Main Icon

باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 91

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَذَ سَیْفًا یَوْمَ اُحُدٍ فَقَالَ:مَنْ یَاخُذُ مِنِّی ہَذَا؟ فَبَسَطُوْا اَ یْدِیَہُمْ کُلُّ اِنْسَانٍ مِنْہُمْ یَقُوْلُ:اَنَا، أَنَا. قَالَ:فَمَنْ یَاخُذُہُ بِحَقِّہَ؟ فَاَحْجَمَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ أَبُوْدُجَانَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ :اَنَا اٰخُذُہُ بِحَقِّہِ، فَاَخَذَہُ فَفَلَقَ بِہِ ہَامَ الْمُشْرِکِیْنَ. ( )
اِسْمُ اَبِی دُجَانَۃَ: سِمَاکُ بْنُ خَرَشَۃَ. قَوْلُہُ :اَحْجَمَ الْقَوْمُ، اَیْ تَوَ قَّفُوْا. وَفَلَقَ بِہٖ، اَیْ شَقَّ. ھَامَ الْمُشْرِکِیْنَ، اَیْ رُؤُوْسَہُمْ.

عن انس رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اخذ سیفا یوم احد فقال:من یاخذ منی ہذا؟ فبسطوا ا یدیہم کل انسان منہم یقول:انا، أنا. قال:فمن یاخذہ بحقہ؟ فاحجم القوم ، فقال أبودجانۃ رضی اللہ عنہ :انا اخذہ بحقہ، فاخذہ ففلق بہ ہام المشرکین. ( )
اسم ابی دجانۃ: سماک بن خرشۃ. قولہ :احجم القوم، ای تو قفوا. وفلق بہ، ای شق. ھام المشرکین، ای رؤوسہم.

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غزوہ اُحُد کے دن ایک تلوار اٹھا ئی اور فرمایا: ’’ یہ تلوارمجھ سے کون لے گا؟ ‘‘ تو وہاں موجود ہر شخص نے ہاتھ بڑھا تے ہوئے کہا: ’’ میں ، میں ۔ ‘‘ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اسے اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟ ‘‘ پس لوگ سوچ میں پڑ گئے ۔پھر حضرت سَیِّدُنَاابودُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی: ’’ میں اسےا س کے حق کے ساتھ لیتا ہوں ۔ ‘‘ پھر انہوں نے وہ لی اور اس سے مشرکین کی کھوپڑیاں توڑ ڈالیں ۔

