Main Icon

باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 169

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ اَحْدَثَ فِي اَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْہُ فَهُوَ رَدٌّ. ( ) وَفیِ رَوَایَۃٍ لِمُسْلِم ٍ: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ. ( )

عن عائشة، رضي الله عنها، قالت:قال رسول الله، صلى الله عليه وسلم:من احدث في امرنا هذا ما ليس منہ فهو رد. ( ) وفی روایۃ لمسلم : من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو رد. ( )

حدیث ترجمہ

:اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اکرم، نورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِرشاد فرمایا: ’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو ہمارے دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ ‘‘ اورمسلم کی ایک روایت میں یوں ہے: ’’ جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے دین سے نہیں تو اس کا عمل مردود ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

مذکورہ حدیثِ پاک کی اہمیت:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث قواعدِ اسلامیہ میں سے ایک بہت بڑا قاعدہ ہے اور یہ جوامعِ الکلم میں سے ہے، اور یہ تمام اختراعات و بدعاتِ سیئہ کا واضح رد ہے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں کہ : ’’ اس حدیث کو یاد کرنا چاہیے اور منکرات (ممنوعاتِ شرعِیَّہ) کے بطلان میں اس کو استعمال کرنا چاہیے اور اس کی خوب تشہیر کرنی چاہیے۔ ‘‘ ( )
علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث کو اصولِ دین میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ قَوَاعِد (اِسلامِیَّہ) میں سے ایک قاعدہ ہے۔ ‘‘ علامہ طوفیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث کو اَدِلَّۂ شَرْعَیَّہ کا نصف کہنا بالکل درست ہے۔ ‘‘ ( )میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حدیث پاک کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی شرح سے قبل بدعت کی تعریف اور اس کی مختلف اقسام کی تفصیل جاننا نہایت ضروری ہے کہ اِن اُمور کو جاننے کے بعد اِس حدیث مبارکہ کے معانی سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی چنانچہ بدعت کی تعریف واَقسام کا مفصل ذکر کیا جاتا ہے۔
¥
بدعت کسے کہتے ہیں ؟مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ بدعت کے لغوی معنی ہیں ’’ نئی چیز ‘‘ ۔ قرآن کریم فرماتاہے: (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ)(پ۲۶، الاحقاف:۹) فرمادو کہ میں نیا رسول نہیں ہوں ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ بدعت کے شرعی معنیٰ ہیں : وہ اِعتقاد یا وہ اعمال جو کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ حیاتِ ظاہری میں نہ ہوں بعد میں اِیجاد ہوئے۔ ‘‘ مثلاً جبریہ، قَدَرِیَّہ، مُرجِیَہ، چکڑالوی، غیر مُقَلّد وغیرہ بدمذہب گروہوں کے بعض عقائد بدعت اِعتقادیہ ہیں جیسے ان میں سے کسی کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا جُھوٹ پر قادر ہے، حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامغیب مطلق نہیں جانتے، حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا خیال نماز میں بیل گدھے کے خیال سے بدتر ہےمَعَاذ اللہ۔