Main Icon

باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 813

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاِسْمِهِ عِمَامَةً اَوْ قَمِيْصًا اَوْرِدَاءً يَقُوْلُ:اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ كَسَوْتَنِيْهِ اَسْئَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ.

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا استجد ثوبا سماه باسمه عمامة او قميصا اورداء يقول:اللهم لك الحمد انت كسوتنيه اسئلك خيره وخير ما صنع له واعوذ بك من شره وشر ما صنع له.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب نیا کپڑا پہنتے، اُس کا نام لیتے عمامہ یا قمیص یا چادر پھر یہ دعا پڑھتے:اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہِ اَسْئَلُکَ خَیْرَہٗ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَہٗ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗیعنی اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! توہی تعریف کے لائق ہے،تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس مقصد کے لیے یہ بنایاگیا، اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب نیا لباس زیب تن فرماتے توپہلے اس لباس کا نام لے کر اسے معین فرماتے۔مثلاً قمیص، عمامہ ،چادرہ وغیرہ اور پھر بار گاہِ الٰہی میں اس نعمت کے شکر پر حمدِ الٰہی بجا لاتے اور اس لباس کی بھلائی کو طلب کرنے اور اس کے شر سے بچنے کی دعا فرمانے کے بعد اسے زیب تن فرماتے۔عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیحدیثِ پاک میں ذکر کی گئی دعا کے بارے میں فرماتے ہیں :”یہ دُعا پُرانا لباس پہنتے وقت بھی پڑھنامستحب ہے۔“کپڑے میں خیر و شر کیاہے؟مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”حضورِ اَنور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) حتَّی الامکان نیا کپڑا جمعہ کو پہنتے تھے اور نیا کپڑا پہن کر پرانا خیرات فرمادیتے تھے۔پھر پہلے اس کا نام معین فرماتے کہ یہ چادر اوڑھتا ہوں یا قمیص پہنتا ہوں یا تہبند پھراسے زیب تن فرماتے،ان کی ہر ہر ادا پر کروڑوں درود۔کپڑے کی خیر یہ ہے کہ کپڑا پہن کر نیک اعمال کی توفیق ملے اور کپڑے کی شر یہ ہے کہ کپڑے پہن کر گناہ کرے،کپڑے پہن کر نماز پڑھنا خیر ہے اور کپڑے پہن کر چوری کرنا اس کی شر ہے اور بندہاللّٰہتعالیٰ ہی کے کرم سے خیرکرسکتا ہے شر سے بچ سکتا ہے،نیز کپڑا پہن کر حمدوشکر کرنا کپڑے کی خیر ہے اس پر فخرکرنا اس کپڑے کی شر۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:علامہ میرک
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ کپڑے کی خیر اس کی بقا،صاف ستھرا ہونا اور ضرورت وحاجت کے لئے پہننا ہے۔کپڑے کا مقصد گرمی وسردی سے بچنا اور ستر پوشی ہے اور جس مقصد کے لئے بنایا گیا اس کی بھلائی کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ وہ کپڑا اس مطلوب تک پہنچائے جس کے لئے وہ بنایا گیا ہے اور وہ عبادت اور اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّکی اطاعت پر مدد حاصل کرنا ہے۔کپڑے کا شر اس کا حرام ونجس ہونا ،زیادہ عرصہ باقی نہ رہنا ،گناہ ومعاصی ،فخر ،خودپسندی اور غرورکا سبب بنناوغیرہ ہے۔اگلے پچھلے گناہ معاف:حضرت سَیِّدُنا معاذبن اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :جو کپڑا پہنے پھر یہ کہے:”اَلْحَمْدُلِلهِ الَّذِي کَسَانِیْ هٰذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَاقُوَّةٍیعنی تمام تعریفیں اساللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری قوت و طاقت کےبغیر مجھے یہ عطا فرمایا۔“تو اُس کے اگلے پچھلے(صغیرہ) گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔مدنی گلدستہ’’لباس‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کپڑا پہنتے وقت شکرِ اِلٰہی بجا لانا اور دعا کرنا سنت ہے۔
(2) نیا کپڑا جمعہ کو پہنا جائے اور نیا کپڑا پہن کر پُرانا صدقہ کردیا جائے۔
(3) کپڑے کی خیر اس کا لمبے عرصہ تک باقی رہنا،صاف ستھرا ہونا اور ضرورت وحاجت کے لئے پہننا ہے نیز کپڑے کی خیر یہ بھی ہے کہ کپڑا پہن کر نیک اعمال کی توفیق ملے۔
(4) کپڑے کا مقصد گرمی وسردی سے بچنا اور ستر پوشی اور رب کی عبادت پر مدد حاصل کرناہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں لباس پہننے سے پہلےشکرِ اِلٰہی بجا لانے اورمسنون دعا پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 813