Main Icon

باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 884

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي سَعِيْدِنِالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اِذَا تَثَاءَبَ اَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلٰی فِيْهِ فَاِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ.

عن ابي سعيدنالخدري رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا تثاءب احدكم فليمسك بيده علی فيه فان الشيطان يدخل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔“

شرح حدیث

شیطان کا راستہ بند:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”منہ پر ہاتھ رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا تا کہ بُری شکل نہ بنے جو کہ شیطان کو پسند ہے،اور ہاتھ رکھنے سے یہ فائدہ بھی حاصل ہوگا کہ شیطان منہ میں داخل نہ ہو سکے گا گویا کہ منہ پر ہاتھ رکھ کر شیطان کا راستہ بند کر دیا ۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(جماہی کے وقت) بائیں ہاتھ کی ہتھیلی یا انگلیوں کی پُشت منہ پر رکھ لے کہ یہ ہی سنت ہے۔ (کھلے منہ میں)یا تو خود شیطان ہی داخل ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ مردود ہمارے خون کے ساتھ گردش کرتا ہے مگر ہمارے منہ میں اس وقت گھُستا ہے یا اس کے وسوسے داخل ہوتے ہیں۔بہرحال جمائی کے وقت منہ پر ہاتھ ضرور رکھ لے کہ اس سے نہ شیطان داخل ہوگا نہ اس کے وسوسے نہ ہوائی کیڑے مکوڑے۔“مدنی گلدستہ’’رَبِّ قَدِیر‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) چھینکتے وقت آواز پست کی جائے، منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھ لیا جائے تاکہ تھوک کے ذرات نہ اُڑیں۔
(2) چھینک کے وقت آواز بلند کرنا حماقت ہے۔
(3) چھینکتے وقت آواز پست کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس طرح تمام اعضا جھنجھناہٹ سے بچ جاتے ہیں۔
(4) کسی کافر کو چھینک آئے اور وہ حمد کرے تو اسے
یَھْدِیْکُمُ اللّٰہ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْکہا جائے،اسے رحمت و مغفرت کی دعا دینا ناجائزو ممنوع ہے ۔
(5) عورت اگر بوڑھی ہے تو مرد اس کی چھینک کا جواب دے ،اگر جوان ہو تو اس طرح دے کہ وہ سن نہ سکے ۔
(6) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محفل میں جو بھی آتا ہے کبھی خالی دامن نہیں لوٹتا چاہے کافر ہی کیوں نہ ہو۔اللّٰہکریم ہمیں چھینک اور جماہی کے وقت منہ پرہاتھ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 884