Main Icon

باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 88

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَرُوْعَۃَ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:صَلَّیْتُ وَرَاءَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِالْمَدِیْنَۃِ اَلْعَصْرَ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ إِلٰی بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِہٖ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِہٖ فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ فَرَاٰی اَنَّہُمْ قَدْ عَجِبُوْا مِنْ سُرْعَتِہٖ.قَالَ:ذَکَرْتُ شَیْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَکَرِہْتُ اَنْ یَّحْبِسَنِیْ فَاَمَرْتُ بِقِسْمَتِہٖ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:کُنْتُ خَلَّفْتُ فِیْ الْبَیْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَۃِ فَکَرِہْتُ اَنْ اُبَیِّتَہُ. ( )

عن ابی سروعۃ عقبۃ بن الحارث رضی اللہ عنہ قال:صلیت وراء النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالمدینۃ العصر، فسلم ، ثم قام مسرعا فتخطی رقاب الناس إلی بعض حجر نسائہ، ففزع الناس من سرعتہ فخرج علیہم فرای انہم قد عجبوا من سرعتہ.قال:ذکرت شیئا من تبر عندنا فکرہت ان یحبسنی فامرت بقسمتہ. ( ) وفی روایۃ لہ:کنت خلفت فی البیت تبرا من الصدقۃ فکرہت ان ابیتہ. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنااَبُو سَرُوْعَہعُقْبہ بن حارثرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں نے مدینہ منورہ میں حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھےنمازِ عصرادا کی۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسلام پھیرنے کے بعدتیزی سے کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات میں سے کسی ایک کے حجرے میں تشریف لے گئے ۔لوگ آپ کی اس تیزی سے گھبرا گئے۔واپسی پرلوگوں کو اس جلدی فرمانے پرمتعجب دیکھا تو ارشادفرمایا: ’’ مجھےاپنے پاس سونے کا ایک ٹکڑا یاد آگیا تو مجھے ناپسند ہوا کہ وہ مجھے مشغول کرے، پس میں نے اسے صدقہ کرنے کا حکم دے دیا۔ ‘‘ بخاری شریف کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ فرمایا: ’’ میں گھر میں صدقے کے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا مجھے اس کا رات بھر رکھنا پسند نہ آیا۔ ‘‘

شرح حدیث

زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرو:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث سے یہ مسائل مستفاد ہوتے ہیں : (۱) ایسی ضرورت جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس کے ‏لیے مسجد میں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر جانا جائز ہے جیسے نکسیر پھوٹنا یا فطری تقاضوں (مثلاًپیشاب ، پاخانہ وغیرہ) کی شدت ہونا (۲) نیک و اہم کاموں کی ادئیگی میں جلدی کرنی چاہیے۔ (۳) جو شخص زکوۃ ادا کرنے یا مسلمانوں کے صدقات ادا کرنے یا وصیت پوری کرنے میں تاخیر کرے تو خدشہ ہے کہ یہ تاخیر قیامت کے دن اُسے دُخول ِجنت سے روک دے۔ ‘‘ ( )
تفہیم البخاری میں علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نے مسلمانوں کا صدقہ وغیرہ اپنے پاس روک رکھا ہو اس کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ قیامت میں جنت میں داخل ہونے سے روکا جائے۔اور اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ اہم کام بہت جلد سر انجام دینے چاہییں ۔ ‘‘وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدصحابہ کرام کی محبت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوا کہ ضرورۃ ً لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے مسجد سے نکل جانا جائز ہے۔جیسے اگر امام کا دورانِ نماز وضو ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے کو اپنا نائب مقرر کرکے گردنیں پھلانگتا ہوا ہی وضو گاہ تک پہنچے گا۔ جن احادیث میں گردنیں پھلانگنے کی ممانعت آئی ہے وہاں بلا ضرورت پھلانگنا مراد ہے۔ جیسے کوئی نماز کے ‏لیے مسجد میں پیچھے پہنچے، پھر لوگوں کوچیرتا ہوا اگلی صف میں جانے کی کوشش کرے یہ ممنوع ہے۔ لہٰذا احادیث میں تعارُض نہیں ۔صحابہ کر ام حضورانورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہر حال شریف کا بہت غور سے مطالعہ کرتے تھے اور کسی معمولی جنبش پر دیوانہ وار گھبرا جاتے تھے۔ اگرسرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخلافِ معمول کبھی غائب ہوتے تو مدینہ منورہ کی گلیوں اور آس پاس کے جنگلوں میں ڈھونڈنے نکل پڑتے تھے۔آج خلاف معمول جو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بغیر دعا مانگے جاتے دیکھا تو گھبرا گئے۔ ‘‘
(ارشاد فرمایا: مجھےاپنے پاس سونے کا ایک ٹکڑا یاد آگیا تو مجھے ناپسند ہوا کہ وہ مجھے مشغول کرے۔) ظاہر یہ ہے کہ وہ سونے کا پترا (ٹکڑا) حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اپنی ملکیت تھا اور فوری ضرورت سے زیادہ تھا۔ اس کا گھر میں رکھنا بھی ناپسند آیا ، فوراً خیرات کرادیا۔مشغول رکھنے میں دو احتمال ہیں :ایک یہ کہ اس کی وجہ سے نماز میں دھیان بٹے کہ اسے کہاں سنبھالیں کہاں رکھیں ۔ اور دوسرا یہ کہ ر بّتعالٰیسے قربِ خاص میں یہ حارج ہو۔ ‘‘ ( )
¥
اُحد پہاڑ جتنا سونا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے برگزیدہ بندوں کے نزدیک مال ودولت کی کچھ قدر واہمیت نہیں ہوتی۔ وہ ضرورت سے زیادہ کوئی چیز اپنے پاس رکھنا گوارا نہیں کرتے بلک اسےاللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں ۔ اس ضمن میں ایک اور ایمان افروز حدیث پاک ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحُد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں تیسری صبح تک اس میں سے کچھ بچا رکھوں سوائے اپنے قرض کی ادائیگی کے۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ یاغوث ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
کسی حاجت کی وجہ سے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے ۔
(2) نیک اُمور خصوصا ًصدقہ وخیرات میں جلدی کرنی چاہیے۔
(3) نماز کے دوران جائز اُمور کا اِرادہ کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
(4) ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتوکل و قناعت کے سب سے عظیم مرتبے پر فائز تھے، آپ اگلے دن کے ‏لیے کوئی چیز ذخیرہ نہ فرماتے تھے۔
(5) عقل مندی و دانشوری کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو جس معاملے میں تشویش و تعجب ہو اس کی وضاحت کردی جائے ۔جیسا کہ حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب لوگوں کومتعجب دیکھا تو اپنے جلدی فرمانے کی وجہ ارشاد فرما دی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر آخرت کی محبت ڈال دے، ہمیں رضائے الٰہی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائےاورعشق رسول کی دولت عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 88