‘‘بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پانی کا ایک برتن منگوایا،تو ایک کُشادہ گہرا پیالہ لایا گیا اس میں کچھ پانی تھا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی انگلیاں مبارک اس میں رکھ دیں۔حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی انگلیوں سے پانی نکلتا ہوا دیکھ رہا تھا،میں نے وضو کرنے والوں کا اندازہ لگایا تو وہ ستّر(70)سے اسّی(80) کے درمیان تھے۔

شرح حدیث

ایک معجزے کا ذِکر:میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک معجزے کا ذِکر ہے کہ پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن جس میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دَستِ اقدس بھی پورا نہ جا سکتا تھا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس برتن میں اپنی مبارک انگلیاں رکھیں جن سے پانی نکلنا شروع ہو ا اورستر(70) سے زائد صحابہ کرام نے اس چھوٹے پتھر کے برتن سے وضو کیا۔مرآۃ المناجیح میں ہے:ظاہر یہ ہے کہ پانی خود انگلیوں کے درمیان یعنی گاہیوں میں سے ایسے پھوٹا جیسے پتھر سے پانی کا چشمہ جاری ہوتا ہے۔حضور کا یہ معجزہ موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکے اس معجزہ سے افضل اور عجیب تر ہے کہ پتھر سے پانی کے چشمے پھوٹے۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے مذکورہ اَحادیث پاک سے ضِمناً پتھر کے برتن کے استعمال کو بیان فرمایا ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرام نے جس برتن سے وضو فرمایا وہ برتن پتھر کا تھا۔لہٰذا معلوم ہوا کہ پتھر کے برتن سے وضو کرنا یا دیگر ضروریات میں پتھر کا برتن استعمال کرنا جائز ہے۔صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:سونے چاندی کے سوا ہر قسم کے برتن کا استعمال جائز ہے، مثلاً تانبے، پیتل، سیسہ، بلور وغیرہا۔مگر مٹی کے برتنوں کا استعمال سب سے بہتر کہ حدیث میں ہے کہ ’’جس نے اپنے گھر کے برتن مٹی کے بنوائے، فرشتے اُس کی زیارت کو آئیں گے۔‘‘

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 774