Main Icon

خوفِ خدا سے رونا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 454

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ : اَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْه اُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِماً فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوْجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيْهِ اِلاَّ بُرْدَةٌ اِنْ غُطِّيَ بِهَا رَاْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَ اِنْ غُطِّيَ بِهَا رِجْلَاهُ بَدَا رَاْسُهُ ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ اَوْ قَالَ : اُعْطِيْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا اُعْطِيْنَا قَدْ خَشِيْنَا اَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَاثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ. ( )

عن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف : ان عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه اتي بطعام وكان صائما فقال : قتل مصعب بن عمير رضي الله عنه وهو خير مني فلم يوجد له ما يكفن فيه الا بردة ان غطي بها راسه بدت رجلاه و ان غطي بها رجلاه بدا راسه ثم بسط لنا من الدنيا ما بسط او قال : اعطينا من الدنيا ما اعطينا قد خشينا ان تكون حسناتنا عجلت لناثم جعل يبكي حتى ترك الطعام. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم بن عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزہ دار تھے ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’حضرت مُصعَب بن عُمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو شہید کر دیا گیا اور وہ مجھ سے بہتر تھے ، ان کو کفن دینے کے لئے ایک ہی ایسی چادر میسر تھی کہ اگر ان کا سر ڈھکا جاتا تو پاؤ ں کھل جاتے اوراگر پاؤں ڈھکے جاتے تو سر کھل جاتا ، پھر ہم پر دنیا بہت وسیع کردی گئی ۔ ‘‘ یا یہ فرمایا کہ ’’ہمیں دنیا بہت عطا کی گئی ۔ ہمیں خوف ہے کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ جلد دے دیا گیا ہو ، پھر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے یہاں تک کہ کھانا بھی چھوڑ دیا ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب کے ساتھ مناسبت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبدالرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے گزرے ہوئے ایام کا ذکر فرمایا ، پھرسیدنا مُصْعَب بن عُمَیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی شہادت اور اُن کے کفن کا ذکر فرمایا ، پھر اپنے اوپر دُنیوی کشادگی کا ذکر فرمایا ، نیز آخر میں آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر رقت طاری ہوگئی اور آپ خوفِ خدا کے سبب رونے لگے ۔ یہ باب بھی چونکہ خوف خدا میں رونے کی فضیلت کے بیان میں ہے

اس لیے علامہ نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥
سیدنا مُصْعَب بن عُمیر کا مختصر تعارف :شیخ عبد الحق محد ث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنامُصَعَب بن عُمَیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجلیل القدر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سے تھے ، آپ کا شمار ان صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ جنگ بدر میں شریک ہوئے اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا جھنڈا لیے ہوئے تھے ، جنگ اُحد میں جام شہادت نوش کیا ، مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ سب سے پہلے پہنچنے والے مہاجر آپ ہی ہیں ، بیعت عُقبہ اُولیٰ کی راترسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دیگر مسلمانوں کے ساتھ بھیج دیا تاکہ آپ مدینہ منورہ میں انہیں قرآن پاک کی تعلیم دیں ، امامت کروائیں اور دیگر اَحکامِ شرعیہ سکھائیں ۔ زمانہ جاہلیت میں نہایت مالداری اور ناز و نعمت میں رہتے تھے ، اِس دَور میں آپ کا لباس و کھانا بہت عمدہ اور نفیس ہوتا تھا ، مسلمان ہونے پر زُہد و فقر اختیار کر لیا ۔ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ ’’میں نے مصعب بن عمیر سے زیادہ بہترین رفیق سفراوران سے زیادہ خوشحال کسی کو نہ دیکھا ۔ ‘‘ مروی ہے کہ ایک دفعہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ، اس وقت آپ نے بکری کا چمڑا کمر میں باندھا ہواتھا ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ارشادفرمایا : ’’اس مردِ خدا کی طرف دیکھو جس کے دل کو خدا تعالیٰ نے نورِ ایمان سے روشن کر دیا ہے ۔ میں نے اسے مکہ میں دیکھا تھا کہ اس کے والدین اسے بہترین کھانا کھلا تے تھے اور اس کا لباس نہایت عمدہ ہوتا تھا ، خدا اور رسول کی محبت میں اس کا یہ حال ہو گیا ۔ ‘‘ ( )
¥
سیدناعبد الرحمٰن بن عَوف کا مختصر تعارف :حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا نام اسلام لانے سے قبل عبد الکعبہ یا عبد عمرو تھا لیکنرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے تبدیل فرمادیا ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُعشرہ مبشرہ صحابہ

