- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 244
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ اَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَ .( )
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:المسلم اخو المسلـم لا يظلمه ولا يسلمه من كان في حاجة اخيه كان الله في حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيام .( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ تو وہ اس پر ظلم کرے اور نہ ہی اُسے کسی ظالِم کے حوالے کرے۔ جو مسلمان اپنے کسی بھائی کی حاجت پوری کرتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے۔ جوکسی مسلمان بھائی کی ایک دُنیوی تکلیف کو دُور کرے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کی تکالیف میں سے
اُس کی ایک تکلیف کو دور فرمائے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ‘‘
شرح حدیث
ایک دوسرے کابھائی ہونے کے معنی:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہوا کہ ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ ‘‘ شارحین نے اس کی کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں ، چند وجوہات درج ذیل ہیں :
(1)عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’دائرہ اسلام میں آنے کی وجہ سے دونوں بھائی بھائی ہوگئے ، جس طرح والدین کی اولاد یا دونوں میں سے کسی ایک میں شریک اولادباہم بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ ‘‘( )
(2) عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی دین اسلام میں ہونے کی وجہ سے وہ اس کا بھائی ہےاور وہ دوافراد جن کے درمیان اتفاق پایا جائےان دونوں پر بھائی کا اطلاق ہوتاہے ۔ ‘‘( )
(3) علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مسلمان مسلمان کا بھائی اس لیے ہے کہ اِن دونوں کو ایک دِین نے جمع کردیا ہے اور دینی بھائی ہونا تو حقیقی بھائی ہونے سے بھی افضل ہےکیونکہ حقیقی بھائی ہونا دُنیوی پھل ہے جبکہ دِینی بھائی ہونا اُخروی پھل ہے۔ ‘‘( )
(4) مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی مسلمان مسلمان کا دینی و اسلامی بھائی ہے ، یا مسلمان مسلمان کے لیے سگے بھائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ نسبی بھائی کو ماں باپ نے بھائی بنایا ہے اور مسلمان کو حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھائی بنایا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے رشتۂ غلامی قوی ہے ماں باپ سے رشتہ نسبی ہے۔ ‘‘مزید فرماتےہیں : ’’یہ بھی معلوم ہوا کہ مؤمن و مسلم ہم معنی ہیں کہ قرآنِ کریم نے مؤمنوں کو بھائی
قرار دیا : )اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ(اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہاں مسلمون کو۔ خیال رہے کہ یہاں بھائی ہونا رحمت و شفقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ اَحکام کے اعتبار سے۔ ‘‘( )حضور کو بھائی کہنا ہرگزجائز نہیں:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ مؤمنوں کو مومن کا بھائی فرمایا نہ کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ، حضور تو عین ایمان ہیں ، ان کی نعلین پر ہزاروں ماں باپ قربان ، لہذا حضور کو بھائی کہنا ہرگز جائز نہیں۔ ‘‘( )
مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسلمانوں کے بھائی نہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو مثل والد کے ہیں اس لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نَّ مسلمانوں کی مائیں ہیں ۔ ‘‘( )اسلام میں ظلم کی ممانعت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا حکم دیاگیا کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی پر ظلم نہ کرے۔ اسلام میں ظلم کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، ظلم چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ بہرصورت ناجائز وحرام ہے ، ظلم کرنے والوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ سخت ناپسند فرماتا ہے ، ظلم کی مذمت پر تین فرامین مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’ظلم اور قطع رحمی کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کے مرتکب کو اللہ عَزَّوَجَلَّ آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو۔ ‘‘( ) (2) “ ظلم سے بچو بلاشُبہ ظلم قیامت کےدن اندھیریاں ہوگا۔ ‘‘ ( ) (3) ’’ابلیس اپنے چیلوں سے کہتاہے کہ
