- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا سے رونا
- حدیث نمبر 450
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : اَتَيْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ اَزِيْزٌ كَاَزِيْزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ. ( )
وعن عبد الله بن الشخير رضی اللہ عنہ ، قال : اتيت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وهو يصلي ولجوفه ازيز كازيز المرجل من البكاء. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن شخیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ’’میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز پڑھ رہے تھے اور ( خوفِ خدا سے ) رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارکہ سے ہنڈیا جیسی آواز آ رہی تھی ۔ ‘‘
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پا ک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوفِ خدا کا ذکر ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخوفِ خدا میں اس قدر روتے کہ سینہ مبارکہ سے اس طرح آواز آتی گویا کہ ہنڈیا کے ابلنے کی آواز ہو ، جب حضور نبی رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوفِ خدا کا یہ عالَم ہے تو ہم جیسے گناہ گارو بدکار تو خوفِ خدا سے رونے کے زیادہ حقدار ہیں ۔
¥ایک میل تک سنائی دینے والی آواز :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سینہ مبارکہ سے خوفِ خدا کے سبب رونے سے پیدا ہونے والی آوازاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ڈر اورعظیم خوف سے پیدا ہونے والی چیز ہے ، یہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو
آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا ابراہیمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے وراثت میں ملی ۔ سیدنا ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بارے میں منقول ہے کہ ان کے سینے سے ) خوف خدا کے سبب نکلنے والی ) آواز ایک میل دور تک سنائی دیتی ، اس سے ان کے کامل خوف ، خشیت اور خضوع کا ثبوت ملتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥نماز میں خشوع وخضوع اختیار کرو :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی” شرح ابو داؤد“میں فرماتے ہیں : ’’صاحب محیط نے مذکورہ حدیث پاک سے یہ استدلال کیاکہ نمازی کو چاہیے کہ نماز میں خشوع اختیا ر کرے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے عدل سے ڈرے جبکہ اُس کی رحمت سے اُمید میں رہے ، خوفِ شدید سے رونے سے مراد وہ رونا ہے جو عادۃًہو ، پس اگر کوئی خوفِ خدا یا جنت کی طلب و جہنم کے خوف کے ذکر کی وجہ سے نماز میں بغیر آواز بلند کیے روئے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، جبکہ کسی مصیبت کی وجہ سے نماز میں رونا مکروہ ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی” مرقاۃ “میں ” شرح منیہ“ کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’جب کوئی نماز میں روئے اور وہ آواز ایسی ہو کہ جس کو سنا جا سکتا ہو اگر یہ آواز جنت و دوزخ کاذکر سن کر نکلی تو نماز کو باطل نہیں کرے گی کیونکہ ایسی صورت میں یہ آواز بمنزلہ دعا ، طلبِ رحمت اور معافی مانگنے کے ہے اور اگر وہ آواز کسی درد یا مصیبت کی وجہ سے ہو تو نماز کو باطل کر دے گی کیونکہ اب یہ رونا بمنزلہ شکایت کے ہے گو یا کہ وہ کہہ رہا ہے مجھے تکلیف ہے یا مجھے کوئی مصیبت پہنچی اور یہ لوگوں کا کلا م ہے جو کہ نماز کو فاسد کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( )رونے سے نماز کب ٹوٹے گی ؟دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارشریعت جلد1 ، حصہ3 ، صفحہ608پر ہے : ” آہ ، اوہ ، اُف ، تف ، یہ الفاظ درد یا مصیبت کی وجہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور حرف پیدا ہوئے ، ان سب صورتوں میں نماز جاتی رہی اور اگر رونے میں صرف آنسو نکلے آواز و حروف نہیں نکلے تو حرج نہیں ۔ ‘‘
