Main Icon

خوفِ خدا سے رونا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 446

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ لِيَ النَّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اِقْرَاْ علَيَّ الْقُرْآنَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ اَقْراُ عَلَيْكَ؟ وَعَلَيْكَ اُنْزِلَ قَالَ : اِنِّي اُحِبُّ اَنْ اَسْمَعَهُ مِنْ غَيرِيْ فَقَرَاْتُ عَلَيْهِ سُوْرَةَ النِّسَاءِ حَتّٰى جِئْتُ اِلٰی هٰذِهِ الآيَةِ : ( فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)) قَالَ : حَسْبُكَ الآنَ فَالَتَفَتُّ اِلَيْهِ فاِذًا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ. ( )

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، قال : قال لي النبي صلی اللہ علیہ وسلم : اقرا علي القرآن قلت : يا رسول الله اقرا عليك؟ وعليك انزل قال : اني احب ان اسمعه من غيري فقرات عليه سورة النساء حتى جئت الی هذه الآية : ( فكیف اذا جئنا من كل امة بشهید و جئنا بك على هؤلآء شهیداﳳ(۴۱)) قال : حسبك الآن فالتفت اليه فاذا عيناه تذرفان. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابنِ مَسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا : ’’میرے سامنے قرآن پڑھو ۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ کے سامنے قرآن پڑھوں ، حالانکہ قرآنِ پاک تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ہی نازل کیا گیا ہے ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’میں اپنے علاوہ کسی اورسے سننا چاہتا ہوں ۔ ‘‘ سَیِّدُنَاابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’میں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی جب میں اس آیت مبارکہ پر پہنچا : (فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)) (پ۵ ،النساء: ۴۱ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں ۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بس کافی ہے ۔ ‘‘ اور جب میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف متوجہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔

شرح حدیث

رسولُ اللہکا تلاوت سننے کی خواہش کرنا :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’حضرت سَیِّدُنَا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسمجھ گئے تھے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کی قراءت سے لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں نہ کہ آپ ان کے ضبط کا امتحان لینا چاہتے ہیں ، اسی لیے سَیِّدُنَا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰیعَنْہُنےمُتَعَجِّبہو کر سوال کیا ، ورنہ یہ کوئی تعجب کا مقام نہ تھا ۔ پیارے آقا ، مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’میں اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں ۔ ‘‘ کہ یہ سمجھنے اور غور و فکر کرنے میں بلیغ طریقہ ہے کیونکہ سننے کی حالت میں دل معانی کا ادراک کرنے کے لئے خالی ہوتا ہے جبکہ تلاوت کرنے والا ضبط ِالفاظ اور اس کی کما حقہ ادائیگی میں مشغول ہوتا ہے اور چونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عادت ِ مبارکہ سیدنا جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامسے سننے کی تھی اور عادت انسان کو طبعی طور پر محبوب ہوتی ہے ، اسی لئے دوسرے کو قرآن سنانا سنت ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
رسولُ اللہکی اشک باری کی وجوہات :” دلیل الفالحین“ میں ہے : ابن نحویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا قول ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس آیت کو سن کر اس وجہ سے اشک بار ہوئے کہ آپ کے لئے ( بروز قیامت امتوں کے حق میں ) گواہی دینا ضروری ہے اورمَشْھُوْدعَلَیْہ(یعنی جس پر گواہی دی جائے ) پر حکمشَاھِدْ( یعنی گواہی دینے والے ) کے قول کے مطابق لگتا ہے ( یعنی بروز قیامت امتوں کے بارے میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی گواہی کے مطابق ہوگا ) ۔ پس آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگواہی دینے میں اپنی اور جن کے بارے میں گواہی دی جائے گی ان کی حالت کا اندازہ کر کے اشک بار ہوئے ۔ ایک قول یہ ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآیت میں موجود ( قیامت کے ) ہولناک مناظر اور معاملے کی سختی کی وجہ سے اشک بار ہوئے کہ جس دن انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنی اپنی امتوں کی تصدیق و تکذیب پر گواہی کے لئے بلایا جائے گا ۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن اپنی اُمَّت کی شہادت کی قبولیت کی وجہ سے اشک بار ہوئے ۔ ( )
¥
حدیث پاک سے ماخوذقراءت کے چند مسائل :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ فضیلت والا مفضول علیہ یعنی جس پر اسے فضیلت ہے ، اس سے کوئی چیز لینے میں ناپسندیدگی نہ

