Main Icon

باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 87

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ :یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ویُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: بادروا بالاعمال فتنا کقطع اللیل المظلم :یصبح الرجل مؤمنا ویمسی کافرا ویمسی مؤمنا ویصبح کافرا یبیع دینہ بعرض من الدنیا. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ (نیک) اَعمال میں جلدی کرو، اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے بدلے بیچے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

ایک بہت بڑے فتنے کی نشاندہی:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں ترغیب دلائی گئی ہے کہ اعمالِ صالحہ کی ادائیگی میں جلدی کرو، اس وقت سے پہلے کہ نیکیوں پر عمل کرنا مشکل ہوجائے اور تم نیکیوں سے ہٹ کر ان فتنوں میں مبتلا ہو جاؤ جو مسلسل ہوں گے جیسے اندھیری رات میں مسلسل اندھیرے ہوتے ہیں ۔ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان فتنوں میں سے ایک فتنے کے بارے میں بتا دیا کہ بندہ شام کو مسلمان ہوگا ، صبح کافر ہوگا یا اس کے برعکس ۔اور یہ بہت ہی بڑا فتنہ ہے کہ ایک ہی دن میں انسان میں اتنی بڑی تبدیلی آجائے گی۔ ‘‘ ( )
¥
اَعمال میں جلدی کرنےکا معنی:عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اعمال میں جلدی کرو اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کےحصوں کی طرح ہوں گےیعنی قتل وغارت، ممنوعاتِ شرعِیَّہ کی کثرت، دِینی و دُنیویمُعاملات میں مسلمانوں کا آپس میں اختلاف اور اُن جیسے فتنوں کےظہورسے پہلےنیک اَعمال کی طرف راغب ہوجاؤ کیونکہ اُن فتنوں کے ہوتے ہوئے تم نیک اَعمال اَحسن اَنداز سے نہ کر سکو گے۔ فتنوں کو اندھیری رات سے تشبیہ اس ‏لیے دی گئی ہے تاکہ اُن فتنوں کی حالت بیان کی جائے کہ وہ فتنے بہت بُرے اوربھیانک ہوں گے، نہ کوئی اُن کا سبب جانتا ہوگااور نہ ان سے چھٹکارے کا طریقہ۔ ‘‘ ( )
¥
صبح وشام، مؤمن وکافر ہونے کا معنی:حدیث پاک میں بیان فرمایا گیا کہ آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مؤمن ہوگا، صبح کافر ہوجائے گا۔عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی ایک شخص صبح کے وقت ایمان والا یا کامل ایمان والا ہوگا، شام کے وقت کافر ہو جائے گا، یا توحقیقۃ ً کافر ہوگا یانعمتوں کا انکار کرنے والا ہوگایا کافروں سے مشابہت کرنے والا ہوگا یا کافروں جیسے عمل کرنے والا ہوگا۔ ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ صبح کے وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حرام کردہ شے کوحرام سمجھے گااور شام کے وقت اسے حلال جانے گا۔ الغرض دینی اُمور میں تَذَبْذُب اوردُنیوی معاملات کی وجہ سے صبح حالتِ اِیمان اور شام حالتِ کُفر پر کرے گا ۔ ‘‘ ( )دین کو مالِ دنیا کے بدلے بیچنا:مذکورہ حدیث پاک میں یہ بھی بیان فرمایا گیا کہ وہ اپنے دین کو مال دنیا کے بدلے بیچے گا۔اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ دین کو دنیاوی مال کے بدلے بیچنے کی چند صورتیں ہیں : (۱) مسلمانوں کے دو گروہوں میں فقط غُصَّہ اورعَصَبِیَّت کی وجہ سے قتل و غارت گری ہوگی اور وہ ایک دوسرے کا مال اور خون حلال سمجھیں گے۔ (۲) ظالم حکمرانوں کی حکومت ہوگی، وہ مسلمانوں کا خون بہائیں گے، اُن کے اَموال ناحق لوٹ لیں گے۔ بدکاری اور شراب نوشی کریں گے ۔ بعض لوگ انہیں حق پرسمجھیں گے۔ بلکہ علمائے سُوء اُن کے حرام کاموں کو جائز قرار دیں گے ۔ (۳) معاملات یعنی خرید وفروخت، نکاح وغیرہ میں جوخلاف شرع طریقے رائج ہیں لوگ انہیں حلال سمجھیں گے ۔ ‘‘ ( )
¥
سب سے بدتر شخص کی علامات:خاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ کیامیں تمہیں سب سے بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ جو خود تو کھائے مگر اپنے مہمان کو کھانے سے روک دے۔ تنہا سفر کرے اور اپنے غلام کو مارے۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ بھی اس سے بغض رکھیں ۔کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جس سے برائی کا خوف ہو بھلائی کی اُمیدنہ ہو۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جو دوسرے کی دنیاکے عوض اپنی آخرت بیچ ڈالے، کیا میں تمہیں اس سے بھی بدترشخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جودین کے بدلے دنیا کھائے۔ ‘‘ ( )
¥
بے وقوف کون؟حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مبارکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے سوال ہوا کہ انسان کون ہیں ؟ فرمایا: ’’ علمائے اسلام۔ ‘‘ پوچھا: بادشاہ کو ن ہیں ؟ فرمایا: ’’ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والے۔ ‘‘ پوچھا: بے وقوف کون ہیں ؟ فرمایا: ’’ اپنے دین کے بدلے دنیا خریدنے والے۔ ‘‘ ( )دولت دنیا سے بے رغبت مجھے کر دیجئے
میری حاجت سے مجھے زائد نہ کرنا مالدار
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ قرآن ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
فتنے وآزمائش میں مبتلا ہونے سے پہلے اعمالِ صالحہ کی کثرت کرنی چاہیے۔
(2) قربِ قیات میں ایسے بھیانک فتنے ظاہر ہوں گے کہ بندہ نیک اعمال احسن طریقے سے نہ کرسکے گا۔
(3) حرام و ناجائز کاموں سےآنکھوں کی حفاظت بہت ضروری ہے کیونکہ بسا ا وقات آدمی اِس فتنے میں مبتلا ہوکر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
(4) بدترین وبے وقوف لوگ ہی دین کو دنیا کے بدلے بیچتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے، ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، ہم سب کو دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائےاورایمان پر خاتمہ بالخیر عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 87