Main Icon

باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 648

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَارَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم! اِنَّ لِيْ قَرَابَةً اَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِيْ وَاُحْسِنُ اِلَيْهِمْ وَيُسِيْئُوْنَ اِلَيَّ وَاَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ فَقَالَ:لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَاَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللهِ تَعَالٰی ظَهِيْرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذٰلِك.

عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رجلا قال: يارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! ان لي قرابة اصلهم ويقطعوني واحسن اليهم ويسيئون الي واحلم عنهم ويجهلون علي فقال:لئن كنت كما قلت فكانما تسفهم المل ولا يزال معك من الله تعالی ظهير عليهم ما دمت على ذلك.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے کچھ رشتے دار ہیں، میں اُن کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں وہ میرے ساتھ قطع رحمی کرتے ہیں، میں اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہوں وہ میرے ساتھ بُرا برتاؤ کرتے ہیں، میں اُن سے بُردباری کا سلوک کرتا ہوں وہ مجھ سے جہالت سے پیش آتے ہیں۔ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” اگرتو ایسا ہی کرتا ہے جیسا تونے بتایاتو گویا کہ تو اُن کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے اور جب تک تو اس پر قائم رہے گااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ایک مدد گار اُن کے مقابلے میں تیرے ساتھ رہے گا۔“

شرح حدیث

منہ میں گرم راکھ ڈالنے سے مراد:
*
اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث میں جلتی ہوئی راکھ کھانے کو اُس عذاب سےتشبیہ دی جو قطع رحمی کرنے والے کو ملے گی مطلب یہ ہے کہ جس طرح جلتی ہوئی راکھ کھانے والے کو تکلیف ہوتی ہے اسی طرح ان (قطع رحمی کرنے والوں) کو تکلیف ہوگی اور اس حسنِ سلوک کرنے والے کو کوئی ضَرَر نہ ہوگابلکہ جس کے ساتھ اس نے حسنِ سلوک کیا ہے انہیں قطع رحمی کرنے اور اُسے اَذِیَّت پہنچانے پر بڑا گناہ ملے گا۔*عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب وہ لوگ تیرا شکریہ ادا نہیں کرتے اس کے باوجود تو اُنہیں دیتا ہے یہ اُن کے لیے حرام ہے اور ان کے پیٹوں میں آگ ہے۔ علامہ توربشتیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں: ”تیرا اُن کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا جبکہ وہ تیرے ساتھ بری طرح پیش آئیں تو اس کا وبال ان پر ہی لوٹے گا، ان کے بُرے سلوک کے باوجود تیرا اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا گویا کہ ایسا ہے جیسے انہیں آگ کھلانا۔“*مرآۃ المناجیح میں ہے: اس جملہ کے بہت معنیٰ ہیں: ایک یہ کہ اس حالت میں ان لوگوں کو تیرا مال حرام ہے اور پھر وہ کھارہے ہیں تو گویا اپنے منہ میں بھوبل(گرم راکھ) بھررہے ہیں،دوسرے یہ کہ اُن کو ان حالات میں ایسی شرمندگی چاہیے کہ اُن کے منہ جھلس جاویں جیسے بھوبل(گرم راکھ)پڑ جانے سے منہ جھلس جاتا ہے،تیسرے یہ کہ اُن کی بُرائیوں کے عوض تیرا اُن سے سلوک کرنا گویا ان کے منہ بھوبل (گرم راکھ) سے بھرنا ہے تو انہیں ذلیل کررہا ہے، تیری عزت بڑھ رہی ہے،ان کی شرمندگی و ذلت۔خیرات سے مال بڑھتا ہے عَفْو وکرم سے عزت بڑھتی ہے۔(اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ایک مدد گار اُن کے مقابلے میں تیرے ساتھ رہے گا) یعنی جب تک تیرا یہ حِلْم اور بُرائی کے عِوَض بھلائی ہے تب تکاللّٰہتعالیٰ کی طرف سے تجھے مدد پہنچتی رہے گی یا تجھ پر رب کی طرف سے فرشتہ مقرر رہے گا جو تجھے ان کے شر سے بچائے گا اور تیرے عزت و مال میں برکت دے گا۔تکالیف کو برداشت کرنے کادرس:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور میں ہمیں دوسروں کی غلطیوں پر صبر و تحمل کرنے ،دوسروں کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کو برداشت کرنے اور در گُزر سے کام لینے کا درس دیا گیا ہے آج کل ہمارے معاشرے میں برداشت کا مادہ بالکل ناپید ہوگیا ہے کسی کو ذرا سی بات برداشت نہیں ہوتی گھروں میں، دوستوں میں، اسکول کالجوں اور یونیورسٹیوں میں، ہوٹلوں اور بسوں میں ذرا ذرا سی بات پر لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوجاتے ہیں، میاں بیوی ایک دوسرے کی بات کولے کر لڑنا جھگڑنا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے خاندان برباد ہوجاتے ہیں ساس کو بہو کی اور بہو کو ساس کی کوئی بات برداشت نہیں۔ اگر ہم شریعت کی پاسداری کریں قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزاریں یقیناً ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔دوسروں کی غلطیوں پر صبر کرنا ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنا اور عفو و درگزر کرنا،دیکھا جائے تو یہ تمام چیزیں در حقیقت حُسنِ اخلاق کا ہی حصہ ہیں ہمارے اسلاف حُسنِ اخلاق کے کیسے زبردست مرتبے پر فائز ہوتے تھے اور ان میں کس قدر قوتِ برداشت ہوتی تھی اس بات کا اندازہ آپ درج ذیل حکایت سے لگا سکتے ہیں۔ چنانچہ،بیٹے کی موت پر حیران کُن رویہ:حضرت سیِّدُنااَحْنَف بن قَیْسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا گیا:آپ نے بُردباری کس سےسیکھی؟ فرمایا: حضرتِ سیِّدُنا قیس بن عاصمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے ۔پوچھا گیا:اُن کی بُردباری کس درجہ کی تھی؟ فرمایا: ایک دن میں حضرتِ قیس بن عاصمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہکے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی خادمہ آئی اور اس کے ہاتھ میں ایک سیخ تھی جس پر بُھنا ہوا کباب تھا ،وہ سیخ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر آپ کے بچےپر گر گئی جس کی وجہ سے بچے کاانتقال ہوگیا، خادمہ پر دہشت طاری ہوگئی۔ آپ نے فرمایا :اس کاخوف اس وقت دور ہو گا جب یہ آزاد ہو گی۔چنانچہ آپ نے خادمہ سے فرمایا:تم آزاد ہو تم پر کوئی حَرج نہیں ہے ۔
مذکورہ حدیثِ پاک میں رشتے داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے اور قطع رحمی نہ کرنے کا درس ملتا ہے۔اس کی تفصیل کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 25صفحات پر مشتمل رسالے ”ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صلح کرلی۔“ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
مدنی گلدستہ’’تَحَمُّل‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قطع رحمی کرنے والا سخت عذاب کا شکار ہوگا۔
(2) کوئی ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرے تب بھی ہمیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔
(3) جو شخص اپنے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے کے ساتھ بُرا سلوک کرے اور اُس سے نفع بھی اٹھائے توگویا وہ اپنے لیے آگ لیتا ہے۔
(4) لوگوں کی بدسلوکی کے باوجود اُن سے حُسنِ اَخلاق سے پیش آنے والے کے ساتھ
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ایک معاون مقرر کردیا جاتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صلہ رحمی کرنے اور دوسروں کی غلطیوں، کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگزر کرنے اور ایک دوسرے کی باتوں کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 648