Main Icon

باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 692

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ: يَا عبْدَ الله! لَاتَكُنْ مِثْلَ فُلانٍ كَانَ يَقُوْمُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال:قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله! لاتكن مثل فلان كان يقوم الليل فترك قيام الليل.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن عَمْرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھ سےفرمایا:”اےعبداللّٰہ!فُلاں کی طرح نہ ہونا کہ رات میں(تَہَجُّدکےلیے) اُٹھتا تھا پھر چھوڑ دیا۔“

شرح حدیث

عدم استقامت کے سبب ترک عمل:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اِس سے معلوم ہوا کہ تَہَجُّد گُزار کو تَہَجُّد چھوڑنا بہت بُرا ہے۔اَشِعَّۃُ اللَّمْعَاتمیں ہے کہعبدﷲابنِ عَمْرو(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَا)تمام رات عبادت کرتے تھے، اُن کے والد اِس سے منع کرتے تھے مگر نہ مانتے تھے۔چنانچہ اُن کے والد نے بارگاہِ رِسالت میں اُن کی شکایت کی، تب حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے یہ فرمایا۔مَقْصد یہ ہے کہ تم سے یہ عبادت نِبھ نہ سکے گی اور تم اَصْل تَہَجُّد بھی چھوڑ بیٹھو گے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:اِس حدیث شریف میں اِشارہ ہےکہ عبادت چھوڑدینا اورپچھلی عادت کی طرف دوبارہ لَوٹ آنا دراصل پیچھے کی طرف پلٹنااور زِیادتی کے بعد کمی کی طرف آنا ہے۔سالِک اورمُرِید کو چاہیے کہ(عِلم وعمل میں)اِضافے کاطلبگاررہے۔اِصلاح کے بعد بِگڑنے سےاللّٰہکی پناہ:آدمی کو چاہیےکہ نیکی پر ثابِت قدمی کی تَدابیر اِختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اِس کے نہ چُھوٹنے کی دُعا بھی کرتا رہےکہ سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی دُعامیں’’اَلْحَوْربَعْدَالْکَوْر‘‘یعنی ثابت قدمی کے بعد بدل جانے یا بھلائی کے بعد برائی سےپناہ مانگاکرتے تھے۔
مرآۃ المناجیح میں ہے:
کَوْرعمامہ کے پَیْچ کو کہتے ہیں اورحَوْراِس پَیْچ کا کُھل جانا یعنی زِیادتی کے بعد نُقصان،اِصلاح کے بعد فَساد،جمع ہونے کے بعد بِکھرنا،جماعت میں ہونے کے بعد اَلگ ہوجانا،آرام کے بعد تکلیف،بھلائی کے بعد بُرائی،ثابِت قدَمی کے بعد بدل جانا،اِن سب سے تیری پناہ۔صُوفِیافرماتے ہیں کہ ترقی کےبعدتَنَزُّل،توبہ کےبعد گناہ،ذِکْرکےبعدغفلت،حاضِری کےبعدغائب ہوجانا،اِن سب سے پناہ۔نیکیاں بڑھاؤ:*بندے کو چاہیے کہ نیک اَعمال گھٹانے کے بجائے اِن میں ترقی کی جانِب گامزن ہو اور روزانہ کی بُنیاد پر کچھ نہ کچھ اپنی نیکیاں بڑھاتا رہے،چُنانچہ بَنِی سُلَیم کے ایک شیخ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت کی،میں نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کا حال شریف کیسا ہے؟اِرشاد فرمایا:کیامیں تمہیں کچھ بیان نہ کروں؟ میں نے عرض کی :جی ضرور بَیان فرمائیے۔اِرشاد فرمایا: جس کے دو دن برابر ہوں وہ دھوکے میں مبتلا ہے اور جس کےآج کے دن سے آئندہ کل کا دن بُرا ہووہ مَلْعُون ہے اور جو (عِلْم وعمل میں) اِضافہ نہیں کرتا رہتا وہ نُقصان میں ہے اورجو نُقصان میں ہو اُس کے لیے موت بہتر ہے۔*حُجَّۃُ الْاِسلامامام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:بندہ جب فرائض سے فارِغ ہو اورفضیلت والے اَعمال کرنے کی قُدرت رکھتا ہو تو پھراُسے اِن میں سے اَفضل عمل کی تلاش میں لگنا چاہیے تاکہ اُس میں مشغول ہوسکے کیونکہ جوشخص اِضافی نفْع پانے کی قُدرت کے باوُجود اُسے حاصل نہ کرےوہ دھوکے کا شِکارہے۔*عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ذِی الْجَلَاللکھتے ہیں: نیک کام شروع کرکے اسے چھوڑ دینا بُرا ہےلہٰذا کوئی نیک کام شروع کرکے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیےبلکہ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہردن بھلائی کے درجات میں اضافہ کرتا رہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا کرے کہ اس کے دن بھر کے اَعمال کا خاتمہ پہلے سے بہترعمل پرہو۔اگرکوئی شخص بیماری یا کسی کام میں مشغولیت اورکمزوری کی وجہ سے (کوئی نفلی)نیک عمل ترک کردےتو اُس پر کوئی مَلامت نہیں ہےبلکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ذات سے اُمّید ہے کہ وہ اُس نیک عمل کا اَجْر دینا بند نہیں فرمائے گا۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مَرْوِی ہے کہ مَریض کو اُس نیک کام کا اَجْر مِلتا رہے گا جسے وہ حالتِ صحت میں کرتا تھا۔مدنی گلدستہ’’نیکی کرو‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) جس نیکی کی عادت بنی ہوئی ہو اُسے بِلاعُذر مَحْض سُستی کی وجہ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
(2) کسی نیکی کی عادت بنا کر اُسے چھوڑدینا زِیادتی کے بعد کمی کی طرف اورآگے جانے کے بعدپیچھے کی طرف آنا ہے۔
(3) نیکیوں میں کمی کے بَجائے اُس میں روزانہ کچھ نہ کچھ اِضافہ کرتے رہنا چاہیے۔
(4) عِلم وعمل میں اِضافہ نہ کرنے والا نُقصان میں ہے۔
(5) نیکیوں میں اِضافے کے بعد اُن میں کمی نہ ہونے کی دُعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔
(6) نیکی کرنے اورنفع پانے کی قُدرت کے باوُجوداُسے حاصل نہ کرنا بے وُقوفی ہے۔
(7) ضُعف یا مَرَض وغیرہ کے سبب نیک اَعمال میں کمی آجائے تو رحمت الٰہی سے قُوّت اور تندرستی کے زمانے میں کئے جانے والےاَعمال ہی لکھے جائیں گےاور اُتنا ہی اَجْر ملے گاجتنا پہلے مِلتا تھا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اَعمال کی توفیق عطا فرمائےاوراُن پر استقامت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 692