Main Icon

باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 649

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مَسْعُودٍ عُقْبَةَبْنِ عَمْرو الْبَدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النِّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنِّي لَاَتَاَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ اَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيْلُ بِنَا فَمَا رَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِيْ مَوْعِظَةٍ قَطُّ اَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ يَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِيْنَ فَاَيُّكُمْ اَمَّ النَّاسَ فَلْيُوْجِزْ فَاِنَّ مِنْ وَرَائِهِ الْكَبِيرَ وَالصَّغِیْر وَذَا الْحَاجَةِ.

عن ابي مسعود عقبةبن عمرو البدري رضي الله عنه قال:جاء رجل الى النبی صلى الله عليه وسلم فقال اني لاتاخر عن صلاة الصبح من اجل فلان مما يطيل بنا فما رايت النبي صلى الله عليه وسلم غضب في موعظة قط اشد مما غضب يومئذ فقال يا ايها الناس ان منكم منفرين فايكم ام الناس فليوجز فان من ورائه الكبير والصغیر وذا الحاجة.

حدیث ترجمہ

حضرت ابومسعودعُقْبَهبن عَمْروبَدْرِیْ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوکر عرض کی:’’میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ پاتاکیونکہ وہ ہمیں طویل نماز پڑھاتا ہے۔‘‘تومیں نے وعظ ونصیحت کے موقعہ پر رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کبھی اتنا جلال میں نہیں دیکھا جتنا آپ کو اُس دن جلال میں دیکھا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا:”اے لوگو!تم میں سے بعض ایسے لوگ ہیں جو دوسرے لوگوں کومُتَنَفِّرکرتے ہیں تو تم میں سےجو لوگوں کی امامت کرے وہ نماز مختصر پڑھائے کیونکہ اس کے پیچھے بوڑھے ،بچےاور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔

شرح حدیث

مختصر نمازپڑھانے کی وجہ:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیحدیثِ مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اِس حدیثِ پاک میں حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اماموں کو مختصر نماز پڑھانے کی ہدایت فرمائی ہے کیونکہ طویل نماز پڑھانے کی وجہ سےلوگ جماعت میں شامل ہونے سے کترائیں گے ۔اِس حدیث میں اِس بات کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص کسی کے جماعت سے نماز نہ پڑھنے کا سبب بنے تو اُس پربھی سخت وعید ہے ۔‘‘امام کے گنہگار ہونے کی صورت:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس سے معلوم ہوا کہ امام کے قصور کی بناء پر اگر کوئی شخص جماعت چھوڑ دے تو گناہ گار وہ نہیں ہے بلکہ امام نیز حاکم یا بزرگ کے سامنے امام کی شکایت کردینا جائز ہے نہ یہ غیبت اور نہ یہ امام کی سرتابی نیز حاکم مقتدیوں کے سامنے امام پر سختی بھی کر سکتا ہے اور ملامت بھی۔اس میں اس کی اصلاح ہے نہ کہ ذلیل کرنا۔ درازیٔ نماز اگر چہ عبادت ہے مگر جب کہ اس سے کوئی خرابی پیدا نہ ہو ۔“حدیثِ مبارکہ سے حاصل فوائد ومسائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیمذکورہ حدیث کی شرح کے تحت حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد ومسائل ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”*∞ حسبِ موقع کسی کی شکایت کرنا جائز ہے۔*∞اَحکامِ شرعیہ پر عمل نہ ہونے کی صورت میں غصہ کرنا جائز ہے۔*∞جو شخص شریعت کے منع کئے ہوئے کام کر رہا ہو تو اُس کو اس کام سے روکنا جائز ہے اگر چہ وہ کام حرام نہ ہو ۔*∞ نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بعض اوقات صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی رضامندی کے ساتھ طویل نماز پڑھائی جبکہ بعض اوقات آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دورانِ نماز بچےکے رونے کی آواز سننے پر نماز کو مختصر بھی کیا ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’نماز‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
( 1) حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ائمہ مساجد کو بوڑھوں ،کمزوروں اور ضرورت مندوں کی رعایت کرتے ہوئے مختصر قراء ت کا حکم دیا ہے۔
( 2) حاکمِ اسلام یا کسی بزرگ کے سامنے کسی کی درست شکایت کرنا جائز ہے یہ غیبت نہیں ہے۔
( 3) جب تمام مقتدی طویل نماز پڑھنے پر راضی ہوں تو امام کا طویل نماز پڑھانابلا کراہت جائز ہے ۔
( 4) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنا مسئلہ حل کروانے کے لئے نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اَحکامِ شرعیہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 649