- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے کچھ رشتے دار ہیں، میں اُن کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں وہ میرے ساتھ قطع رحمی کرتے ہیں، میں اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہوں وہ میرے ساتھ بُرا برتاؤ کرتے ہیں، میں اُن سے بُردباری کا سلوک کرتا ہوں وہ مجھ سے جہالت سے پیش آتے ہیں۔ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” اگرتو ایسا ہی کرتا ہے جیسا تونے بتایاتو گویا کہ تو اُن کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے اور جب تک تو اس پر قائم رہے گااللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ایک مدد گار اُن کے مقابلے میں تیرے ساتھ رہے گا۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَارَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم! اِنَّ لِيْ قَرَابَةً اَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِيْ وَاُحْسِنُ اِلَيْهِمْ وَيُسِيْئُوْنَ اِلَيَّ وَاَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ فَقَالَ:لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَاَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللهِ تَعَالٰی ظَهِيْرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذٰلِك.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 648 ، باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان