Main Icon

باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 880

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:اِذَا عَطَسَ اَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتُوْهُ فَاِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللهَ فَلَا تُشَمِّتُوْهُ.

عن ابي موسى رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:اذا عطس احدكم فحمد الله فشمتوه فان لم يحمد الله فلا تشمتوه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو موسیٰرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا :”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرے تو تم اسے جواب دو، اگر وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد نہ کرے تو جواب نہ دو ۔“

شرح حدیث

جواب نہ دینے کا حکم:جب چھینکنے والا حمد نہ کرے تواسے جواب نہ دو۔مرآۃ المناجیح میں ہے:” بعض علما فرماتے ہیں کہ یہ نہی ممانعت کے لیے ہے۔لہٰذا ایسے شخص کو جواب دینا گناہ ہے،بعض فرماتے ہیں کہ نہی سُنّیت کی نفی کے لیے ہے یعنی ایسے کو جواب دینا سنت نہیں مگر گناہ بھی نہیں ،مگر یہ بات یقینی ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ایسے کو جواب نہیں دیا لہٰذا جواب نہ دینا ہی سنت ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 880