یہ تمام ناپاک عقیدے بارہویں صدی کی پیداوار ہیں ، حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے زمانے میں بالکل نہ تھے۔اسی طرح بدعت عملی ہر وہ کام ہے جو حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے زمانہ پاک کے بعد ایجاد ہوا خواہ وہ دنیاوی ہو یا دینی ہو، خواہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے زمانہ میں ہو یا اس کے بھی بعد۔ البتہ عُرفِ عام میں صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی اِیجادات کو سنت صحابہ کہتے ہیں بدعت نہیں بولتے یہ عُرف ہے۔ ‘‘ ( )
¥
بدعت کی اَقسام اور اُن کی مثالیں :اَوّلاً بدعت کی دو قسمیں ہیں : بدعت حسنہ (یعنی اچھی بدعت) اور بدعت سیئہ (یعنی بری بدعت) ۔پھر بدعت حسنہ کی تین قسمیں ہیں : جائز، مُستحب، واجب اور بدعت سیئہ کی دو قسمیں ہیں : مکروہ اور حرام۔یہ بدعت کی کل پانچ اقسام ہوئیں : (۱) جائز (۲) مستحب (۳) واجب (۴) مکروہ (۵) اور حرام۔ حضرت علامہ ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں :
٭ ’’ بدعت یا تو واجب ہوتی ہے جیسے قرآن وسنت کو سمجھنے کے لیے علم نحو کا سیکھنا اور علم اصولِ فقہ کو مُدَوّن کرنا اور جرح وتعدیل کے لیے علم کلام کو مُدَوّن کرنا۔وغیرہ (اسی طرح وہ دیگر تمام علوم جو
مَوْقُوْف عَلَیْہکی حیثیت رکھتے ہیں یعنی قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لیے جن کا سیکھنا پہلے ضروری ہے، اِسی طرح قرآن کریم کا جمع کرنا، قرآن کریم میں اِعراب لگانا یا آج کل قرآنِ کریم کو چھاپنا اور دینی مدارس میں تعلیم کے لیے درس وغیرہ بنانا۔)
٭یا بدعت حرام ہوتی ہے جیسے جَبَرِیَّہ، قَدَرِیَّہ، مُرجِیَہ، مُجَسِّمَہ مذہب اور ان تمام بدمذہب بدعتی گروہوں کا رد کرنا بدعت واجبہ ہےکیونکہ ان بدعتیوں سے شریعت مطہرہ کو محفوظ بنانا فرض کفایہ ہے۔ (اسی طرح دیگر ان تمام مذاہب کا رد جن میں ایسے نئےباطل عقائد پائے جاتے ہیں جو قرآن وسنت کے خلاف ہیں ۔)
٭یا بدعت مستحب ہوتی ہے جیسے مسافر خانے اور مدرسے وغیرہ بنانااور ہر وہ اچھی بات جو قرنِ اُولیٰ میں نہ تھی جیسے باجماعت نماز تراویح ادا کرنا وغیرہ۔
٭یا بدعت مکروہ ہوتی ہے جیسے مسجدوں یا مَصَاحِفْ کو فقط فخریہ زینت دینا۔
٭یا بدعت جائز ہوتی ہے جیسے نماز فجر کے بعد مصافحہ کرنا اور عُمدہ عُمدہ کھانے اور طرح طرح کے مشروب پیناوغیرہ۔ ‘‘ ( )
¥
بدعت کی قسموں کی پہچان اور علامتیں :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے بدعت کی قسموں کی پہچان اور اُن کی علامتوں کو تفصیلاً بیان کیا ہے، کچھ اختصار وتصرف کے ساتھ پیش خدمت ہیں :
٭……جو بدعت اسلام کے خلاف ہو یا کسی سنت کو مٹانے والی ہو وہ بدعت سیئہ اور جو ایسی نہ ہو وہ بدعت حسنہ ہے۔ ہر وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور بغیر کسی نیت خیر کے کیا جائے بدعت جائز کہلاتا ہے۔ جیسے مختلف اَقسام کے کھانے کھانا، طرح طرح کے مشروب پینا وغیرہ۔
٭……وہ نیا کام جو شریعت میں منع نہ ہو اور اُس کو عام مسلمان کارِ ثواب جانتے ہوں یا کوئی شخص اس کو اچھی نیت سے کرے بدعت مُسْتَحَبَّہ کہلاتا ہے۔جیسے محفل میلاد شریف، بزرگانِ دین کی فاتحہ دلانا کہ عام مسلمان اس کو کارِ ثواب جانتے ہیں لہذا اُن کو کرنے والا ثواب پائے گا اور نہ کرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔ کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا
عبد اللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جس کا م کو مسلمان اچھا جانیں وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک بھی اچھا ہے ۔ اور حدیث مرفوع میں ہے کہ میری اُمَّت گمراہی پر متفق نہ ہوگی اور اَعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور اِنسان کے لیے وہی ہے جو نیت کرے۔چھ کلمے، اُن کی تعداد، اُن کی ترکیب اُن کے نام، قرآن مجید کے تیس پارے بنانا، اُن میں رکوع قائم کرنا، اِعراب لگانا، اُس کی جلدیں بنانا، اس کو چھاپنا، حدیث کو کتابی شکل میں جمع کرنا، اَحادیث کی اسناد بیان کرنا، اسناد پر جرح کرنا، حدیث کی مختلف قسمیں صحیح، حسن، ضعیف، مرفوع، موقوف وغیرہ بنانا، اُن کے اَحکام مقرر کرنا، اُصولِ حدیث مرتب کرنا، اُصولِ فقہ مرتب کرنا، علم کلام مُدَوَّن کرنا، روزہ اِفطار کرتے وقت زبان سے دعا کرنا، موجودہ روپوں میں زکوۃ اَدا کرنا وغیرہ یہ تمام بدعاتِ مستحبہ ہیں کہ ان کے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ۔
٭……وہ نیا کام جو شرعاً منع نہ ہو اور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہوبدعت واجبہ کہلاتا ہے جیسے کہ قرآن پاک کے اِعراب لگانا، اور دینی مدارس، علم نحو وغیرہ حاصل کرنا۔
٭……وہ نیا کام جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے، بدعت مکروہہ کہلاتی ہے، اگر سنت مؤکدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تحریمی ہے اور سنت غیر مؤکدہ چھوٹی تو یہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے۔ جیسے جمعہ وعیدین کا خطبہ غیر عربی میں پڑھنابدعت مکروہہ ہے کہ اس سے عربی زبان میں خطبہ پڑھنے کی سنت چھوٹتی ہے۔
٭……وہ نیا کام جس سے کوئی واجب چھوٹ جائے یعنی وہ بدعت واجب کو مٹانے والی ہوبدعت محرمہ کہلاتی ہے۔ جیسے آج کل کے ایسے جدید لباس جن سے ستر عورت ظاہرہوتا ہے۔ ( )
¥
اِسلام میں اچھا اور بُرا طریقہ اِیجاد کرنا:حضرت سَیِّدُنَاجریر بنعبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےا رشاد فرمایا: ’’ جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اُسے اُس کا ثواب ملے گا اور اُس کا ثواب بھی جو اُس اچھے طریقے پر عمل کرے گا اور اس عمل کرنے والے کا اپنا ثواب بھی کم نہ ہوگا اور جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ اِیجاد کیا اُسے اُس کا گناہ ملے گا اور اُس کا گناہ بھی جو اُس بُرے طریقے پر عمل کرے گا اور اُس کا اپنا گناہ بھی کم نہ ہوگا۔ ‘‘ ( )علامہ شامیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ یہ احادیث اسلام کے قواعد ہیں کہ جو شخص اسلام میں کوئی بُری بدعت اِیجاد کرے گا اُس پر اُس بُری بدعت کی پیروی کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور جو شخص اچھی بدعت اِیجاد کرے گا اُس کو قیامت تک کے سارے پیروی کرنے والوں کا ثواب ملے گا۔ ‘‘ ( )حدیث الباب کی شرح:اس باب کی حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا: ’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو ہمارے دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ ‘‘ حضرت علامہ بدرالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیاس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہ دین اسلام میں ایسی نئی چیز پیدا کرنا جس کی اصل دین میں موجود نہ ہو، نہ قرآن میں اور نہ ہی حدیث میں ایسی چیز باطل اور ناقابل قبول ہے۔اس حدیث پاک میں بدعات (سیئہ) کا رد ہے کیونکہ اُن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ‘‘ ( )
