Main Icon

باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1097

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ اُمِّ حَبِيْبَةَ رَمْلَةَ بِنْتِ اَبِيْ سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ :سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:يَقُوْلُ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِـمٍ يُصَلِّي لِلهِ تَعَالٰی كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشَرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعاً غَيرَ الْفَرِيضَةِ اِلَّا بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ اَوْ اِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ.

عن ام المؤمنين ام حبيبة رملة بنت ابي سفيان رضي الله عنهما قالت :سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم:يقول: ما من عبد مسلـم يصلي لله تعالی كل يوم ثنتي عشرة ركعة تطوعا غير الفريضة الا بنى الله له بيتا في الجنة او الا بني له بيت في الجنة.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا رَملہ بنتِ ابوسفیانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَماسے مروی ہےکہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:”جو مسلمان رضائے الٰہی کے لئےروزانہ فرائض کے علاوہ بارہ رکعتیں بطورسنت ادا کرے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا یا (فرمایا)اُس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائےگا۔“

شرح حدیث

جنتی محل:(سنت کی ادائیگی کرنے والوں کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔)مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” یعنی جنت کا اعلیٰ درجے کا محل اس کے لئے نامزد کیا جائے گا کیونکہ وہاں مکانات تو پہلے ہی موجود ہیں یا اِن سُنن کی برکت سے اس کے لئے نیا خصوصی گھر استعمال(تیار) ہوگا کیونکہ جنت کا بعض(حصہ)سفیدہ(خالی)بھی ہے جہاں اَعمال کے مطابق محل تعمیر ہوتے ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1097