Main Icon

باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 878

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ:اِنَّ الله يُحِبُّ الْعُطَاسَ،وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَاِذَا عَطَسَ اَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللهَ تَعَالٰی كَانَ حَقَّاعَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ اَنْ يَقُوْلَ لَهُ:يَرْحَمُكَ اللهُ، وَاَمَّا التّثَاؤُبَ فَاِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ،فَـاِذَا تَثَاءَبَ اَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ،فَاِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:ان الله يحب العطاس،ويكره التثاؤب، فاذا عطس احدكم وحمد الله تعالی كان حقاعلى كل مسلم سمعه ان يقول له:يرحمك الله، واما التثاؤب فانما هو من الشيطان،فـاذا تثاءب احدكم فليرده ما استطاع،فان احدكم اذا تثاءب ضحك منه الشيطان.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اللّٰہتعالیٰ چھینک کو پسند جبکہ جماہی کو نا پسند فرماتاہے،جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرے تو سننے والے مسلمان پريَرْحَمُكَ اللّٰهکہنا لازم ہے اور جماہی شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکے کیونکہ جب تم میں سے کوئی جماہی لیتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے ۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہواکہ چھینک اچھی چیز ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو پسند ہے ،چھینکنے والے کو حمدِ اِلٰہی بجا لانی چاہیے،پھرجو مسلمان اس کی حمد سنے اسے جواب میںیَرْ حَمُکَ اللّٰہکہنا چاہیےاور جماہیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو ناپسند ہے جبکہ شیطان اُس سے خوش ہوتا ہے اس لئے جہاں تک ممکن ہو جماہی کو روکا جائے۔اعلیٰ حضرت،امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:” چھینک اچھی چیز ہے، اسے بد شگونی جاننا مشرکینِ ہند کا ناپاک عقیدہ ہے۔ حدیث میں تو یہ ارشاد فرمایا:لَعَطْسَۃٌ وَاحِدَۃٌ عِنْدَ حَدِیْثٍ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ شَاھِدٍ عَدْلٍ(یعنی) بات کے وقت چھینک عادل گواہ ہے۔ یعنی جو کچھ بیان کیا جاتا ہو جس کا صِدق وکذب ( سچ یاجھوٹ ہونا)معلوم نہیں اور اس وقت کسی کو چھینک آئے تو وہ اس بات کے صِدق پر دلیل ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ دعا کے وقت چھینک ہونا دلیلِ قبول ہے۔“چھینک کے فوائد اور جماہی کے نقصانات:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”جوچھینک بغیر زکام کے ہو وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو پسند ہے کیونکہ چھینکنے والا حمدکرتاہے اور سننے والا جواب دیتا ہے۔حدیث پاک سے معلوم ہواکہ جو بھی چھینکنے والے سےاَلْحَمْدُلِلّٰہسنے اس پر جواب دینا واجب ہے۔اورجماہی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ شیطان ہی انسان کو نفسانی خواہشا ت میں مبتلاکر کے زیادہ کھانے کی طرف مائل کرتا ہے جس کی وجہ سے جماہی آتی ہے۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”*چھینک سے دماغ صاف ہوتا ہے،*چھینک آنے سے دماغ ہلکا ہوجاتا ہے،*طبیعت کھل جاتی ہے جس سے عبادات پر زیادہ قدرت ہوتی ہے۔*اَطِبَّاء کہتے ہیں کہ زُکام آکر خیریت سے گزر جائے تو بہت بیماریوں کا دفعیہ ہے۔*جماہی سستی کی علامت ہے*اس سے جسم میں جمود(کھنچاؤ)طاری ہوتا ہے * چھینک رب کو پسند ہے جمائی شیطان کو پسند اس لئے حضراتِ انبیاءِکرام(عَلَیْہِمُ السّلام) کو جمائی کبھی نہیں آتی۔( جماہی شیطان کی طرف سے ہے) یعنی شیطان کے اثر سے جماہی آتی ہے وہ اس سے خوش ہوتا ہے”ھاہ“ کرنے پر وہ ہنستا ہے اسی لیے حضرت انبیاءکرام کو جماہی کبھی نہیں آئی۔جیسے کہ انہیں احتلام نہیں ہوتا کہ یہ شیطانی چیزیں ہیں۔ جماہی دفع کرنے کی تین تدبیر یں ہیں: *جب جماہی آنے لگے تو ناک سے زور سے سانس نکال دے۔*جب جماہی آنے لگے تو نیچا ہونٹ دانتوں میں دبالے۔*جب جماہی آنے لگے تو یہ خیال کرے کہ حضرات انبیاء کرام(عَلَیْہِمُ السلام)کو جماہی نہیں آتی۔*جب کوئی جماہی میں منہ پھیلاتا ہے اور”ھاہ“ کہتا ہے تو شیطان خوب ٹھٹھہ مار کر ہنستا ہے کہ میں نے اسے پاگل بنادیا اپنا اثر اس پر کرلیا۔* اس سے معلوم ہوا کہ بعض آوازوں سےشیطان بھاگتا ہے، بعض آوازوں سے وہ خوش ہوتا ہے،اللّٰہکے ذِکر کی آواز سے اسے تکلیف ہوتی ہے۔*جماہی کی آواز سے وہ ہنستا ہے ،گانے باجے کی آواز پر وہ خوشی سے ناچتا ہوگا لہٰذا بُری آوازوں سے بچو۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 878