Main Icon

باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 956

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِيْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ يَوْمَ الخَمِيْسِ، وَكَانَ يُحِبُّ اَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيْسِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ: لَقَلَّمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ اِلَّا فِيْ يَوْمِ الْخَمِيْسِ.

عن كعب بن مالك رضی اللہ عنہ ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج في غزوة تبوك يوم الخميس، وكان يحب ان يخرج يوم الخميس.وفي رواية في الصحيحين: لقلما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم یخرج الا في يوم الخميس.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا کعب بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغزوۂ تبوک کے لیےجمعرات کے دن تشریف لے گئے اورآپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجمعرات کے دِن سفر کرنا پسند فرماتے تھے۔“اورصحیحین کی ایک روایت میں ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجمعرات کے علاوہ سفر پر بہت کم جایا کرتے تھے۔

شرح حدیث

جمعرات کی برکات:حدیثِ مذکورمیں جمعرات کو سفر پر جانے کی فضیلت بیان ہوئی ،نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماکثر جمعرات کے دن ہی سفر پر روانہ ہوتے،غزوۂ تبوک کے لیےبھی جمعرات کے دن ہی تشریف لے گئے تھے۔مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”کسی سفر میں پنجشنبہ (جمعرات) کے دن نکلنا مبارک ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت بھی ہے جسے طبرانی نے ذکر کیا ہے ”بُوْرِكَ لِاُمَّتِيْ فِيْ بُكُوْرِهَا يَوْمَ خَمِيْسِهَا“ پنجشنبہ (جمعرات) کی صبح سفر کرنے میں میری اُمَّت کو برکت دی گئی ہے۔ بعض احادیث میں شنبہ (ہفتہ) کے دن سفر کرنے کے بھی بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص شنبہ (ہفتہ) کو کسی کام کے لیے نکلے گااللّٰہتعالیٰ اس کے کام کو پورا فرمادے گا، حجۃ الوداع کے لیے حضورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمشنبہ (ہفتہ) ہی کو نکلے تھے اور اس حدیث میں جو مذکور ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ زیادہ تر پنجشنبہ(جمعرات) کو نکلتے تھے یہ اس کے مُعَارِض(خلاف) نہیں کہ کبھی کبھار شنبہ (ہفتہ) یا دوسرے دِنوں میں بھی سفر شروع فرمایا ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدجمعرات کو سفرکرنےکی وُجوہات:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:( نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)یا تو سفرِ جہاد کیلئے جمعرات پسند فرماتے تھے یا ہر سفر کے لیے۔ خیال رہے کہ چند وجوہ سےجمعرات کو سفر کے لیے پسند فرمایا گیا:*ایک یہ کہ جمعرات مبارک دن ہے کہ اس میں بندوں کے اعمال بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوتے ہیں، بہتر یہ ہے کہ عملی حج کی ابتدا اس دن سے ہو۔* دوسرے یہ کہ جمعرات ہفتہ کا آخری دن ہے۔*تیسرے یہ کہ جمعرات جمعہ کا پڑوسی ہے کہ اس کی آمد کی خبر دیتا ہے۔ *چوتھے یہ کہ جمعرات کو عربی میں خَمِیْس کہتے ہیں تو اس دن روانگی میں نیک فال ہے۔*پانچویں یہ کہ جمعرات کو خَمِیْس کہتے ہیں جو خَمِیْس بمعنیٰ پانچ سے بنا ہے اور غنیمت سےاللّٰہ،رسول کے لیے خُمْس(پانچوان حصہ) ہی نکالا جاتا ہےاللّٰہتعالیٰ خمیس کی برکت سے خُمْس والی غنیمت عطا فرمائے۔ خیال رہے کہ سفر کے لیے ہفتہ، سوموار(پیر) اور جمعرات نہایت ہی مبارک ہیں جو کوئی ہفتہ کے دن سورج نکلنے سے پہلے سفر کو نکل جائےاِنْ شَآءَاللّٰہکامیاب اور بامُراد واپس ہوگا۔ مگر خیال رہے کہ اسلام میں کوئی دن یا کوئی ساعت(گھڑی) منحوس نہیں، ہاں! بعض دن بابرکت ہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی کسی دِینی یا دُنیاوی کام کی غرض سے سفر پر جانے کا ارادہ ہوتو کوشش فرماکر جمعرات کے دن سفر پر جانے کی ترکیب بنائیے کہ ہمارے پیارے نبی
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجمعرات کو سفر پر جانا پسند فرماتے تھے اور حدیث پاک کے مطابق اس دن کی ابتدا میں سفر پر جانے میں اُمَّت کے لیے برکت رکھی گئی ہے، اگر کسی وجہ سے جمعرات کو سفر پر جانے کی ترکیب نہ بن سکے تو پھر ہفتہ یا پیر کے دن جانے کی کوشش کریں کہ یہ ایام بھی سفرپرجانے کے لیے بابرکت ہیں البتہ اگر ان دنوں میں بھی نہ جاسکیں تو پھر اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی دن سفر شروع کرنے میں حرج نہیں۔ جمعرات، ہفتہ اور پیر کے دن سفر پر روانہ ہونے کے لیے بابرکت ضرور ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے علاوہ دنوں میں سفر نہیں کرنا چاہیے یا اس کے علاوہ دنوں میں بدشگونی ہے۔ اسلام میں چند ایام بابرکت تو ہیں لیکن کوئی دن منحوس و بد نہیں، جب کسی حاجت کے پیش نظر سفر کرنا ضروری ہو جائے تو پھر سوچ و بچار کئے بغیراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے سفر پر چلے جائیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے چاہا تو آپ کا سفر بخیر و عافیت پایہ ٔتکمیل کو پہنچے گا۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 956