¥
کیامیلادو فاتحہ خوانی بدعت ہیں ؟فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ میلاد فاتحہ عرس وغیرہ کے مانعین ان چیزوں کے حرام و بدعت سیئہ ہونے پر اس حدیث سے بھی دلیل لاتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ان کی خطائے فاحِشَہ (یعنی بہت بڑی غلطی) ہے اس ‏لیے کہ’’مَالَیْسَ مِنْہُ‘‘ سے مرادوہ نَو اِیجاد (نئی پیدا ہونے والی) چیزیں ہیں جو قرآن، حدیث، اجماع کے مخالف ہیں یا اس کی کتاب و سنت سے کوئی اصل ظاہر یا خفی ملفوظ یا مُسْتَنْبَط نہ ہو۔ ‘‘عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیمرقاۃ میں لکھتے ہیں : ’’ یعنیکتاب اللہیا سنت یا اثر یا اجماع کے مخالف جو چیز ایجاد کی جائے تو وہ گمراہی ہے اور جو چیز اِن میں سے کسی کے مخالف نہیں اس کا ایجاد کرنا مذموم نہیں ۔نیز اسی میں ہے ’’ اس کے معنی یہ ہیں جس نے اسلام میں ایسی رائے ایجاد کی جس کی کتاب و سنت سے کوئی ظاہر یا خفی ملفوظ یا مستنبط سند نہ ہو وہ اُس پر رد کر دی جائےگی۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ اچھی چیز کا ایجاد کرنا بھی باعث ثواب ہے اور اس پر عمل کرنا بھی۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں :
’’ حضرت امام شافعی
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا ارشاد گزرا کہ حسنہ اور سیئہ محمود و مذموم کی بنیاد یہ ہے کہ جو چیزیںکتاب اللہیا سنت رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیا اثر یا اجماع کے مخالف ہوں وہ مذموم ہیں سیئہ ہیں اور جو ان میں سے کسی کے مخالف نہیں وہ مذموم نہیں ۔اس ‏لیے جو لوگ میلاد فاتحہ عرس کو بدعت سیئہ اور حرام کہتے ہیں یہ ان کے ذمہ ہے کہ بتائیں یہ چیزیں کس آیت یا کس حدیث یا کس اثر یا اجماع کے مخالف ہیں اور اگر یہ نہیں ثابت کرسکتے اور ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر گز ہرگز نہیں ثابت کر سکتے تو اُن کا اِن چیزوں کو حرام اور بدعت سیئہ کہنا شریعت پر افترا اور اپنے جی سے نئی شریعت گڑھنا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
کیاصحابۂ کرام کے نہ کرنے سےکوئی فعل ناجائزہوجاتاہے؟صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا کسی کام کو کرنااس کام کے جائز ہونے کی دلیل تو ضرورہے مگر نہ کرنا اس کام کے ناجائز ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ، اسی لیے صحابہ نے جو کا م نہیں کیے ایسے بے شمار کام مسلمان روزانہ کرتے رہتے ہیں اور اُن کو جائز بھی سمجھتے ہیں ۔چنانچہ شارحِ بخاری حضرت علامہ ابن حجر عسقلانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیاور حضرت علامہ محمد بن ابو بکر قسطلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’اَلْفِعْلُ یَدُلُّ عَلَی الْجَوَازِ وَ عَدَمُ الْفِعْلِ لَایَدُلُّ عَلَی الْمَنْعیعنی کرنے سے جائز ہونا سمجھا جاتاہےاور نہ کرنے سے ممانعت نہیں سمجھی جاتی۔ ‘‘ ( )
¥
خلافِ اسلام عقائد باطل ومردودہیں :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ وہ ایجاد کرنے والا مردود ہے یا اس کی یہ ایجاد مردود ہے؟ خیال رہے کہ اَمر سے مراد دین اسلام ہے اورمَاسے مراد عقائد، یعنی جوشخص اسلام میں خلافِ اسلام عقیدے ایجاد کرے وہ شخص بھی مردود اور وہ
