- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 297
عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 297
جلد 3
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ يَقُولُ: كَانَ اَبُوْ طَلْحَةَ اَكْثَرَ الْاَنْصَارِ بِالْمَدِيْنَةِ مَالًا مِنْ
نَخْلٍ وَكَانَ اَحَبَّ اَمْوَالِهِ اِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا اُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ( قَامَ اَبُوْ طَلْحَةَ اِلٰى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ:) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ( وَاِنَّ اَحَبَّ اَمْوَالِى اِلَىَّ بَيْرُحَاءَ وَاِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ اَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ اَرَاكَ اللَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخْ ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَاِنِّى اَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِى الْاَقْرَبِينَ فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَةَ: اَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا اَبُوْ طَلْحَةَ فِى اَقَارِبِهِ وَبَنِٰى عَمِّهِ .( )
عن انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ يقول: كان ابو طلحة اكثر الانصار بالمدينة مالا من
نخل وكان احب امواله اليه بيرحاء وكانت مستقبلة المسجد وكان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب قال أنس: فلما انزلت هذه الآية:) لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون( قام ابو طلحة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! ان الله تبارك وتعالى يقول:) لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون( وان احب اموالى الى بيرحاء وانها صدقة لله ارجو برها وذخرها عند الله فضعها يا رسول الله حيث اراك الله قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بخ ذلك مال رابح ذلك مال رابح وقد سمعت ما قلت وانى ارى أن تجعلها فى الاقربين فقال ابو طلحة: افعل يا رسول الله فقسمها ابو طلحة فى اقاربه وبنى عمه .( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاتعلق انصارِ مدینہ میں اُن صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے تھا جن کے پاس سب سے زیادہ کھجور وں کے درخت تھے ، اُن کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء (کاباغ) تھا جو کہ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا۔ حضورنبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں تشریف لے جاتے اور اُس کا میٹھا پانی نوش فرماتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : )لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ((پ۴ ، آل عمران : ۹۲) ترجمۂ کنزالایمان : ’’تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ ‘‘ توحضرتِ سَیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں کھڑے ہوئے اورعرض کی : اللہ عَزَّوَجَلَّتو فرماتاہے : )αلَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ( میرے نزدیک میرا سب سے پسندیدہ مال’’بیرحاء‘‘ ہے ، میں اِسے راہِ خدا میں نیکی اور آخرت کے لیے ذخیرہ کی اُمید پر صدقہ کرتاہوں۔ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ اِسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالیٰ آپ کی رائے قائم فرمائے۔ ‘‘ حضورنبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ خوب یہ تو بہت نفع بخش مال ہے ، یہ تو بہت نفع بخش مال ہے۔ میں نے تمہاری بات سُن لی ہےلیکن میری رائے یہی ہے کہ تم اُسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ ‘‘حضرتِ سَیِّدُنا ابُو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رِسالت میں
عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں ایسا ہی کروں گا۔ ‘‘ پھر حضرتِ سَیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔
شرح حدیث
