- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاتعلق انصارِ مدینہ میں اُن صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے تھا جن کے پاس سب سے زیادہ کھجور وں کے درخت تھے ، اُن کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء (کاباغ) تھا جو کہ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا۔ حضورنبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں تشریف لے جاتے اور اُس کا میٹھا پانی نوش فرماتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : )لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ((پ۴ ، آل عمران : ۹۲) ترجمۂ کنزالایمان : ’’تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ ‘‘ توحضرتِ سَیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں کھڑے ہوئے اورعرض کی : اللہ عَزَّوَجَلَّتو فرماتاہے : )αلَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ( میرے نزدیک میرا سب سے پسندیدہ مال’’بیرحاء‘‘ ہے ، میں اِسے راہِ خدا میں نیکی اور آخرت کے لیے ذخیرہ کی اُمید پر صدقہ کرتاہوں۔ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ اِسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالیٰ آپ کی رائے قائم فرمائے۔ ‘‘ حضورنبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ خوب یہ تو بہت نفع بخش مال ہے ، یہ تو بہت نفع بخش مال ہے۔ میں نے تمہاری بات سُن لی ہےلیکن میری رائے یہی ہے کہ تم اُسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ ‘‘حضرتِ سَیِّدُنا ابُو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رِسالت میں
عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں ایسا ہی کروں گا۔ ‘‘ پھر حضرتِ سَیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔
عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ يَقُولُ: كَانَ اَبُوْ طَلْحَةَ اَكْثَرَ الْاَنْصَارِ بِالْمَدِيْنَةِ مَالًا مِنْ
نَخْلٍ وَكَانَ اَحَبَّ اَمْوَالِهِ اِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا اُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ( قَامَ اَبُوْ طَلْحَةَ اِلٰى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ:) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ( وَاِنَّ اَحَبَّ اَمْوَالِى اِلَىَّ بَيْرُحَاءَ وَاِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ اَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ اَرَاكَ اللَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَخْ ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَاِنِّى اَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِى الْاَقْرَبِينَ فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَةَ: اَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا اَبُوْ طَلْحَةَ فِى اَقَارِبِهِ وَبَنِٰى عَمِّهِ .( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 297 ، عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان