- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 648
باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 648
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَارَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم! اِنَّ لِيْ قَرَابَةً اَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِيْ وَاُحْسِنُ اِلَيْهِمْ وَيُسِيْئُوْنَ اِلَيَّ وَاَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ فَقَالَ:لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَاَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللهِ تَعَالٰی ظَهِيْرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذٰلِك.
عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رجلا قال: يارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! ان لي قرابة اصلهم ويقطعوني واحسن اليهم ويسيئون الي واحلم عنهم ويجهلون علي فقال:لئن كنت كما قلت فكانما تسفهم المل ولا يزال معك من الله تعالی ظهير عليهم ما دمت على ذلك.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے کچھ رشتے دار ہیں، میں اُن کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں وہ میرے ساتھ قطع رحمی کرتے ہیں، میں اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہوں وہ میرے ساتھ بُرا برتاؤ کرتے ہیں، میں اُن سے بُردباری کا سلوک کرتا ہوں وہ مجھ سے جہالت سے پیش آتے ہیں۔ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” اگرتو ایسا ہی کرتا ہے جیسا تونے بتایاتو گویا کہ تو اُن کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے اور جب تک تو اس پر قائم رہے گااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ایک مدد گار اُن کے مقابلے میں تیرے ساتھ رہے گا۔“
شرح حدیث
منہ میں گرم راکھ ڈالنے سے مراد:
*اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث میں جلتی ہوئی راکھ کھانے کو اُس عذاب سےتشبیہ دی جو قطع رحمی کرنے والے کو ملے گی مطلب یہ ہے کہ جس طرح جلتی ہوئی راکھ کھانے والے کو تکلیف ہوتی ہے اسی طرح ان (قطع رحمی کرنے والوں) کو تکلیف ہوگی اور اس حسنِ سلوک کرنے والے کو کوئی ضَرَر نہ ہوگابلکہ جس کے ساتھ اس نے حسنِ سلوک کیا ہے انہیں قطع رحمی کرنے اور اُسے اَذِیَّت پہنچانے پر بڑا گناہ ملے گا۔*عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب وہ لوگ تیرا شکریہ ادا نہیں کرتے اس کے باوجود تو اُنہیں دیتا ہے یہ اُن کے لیے حرام ہے اور ان کے پیٹوں میں آگ ہے۔ علامہ توربشتیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں: ”تیرا اُن کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا جبکہ وہ تیرے ساتھ بری طرح پیش آئیں تو اس کا وبال ان پر ہی لوٹے گا، ان کے بُرے سلوک کے باوجود تیرا اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا گویا کہ ایسا ہے جیسے انہیں آگ کھلانا۔“*مرآۃ المناجیح میں ہے: اس جملہ کے بہت معنیٰ ہیں: ایک یہ کہ اس حالت میں ان لوگوں کو تیرا مال حرام ہے اور پھر وہ کھارہے ہیں تو گویا اپنے منہ میں بھوبل(گرم راکھ) بھررہے ہیں،دوسرے یہ کہ اُن کو ان حالات میں ایسی شرمندگی چاہیے کہ اُن کے منہ جھلس جاویں جیسے بھوبل(گرم راکھ)پڑ جانے سے منہ جھلس جاتا ہے،تیسرے یہ کہ اُن کی بُرائیوں کے عوض تیرا اُن سے سلوک کرنا گویا ان کے منہ بھوبل (گرم راکھ) سے بھرنا ہے تو انہیں ذلیل کررہا ہے، تیری عزت بڑھ رہی ہے،ان کی شرمندگی و ذلت۔خیرات سے مال بڑھتا ہے عَفْو وکرم سے عزت بڑھتی ہے۔(اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ایک مدد گار اُن کے مقابلے میں تیرے ساتھ رہے گا) یعنی جب تک تیرا یہ حِلْم اور بُرائی کے عِوَض بھلائی ہے تب تکاللّٰہتعالیٰ کی طرف سے تجھے مدد پہنچتی رہے گی یا تجھ پر رب کی طرف سے فرشتہ مقرر رہے گا جو تجھے ان کے شر سے بچائے گا اور تیرے عزت و مال میں برکت دے گا۔تکالیف کو برداشت کرنے کادرس:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور میں ہمیں دوسروں کی غلطیوں پر صبر و تحمل کرنے ،دوسروں کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کو برداشت کرنے اور در گُزر سے کام لینے کا درس دیا گیا ہے آج کل ہمارے معاشرے میں برداشت کا مادہ بالکل ناپید ہوگیا ہے کسی کو ذرا سی بات برداشت نہیں ہوتی گھروں میں، دوستوں میں، اسکول کالجوں اور یونیورسٹیوں میں، ہوٹلوں اور بسوں میں ذرا ذرا سی بات پر لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوجاتے ہیں، میاں بیوی ایک دوسرے کی بات کولے کر لڑنا جھگڑنا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے خاندان برباد ہوجاتے ہیں ساس کو بہو کی اور بہو کو ساس کی کوئی بات برداشت نہیں۔ اگر ہم شریعت کی پاسداری کریں قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزاریں یقیناً ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔دوسروں کی غلطیوں پر صبر کرنا ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنا اور عفو و درگزر کرنا،دیکھا جائے تو یہ تمام چیزیں در حقیقت حُسنِ اخلاق کا ہی حصہ ہیں ہمارے اسلاف حُسنِ اخلاق کے کیسے زبردست مرتبے پر فائز ہوتے تھے اور ان میں کس قدر قوتِ برداشت ہوتی تھی اس بات کا اندازہ آپ درج ذیل حکایت سے لگا سکتے ہیں۔ چنانچہ،بیٹے کی موت پر حیران کُن رویہ:حضرت سیِّدُنااَحْنَف بن قَیْسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا گیا:آپ نے بُردباری کس سےسیکھی؟ فرمایا: حضرتِ سیِّدُنا قیس بن عاصمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے ۔پوچھا گیا:اُن کی بُردباری کس درجہ کی تھی؟ فرمایا: ایک دن میں حضرتِ قیس بن عاصمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہکے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی خادمہ آئی اور اس کے ہاتھ میں ایک سیخ تھی جس پر بُھنا ہوا کباب تھا ،وہ سیخ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر آپ کے بچےپر گر گئی جس کی وجہ سے بچے کاانتقال ہوگیا، خادمہ پر دہشت طاری ہوگئی۔ آپ نے فرمایا :اس کاخوف اس وقت دور ہو گا جب یہ آزاد ہو گی۔چنانچہ آپ نے خادمہ سے فرمایا:تم آزاد ہو تم پر کوئی حَرج نہیں ہے ۔
مذکورہ حدیثِ پاک میں رشتے داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے اور قطع رحمی نہ کرنے کا درس ملتا ہے۔اس کی تفصیل کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 25صفحات پر مشتمل رسالے ”ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صلح کرلی۔“ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔مدنی گلدستہ’’تَحَمُّل‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قطع رحمی کرنے والا سخت عذاب کا شکار ہوگا۔
(2) کوئی ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرے تب بھی ہمیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
(3) جو شخص اپنے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے کے ساتھ بُرا سلوک کرے اور اُس سے نفع بھی اٹھائے توگویا وہ اپنے لیے آگ لیتا ہے۔
(4) لوگوں کی بدسلوکی کے باوجود اُن سے حُسنِ اَخلاق سے پیش آنے والے کے ساتھاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ایک معاون مقرر کردیا جاتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صلہ رحمی کرنے اور دوسروں کی غلطیوں، کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگزر کرنے اور ایک دوسرے کی باتوں کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 648