Main Icon

باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 778

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ سَلْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:الَّذِيْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الفِضَّةِ اِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ.وَفِي رِوَايَةِ لمُسْلِم: اِنَّ الَّذِيْ يَاْكُلُ اَوْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الفِضَّةِ والذَّهَبِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ:مَنْ شَرِبَ فِي اِنَاءٍ مِنْ ذَهَبٍ اَوْ فِضَّةٍ فَاِنَّما يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَاراً مِنْ جَهَنَّمَ.

عن ام سلمة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:الذي يشرب في آنية الفضة انما يجرجر في بطنه نار جهنم.وفي رواية لمسلم: ان الذي ياكل او يشرب في آنية الفضة والذهب. وفي رواية له:من شرب في اناء من ذهب او فضة فانما يجرجر في بطنه نارا من جهنم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔‘‘ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ” جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے۔ “اور دوسری روایت میں ہے کہ ”جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔“

شرح حدیث

سونے چاندی کے برتن کا استعمال حرام ہے :میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!مذکورہ اَحادیث مبارکہ میں سونے چاندی کے برتن میں کھانے پینے پر وعید بیان کی گئی ہے کہ سونے چاندی کے برتن میں کھانے پینے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا یا کسی اور طریقے سے ان کو استعمال کرنا نا جائز و حرام ہے جس کی سزا نارِجہنم ہے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:تمام علماء کا اس میں اتفاق ہے کہ چاندی سونے کے برتن میں کھانا ،پینا،اس کے چمچے استعمال کرنا،اس کی انگیٹھی میں خوشبو سلگانا،اس کی عطر دانی سے عطر لگانا،اس کے برتن سے وضو یا غسل کرنا،اس کے برتنوں سے چھت یا گھر سجانا،اس کی گھڑی میں وقت دیکھنا،اس کے قلم سے لکھنا،مردوعورت، چھوٹے بڑے سب کو حرام ہے۔عورتوں کو چاندی سونے کے صرف زیور پہننے کی اجازت ہے باقی دیگر استعمال ان کو بھی ویسے ہی حرام ہیں جیسے مردوں کو حرام ہیں۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ،حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ان کی پیالیوں سے تیل لگانا یا ان کے عطر دان سے عطر لگانا یا ان کی انگیٹھی سے بخور کرنا (یعنی دھونی لینا)منع ہے اور یہ ممانعت مرد و عورت دونوں کے لیے ہے،عورتوں کو ان کے زیور پہننے کی اجازت ہے، زیور کے سوا دوسری طرح سونے چاندی کا استعمال مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہے۔ سونے چاندی کے چمچے سے کھانا، ان کی سلائی یا سرمہ دانی سے سرمہ لگانا، ان کے آئینہ میں منہ دیکھنا، ان کی قلم دوات سے لکھنا، ان کے لوٹے یا طشت سے وضو کرنا یا ان کی کرسی پر بیٹھنا، مرد عورت دونوں کے لیے ممنوع ہے۔سونے چاندی کی آرسی (ایک زیور جو عورتیں ہاتھ کے انگوٹھے میں پہنتی ہیں،اس میں شیشہ جَڑا ہوتا ہے)پہننا عورت کے لیے جائز ہے، مگر اُس آرسی میں منہ دیکھنا عورت کے لیے بھی ناجائز ہے۔ سونے چاندی کی چیزوں کے استعمال کی ممانعت اس صورت میں ہے کہ ان کو استعمال کرنا ہی مقصود ہو اور اگریہ مقصود نہ ہو تو ممانعت نہیں، مثلاً سونے چاندی کی پلیٹ یا کٹورے میں کھانا رکھا ہوا ہے اگر یہ کھانا اسی میں چھوڑ دیا جائے تو اضاعتِ مال ہے اُس کو اُس میں سے نکال کر دوسرے برتن میں لے کر کھائے یا اُس میں سے پانی چلّو میں لے کر پیا یا پیالی میں تیل تھا، سر پر پیالی سے تیل نہیں ڈالا بلکہ کسی برتن میں یا ہاتھ پر تیل اس غرض سے لیا کہ اُس سے استعمال ناجائز ہے، لہٰذا تیل کو اُس میں سے لے لیا جائے اور اب استعمال کیا جائے یہ جائز ہے اور اگر ہاتھ میں تیل کا لینا بغرضِ استعمال ہو جس طرح پیالی سے تیل لے کر سر یا داڑھی میں لگاتے ہیں، اس طرح کرنے سے ناجائز استعمال سے بچنا نہیں ہے کہ یہ بھی استعمال ہی ہے۔مزید فرماتے ہیں:”جس برتن میں سونے چاندی کا کام بنا ہوا ہے اس کا استعمال جائز ہے، جبکہ موضَعِ استعمال میں سونا چاندی نہ ہو، مثلاً کٹورے یا گلاس میں چاندی کا کام ہو تو پانی پینے میں اس جگہ منہ نہ لگے جہاں سونا یا چاندی ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ وہاں ہاتھ بھی نہ لگے اور قولِ اَوَّل اَصح (زیادہ صحیح)ہے۔ “مدنی گلدستہ’’جَنَّتُ الفِردَوْس ‘‘کے10حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذ کو رہ اوران کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) حضورِ اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی انگلیوں سے پانی جاری ہونےکا معجزہ حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکے پتھر سے پانی نکالنے والےمعجزہ سے افضل اور عجیب تر ہے۔
(2) پتھر کا برتن وضو یا دیگر ضرویات کے لئے استعمال کرنا جائز ہے ۔
(3) جس گھر میں مٹی کے برتن ہوں فرشتے اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں۔
(4) پیتل کا برتن استعمال کرنا درست ہے لیکن بغیر قَلَعی اس کا استعمال مکروہ ہے ۔
(5) ریشم کا لباس مرد کو حرام ہےالبتہ تانا ریشم کا ہو بانا سوت کا یا اُون کا تو اس کا پہنناحلال ہے۔
(6) عِلمِ دِین اور جہاد کےہتھیار مسلمانوں کا زیورہیں۔
(7) پیٹ کے بل جُھک کر نہر وغیرہ میں منہ ڈال کر پانی پی سکتے ہیں لیکن اس طرح پینا مکروہِ تنزیہی ہے ۔
(8) سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا حرام ہے ۔
(9) عورتوں کو سونے چاندی کے صرف زیور پہننے کی اجازت ہے باقی سونے چاندی کا دیگر استعمال ان کو بھی ویسے ہی حرام ہے جیسے مَردوں کو حرام ہے۔
(10) سونے چاندی کے برتن میں کھانے پینے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مٹی کے برتنوں میں کھانے پینے کی توفیق دے اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 778