Main Icon

مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 241

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم يَقُوْلُ: كُلُّ اُمَّتِي مُعَافًی اِلَّا الْمُجَاهِرِينَ وَاِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَ ةِ اَنْ يَّعْمَلَ الرَّجُلُ باللَّيلِِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحُ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيهِ فَيقُولُ : يَا فُلانُ! عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَاوَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ. ( )

وعنه قال : سمعت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم يقول: كل امتي معافی الا المجاهرين وان من المجاهر ة ان يعمل الرجل بالليل عملا ثم يصبح وقد ستره الله عليه فيقول : يا فلان! عملت البارحة كذا وكذاوقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ میرے ہر امتی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ معاف فرمائے گا سوا اُن کے جو علانیہ گناہ کرتے ہیں اور اعلانیہ گناہ کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی شخص رات کو ایک(گناہ کا )عمل کرتا ہے پھر جب صبح ہوتی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے اِس عمل کی پردہ پوشی فرماتا ہے لیکن وہ صبح کے وقت کہتا ہےکہ اے فلاں ! میں نے رات کوایسا ایسا کیاحالانکہ رات میں اُس کے ربّ نے اُسے چھپالیا وہ صبح کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پردے کو خودہی چاک کردیتا ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

’’مجاہر ‘‘کسےکہتے ہیں؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’مجاہر وہ شخص ہے جو اپنے گناہ کا اعلان کرے

اور اسے ظاہر کرے ۔ اب معنی یہ ہوں گے کہ میری امت کے ہر شخص کے گناہ کو معاف کیا جائےگا اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہوگامگر یہ کہ جو اعلانیہ گناہ کرتا ہے۔ ‘‘امام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جو اپنے فسق و بدعت کو اعلانیہ ظاہر کرے تو اِن اُمور میں اُس کی بُرائی کا ذکر جائز ہے بقیہ اُمور میں نہیں۔ ‘‘( )
تمام اُمَّت کے لیے معافی کے معنی:مذکورہ حدیث پاک میں اِرشاد ہوا : ’’میری تمام اُمَّت کے لیے معافی ہے۔ ‘‘معافی کے دو معنی ہوسکتے ہیں : (1)ایک تو یہ کہ رب تعالیٰ کی طرف سے اُسے کل بروزِ قیامت معافی دے دی جائے گی۔ (2) دوسرے یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُسے عافیت دی ہوئی ہے کہ اُس کی غیبت کرنا حرام ہے۔ ‘‘( )رب تعالیٰ کاپردہ پوشی فرمانا باطنی نعمت:اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ-(پ۲۱ ، لقمان : ۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان : اورتمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی۔
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَھَّارنقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس فرمانِ عالیشان میں ظاہری نعمت سے مراد اِسلام ، اچھی شکل وصورت اور رِزق کی فراخی ہے جبکہ باطنی نعمت سے مُراد گناہوں اور عُیُوب پر پردہ ڈالنا ہے۔ ‘‘( )
گناہ کا اِعلان کرنا گناہ ہے:فقیہ اَعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’گناہ کا اِرتکاب بہر حال گناہ ہے مگر اِس کا اِعلان کرنا بھی گناہ ہے بلکہ اِرتکابِ گناہ سے