مزید فرماتے ہیں : ’’جنت و دوزخ کی یاد میں اگر یہ الفاظ کہے ، تو نماز فاسد نہ ہوئی ۔ ‘‘
¥خوفِ خدا نماز کو مقبول کرا دیتا ہے :مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’حضورِ انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا یہ رونا خوفِ خدایا عشق اِلٰہی میں تھا یا اپنی امت کی شفاعت میں جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامتہجد پڑھ رہے تھے اور آیت(اِنْ تُعَذِّبْهُمْ) ۔ ۔ ۔الآیۃ، بار بار پڑھتے تھے اور روتے تھے یہ رونا رب تعالیٰ کو بہت پیارا ہے ، اب بھی جو نمازی حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے عشق یا خدا کے خوف سے نماز میں روئے تو نماز بڑی مقبول ہوتی ہے خصوصًا نماز تہجد ، ہاں دنیوی تکلیف سے نماز میں رونا منع ہے اور اگر اس میں تین حرف ادا ہوگئے تو نماز فاسد ہے ۔ ‘‘ ( )
¥خوفِ خدا پیدا نہ ہونے کی وجہ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! خوفِ خدا پیدا نہ ہونے کی وجہ کا ذکر کرتے ہوئے امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیارشاد فرماتے ہیں : ’’خوف گناہوں کی زیادتی کے سبب نہیں ہوتا بلکہ دلوں کی صفائی اور معرفت کے کامل ہونے کے سبب خوف پیدا ہوتا ہے ، ہم لوگوں کی بے خوفی کا سبب یہ نہیں کہ ہمارے گناہ کم اور نیکیاں زیادہ ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نفسانی خواہشات ہماری رہنمائی کرتی ہیں ، بد نصیبی ہم پر غالب آ جاتی ہے اور ہمیں غفلت کا مشاہدہ کرنے سے روک دیتی ہے پھر نہ تو سفر ِآخرت کے مرحلے کا قریب ہونا ہمیں بیدار کرتا ہے ، نہ گناہوں کی کثرت ہمیں جھنجھوڑتی ہے ، نہ خائفین کے احوال سننے سے ہم پر خوف طاری ہوتا ہے اور نہ برے خاتمے کے خطرات ہمیں ڈراتے ہیں ، اگر عملی تیاری کے بغیر محض زبانی سوال کرنا نفع دے سکتا ہے تو ہماللہ عَزَّ وَجَلَّسے التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ہماری حالت کو درست فرما دے ۔ ‘‘ ( )
¥قلت خشیت یعنی خوف خدا کی کمی کے چھ علاج :واضح رہے کہ خوفِ خدا سے رونا اسی وقت نصیب ہوگا جب دل میں
خوفِ خدا ہوگا ، اور دل میں خوفِ خدا کا نہ ہونا ایک باطنی بیماری ہے ، کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے اس کے اسباب پر غور کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ اس کا علاج بہت مشکل ہے ۔ خوفِ خدا پیدا نہ ہونے کی وجوہات پیچھے گزر چکی ہیں ۔ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 352صفحات پر مشتمل کتاب ’’باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘ صفحہ253سے قلت خشیت یعنی خوفِ خدا میں کمی کے چھ علاج پیش خدمت ہیں :
( 1 )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں قلت خشیت سے سچی توبہ کرے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو اور خوفِ خدا کی نعمت کے حصول کے لیے دعا کرے کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے اور دعا اس طرح کرے : ’’اے میرے مالکعَزَّ وَجَلَّ! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دنیا وآخرت میں کامیابی کے لیے تیرے خوف کو اپنے دل میں بسانا چاہتا ہے ۔ اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ! میں گناہوں کی غلاظت سے لتھڑا ہوا بدن لیے تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اے میرے پروردگارعَزَّ وَجَلَّ! مجھے معاف فرمادے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کے لیے اس صفت کو اپنانے کے سلسلے میں بھرپور عملی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمادے اور اس کوشش کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے ۔ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اپنے خوف سے معمور دل رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔ آمینیارب میں ترے خوف سے روتا رہوں ہردم……دیوانہ شہنشاہ مدینہ کا بنا دے( 2 ) اپنی کمزوری وناتوانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غوروفکر کرے کہ آج دنیا میں چھوٹی سی تکلیف برداشت نہیں ہوتی تو جہنم کے سخت عذابات کو کیسے برداشت کرسکیں گے حالانکہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہے ، دنیا کی آگ بھی جہنم کی آگ سے پناہ مانگتی ہے ، دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں ، یہ سانپ ایک مرتبہ کسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا ۔ اور دوزخ میں پالان بندھے ہوئے خچروں کے مثل بچھو ہیں تو ان کے ایک مرتبہ کاٹنے کا درد چالیس سال تک رہے گا ۔
( 3 ) قرآن وحدیث میں موجود خوف خدا کے فضائل پیش نظر رکھے کہ جو رب عزوجل کے حضور اس کے خوف کے سبب کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتوں کی بشارت ہے ، دنیا میں خوف خدا رکھنے والے لیے کل بروز قیامت امن کی بشارت ہے ، خوف خدا سے نکلنے والے آنسو جسم کے جس حصے پر گریں
اس پر جہنم کی آگ حرام ہونے کی نوید سنائی گئی ہے ۔ خوف خدا سے ڈرنے والے کے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ
( 4 ) …… بزرگانِ دِین کے خوفِ خدا پر مشتمل واقعات کا مطالعہ کرے ۔ اس کے لیے تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ان کتب ’’خوفِ خدا ، توبہ کی روایات وحکایات ، احیاء العلوم ‘‘ ( جلدسوم ) وغیرہ کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔
( 5 ) …… خود احتسابی کی عادت بنانے کے لیے مدنی انعامات پر عمل کی کوشش کرے کہ امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی طرف سے عطا کردہ یہ مدنی انعامات قلت خشیت جیسی مہلک بیماری سے نجات اور خوف خدا جیسی عظیم نعمت کے حصول میںاِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّبہت معاون ثابت ہوں گے ۔
6 )) خوفِ خدا رکھنے والوں کی صحبت اختیار کرے کیونکہاللہتعالیٰ کا خوف رکھنے والے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی انسان کے دل میں خوف الٰہی بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔
کب گناہوں سے کنارہ میں کروں یارب ……… نیک کب اے میرےاللہ! بنوں گا یارب
گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ……… ہائے میں نار جہنم میں جلوں گا یاربمدنی گلدستہ
’’خوف الٰہی ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے ہیں اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوفِ خدا کا عالم یہ تھا کہ رونے کی وجہ سے سینہ مبارکہ سے ہنڈیہ کے ابلنے کے جیسی آواز آتی ۔(2) ∞نماز میں خوفِ خدا سے رونا حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے ۔(3) ∞عشق مصطفٰے یا خوفِ خدا سے نماز میں رونا بھی نماز کی مقبولیت کی نشانی ہے ۔
(4) آہ ، اوہ ، اُف ، تف یہ الفاظ درد یا مصیبت کی وجہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور حرف پیدا ہوئے ، ان سب
صورتوں میں نماز جاتی رہی اور اگر رونے میں صرف آنسو نکلے آواز و حروف نہیں نکلے ، تو حرج نہیں ۔
(5) نماز میں جنت و دوزخ کا ذکر سن کر رونے سے نماز باطل نہیں ہوتی ۔
(6) نیکیوں کی کمی اور گناہوں کی زیادتی بھی عدم خوف کی علامت ہے ، لہٰذا نیکیوں پر کمربستہ رہنے اور گناہوں سے بچنے کی ہردم کوشش کرتے رہنا چاہیے ۔
(7) عدم خوف ایک باطنی بیماری ہے ، بندے کو چاہیے کہ اس کے اسباب پر غور کرے اور اس کا مکمل علاج کرے کہ جب بھی کوئی بیماری بگڑتی ہے تو وہ ناسور بن جاتی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی غم مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنصیب فرمائے ، خوفِ خدا اور عشق مصطفٰے میں رونا نصیب فرمائے ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 450