- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- حدیث نمبر 88
باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 88
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ سَرُوْعَۃَ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:صَلَّیْتُ وَرَاءَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِالْمَدِیْنَۃِ اَلْعَصْرَ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ إِلٰی بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِہٖ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِہٖ فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ فَرَاٰی اَنَّہُمْ قَدْ عَجِبُوْا مِنْ سُرْعَتِہٖ.قَالَ:ذَکَرْتُ شَیْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَکَرِہْتُ اَنْ یَّحْبِسَنِیْ فَاَمَرْتُ بِقِسْمَتِہٖ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:کُنْتُ خَلَّفْتُ فِیْ الْبَیْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَۃِ فَکَرِہْتُ اَنْ اُبَیِّتَہُ. ( )
عن ابی سروعۃ عقبۃ بن الحارث رضی اللہ عنہ قال:صلیت وراء النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالمدینۃ العصر، فسلم ، ثم قام مسرعا فتخطی رقاب الناس إلی بعض حجر نسائہ، ففزع الناس من سرعتہ فخرج علیہم فرای انہم قد عجبوا من سرعتہ.قال:ذکرت شیئا من تبر عندنا فکرہت ان یحبسنی فامرت بقسمتہ. ( ) وفی روایۃ لہ:کنت خلفت فی البیت تبرا من الصدقۃ فکرہت ان ابیتہ. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُنااَبُو سَرُوْعَہعُقْبہ بن حارثرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں نے مدینہ منورہ میں حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھےنمازِ عصرادا کی۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسلام پھیرنے کے بعدتیزی سے کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات میں سے کسی ایک کے حجرے میں تشریف لے گئے ۔لوگ آپ کی اس تیزی سے گھبرا گئے۔واپسی پرلوگوں کو اس جلدی فرمانے پرمتعجب دیکھا تو ارشادفرمایا: ’’ مجھےاپنے پاس سونے کا ایک ٹکڑا یاد آگیا تو مجھے ناپسند ہوا کہ وہ مجھے مشغول کرے، پس میں نے اسے صدقہ کرنے کا حکم دے دیا۔ ‘‘ بخاری شریف کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ فرمایا: ’’ میں گھر میں صدقے کے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا مجھے اس کا رات بھر رکھنا پسند نہ آیا۔ ‘‘
شرح حدیث
زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرو:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث سے یہ مسائل مستفاد ہوتے ہیں : (۱) ایسی ضرورت جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس کے لیے مسجد میں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر جانا جائز ہے جیسے نکسیر پھوٹنا یا فطری تقاضوں (مثلاًپیشاب ، پاخانہ وغیرہ) کی شدت ہونا (۲) نیک و اہم کاموں کی ادئیگی میں جلدی کرنی چاہیے۔ (۳) جو شخص زکوۃ ادا کرنے یا مسلمانوں کے صدقات ادا کرنے یا وصیت پوری کرنے میں تاخیر کرے تو خدشہ ہے کہ یہ تاخیر قیامت کے دن اُسے دُخول ِجنت سے روک دے۔ ‘‘ ( )
تفہیم البخاری میں علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نے مسلمانوں کا صدقہ وغیرہ اپنے پاس روک رکھا ہو اس کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ قیامت میں جنت میں داخل ہونے سے روکا جائے۔اور اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ اہم کام بہت جلد سر انجام دینے چاہییں ۔ ‘‘وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدصحابہ کرام کی محبت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوا کہ ضرورۃ ً لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے مسجد سے نکل جانا جائز ہے۔جیسے اگر امام کا دورانِ نماز وضو ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے کو اپنا نائب مقرر کرکے گردنیں پھلانگتا ہوا ہی وضو گاہ تک پہنچے گا۔ جن احادیث میں گردنیں پھلانگنے کی ممانعت آئی ہے وہاں بلا ضرورت پھلانگنا مراد ہے۔ جیسے کوئی نماز کے لیے مسجد میں پیچھے پہنچے، پھر لوگوں کوچیرتا ہوا اگلی صف میں جانے کی کوشش کرے یہ ممنوع ہے۔ لہٰذا احادیث میں تعارُض نہیں ۔صحابہ کر ام حضورانورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہر حال شریف کا بہت غور سے مطالعہ کرتے تھے اور کسی معمولی جنبش پر دیوانہ وار گھبرا جاتے تھے۔ اگرسرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخلافِ معمول کبھی غائب ہوتے تو مدینہ منورہ کی گلیوں اور آس پاس کے جنگلوں میں ڈھونڈنے نکل پڑتے تھے۔آج خلاف معمول جو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بغیر دعا مانگے جاتے دیکھا تو گھبرا گئے۔ ‘‘
(ارشاد فرمایا: مجھےاپنے پاس سونے کا ایک ٹکڑا یاد آگیا تو مجھے ناپسند ہوا کہ وہ مجھے مشغول کرے۔) ظاہر یہ ہے کہ وہ سونے کا پترا (ٹکڑا) حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اپنی ملکیت تھا اور فوری ضرورت سے زیادہ تھا۔ اس کا گھر میں رکھنا بھی ناپسند آیا ، فوراً خیرات کرادیا۔مشغول رکھنے میں دو احتمال ہیں :ایک یہ کہ اس کی وجہ سے نماز میں دھیان بٹے کہ اسے کہاں سنبھالیں کہاں رکھیں ۔ اور دوسرا یہ کہ ر بّتعالٰیسے قربِ خاص میں یہ حارج ہو۔ ‘‘ ( )
¥اُحد پہاڑ جتنا سونا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے برگزیدہ بندوں کے نزدیک مال ودولت کی کچھ قدر واہمیت نہیں ہوتی۔ وہ ضرورت سے زیادہ کوئی چیز اپنے پاس رکھنا گوارا نہیں کرتے بلک اسےاللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں ۔ اس ضمن میں ایک اور ایمان افروز حدیث پاک ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحُد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں تیسری صبح تک اس میں سے کچھ بچا رکھوں سوائے اپنے قرض کی ادائیگی کے۔ ‘‘ ( )
¥مدنی گلدستہ
’’ یاغوث ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)کسی حاجت کی وجہ سے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے ۔
(2) نیک اُمور خصوصا ًصدقہ وخیرات میں جلدی کرنی چاہیے۔
(3) نماز کے دوران جائز اُمور کا اِرادہ کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
(4) ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتوکل و قناعت کے سب سے عظیم مرتبے پر فائز تھے، آپ اگلے دن کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہ فرماتے تھے۔
(5) عقل مندی و دانشوری کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو جس معاملے میں تشویش و تعجب ہو اس کی وضاحت کردی جائے ۔جیسا کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب لوگوں کومتعجب دیکھا تو اپنے جلدی فرمانے کی وجہ ارشاد فرما دی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر آخرت کی محبت ڈال دے، ہمیں رضائے الٰہی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائےاورعشق رسول کی دولت عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 88