انسانوں سے ظلم اور حسد چاہو کیونکہ یہ دونوں چیزیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک شرک کے برابر ہیں۔ ‘‘( )ظالم کے سپرد کرنے کی ممانعت:جس طرح ظلم کرنے کی ممانعت ہے ویسے ہی اپنے مسلمان بھائی کو کسی بھی ظالم کے سپرد کرنے یا کسی بھی ایسے شخص کے حوالے کرنے کی بھی سختی سے ممانعت ہے جو اُسے تکلیف پہنچائے ، کیونکہ شریعت نے اپنے مسلمان بھائی کی تکلیف دور کرنے اوراس کی مدد کرنے کی ترغیب دلائی ہے اور اپنے مسلمان بھائی کو کسی ظالم کے سپرد کرنا اس کے خلاف ہے ، نیز اپنے مسلمان بھائی کو کسی بھی ظالم کے سپرد کرنا یہ بھی اُس کے ساتھ ظلم ہے ، اور ظلم کی سختی سے ممانعت ہے۔ شارِحِ حدیث علامہ قسطلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اپنے مسلمان بھائی کو ظالم کے حوالے نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اُس کو کسی بھی ایسے شخص کے پاس نہ چھوڑے جو اُسے تکلیف پہنچائے بلکہ اُس کی حفاظت کرے ۔ ‘‘( )مسلمان بھائیوں کی حاجت رَوائی کرو:مذکورہ حدیث پاک میں مسلمان کی ایک شان یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ، اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی حاجت روائی فرماتا ہے ، اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرنا اس کو خوش کرنا ہے اور جو کسی مسلمان کو خوش کرے گویا اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خوش کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خوش کرنے کا صلہ جنت میں داخلہ ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جو میرے کسی اُمَّتی کی حاجت پوری کرے اور اُس کی نیت یہ ہو کہ اِس کے ذریعے اُس اُمَّتی کو خوش کرے تو اُس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو خوش کیا اور جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو خوش کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے جنت میں داخل کرے گا۔ “ ( )
اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کو سب سے افضل اَعمال میں شمار فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’سب سے افضل عمل مؤمن کے دل میں خوشی داخل کرناہے خواہ اُس کی ستر پوشی کرکے ہو یا اُسے شکم سیر کرکے یا اُس کی حاجت پوری کرنے کے ذریعے ہو۔ ‘‘( )
ایک روایت میں ہے کہ ’’تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے کے لئے چلے تو یہ عمل میری اِس مسجد(یعنی مسجدِنبوی) میں دومہینے اِعتکاف کرنے سے افضل ہے۔ ‘‘( )مسلمان حاجت رَوا اورمشکل کشا ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک میں ایک مسلمان کی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حاجت روائی اور مدد کرنے کا بیان ہے ، اِس سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حاجت روائی یعنی اس کی حاجت کو پورا اور مشکل کشائی یعنی اُس کی مشکل کو دُور کرسکتا ہے بلکہ ایسا کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرنا ہے ، لہٰذا کسی مسلمان کو ’’حاجت رَوا ‘‘یا ’’مُشکل کشا‘‘ کہنا بلکل درست ہے۔ واضح رہے کہ حقیقی حاجت رَوا اور مشکل کشا فقط رب تعالیٰ ہے البتہ اُس کی عطا اور فضل وکرم سے اُس کے بندے آپس میں ایک دوسرے کے حاجت رَوا اور مشکل کشا ہیں۔ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’سُبْحَانَ اللہ! کیسا پیارا وعدہ ہے ، مسلمان بھائی کی تم مددکرو اللہ تمہاری مدد کرے گا ، مسلمان کی حاجت روائی تم کرو اللہ تمہاری حاجت روائی کرے گا۔ معلوم ہوا کہ بندہ بندے کی حاجت روائی کر سکتا ہے ، یہ شرک نہیں ، بندہ بندے کا حاجت روا مشکل کشا ہے۔ ‘‘( )مسلمان کی تکلیف دور کرنے کی فضیلت:حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا کہ جو کسی مسلمان کی دُنیوی تکلیف کو دور کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی
قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف دور فرمائےگا ، پیارے اسلامی بھائیو! یقیناً یہ ایک نفع بخش تجارت ہے بلکہ ایسی تجارت ہے جس میں نفع ہی نفع ہے ، دنیامیں کسی مسلمان کی تکلیف کو دُور کرنا بہت آسان ہے ، لیکن کل بروزِقیامت بندے کو جوتکالیف ملیں گی وہ بہت شدید ہوں گی ، قیامت کا ایسا ہولناک دن ہوگا جس میں ہرشخص کو اپنی فکر ہوگی کہ کسی طرح میں نجات پاجاؤں ، ماں اپنی اولاد سے دُور بھاگے گی ، باپ بیٹے سے جان چھڑائے گا ، الغرض کل کوئی کسی کا نہ ہوگا ، ہرشخص اپنے حساب وکتاب کے خوف سے اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوگا ، تانبے کی دہکتی ہوئی زمین پر کھڑے ہو کر حساب دینا ہوگا ، یقیناً اِس کی ہم میں سکت نہیں ، لہٰذا دنیا میں رہتے ہوئے مسلمانوں کی تکالیف کو دُور کیجئے تاکہ کل قیامت کی تکالیف سے نجات پاسکیں ، کسی بھی مسلمان کی تکلیف دُور کرنے والوں کوجنت کی وادیوں میں رب تعالیٰ کے جوارِرَحمت یعنی اُس کے قُرب میں رہنے کی سعادت نصیب ہوگی۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۸ صفحات پر مشمل کتاب ’’سایہ عرش کس کس کوملے گا؟‘‘صفحہ ۵۵ پر ہے : ’’حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !جنت کی وادیوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جوارِرحمت (یعنی قُرب)میں کون ہوگا؟‘‘سرکارِ والا تَبار ، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جومیری سنت کو زندہ کرے اورمیرے پریشان اُمَّتِی کی تکلیف دور کرےگا۔ ‘‘مسلمان کی پردہ پوشی کرنےکی فضیلت:حدیث پاک میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو کل بروزِقیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ کسی بھی مسلمان کے عیوب پر مطلع ہونے کے بعد اُس کی پردہ پوشی کرنا سعادت کی بات ہے ، اَحادیث مبارکہ میں مسلمان کی پردہ پوشی کرنے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ مسلمان کی پردہ پوشی کرنے سے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) ’’جو اپنے بھائی کے کسی عیب کو دیکھ لے او راس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے اُس پردہ پوشی کی وجہ سے