عقائد بھی باطل۔ لہٰذا روافض، قادیانی، وہابی وغیرہ بہتر72 فرقے جن کے عقائد خلافِ اسلام ہیں باطل ہیں ۔یا اَمر سے مراد دین ہے اور
مَاسے مراد اعمال ہیں اورلَیْسَ مِنہُسے مراد قرآن و حدیث کے مخالف، یعنی جو کوئی دین میں ایسے عمل ایجاد کرے جودین یعنی کتاب و سنت کے مخالف ہوں جس سے سنّت اُٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود ایسے عمل بھی باطل جیسے اردو میں خطبہ و نماز پڑھنا، فارسی میں اَذان دینا وغیرہ۔جو کوئی بدعت ایجاد کرے تواللہسنت کو اٹھالیتا ہے۔ہماری اس تفسیر کی بنا پر یہ حدیث اپنے عموم پر ہے اس میں کوئی قید لگانے کی ضرورت نہیں ۔مرقاۃ نے فرمایا:لَیْسَ مِنہُسے معلوم ہوا کہ دین میں ایسے کام کی ایجاد جو کتاب و سنّت کے خلاف نہ ہو بُری نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ صحابۂ کرام ‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)
وہ عقائد یا وہ اعمال جو کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانہ حیاتِ ظاہری میں نہ ہوں بعد میں اِیجاد ہوئےہوں انہیں بدعت کہا جاتا ہے۔
(2) بدعت کی پانچ قسمیں ہیں اور ہر قسم کا حکم علیحدہ ہے۔ لہذا اِن اقسام سے صرف نظر کرکے تمام اچھے اَعمال کو بھی بُری بدعت شمار کرنا جہالت ونادانی ہے۔
(3) ہر نیا کام بدعت ہوسکتا ہے مگر ہر وہ بدعت مذموم اور قابل گرفت ہے جس میں قرآن وسنت کا خلاف ہو، یا جس کی اصل قرآن وسنت میں نہ ہو یاجس سے کسی فرض، واجب یا سنت وغیرہ کا ترک لازم آتا ہو۔
(4) بدعت کا تعلق عقائد اور اَعمال دونوں کے ساتھ ہے، عقائد میں بدعت اَعمال میں بدعت سے زیادہ سخت ہے لہذا تمام بُرے عقائد اور بُرے اعمال والے گمراہ فرقوں سے بچنا چاہیے۔
(5) جس کام کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں بھی اچھا ہے اور اُمَّت مسلمہ کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی، نیز ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
(6) بزرگانِ دین
رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے اَعراس ، فاتحہ خوانی ، محافل و اِجتماعات کا انعقاد قابل تحسین امر ہےکہ اس میں سراسر دینی منفعت ہے نیز یہ اَدِلَّۂ شرعِیَّہ سے مُتَصَادِم بھی نہیں کہ جس بنا پر انہیں مذموم امر قرار دیاجائے۔
(7) جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اسے اس کا ثواب ملتارہے گابلکہ ان تمام لوگوں کا بھی ثواب ملے گا جو اُس کے ایجاد کردہ طریقے پر چلتے رہیں گے۔
(8) جس نے اسلام میں کسی بُرے طریقے کی بنیاد رکھی جب تك وه كام باقی رہے گا اُسے اُس کا گناہ ملتارہے گابلکہ اُن تمام لوگوں کا بھی گناہ ملے گا جو اُس کے ایجاد کردہ بُرے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے۔
(9) جس کام کا حکم قرآن وسنت میں ہو، یا صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانودیگر بزرگان دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنسے ثابت ہو اس کا کرنا بالکل جائز ہے البتہ جو کام اُن سے ثابت نہ ہو اُن کا کرنا ناجائز نہیں جب تک وہ ان کے خلاف نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ ہمیں قرآن وسنت، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے کرام وبزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 169