میں سے ہیں یعنی وہ دس صحابہ جنہیں خود
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک ساتھ دنیا میں ہی جنت کی بشارت عطا فرمادی تھی ۔ ابتدائے اسلام میں ایمان لے آئے ، آپ کی والدہ ماجدہ نہایت خوش بخت خاتون تھیں ، حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جب دنیا میں تشریف آوری ہوئی تو سب سے پہلے جن ہاتھوں نے آپ کو چھونے کا شرف حاصل کیا وہ سَیِّدُنَا عبدالرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی والدہ کے ہاتھ تھے ، بارگاہ رسالت سے آپ کوسَیِّدٌمِنْ سَادَاتِ الْمُسْلِمِیْنکا لقب عطا ہوا ، اہل بیت وازواجِ مطہرات سے بہت محبت فرمانے والے اور ان کی خیر خواہی کی سعادت پانے والے تھے ، نہایت ہی مالدار صحابی تھے ، حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود آپ کے مال میں برکت کی دعا فرمائی ، اغنیاء یعنی مالدارو ں میں سب سے پہلے آپ ہی جنت میں داخل ہوں گے ، مالدار ہونے کے باوجود نہایت ہی سخی تھے ، راہِ خدا میں کثیر مال خرچ کیا کرتے تھے ، بارگاہِ رسالت سے آپ کو کئی اِعزازات حاصل ہوئے ،رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کا عمامہ شریف باندھا اور باندھنا سکھایا ، حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عزوہ تبوک میں ان کے پیچھے نماز ادا فرمائی جبکہ یہ لوگوں کو ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۔رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں دنیا وآخرت میں اپنا دوست ارشاد فرمایا ، عہد رِسالت کے مفتی تھے ، بڑے بڑے اکابر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ سے علمی مشاورت کیا کرتے تھے ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا وصال پرملال ۳۱ یا ۳۲ سن ہجری میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دور خلافت میں ہوا ، انتقال کے وقت آپ کی عمر ۷۲ یا ۷۵ سال تھی ، آپ کی نمازِ جنازہ سَیِّدُنَا عثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پڑھائی ۔ آپ کا مزار مبارک جنت البقیع میں ہے ۔ ( )
¥
دنیا کی نعمتیں میرے نیک اعمال کا بدلہ تو نہیں :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروزے سے تھے ، افطاری کے وقت آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو کھانا پیش کیا گیا ۔ “آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروزے سے تھے یہ اس لئے بتایا گیا تا کہ آ پ کے کمال کو بیان کیا جائے کہ کھانا سامنے موجود ہونے کے باوجودمحض اس لئے چھوڑ دیا کہ کہیں میرے درجات میں کمی نہ ہو جائے ۔ سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُتَعَالٰی عَنْہُکا یہ فرمانا کہ حضرت مصعب بن عمیر مجھ سے بہتر تھے ۔ یہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاکمالِ تواضع ہے ورنہ تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سے سب سے افضل عشرہ مبشرہ ہیں اور سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ان ہی میں سے ایک ہیں ۔ سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ” ہمیں خوف ہے کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ جلد دے دیا گیا ہو ۔ “دراصل سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو خطرہ ہو ا کہ کہیں دنیا میں ملنے والی وسعت و خوشحالی ان کے نیک اعمال کا بدلہ نہ ہو جو کہ انہیں دنیا میں ہی دے دیا گیا حالانکہ ان کو ملنے والی یہ وسعت ، اعمالِ صالحہ اور آخرت کی تجارت کا ذریعہ تھی جیسا کہ آپ کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ آپاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں مال خرچ کرتے اور لوگو ں پر صدقہ کیا کرتے تھے اس خوف سے کہ کہیں یہ مال مجھے میرے رب سے دور نہ کردے ۔ ” پھرآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے یہاں تک کہ کھانا بھی چھوڑ دیا ۔ ‘‘ اس خوف سے ان پر رونے کی کیفیت طاری ہو گئی کہ کہیں قیامت میں میرے ہاتھ نیک اعمال سے خالی نہ ہوں ، اور ( خوفِ خدا میں ) رونے کی وجہ سے کھانا بھی چھوڑ دیا ۔ ( )
¥
حددرجے کا خوفِ خدا :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہ خوفِ صحابہ کی حد ہے کیونکہ ان بزرگوں کا سارا مال حلال و طیب تھا جو غنیمتوں اورتجارتوں سے حاصل ہوا ، پھر ان مالوں سے ان بزرگوں نے بڑی دِینی خدمات کیں اس کے باوجود اتنا خوف خدا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
جنتی ہونے کے باوجود بھی خوف خدا :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث پا ک سے معلوم ہو ا کہ عالِم کو صالحین کی سیرت پر عمل کرنا چاہیے اور دنیا سے بہت کم حصہ لینا چاہیے تا کہ دنیا میں رغبت کم ہو اور صالحین کا طریقہ نہ ملنے پر رونا چاہیے ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروئے اور انہوں نے کھانا نہیں کھایا ۔ اور انسان کو چاہیے کہ اس کے پاس جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتیں ہیں ان کو

یاد کر ے اور ان نعمتوں کے شکر کی ادائیگی میں کمی کا اعتراف کرے اور اس بات سے خوف زدہ رہے کہ وہ آخرت کی نعمتوں سے محروم ہو جائے گا اور اس نے جو نیک اعمال کیے ہیں ان کا صلہ صرف یہی دنیا کی نعمتیں ہو جائیں گی ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوف
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لئے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنت کی ضمانت دی اور وہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں تو پھر ان کو آخرت کا اس قدر خوف کیوں تھا ؟اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْقیامت کے دن کے طویل حساب سے ڈرتے تھے اور بلند درجات کی تمنا کرتے تھے ، اگرچہ ان کو جنت کی بشارت مل چکی تھی لیکن ان کو یہ ڈ ر تھا کہ کہیں وہ بلند درجات سے محروم نہ ہو جائیں اور ان سے زیادہ دیر تک حساب نہ لیا جائے ۔ ‘‘ ( )سیدنا عبد الرحمن بن عوف کا خوفِ خدا :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 132صفحات پر مشتمل کتاب ’’حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف ‘‘ صفحہ 75 پر ہے : ” حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مال کی صورت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق کو خوف سیراب کیا مگر خود کبھی بھی دولت کے نشے میں آکر غافل نہ ہوئے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوبے شمار مال ودولت سے نوازا مگر یہ دنیاوی مال ودولت اور عیش وعشرت کبھی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قلب اظہر پر اثر انداز نہ ہوسکی ، جس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک روز آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سامنے کھانا رکھا گیا ، آپ اس دن روزے سے تھے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی لذیذ نعمتیں دیکھیں تو کچھ یوں ارشاد فرمایا : ’’حضرت مصعب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُشہید کردیے گئے ، حالانکہ وہ مجھ سے بہتر اور لائق احترام تھے ، جب ان کا انتقال پرملال ہوا تو کفن کے لیے میسر کپڑا اتنا تھا کہ اگر سر کو چھپاتے تو پیر کھل جاتے اور پیروں کو چھپاتے تو سرکھل جاتا اور سید الشہداء حضرت امیر حمزہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی تدفین وتکفین میں بھی ایک ناقابل فراموش درس آخرت ہے کہ جب آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُشہید کیے گئے تو سوائے ایک چادر کے کفن کے لیے کچھ بھی میسر نہ تھا اور ایک ہم ہیں کہ ہم پر دنیاکشادہ کردی گئی ہے ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری

نیکیوں کا صلہ ہمیں دنیا میں ہی جلدی مل رہا ہو ۔ ‘‘ پھر آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیل رواں جاری ہوگیا یہاں تک کہ سامنے موجود کھانے کی طرف توجہ ہی نہ رہی ۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوف
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا اس قدر مال ودولت رکھنے کے باوجود دنیا سے بے رغبتی کا عالم یہ تھا کہ کبھی اپنا ماضی نہ بھولے بلکہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب بھی اسلام کے اَوَّلین دور کو یاد کرتے ان کی سنہری یادیں تازہ ہوجاتیں ، غربت وافلاس کے اولین دور میں دنیا سے رخصت ہونے والے اپنے مسلمان بھائی یاد آتے تو موجودہ مال ودولت کی فراوانی یکسر بھول جاتے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ ناپائیدار دنیا یہیں رہ جائے گی ، اصل کامیابی وکامرانی تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں سرخرو ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں راحت پانا ہے ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس فانی اور عارضی دنیا میں دل لگانے کے بجائے ابدی وسرمدی کامیابی پانے کو اپنا مقصود حیات بنالیں اور جس طرح حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُانتہائی مالدار ہونے کے باوجود صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرت کو یاد رکھتے تھے ہم بھی ان کی سیرت کو راہ حیات پر گامزن رہنے کے لیے مشعلِ راہ بنالیں ۔
¥
آنکھیں نہیں دل رورہا ہے :مروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ایک شخص نے نہایت ہی خوبصورت آواز میں قرآنِ کریم کی تلاوت کی جو اس قدر متاثر کن تھی کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سوا سب کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔ تو سرکار نامدار مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’عبدالرحمٰن کی آنکھیں نہیں دل رورہا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
خوف خدا میں گریہ وزاری خوش نصیبوں کا حصہ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! خوف میں گریہ وزاری کرنا خوش نصیبوں کا حصہ ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّجسے یہ عظیم نعمت عطا فرماتا ہے وہ دونوں جہاں میں سرخرو ہوجاتا ہے ، خوف خدا سے رونا انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے ، صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے ، اولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی سنت ہے ۔ یہ تمام

مقدس ہستیاں دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتیں اور شب وروز خوف خدا میں گریہ وزاری کیا کرتی تھی ، مگر آہ ! ہمارے شب وروز تودنیا کی محبت میں بسر ہورہے ہیں ، ہر وقت مال کمانے کی دھن سوار ہے ۔ کاش ہم بھی خوف سے لزرنے والے بن جائیں ، گناہوں کو چھوڑ کر نیکیوں پر استقامت پانے والے بن جائیں ، اس فانی وذلیل دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی تیاری کرنے والے بن جائیں ۔
راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے ……… پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے
چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ ……… وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
کام زنداں کے کیے اور ہمیں ……… شوقِ گلزار ہے کیا ہونا ہے
ہائے رے نیند مسافر تیری ……… کوچ تیار ہے کیا ہونا ہے
دور جاتا ہے رہا دن تھوڑا ……… راہ دشوار ہے کیا ہونا ہے
مدنی گلدستہ
’’اہل صفہ ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سَیِّدُنَا مصعب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدونوں جلیل القدر صحابی رسول ہیں ۔
(2) سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقطعی جنتی ہونے کے باوجود خوفِ خدا سے لرزاں وترساں رہتے اورگریہ وزاری کرتے تھے ، ہمیں تو بدرجہ اولیٰ خوفِ خدا میں گریہ وزاری کرنی چاہیے ۔
(3) سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوہ صحابی ہیں جن کے بارے میں سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک بار ارشاد فرمایا : ’’عبدالرحمٰن کی آنکھیں نہیں دِل رورہاہے ۔ ‘‘
(4) دنیا کی نعمتیں ملنے پر ہمیں اس بات سے خوف زدہ رہنا چاہیے کہ کہیں یہ ہماری نیکیوں کا بدلہ نہ ہو جو دنیا میں ہی مل گیا ۔
(5) ہمارے اَسلافِ کرام
رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامدُنیوی مال ودولت کی قطعاً پرواہ نہ کیا کرتے تھے ، اِس فانی دنیا

کے مکروفریب سے ہردم باخبر رہا کرتے تھے ا ور ہمہ وقت فکر آخرت اُن کا وطیرہ تھا ۔
(6) اِنسان کو چاہیے کہ اس کے پاس جو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتیں ہیں اُن کو یاد کر ے اور اُن نعمتوں کے شکر کی ادائیگی میں کمی کا اعتراف کرتے ہوئے اُخروی نعمتوں سے محرومی پر خوف زدہ رہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرتِ طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بھی خوفِ خدا میں رونا نصیب فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 454