شرح حدیث

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابو دُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا نامسِمَاک بِنْ خَرَشَہہے۔ ’’اَحْجَمَ الْقَوْمُ‘‘ یعنی لوگ رُک گئے۔”فَلَقَ بِہٖ“یعنی اس کے ذریعےتوڑڈالیں ۔”ھَامَ الْمُشْرِکِیْنَ“یعنی مشرکین کی کھوپڑیاں ۔تلوار کے حق سے کیا مراد ہے؟مذکورہ حدیث پاک میں سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں حق سے مراد یہ ہے کہ اس تلوار سے جہاد کرے یہاں تک کہاللہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں کو فتح سے ہمکنار فرمائے یا وہ شہید کردیا جائے۔ یہ سن کر صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانرُک گئےتو حضرتِ سَیِّدُنا ابو دُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآگے بڑھے اور عرض کی: ’’ میں اسے اس کے حق کے ساتھ لوں گا۔ ‘‘ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بدراورغزوہ اُحُد میں شریک ہوئے۔آپ نےاورحضرتِ سَیِّدُنا مُصْعَب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےاس دنرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دفاع کیا۔ حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جام شہادت نوش کیا۔ جبکہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو دُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس تلوار کا حق کیا ہے؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ یہ کہ تم اس سے دشمن کے چہروں پر وار کرو یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہو جائے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں نےبھی وہ تلوار لینا چاہی تورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے منع فرمادیااورتلوار حضرت ابو دُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دےدی ۔ میں نے دل میں کہا: ’’ میں ضرور دیکھوں گا کہ ابو دُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکیا کرتے ہیں ، پس میں ان کے پیچھے ہولیا ، انہوں نے سر پر سُرخ پٹی باندھ لی۔انصار نے کہا کہ :ابو دُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے موت کی پٹی باندھ لی ہے، جب بھی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسرخ پٹی باندھتے تو انصار یہی کہتے تھے۔پھر آپ کفا ر کے لشکر پر حملہ آور ہوئے اور جو راستے میں آیا اسے واصل جہنم کرتے گئے۔ ( )¥صحابۂ کرام کی مبارک زندگیاں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنی زندگیاں دین ِاسلام کے لیے وقف کر دی تھیں ۔سفر ہویاحضر، گھر ہو یا بازار ، امن ہو یا میدانِ کار زار وہ دین اسلام کی خدمت میں مصروف عمل رہتے۔ اس اہم کام کے ‏لیے انہیں بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ تعداد کی کمی اور جسمانی ضعف کے باوجود محض جذبۂ ایمانی کی بدولت وہ کفار کے بڑے بڑے لشکروں سے ٹکرا جاتے۔ ننھے منے مجاہدبڑے
بڑے سورماؤں کو للکارتے پھر شہید ہو کر جنت کی دائمی نعمتوں میں پہنچ جاتے یا فتح یاب ہو کر غازیوں کی صف میں شامل ہوتے ۔ اسی ضمن میں اسلام کے دو ننھے سپاہیوں کی جُرأت وبہادری کی حکایت ملاحظہ فرمائیے:
¥
اسلام کے دوننھے مجاہد:حضرتِ سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ غزوہ ٔ بدر کے دن، میں جس صف میں موجود تھا وہاں میں نے اپنے دائیں بائیں دو نَوعُمر انصاری لڑکے دیکھے ۔ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے چھپ کرمجھ سے کہا : ’’ اے میرے چچا :آپ مجھے ابو جہل دکھا دیجئے ؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اے میرے بھتیجے تم اس کا کیا کرو گے؟ ‘‘ کہا : ’’ میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے عہد کیا ہے کہ اگر میں اسے دیکھوں گا تو اسے قتل کردوں گا یا میں خود قتل کر دیا جاؤں گا۔ ‘‘ اسی طرح دوسرے نے بھی اپنے ساتھی سے چھپ کر مجھ سے اسی کی مثل گفتگو کی۔ ان کی گفتگو سن کر میں نے کہا : ’’ یہ بات مجھے پسند نہیں کہ اِن کے بجائے میں کسی اور کے درمیان ہوں ۔ پس میں نے انہیں ابو جہل کے بارے میں بتا دیا ۔ یہ سن کر وہ دونوں ننھے مجاہدعقاب کی طرح اس پر جھپٹے اور تلوار کے پے در پے حملوں سے اسے گرادیا۔ ‘‘ ( )یہ دونوں ننھے مجاہدحضرتِ سَیِّدُنا مُعَوَّذاور حضرتِ سَیِّدُنا مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاتھے ۔
مدارج النبوۃمیں ہے:حضرت سیِّدُنامُعاذ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں کہ ’’ میں اپنی تلوار لہراتا ہوا ابوجہل پرٹوٹ پڑا۔میرے پہلے وار سےاس کی پِنڈلی کٹ کر دُورجاگری۔اس کے بیٹے عِکرَمہ (جوبعدمیں مسلمان ہوگئے تھے) نے مجھ پرتلوارکاوار کیاجس سے میرابازوکٹ گیا اورکھال کے ایک تَسمے کے ساتھ لٹکنے لگا۔میں اس بازوکوسنبھالے دوسرے ہاتھ سے دشمن پر تلوار چلاتا رہا۔ وہ بازو لڑنے میں رُکاوٹ بن رہا تھا، لہٰذامیں نے اسے پاؤں کے نیچے دبا کرکھینچا جس سے کھال کاتَسمہ ٹوٹ گیا۔ اب میں آزادہوکر پھرکُفّار پر حملے کرنے لگا۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنَاقاضی عِیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے سَیِّدُنَا اِبن وَہبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعدحضرتِ سَیِّدُنَا مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنا کٹا ہوا بازو لے کر طبیبوں کے طبیب، حبیبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ ِ بے کس پناہ میں حاضر ہوئے، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنالُعابِ دَہَن (یعنی تھوک شریف) لگا کر وہ کٹاہوا بازو کندھے کےساتھ جوڑدیا۔ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ
’’ اِسلام ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بھی صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو کسی نیک کام کی ترغیب دلاتے تو وہ دل وجان سےلَبَّیْککہتے۔
(2) جسے اپنے ربِّ قدیر پر بھروسہ ہو وہ کبھی بھی باطل سے نہیں ڈرتا اگرچہ باطل بظاہر کتنا ہی قوی ہواور یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ حق کے آتے ہی باطل کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔
(3) میدان کا ر زار میں مسلمانوں کی قوتِ ایمانی مزید بڑھ جاتی ہے ۔
(4) تمام صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ ان کے روئیں روئیں سے عشقِ رسول کا اظہار ہوتا تھا ۔ان کے نزدیک حکمِ نبی پر جان قربان کرنا بہت بڑی سعادت تھی۔
(5) جو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نبیوں سے بغض وعناد رکھتے ہیں دنیا وآخرت میں ذلت ورسوائی ان کا مقدر ہوتی ہے، ان کا اَنجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ ابو جہل لعین جورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سب سے بڑا دشمن تھا ، دو ننھے مجاہدین کے ہاتھوں نہایت ذلت و رسوائی کی موت مرا اور آخرت میں ہمیشہ کے ‏لیے درد ناک عذاب اس کا مُقَدَّر ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عشق رسول کی دولت عطا فرمائے ۔ عاشقانِ رسول کی صحبت اختیار
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 91