- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 245
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًاسَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ اَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا لَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ملَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّا َبِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ. ( )
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والآخرة ومن ستر مسلماستره الله في الدنيا والآخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه ومن سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له به طريقا لى الجنة وما اجتمع قوم في بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم ملا نزلت عليهم السكينة ، وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة وذكرهم الله فيمن عنده ومن بطا به عمله لم يسرع به نسبه. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے کسی مسلمان کی دُنیوی تکلیف دُور کی تو قیامت کےدن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی اُخروی تکلیف کو دُور فرمائے گا۔ جو کسی تنگدست پر کشادگی کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے دنیا اور آخرت میں کشادگی عطافرمائے گا۔ جو دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس وقت تک بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتارہتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے لیے جنت کی طرف راستہ آسان فرمادیتاہے۔ جب کچھ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر تلاوتِ قرآنِ مجید اور درس و تدریس کرتے ہیں تو اُن پر سکینہ نازل ہوتاہے ، رحمتِ خداوندی انہیں ڈھانپ
لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی خاص مجلس میں اُن کا ذکرِ خیر فرماتاہے اور جس کا عمل اُسے پیچھے رکھے تواُس کا نسب اُسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔ ‘‘
شرح حدیث
مسلمانوں کی حاجت روائی کرنا عظیم کام ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کی حاجت روائی ، اپنے علم ، مال ، مَقام ومَرتبے ، نصیحت ، اچھے کام کی طرف رہنمائی ، خود مدد کرنے یا کسی کے ذریعے مدد کرنے یا کسی کی مدد کی سفارش کرنے یا مدد کا وسیلہ بننے یا اس کے لیے مدد کی دعا کردینے کی عظیم فضیلت کا بیان ہے۔ کسی بھی تنگدست مسلمان پر کشادگی سے مراد یہ ہے کہ یا تو اسے کوئی چیز ہبہ کرکے اُس پر کشادگی کرے یا اس پر صدقہ کرکے کشادگی کرے یا قرض دار ہونے کی صورت میں اُس کو مزید مہلت دے کر اس پر کشادگی کرے۔ اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی قلبی یا بدنی یامالی طور پر مدد کرے۔ جب بندہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد کرنے کا ارادہ کرلے تو اسے چاہیے اب وہ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے ، حق بات کا اقرار کرنے اور اس مدد کو ہمیشہ قائم رکھنے میں کسی بزدلی کا مظاہرہ نہ کرے۔ ‘‘مزید فرماتے ہیں : “ ایک بار حضرت سیدناحسنرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے حضرت سیدنا ثابت بنانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کسی حاجت کے لیے ساتھ چلنے کا کہاتو انہوں نے کہا : میں تو معتکف ہوں۔ اس پر حضرت سیدنا حسنرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : ’’کیاتم نہیں جانتے کہ تمہارا کسی مسلمان کی حاجت روائی کے لیے چلنا تمہارے لیے بار بارحج کرنے سے بھی افضل ہے۔ ‘‘ حصولِ علم کے لیے کسی راستے پر چلنے میں تمام مَعنوی اُمور یعنی علم کو حفظ کرنا ، علمی مذاکرے کرنا ، علم کے لیے مطالعہ کرنا ، اس کو سمجھنا اور ہر وہ کام جو علم کے حُصول کا ذریعہ ہو وہ سب اس میں شامل ہے۔ ‘‘( )مختلف علوم، قواعد اور آداب کا مجموعہ:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ بہت عظیم حدیث پاک