(بھی)بڑا گناہ ہے ، (کیونکہ)یہ گناہ کی اِشاعت بھی ہے اور نڈر ہونا بھی ہے۔ ‘‘( )
اپنی ہی برائی کرنے والے کی غیبت:شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک سے ثابت ہوا کہ اُس شخص کی غیبت حرام ہے جو بُرائی کرے اور اُس کو مخفی رکھے لیکن جو بے حیاہو کر اِعلانیہ بُرائی کا اِرتکاب کرے اُس کی بُرائی بیان کرنا غیبت نہیں ۔ فاسِقِ مُعْلِنْ(اعلانیہ گناہ کرنے والا) ، ظالم حاکم اور بدعت کی طرف بلانے والے کی بُرائی کا بیان کرنا بھی جائز ہے یونہی ظلم و زیادتی کے خلاف فریاد رسی ، گواہوں کے تزکیہ اور اَحادیث کے راویوں کے بارے میں بھی یہ عمل جائز ہے البتہ ظلم کی صورت میں صبر افضل ہوتا ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’علانیہ گناہ کرنے والوں کی نہ آخرت میں پردہ پوشی کی جائے گی ، نہ دنیا میں اِن کی غیبت حرام ہوگی ، اِن کی غیبت جائز ہے کہ وہ خود ہی اپنے پر دہ دار نہیں۔ ‘‘( )
بندوں پر رَحمت خداورَحمت حبیب خدا:دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۶۴۷ صفحات پر مشتمل کتاب ’’حکایتیں اورنصیحتیں‘‘ صفحہ ۶۳۸پر ہے : ٭∞ منقول ہےکہ قیامت کے دن جب اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی پردہ پوشی چاہے گا اور اُسے سب کے سامنے رُسوا نہ کرنے کا اِرادہ فرمائے گا تو اُس کا گناہوں بھرا نامۂ اعمال اُس کے دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گا۔ وہ بندہ اُس کی وجہ سے خوف زدہ ہو گا جو اُس کے نامۂ اعمال میں ہو گاکیونکہ اُسے معلوم ہو گا کہ اُس کے گنا ہ بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ ، نامۂ اَعمال میں جہاں گناہ لکھے ہوں گے وہاں وہ آواز

آہستہ کر لے گا اور اپنے دل میں کہے گا : ’’سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری تو ایک نیکی بھی نہیں۔ ‘‘جبکہ لوگ کہیں گے : ’’سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس بندے کے نامۂ اعمال میں تو ایک گناہ بھی نہیں۔ ‘‘جب وہ آہستہ آواز میں پڑھ کر فارغ ہو گاتواللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرمائے گا : ’’اے میرے بندے!تیری نیکیوں کو میں نے اپنی مخلوق پر ظاہر کیا اور تیر ی بُرائیوں کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی فرمائی ، اے میرے فرشتو! اس کو میرے عفوو کرم سے جنت میں لے جاؤ۔ ‘‘حضرتِ سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آد م صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بارگاہِ الٰہی میں اپنی اُمَّت کے گناہوں کے متعلق دعا کی اور عرض کی : ’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ !تو اِن کا حساب میرے حوالے کر دے تا کہ اِن کی بُرائیوں پر میرے علاوہ کوئی اور آگاہ نہ ہو۔ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی : ’’اے محبوب! یہ تیری اُمَّت ہے ، میں اِس پر تجھ سے زیادہ رحم فرمانے والا ہو ں ، میں اِن کا حساب کسی کے حوالے نہیں کروں گا تا کہ میرے علاوہ کوئی اِن کی برائیاں نہ دیکھے ۔ ‘‘
مدنی گلدستہ
’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)مجاہر یعنی اپنے گناہ کا خود اِظہار کرنے والے کے سوا ساری اُمَّت کے لیے معافی ہے۔
(2)گناہ کا اِعلان کرنا بھی گناہ ہے ، لہٰذا گناہوں سے بھی اپنے آپ کو ہردم بچایا جائے اور خدانخواستہ اگر گناہ ہو بھی جائے تو اُس کا اِظہار نہ کیا جائے بلکہ فوراً اُس گناہ سے توبہ کرلی جائے۔
(3)بہت بدنصیب ہے وہ شخص کہ جس کے گناہوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ چھپائے مگر وہ خود اُس کو ظاہر کردے۔
(4)اپنے گناہ کو ظاہر کرنے والے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے کہ کل بروزِ قیامت بھی اُس کی پردہ پوشی نہ کی جائے گی ، حتّٰی کہ اُس کی غیبت کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ خود اپنا پردہ دار نہیں لہٰذا گناہ اور گناہ کے اِظہار دونوں سے بچنا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچنے ، دوسروں کو بچانے ، نیکیاں کرنے دوسروں کو

ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے ، مسلمانوں کی پردہ پوشی کرنے یعنی اُن کے عیوب کو ظاہر نہ کرنے اور اپنے گناہوں یا عیوب کو بھی چھپانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 241