سب سے پسندیدہ مال خرچ کرنا اَفضل ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بندے کے لیے جو جنت میں ثواب ہے وہ اُسے اُس وقت تک نہیں پاسکتا جب تک کہ وہ اپنی پسندیدہ چیز صدقہ نہ کردے۔ یعنی پسندیدہ مال میں سے کچھ مال صدقہ کرے۔ ‘‘علامہ ضحاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ’’اِس سے مراد یہ ہے کہ تم جنت میں اُس وقت تک داخل نہیں ہوگے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز صدقہ نہ کردویعنی تم خوشدلی سے اپنےمالوں کی زکٰوۃ نکالو۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی علامہ بیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : ’’اِس میں اِس بات پر دلالت ہے کہ محبوب ترین مال کو سب سے قریبی رشتے داروں پر خرچ کرنا اَفضل ہے ۔ ‘‘( )دوستوں کے باغات میں جانا، پھل کھانا:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک میں اِس بات کی دلیل ہے کہ بھائیوں یا دوستوں کے باغ میں جانا ، وہاں کا پانی پینا ، بلا اِجازت اُس باغ کے پھل وغیرہ کھانا مباح ہے جبکہ اِس بات کا علم ہو کہ وہ اِن تمام اَفعال سے ناراض نہیں بلکہ خوش ہوں گے۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ اَہلِ عِلم وفضل حضرات کا باغات وغیرہ میں جانا ، اُن کے درختوں کے سائے میں بیٹھنا ، اُن کے پھل وغیرہ
کھانا ، اُن سے راحت اور پاکیزگی حاصل کرنا جائز ہے بلکہ بسا اَوقات تو ایسا کرنا باعث اَجروثواب بھی ہوتا ہے جبکہ اِن اَفعال سے تازگی اور عبادت میں چُستی وقُوت حاصل کرنا مقصود ہو۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک سے چند مسائل ثابت ہوئے :٭∞علماء کا باغات میں جانا جائز ہے۔٭∞ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اپنے اَصحاب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے باغات وغیرہ میں تشریف لے جاتے اور وہاں سے پانی وغیرہ بھی نوش فرمایا کرتے تھے۔٭∞ باغات کی کمائی مُباح ہے جبکہ حَلال ہواور اُس میں کوئی ذِلَّت وغیرہ بھی نہ ہو۔ ‘‘( )رشتے داروں پرخرچ کرنا زیادہ اَفضل ہے:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث میں اِس بات کا بیان ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ کرنامستحب ہے اور اُس کے ساتھ ساتھ صدقات کی کیفیت اور نیکیوں کی صورتوں وغیرہ کے بارے میں اَہل علم و فضل سےمُشاورت کرنا مستحب ہے اور اِس حدیث میں دیگر بیان کردہ فوائد کے علاوہ یہ بھی ہے کہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا اَفضل ہے جبکہ وہ اَقرباء محتاج ہوں نیز رشتہ دار صلہ رحمی کے زیادہ حق دار ہیں ، اگرچہ دُور ہی کے کیوں نہ ہوں کہ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سیدنا ابُو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا تو اُنہوں نے دُور کے رشتہ داروں پر خرچ کیا۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک میں اِس بات پر دلیل ہے کہ اپنے رشتہ داروں اور کمزور گھروالوں پر صدقہ کرنا اَفضل ہےجبکہ وہ نفلی صدقہ ہو۔ ‘‘( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدقہ کرنے والے اور سخی کی مثال:حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’کنجوس اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو شخصوں جیسی ہے جنہوں نے اپنے جسم پر سینوں سے لے کر گردنوں تک زِرہیں پہنی ہوں۔ صدقہ کرنے والا جب صدقہ کرتا ہے تو اُس کی زِرہ کھل جاتی ہےیااُس کے جسم پر ڈھیلی اور کشادہ ہوجاتی ہےحتّٰی کہ اُس کی انگلیاں اور پیروں کے نشان چُھپ جاتے ہیں جبکہ کنجوس جب بھی خرچ کرنے کا اِرادہ کرتا ہے تو اُس کی زِرہ کی ہر کڑی اپنی جگہ جَم جاتی ہے وہ اُسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن ڈھیلی نہیں ہوتی۔ ‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناپنی پسندیدہ چیزیں راہ خدا میں خرچ کیا کرتے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایسے سخی تھے کہ راہ خدا میں اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں بھی خرچ کردیا کرتے تھے۔ چنانچہ دعوت اسلامی کےاشاعتی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۴ صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضانِ فاروقِ اعظم‘‘جلداول ، صفحہ ۱۳۰ پر ہے :پسندیدہ زمین راہِ خدا میں وقف کردی:حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میرے والدِ گرامی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حصے میں خیبر کی کچھ زمین آئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ” یہ خیبر کی زمین میرے حصے میں آئی ہے اور اس سے نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا ، آپ ارشاد فرمائیں کہ میں اس زمین کا کیا کروں؟ ‘‘ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے عمر! اگر تم چاہو تو اُسے اپنی ملکیت ہی میں رکھو اور اُس کے منافع راہِ خدا میں صدقہ کردو۔ ‘‘ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُس زمین کو ایسے صدقہ کیا کہ نہ تو اُس کو بیچا جائے گا ، نہ ہی ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی
اُس میں وراثت جاری ہوگی بلکہ اُس کی آمدنی کو فقراء ، رشتہ داروں ، مُسافروں ، مہمانوں اور راہ ِخدا میں خرچ کیا جائے گا اور اُس کے متولی کو اجازت ہے کہ اُس میں سے(بطورِ اجرت لےکر)خودیا دوستوں کو کھلائے ہاں اُسے مال نہ بنائے۔ ( )رِضائے اِلہٰی کے لیے اپنی خواہش کی قربانی:حضرتِ سَیِّدُنا ربیع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فالج کا مَرض لاحق ہوا ، جب کبھی آپ کے دروازےپر مانگنے والا آتاتو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی اہلیہ کو فرماتے : ’’اُسے شکر دے دو۔ ‘‘ کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو شکربہت پسند تھی۔ بیماری طویل ہوگئی اور ایک دن آپ کو مُرغی کا گوشت کھانے کی خواہش ہوئی مگر چالیس دِن تک اپنے نفس کو روکتے رہے کہ شاید یہ خواہش ختم ہوجائے لیکن خواہش ختم نہ ہوئی تو اپنی زوجہ سے سارا ماجرا بیان کردیا۔ تو اُنہوں نے عرض کی : ’’جب ایک چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے لیے حلال فرمائی ہے تو پھر وہ کونسی چیز ہے جو آپ کو اِس سے روکتی ہے۔ ‘‘ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زوجہ نے خادمہ کو بازار بھیج کر مُرغی کا گوشت منگوایا ، اُسے پکایا اور پھر دستر خوان لگادیا۔ کھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ اچانک دروازے پر سائل کی صدا آئی : ’’مجھے صدقہ دو ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فوراً ہاتھ روک لیا اور زوجہ سے فرمایا : ’’یہ کھانا اس سائل کو دے دو۔ ‘‘ زوجہ نے تعجب کا اظہار کیا تو فرمایا : ’’جیسا میں کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو۔ ‘‘ زوجہ نے عرض کیا : ’’میں وہ کرنا چاہتی ہوں جو اِس سے بہتر ہے۔ ‘‘ فرمایا : ’’وہ کیا ہے؟‘‘ عرض کیا : ’’میں اِس کھانے کی قیمت اُس سائل کو دے دیتی ہوں اور آپ یہ کھانا کھا کر اپنی خواہش پوری کرلیں۔ ‘‘ فرمایا : ’’بہت اچھا! جاؤ اِس کھانےکی قیمت لے آؤ۔ ‘‘ زوجہ جب اُس کھانے کے پیسے لے کر آئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’کھانے کے پیسے اور یہ کھانا دونوں سائل کو دے دو۔ ‘‘ چنانچہ زوجہ نے آپ کے حکم پر عمل کیا اور دونوں چیزیں سائل کو دے دیں۔ ( )اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پررحمت ہو اور
اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ
’’قرآن ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں اپنا پسندیدہ مال ہی خرچ کرنا چاہیے کہ قرآن وسنت میں اس کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔
(2)حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اَصحاب کے باغات وغیرہ میں تشریف لے جایا کرتے تھےبلکہ وہاں کا پانی وغیرہ بھی نوش فرمایا کرتے تھے۔
(3)دِینی اُمور کی معلومات کے لیے اَہل علم و فضل سے مُشاوَرَت کرلینی چاہیے تاکہ درست اور بہتر انداز میں راہنمائی ہوسکے۔
(4)راہِ خدا میں جب بھی خرچ کرنا ہوتو سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے، خصوصاً جبکہ وہ محتاج ونادار ہوں کہ ایسا کرنا افضل ہے کیونکہ اِس میں دو اجر ہیں، ایک تو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا اجر اور دوسرا صلہ رحمی کرنے کا اجر۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں ہماری سب سے پسندیدہ چیزیں اور مال خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمارے رِزقِ حلا ل میں برکت عطافرمائے ، ہمیں تنگدستی سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 297