ہے ، مختلف علوم ، قواعد اور آداب کا مجموعہ ہے۔٭∞ اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کی حاجت روائی اور اُن کو اپنے علم ، مال ، مدد ، مصلحت یا نصیحت وغیرہ کے ذریعے نفع پہنچانے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔٭∞ نیز اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کی ستر پوشی ، تنگدستوں پر کشادگی اور علم حاصل کرنے کی طلب میں کسی راستے پر چلنے کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔ یہاں علمِ شرعی کے حُصول میں مَشغولیت اِس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ اس سے فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا مقصود ہو ، اگرچہ یہ شرط ہرعبادت کے لیے ہے لیکن علم کے ساتھ خاص طور پر اسے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ اس میں سُستی کرتے ہیں اور بعض ابتدائی طور پر علم حاصل کرنے والے اس مقصد سے غافل ہوتے ہیں۔٭∞ اس حدیث پاک میں مسجد میں اجتماعی طور پر تلاوتِ قرآن کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہےاور یہ جو فرمایا گیا کہ جس کا عمل اسے پیچھے رکھے اس کا نسب اسے آگے نہیں پہنچا سکتا اس سے مراد یہ ہے کہ جس کے اَعمال ناقص ہوں تو وہ نیک اعمال کرنے والوں کے مَراتب تک نہیں پہنچ سکتا ، لہذا ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ فقط اپنے نسب اور آباء کی فضیلت پر بھروسہ نہ کرے اور نہ ہی عمل میں کوئی کوتاہی کرے۔ ‘‘( )سکینہ سے کیا مراد ہے؟اللہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر میں جمع ہوکر تلاوتِ قرآن مجید اور درس وتدریس کرنے والوں پر جو سکینہ نازل ہوتا ہے اس سے مراد وہ حالت اور کیفیت ہے جس سے دل مطمئن ہوجائے۔ اس سکینہ کا ذکر قرآنِ پاک میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا ہے ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ(پ۲۶ ، الفتح : ۴)
ترجمۂ کنزالایمان : وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا۔
تو جسے اِس بات کا علم اور یقین ہو کہ ساری کائنات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت محیط ہے تو اس کا دل پُرسکون ہوتا ہے اور اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ملنے والے اَجر کی قوی امید ہونے کی وجہ سے اطمینان
حاصل ہوتا ہے ۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ سکینہ سے مراد ایک فرشتہ ہے جو مؤمن کے دل پر نازل ہوتا ہےا ور اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سکینہ سے مراد رحمت ، وقار ، سکون اور خشیت ہے۔ ( )تلاوت کے لیے مسجد میں جمع ہونا جائزہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مساجد میں تلاوت قرآن کریم ، اجتماع ذکر ونعت ، تعلیم وتعلم یعنی ہر وہ اجتماع جس میں علم دِین سیکھنے سکھانے کا سلسلہ ہو یہ تمام یا اس جیسے دیگر اجتماعات کا مسجد میں قائم کرنا بالکل جائز ہے۔ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں : ’’لوگوں کا تلاوتِ قرانِ مجید کی خاطِر مساجد میں جمع ہونامباح یعنی بالکل جائِز ہےاوربسا اَوقات یہ اجتماعِ تعلیم و تعلم یعنی علمِ دِین سیکھنے سکھانے کے لیے بھی ہوتاہے۔ ‘‘( )آئیے اپنا محاسبہ کریں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک تو ببانگ دہل ہمیں یہ پیارے مدنی پھول ارشاد فرمارہی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی تکلیف کو دورکرو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری تکالیف کو دور فرمائےگا ، اپنے بھائی پر کشادگی کرو اللہ عَزَّ وَجَلَّ دونوں جہاں میں تمہیں کشادگی عطا فرمائےگا ، جب تک تم اپنے بھائی کی مدد کرتے رہو گےاللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری مدد فرماتا رہے گا۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنا محاسبہ کیا؟ کبھی اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے بارے میں سوچا کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف تو لاحق نہیں ہے؟ کہیں وہ تنگدستی کی حالت میں تو نہیں ہیں؟ کہیں انہیں ہماری مدد کی ضرورت تو نہیں ہے؟ اگر ہم ایسی مدنی سوچ رکھتے ہیں تو صد کروڑ مرحبا اور اگر نہیں تو لمحہ فکریہ ہے ، کاش !ہم بھی اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے دُکھ درد میں شریک ہونے والے بن جائیں ، اُن کی مدد کرنے والے بن جائیں ، اُن کی تکالیف کو دُور کرنے والے بن جائیں ، کاش! مسلمان بھائیوں کی حاجت روائی کو ہم اپنا شعار بنالیں۔
حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی اِحیاء العلوم میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ
ایک شخص نے اپنے دوست کے دروازے پر دستک دی۔ اس نے دروازہ کھولا اور پوچھا : ’’ کیسے آناہوا؟‘‘اس نے کہا : ’’مجھ پر چارسو درہم قرض ہیں ، میری مدد کرو۔ ‘‘اس نے چارسو درہم اپنے اس مقروض دوست کے حوالے کردیے اور پھر روتا ہوا جب گھروالوں کے پاس واپس آیا ، تو اس کی زوجہ نے کہا : ’’اگر آپ کو اپنے وہ دراہم دوست کو دینا اتنا ہی ناگوار تھا تو آپ انہیں نہ دیتے۔ ‘‘اس نے کہا : ’’اے نیک بخت! میں اِس لیے نہیں رو رہا ہوں کہ میں نے اپنے چار سودرہم اپنے دوست کو دے دیے بلکہ میں تو اس لیے رورہا ہوں کہ میں اپنے دوست کے حال سے اتنا بے خبر ہوں کہ وہ مَقروض ہوگیا اور مجبور ہو کر میرے دروازے پر چلا آیا۔ ‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!پہلے کے لوگوں میں کس قدر دوسروں کی تکلیف کا اِحساس اور اُن کی حاجت روائی کا جذبہ ہواکرتاتھا۔ افسوس!اِس دور میں دوست تو دُور کی بات خونی رشتوں یعنی بہن بھائیوں کے حالات سے عدم واقفیت عام ہوچکی ہے ، اِس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کی جاتی کہ بہن بھائی ، والدین عزیزواَقارب ، دوست اَحباب کیسے حالات میں جی رہے ہیں؟ بس یہی خواہش ہے کہ مجھے آسائشوں بھری زندگی نصیب ہوجائے ، میں پُرسکون زندگی گزاروں ، مجھے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو ، میرے بچے بھوکے نہ سوئیں۔ کاش! ہم اِس پیاری حدیث پاک پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کی حاجت روائی کرنے والے بن جائیں ، اُن کی تکالیف کو دور کرنے والے بن جائیں ، اُن کی مدد کرنے والے بن جائیں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اِس حدیث پاک پر عمل کی برکت سے دنیاوآخرت کی بھلائیاں نصیب ہوں گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطافرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ
” گنبدخضرا“کے آٹھ حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول(1)جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی دُنیوی تکلیف کو دور کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی اُخروی تکالیف میں
سے ایک تکلیف کو دور فرمائے گا۔
(2)جو اپنے کسی مسلمان بھائی پر اُس کی تنگدستی کی حالت میں کشادگی کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں جہاں میں اُس پر کشادگی فرمائے گا۔
(3)جو دنیا میں اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت میں اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
(4)جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی مدد فرمائے گا۔
(5)حقیقی مددگار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے اور اُس کی عطا سے اُس کے بندے بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اور اُس کے بندوں میں کسی کو حاجت روا یا مشکل کشا کہنا بالکل جائز ہے۔
(6)علم کے حصول کے لیے کسی راستے پر چلنے والے کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیا جاتا ہے۔
(7)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر میں تلاوتِ قرآنِ مجید، اجتماعِ ذِکرونعت اور تعلیم وتعلم کی مجالس منعقد کرنا بالکل جائز امر اور بڑے ثواب کا باعث ہےاور یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے گھروں کو آباد کرنا ہے۔
(8)ہمیں چاہیے کہ اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کی خبرگیری بھی کرتے رہا کریں، اور اگر انہیں کسی چیز کی حاجت ہو تو اُن کی حاجت رَوائی اور مدد بھی کریں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی حاجت روائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی تکالیف کو دُور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی مدد کرنے کی طاقت وقوت عطا فرمائے ، علم دِین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، تلاوتِ قرآنِ مجید ، اجتماعِ ذکرونعت ، اور علمِ دِین حاصل کرنے کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے گھرمیں مجالس ومحافل منعقد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 245