Main Icon

مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 240

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا اِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَة. ( )

عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يستر عبد عبدا في الدنيا الا ستره الله يوم القيامة. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص دنیا میں کسی کی پردہ پوشی کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

ربّ تعالیٰ کی پردہ پوشی کا معنٰی:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : “ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی سِتر پوشی یوں فرمائے گا کہ اُس کے گناہ مٹادے گااور ابتدامیں اُس سے پرسش نہیں ہوگی یا پھر اس سےمرادیہ ہے کہ دوسروں کوآگاہ کیے بغیر سوال کیاجائے گااور اسے معاف کردیاجائے گا۔ پردہ پوشی کی جزاء پردہ پوشی سے اِس لیے دی گئی تاکہ جزا عمل کے مطابق ہو جائے۔ ‘‘( )

حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں : ’’بروزِ قيامت اللہ عَزَّوَجَلَّ سِتر پوشی کے طفیل اِس بندے کے عیوب و گناہوں پر پردہ فرمائے گااور اُسے اَہل مَحشر سے مخفی رکھے گا۔ یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اُس شخص سے حساب نہ لیاجائےاور اُس کا ذکر بھی نہ فرمائے۔ ‘‘( )
عیب پوشی کی عادت کو اپنالیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک یہ درس دے رہی ہے کہ ہم عیب پوشی کی عادت کو اپنا لیں ۔ یہ عادت قابل تعریف اور باعث اجر و ثواب ہے۔ لیکن جس چیز میں اجر و ثواب اور رضا الٰہی پوشید ہ ہو شیطان لعین اُس جانب بڑھنے والے قدموں کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتاہے۔ معاشرے میں امن و سکون قائم کرنے والے کام کو ناکام کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کرتاہے۔ جس کا عملی مظاہرہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج اگر ہم میں سےكسی سے كوئی غلطی سَرزَد ہوجاتی ہے تو اُس کی پردہ پوشی کے بجائے ہم دوسروں کو بتاتے پھرتے ہیں اور اُس کی عزت سے کھیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، بلکہ افسوس صد افسوس!اب تو معاشرے میں یہ رُجحان بھی بڑھتاچلاجارہاہے کہ دوسروں میں عیب تلاش كرنے کی کھوج میں لگے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کسی کی کوئی غلطی سامنے آئی فوراً اُس غلطی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ شریعت ہمیں یہ مدنی سوچ فراہم کررہی ہے کہ اگر رب کی رضا کے متلاشی ہو ، آخرت میں اجر و ثواب کے متقاضی ہو تو پھر اپنے مسلمان بھائیوں کی عزت ِنفس مجروح نہ کرو ، اُن کی پردہ پوشی کرو۔ پردہ پوشی کرنے والوں کی خطائیں اللہ عَزَّ وَجَلَّمعاف فرمادیتاہے۔ کیا معلوم کہ جسے ہم گناہ گار کہہ کر پکارتے پھررہے ہوں ، جس کے عیوب کی تشہیر کررہے ہوں ، وہ بارگاہِ الٰہی میں اپنے کسی عمل کی وجہ سے مقبول ہوجائے اور ہماری پکڑ ہو جائے۔ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام فرماتے ہیں : ’’کتنے ہی صحّت مند بدن ، خوبصورت چہرے اورفصیح گفتگو کرنے والے کل جہنَّم کے طبقات میں چیخ رہے ہوں گے۔ ‘‘( )
پردہ پوشی نہ کرنے کا وبال:حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرےگا اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا اوروہ جو اپنے بھائی کا راز اِفشا کرے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کا راز ظاہرفرما دے گایہا ں تک کہ وہ اپنے گھر ہی میں رُسوا ہوجائے گا۔ ‘‘( )رب تعالیٰ کا دنیا میں عیب پوشی فرمانا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عیب پوشی کرنا خود رب تعالیٰ کی سنت ہے۔ چنانچہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مدينہ منورہ کی ايک گلی سے گزر رہے تھے کہ ايک نوجوان کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا۔ اُس نے کپڑوں کے نیچے شراب کی ايک بوتل چھپا رکھی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُس سے پوچھا : ’’اے نوجوان!يہ کپڑوں کے نیچے کيا چھپا رکھا ہے؟‘‘اس بوتل میں شراب تھی ، اس نوجواب کو شراب کی بوتل کا اقرار کرنے میں بڑی شرمندگی محسوس ہوئی تو اس نے فی الفور دل میں دعا کی : ’’يااللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے شرمندہ اور رُسوا نہ فرمانا ، ان کے سامنے ميری پردہ پوشی فرمانا ، میں اِرادہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی شراب نہيں پیوں گا۔ ‘‘ پھر نوجوان نے عرض کيا : ’’اے امير المؤمنین!میں سرکےکی بوتل اٹھائے ہوئے ہوں۔ ‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمايا : ’’مجھے دکھاؤ۔ ‘‘جب اس نے وہ بوتل آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے کی تو سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا تو واقعی وہ سرکہ تھا۔ ( )آخرت کی ذِلت ورُسوائی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ اس نوجوان نے صِدقِ دِل سےاللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں

اپنی غفلت و نادانی اور عِصیاں شِعاری کی پردہ پوشی کے لیے التجاکی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بھی اُس کی لاج رکھی اور اُس کی پردہ پوشی فرمائی اور وہ نوجوان رُسوائی سے بچ گیا۔ واقعی دنیا میں عیب ظاہر ہونے پر جو ذِلَّت ورُسوائی ہوتی ہے وہ فانی ہے ، دو چار دن میں لوگ اُسے بھول جاتے ہیں لیکن ذرا غور تو کیجئے کہ کل بروزِ قیامت جب تمام اُمتیں موجود ہوں گی ، تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام موجود ہوں گے ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان موجود ہوں گے ، تابعین ، تبع تابعین ، اَولیائے عظام ، علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام موجود ہوں گے ، اِن مبارک ہستیوں کے سامنے اور اِن تمام لوگوں کے سامنے جن سے چھپ کر ہم گناہ کرتے تھے ، اگر ہمارے تمام عیوب اور گناہ کھول دیے گئے تو ہمارا کیا بنے گا؟ اگر آج ہم نے دنیا میں رہتے ہوئے گناہوں سے توبہ نہ کی ، نیکیاں نہ کیں ، دوسروں کو اُس کی ترغیب نہ دلائی ، نیکی کی دعوت نہ دی ، گناہوں سے منع نہ کیا ، اور خدانخواستہ ربّ عَزَّوَجَلَّ ناراض ہوگیا تو تباہی وبربادی ہمارا مقدَّر ہوگی۔
آج بنتا ہوں معزّز جو کھلے حشر میں عیب …… آہ رُسوائی کی آفت میں پھنسوں کا یاربّ
قبر محبوب کے جلوؤں سے بسا دے مالک …… یہ کرم کردے تو میں شاد رہوں گا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اسلام میں مسلمانوں کی عیوب کی پردہ پوشی اور بلا ضرورت اُن عیوب کی تشہیر نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
(2) بلا ضرورت شرعی کسی بھی مسلمان کا کوئی بھی عیب دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا منع ہے۔
(3) جب اللہ عَزَّوَجَلَّ مالک ومولی ہونے کے باوجود اپنی صفت ستاری سے ہمارے عیوب کو چھپاتا ہے تو ہم تو اس کے عاجز بندے ہیں ، ہمیں بدرجہ اولیٰ اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب پوشی کرنی چاہیے۔
(4) اسلام دوسروں کی عزت نفس کا پاس رکھنے اور اُن کی پردہ پوشی کادرس دیتاہے ۔ تاکہ ایک پُر امن و پُرسکون معاشرہ قائم ہو۔

(5) جو دنیا میں اپنے بھائی کے عیوب پر مطلع ہونے کے باوجود اس کا پردہ رکھتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بروزِ قیامت اُس کے اِس عمل کے بدلے میں اُس کی پردہ پوشی فرمائے گااور جو دنیا میں دوسروں کے عیب ظاہر کرے گا بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اُس کے عیوب ساری مخلوق کے سامنے ظاہر فرمادے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بلا اِجازتِ شرعی کسی بھی مسلمان کے عیبوں کو ظاہر نہ کرنے کا مدنی ذہن عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 240