دکھائے ۔ ‘‘ آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا کہ’’بس کافی ہے ۔ ‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مصلحت کی وجہ سے قراءت کو منقطع کرنا درست ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں اس با ت کا جوازہے کہ جب قراءت سننے والے کو کوئی عذر لَاحَقْ ہو یا وہ کسی کام میں مشغول ہو جائے تو قاری کو قرات سے روک دے کیونکہ قراءت سننے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کے معانی میں غور و فکر کرے اور اس کے عجائبات کو سمجھے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قاری کو اس وجہ سے روکا تا کہ آیت میں آنے والی نصیحت پر تنبیہ ہوکہ اس آیت کی تلاوت کے وقت آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ مبارک سے آنسو جاری ہو گئے تھے ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رونے میں آیت میں موجود نصیحت کی طرف اشارہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
سب سے زیادہ رحمت و شفقت کرنے والے :شیخ عبد الحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ پروردگارِعالم فرماتا ہے : ان کا فروں کا کیا حال ہوگا جبکہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے ۔ یعنی ہر امت کا پیغمبر اپنی امت کے خلاف فسادِعقائد اور بُرے اعمال کے بارے میں گواہی دے گا اور اے محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! تمہیں ہم ان تمام پیغمبروں پر گواہ لائیں گے ۔ آپ گواہی دیں گے کہ یہ سب پیغمبر اپنی امتوں کے خلاف گواہی دینے میں سچے ہیں یا اے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ اپنی اُمَّت پر گواہی دیں گے جب کہ آپ کی امت دوسری امتوں کے بارے میں گواہی دے گی ۔ اس آیت سے مقصود قیامت کا دن یاد دلانا ہے کہ عجب سخت دن ہو گا جبکہ امتوں کو پکڑا جائے گا اور پیغمبر ان کے خلاف گواہی دیں گے ۔ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکارونا اور گریہ کرنا قیامت کے ڈر کے تصور اور لوگوں کے حالات کی سختی کی وجہ سے تھا کیونکہ پیغمبرعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَاماللہ عَزَّ وَجَلَّکی ساری مخلوق پر سب سے زیادہ رحمت اور شفقت فرمانے والے ہیں ۔ ‘‘ ( )

¥
قرآن پڑھ کر یا سن کر رونا سنت ہے :’’سَیِّدُنَا ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف دیکھا تو آپ کی چشمان مبارکہ سے آنسو جاری تھے ۔ ‘‘ اس کے تحت ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ” یعنی حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی یا تو ہیبت الٰہی سے قیامت کے اس مقدمہ کے تصور سے یا اپنی امت پر رحمت کی وجہ سے ۔ مرقات نے فرمایا کہ اس آیت پر بعض لوگ بے ہوش ہوگئے اور بعض حضرات مر بھی گئے ۔ معلوم ہوا کہ قرآن شریف پڑھ کر یا سن کر رونا سنت ہے بشرطیکہ بناوٹ سے نہ ہو ۔ بیہقی شریف میں ہے کہ قرآن کریم غم و رنج لیے ہوئے آیا ہے ، اس لیے تم اس کی تلاوت پر روؤ ۔ ‘‘ ( )
¥
سیدنا یحیٰیعَلَیْہِ السَّلَامکی گریہ وزاری :حضرت سَیِّدُنا یحییعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ( خوفِ خدا سے ) اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے حتّٰی کہ آپ کے والدِ محترم حضرت سَیِّدُنا زکریاعَلَیْہِ السَّلَامبھی آپ کو دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے ۔ حضرت سَیِّدُنَا یحییٰعَلَیْہِ السَّلَامکی گریہ وزاری کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک آنسوؤں نے آپ کے مبارک رخسار وں کے گوشت کو پھاڑ دیا جس کے سبب دیکھنے والوں کو آپ کی داڑھیں نظر آتی تھیں ۔ یہ دیکھ کر آپ کی والدہ ماجدہ نے اونی کپڑے کے دو ٹکڑے لے کر آپ کے رخساروں پر چپکا دیئے ۔ اس کے باوجود جب آپ دوبارہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پھر رونا شروع کر دیتے ، جس کے نتیجے میں وہ اونی کپڑے کے ٹکڑے بھیگ جاتے ۔ جب آپ کی والدہ انہیں خشک کرنے کے لئے نچوڑتیں اور آپ اپنے آنسوؤں کے پانی کو اپنی ماں کے بازو پر گرتا ہوا دیکھتے تو بارگاہِ الٰہیعَزَّ وَجَلَّمیں یوں عرض گزار ہوتے : ’’اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! یہ میرے آنسو ہیں ، یہ میری ماں ہے اور میں تیرا بندہ ہوں جبکہ تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ۔ ‘‘ ( )
مرے اَشک بہتے رہیں کاش ہر دم ……… ترے خوف سے یا خدا یاالٰہی

ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ ……… میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الٰہی
مدنی گلدستہ
’’خوفِ خدا ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
تلاوتِ قرآن سن کر خوفِ خدا سے رونا سنت ہے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی تلاوتِ قرآن سن کر خوفِ خدا سے رویا کرتے تھے ۔
(2) حضور نبی پاک
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت شفیق ومہربان ہیں ، اسی وجہ سے روزِ قیامت مختلف لوگوں کی سختی کو یاد کرکے آپ کی چشمان مبارکہ سے آنسو جاری ہوگئے ۔
(3) حدیث پا ک میں دوسرے سے قرآن پاک سننے کا استحباب ہے کہ دوسرے سے سننایہ آیت میں غور و فکر کرنے اور اس کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتا ہے جبکہ خود قراءت کرنے والا الفاظ کی کما حقہ ادائیگی میں مشغولیت کی وجہ سے اس طرح کا غور و فکر نہیں کر سکتا ۔
(4) جب قراءت سننے والے کو کوئی عذرپیش آئے یا وہ کسی دوسرے کام میں مشغول ہو نا چاہے تو قاری کو قراءت سے روک سکتا ہے ۔
(5) قرآنِ پاک کی مختلف آیات میں وعظ ونصیحت کا بیان ہے لہٰذا اس کی تلاوت کرتے ہوئے حتی المقدور ترجمہ وتفسیر کے ذریعے اس سے وعظ ونصیحت کے مدنی پھول حاصل کیے جائیں ۔
(6) افضل یعنی فضیلت والا مفضول یعنی جس پر اسے فضیلت ہے اس سے تلاوتِ قرآن یا کوئی دوسری وعظ ونصیحت کی بات حاصل کرسکتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے ، اسے سننے اور اس میں موجود وعظ و نصیت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 446