Main Icon

باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1023

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم: وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ يَتْلُوْنَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُوْنَهُ بَيْنَهُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اﷲ فِيمَنْ عِنْدَهُ.

عن ابی ہریرۃ رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما اجتمع قوم في بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم الا نزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة وذكرهم اﷲ فيمن عنده.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب بھی کوئی قوماﷲعَزَّوَجَلَّکے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر قرآن کی تلاوت کرتی ہے اور ایک دوسرے کوقرآن کا درس دیتی ہے تو اُن پرسکینہ نازل ہوتا ہے اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّاُسے اُس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اُس کے پاس ہے۔“

شرح حدیث

اﷲکے گھرسے مراد:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:یہاں ﷲکے گھر سے مراد مسجدیں،دینی مدرسے اورصوفیا کی خانقاہیں ہیں جوﷲ کے ذِکر کے لئے وقف ہیں۔یہودونصاریٰ کے عبادت خانے اس سے خارج ہیں کہ وہاں تو مسلمان کو بلاضرورت جانا ہی منع ہے۔تلاوت سے مراد صرف زبان سے قرآن پڑھنا نہیں بلکہ بندۂ مومن کے لیے ضروری ہے کہ تلاوت کرتے وقت وہ یہ تصور کرے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاِس وقت اُسے دیکھ رہا ہے بلکہ وہ اپنے دل میں یہ تصوُّر جمائے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاُس سے مخاطب ہے بلکہ وہ متکلم کے مشاہدے میں ایسے گُم ہوجائے کہ اُسے کسی کا خیال نہ رہے۔تنہا ذِکر سے جماعت کا ذِکر افضل ہے:مرآۃ المناجیح میں ہے:درسِ قرآن سے مراد قرآن شریف کی تلاوت،تجویدو اَحکام سیکھنا ہیں لہٰذا اِس میں صَرف،نحو،فقہ،حدیث،تفسیر وغیرہ کے درس شامل ہیں جیساکہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔اسی لیے تلاوت کے بعد درس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔(حدیثِ پاک میں بیان ہوا:ان پر سکینہ نازل ہوتاہے)سکینہاﷲکی ایک مخلوق ہے جس کے اُترنے سے دِلوں کوچین نصیب ہوتا ہے،کبھی ابرکی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور دیکھی بھی جاتی ہے۔اس کی برکت سے دل سےغیرِ خدا کا خوف جاتارہتا ہے۔(رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے)رحمت سے خالص رحمت مراد ہے جو بوقت ذِکر ذاکر کو ہرطرف سےگھیرتی ہے۔(فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں) فرشتوں سے سیّاحین فرشتے مراد ہیں جو ذِکر کی مجلسیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ورنہ اعمال لکھنے والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ جہاں مجمع کے ساتھذِکر اﷲہورہا ہو وہاں یہ تین رحمتیں اترتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ تنہا ذِکر سے جماعت کا مِل کر ذِکر کرنا افضل ہے،جماعت کی نماز کا درجہ زیادہ کہ اگر ایک کی قبول سب کی قبول۔(اﷲ عَزَّ وَجَلَّاُسے اُس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اُس کے پاس ہے) یعنی فرشتوں کی جماعت۔اس کی شرح و ہ حدیث ہے کہ فرمایا نبیصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے جو رب کو اکیلے یاد کرے رب بھی اسے ایسے ہی یاد کرتا ہے،جو جماعت میں یاد کرے رب اسے فرشتوں میں یاد کرتا ہے۔قرآنِ کریم فرماتا ہے:﴿ فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ﴾(پ۲،البقرۃ:۱۵۲)(ترجمۂکنزالایمان:تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا۔)اس رب کی یاد کا اثر یہ پڑتا ہے کہ مخلوق اس بندے کو یاد کرنے لگتی ہے۔ بزرگوں کے مزارات پر زائرین کا ہجوم وہاںذِکْرُ اﷲکی دھوم اسی یاد کا نتیجہ ہے۔مجمع میں قرآن پڑھنے کے بعض اَحکام:بہار شریعت میں ہے:جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے، جب کہ وہ مجمع بغرض سُننے کے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے اگرچہ اور اپنے کام میں ہوں۔مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں۔بازاروں میں اور جہاں لوگ کام میں مشغول ہوں بلند آواز سے پڑھنا ناجائز ہے۔قرآن مجید سُننا، تلاوت کرنے اور نفل پڑھنے سے افضل ہے۔مدنی گلدستہ’’ذکر خدا‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) مسجد میں جمع ہوکر قرآن کی تلاوت کرنے والوں پرسکینہ نازل ہوتا ہے،رحمتِ الٰہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے،فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں۔
(2) مسلمان کو یہود ونصاریٰ کے عبادت خانوں میں بلاضرورت جانا منع ہے۔
(3) تلاوت کرنے والا اپنے دل میں یہ تصور جمائے کہ
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاُس سے مخاطب ہے۔
(4) تنہا ذِکر سے جماعت میں
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرنا افضل ہے۔
(5) جب بندہ تنہا
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر کرتا ہے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّبھی اسی طرح اس کا ذکر کرتا ہے اور جب بندہ جماعت میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر کرتا ہے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّفرشتوں کی جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہے۔(6) ∞تیجہ،چالیسواں وغیرہ کے موقعہ پر ملکر بلندآواز سے قرآن پڑھنا منع ہے، آہستہ پڑھیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تنہا اور جماعت کے ساتھ خوب قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1023