جنت میں داخل فرمائے گا۔ ‘‘( ) (2) ’’جو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو اپنے بھائی کے راز کھو لے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کا راز ظاہر کردے گا یہا ں تک کہ وہ اپنے گھر ہی میں رُسوا ہوجائے گا۔ ‘‘( ) (3) ’’جس نے کسی کی پر دہ پوشی کی گو یا اُس نے زندہ دفن کی گئی بچی کوزندہ کردیا ۔ ‘‘( )پردہ پوشی سے متعلق اہم مدنی پھول:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرچہ اسلام میں اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے عیوب کی پردہ پوشی کی ترغیب دلائی گئی ہے لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی ممانعت ہے۔ چنانچہ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : ’’ایسے لوگ جن کی غلطیوں یا گناہوں پر کئی مرتبہ پردہ ڈالا گیالیکن اِس کے باوجودانہوں نے گناہ ترک نہ کیے تو ایسوں کا پردہ چاک کرنا واجب ہے کیونکہ بارباراُن کی پردہ پوشی اُن کے گناہوں پر مُعاوَنت کے مُترادِف ہے۔ پردہ اُس معصیت کا ہے جو گزر چکی ہو۔ اگر کوئی شخص اپنے سامنے کسی کو معصیت کرتے ہوئے دیکھے اور اُس کو روکنے پر قادر ہو تو اُسے روکنا واجب ہے اور اگر وہ اُس پر قادر نہ ہو تو اُس معاملے کوحکام بالا(سلطان یاقاضی)کے پاس لے جائے ۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اگر کوئی حیا دار آدمی ناشائستہ حرکت خفیہ کر بیٹھے پھر پچھتائے تو تم اسے خفیہ سمجھا دو کہ اُس کی اصلاح ہوجائے اسے بدنام نہ کرو ، اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ قیامت میں تمہارے گناہوں کا حساب خفیہ ہی لے گاتمہیں رُسوانہ کرے گا۔ ہاں جو کسی کی ایذا کی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو ، یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو ، اُس کا اِظہار ضرورکردو تاکہ وہ شخص اِیذا سے بچ جائے ، یا یہ توبہ کرے یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔ غرضیکہ صرف بدنامی سے
کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اُس کے خفیہ ظلم سے دوسرے کو بچانا ، یا اُس کی اِصلاح کرنا بھی اچھا ہے ، یہ فرق خیال میں رہے۔ یہاں(صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے رب تعالیٰ اس کی سات سو(700)عیب پوشیاں کرےگا لہذا کُرْبَۃٌ کی تنوین تعظیمی ہے اور سَتَرَہُ اللہُ میں سترمطلق بمعنیٰ کامل ہے ربّ تعالیٰ کی عطائیں ہمارے خیالات سے وراء ہیں۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)تمام مسلمان آپس میں دِینی بھائی ہیں اور یہ دِینی رشتہ دُنیوی رشتے سے بہت قوی ہے۔
(2)تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی حاجت روائی کریں، ایک دوسرے کی تکالیف کو دور کریں، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری قیامت کی تکالیف کو دور فرمائے گا۔
(3)اسلام ایک ایسا پیارا مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو اَخوت وبھائی چارے، باہم حاجت روائی، معاونت اور ایک دوسرے کی تکالیف کو دُور کرنے کا درس دیتا ہے، یقیناً یہ تمام اُمور ایک پراُمن معاشرے کے قیام میں بہترین مُعاون کی حیثیت رکھتے ہیں۔
(4)حقیقی حاجت رَوا اور مشکل کشا رب تعالیٰ ہی ہے، مگر اُس نے اپنے بندوں کو ایک دوسرے کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کی طاقت وقوت عطا فرمائی ہے، اِس لیے مسلمان بھی ایک دوسرے کے حاجت رَوا اور مشکل کشا ہوسکتے ہیں، لہٰذا کسی مسلمان کو حاجت رَوا یا مشکل کشا کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
(5)کسی بھی مسلمان کے عیوب کی پردہ پوشی کرنا مسلمان کی شان ہے، ربّ تعالیٰ کی سنت ہے مگر جن عیوب کی پردہ پوشی سے کسی مسلمان یا دیگر مسلمانوں کا نقصان ہوتا ہواُن کو ظاہر کرنے کی شرعاً اجازت ہے،بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہے، کسی کو غلط کام یا گناہ کرتا دیکھیں اور اسے روکنے پر
قادر ہوں تو فی الفور اُسے اُس گناہ سے روکنا واجب ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی حاجت رَوائی اور مشکل کشائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی تکالیف کو دُور کرنے اور اُن کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 244