Main Icon

باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 866

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا تَبْدَءُوْا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارٰى بِالسَّلامِ فَاِذَا لَقِيتُمْ اَحَدَهُمْ في طَرِيْقٍ فَاضْطَرُّوْهُ اِلٰى اَضْيَقِهِ.

عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا تبدءوا اليهود ولا النصارى بالسلام فاذا لقيتم احدهم في طريق فاضطروه الى اضيقه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”یہودونصاریٰ سے سلام کرنے میں پہل نہ کرو۔اگران میں سے کوئی راستے میں ملے تو اسے تنگ حصے کی طرف مجبور کر دو۔‘‘

شرح حدیث

کفار کو سلام کرنا منع ہے:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:سلام میں پہل کرنے میں اُس بندے کی تعظیم ہے جسے سلام کیاجا رہا ہے اور کفار کی تعظیم جائزنہیں ۔اِسی طرح ان سے اظہارِ محبت و دوستی بھی ناجائز ہے چاہے یہ سلام کے ذریعے ہو یا کسی اورعمل کے ذریعے ہو۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے:لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ(پ۲۸،المجادلۃ:۲۲)ترجمہ ٔکنزالایمان: تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیںاللّٰہاورپچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نےاللّٰہاوراس کے رسول سے مخالفت کی۔
تفسیرخزائن العرفان میں ہے:’’یعنی مومنین سے یہ ہوہی نہیں سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں اور ایمان اس کو گوارا ہی نہیں کرتا کہ خدا اوررسول کے دشمن سے دوستی کریں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ بددینوں اور بدمذہبوں اور خداو رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے مودّت و اختلاط (دوستی اور میل جول )جائز نہیں۔‘‘ مرآۃ المناجیح میں ہے :”سارے کفار کا یہی حکم ہے ذمی ہوں یا حربی کہ ان کو مسلمان بِلاضرورت سلام نہ کرے کہ سلام میں اظہارِ احترام ہے اورکفار کااحترام درست نہیں۔ مرتدین ،بدمذہبوں کا حکم بھی یہی ہے۔ ہاں ضرورت کے اَحکام جُداگانہ ہیں۔“
کفار کے لئے تنگ راستہ چھوڑنا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:مسلمان راستہ میں اس طرح ہجوم کر کے چلیں کہ ذمی کفار کنارہ پر چلنے پر مجبور ہوجائیں ۔اسلام کی شان ظاہر کرنے کے لیے بشرطیکہ کنارۂ راہ پر غار یا خارنہ ہوں۔انہیں غار یا خار میں پھنسا دینا ان کو ایذا دینا ہے اور ذمی کافر کو ایذا دینا ممنوع ہے۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں کفاربھی مسلمانوں سے ایسا بلکہ اس سے بھی بدتر سلوک کرتے تھے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”بدعتی کو بھی سلام میں پہل نہ کی جائے ہاں کوئی عذر ہویا فتنہ وفساد کاخوف ہو تو اور بات ہے ۔اگر کسی ناواقف شخص کو سلام کیا پھرمعلوم ہواکہ کافرہے تو مستحب ہےکہ اس سے سلام واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یوں کہا جائے:”میرا سلام مجھے واپس کرو۔“اسی طرح فاسق،فاجراورایسامغرورشخص جوسلام کاجواب نہ دیتا ہواسے بھی سلام میں پہل نہ کرناجائز ہے۔“مدنی گلدستہ’’سلام‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) غیر مسلم کو سلام نہ کیا جائےکیونکہ سلام ایک طرح کی تعظیم ہے اور غیرمسلم تعظیم کے لائق نہیں۔
(2) راستےمیں کوئی کافر ملے اورمسلمان رُعب ودبدبہ رکھتے ہوں تو خود درمیانی راہ پر چلیں اور اس کافر کو تنگ راستے پر چلنے دیں ۔
(3) بددِینوں، بدمذہبوں اور خداو رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سےدوستی اور میل جول ناجائز وگناہ ہے ۔
(4) بدعتی شخص کو بھی سلام میں پہل نہ کی جائے ہاں کوئی عذر ہویا فتنہ وفساد کاخوف ہو تو اور بات ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں غیر مسلموں کو سلام کرنےاور ان سے دوستی اور میل جول رکھنے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 866