- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حدیث نمبر 241
مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 241
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم يَقُوْلُ: كُلُّ اُمَّتِي مُعَافًی اِلَّا الْمُجَاهِرِينَ وَاِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَ ةِ اَنْ يَّعْمَلَ الرَّجُلُ باللَّيلِِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحُ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيهِ فَيقُولُ : يَا فُلانُ! عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَاوَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ. ( )
وعنه قال : سمعت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم يقول: كل امتي معافی الا المجاهرين وان من المجاهر ة ان يعمل الرجل بالليل عملا ثم يصبح وقد ستره الله عليه فيقول : يا فلان! عملت البارحة كذا وكذاوقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’ میرے ہر امتی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ معاف فرمائے گا سوا اُن کے جو علانیہ گناہ کرتے ہیں اور اعلانیہ گناہ کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی شخص رات کو ایک(گناہ کا )عمل کرتا ہے پھر جب صبح ہوتی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے اِس عمل کی پردہ پوشی فرماتا ہے لیکن وہ صبح کے وقت کہتا ہےکہ اے فلاں ! میں نے رات کوایسا ایسا کیاحالانکہ رات میں اُس کے ربّ نے اُسے چھپالیا وہ صبح کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پردے کو خودہی چاک کردیتا ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
’’مجاہر ‘‘کسےکہتے ہیں؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’مجاہر وہ شخص ہے جو اپنے گناہ کا اعلان کرے
اور اسے ظاہر کرے ۔ اب معنی یہ ہوں گے کہ میری امت کے ہر شخص کے گناہ کو معاف کیا جائےگا اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہوگامگر یہ کہ جو اعلانیہ گناہ کرتا ہے۔ ‘‘امام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جو اپنے فسق و بدعت کو اعلانیہ ظاہر کرے تو اِن اُمور میں اُس کی بُرائی کا ذکر جائز ہے بقیہ اُمور میں نہیں۔ ‘‘( )تمام اُمَّت کے لیے معافی کے معنی:مذکورہ حدیث پاک میں اِرشاد ہوا : ’’میری تمام اُمَّت کے لیے معافی ہے۔ ‘‘معافی کے دو معنی ہوسکتے ہیں : (1)ایک تو یہ کہ رب تعالیٰ کی طرف سے اُسے کل بروزِ قیامت معافی دے دی جائے گی۔ (2) دوسرے یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُسے عافیت دی ہوئی ہے کہ اُس کی غیبت کرنا حرام ہے۔ ‘‘( )رب تعالیٰ کاپردہ پوشی فرمانا باطنی نعمت:اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ-(پ۲۱ ، لقمان : ۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان : اورتمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی۔
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَھَّارنقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس فرمانِ عالیشان میں ظاہری نعمت سے مراد اِسلام ، اچھی شکل وصورت اور رِزق کی فراخی ہے جبکہ باطنی نعمت سے مُراد گناہوں اور عُیُوب پر پردہ ڈالنا ہے۔ ‘‘( )گناہ کا اِعلان کرنا گناہ ہے:فقیہ اَعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’گناہ کا اِرتکاب بہر حال گناہ ہے مگر اِس کا اِعلان کرنا بھی گناہ ہے بلکہ اِرتکابِ گناہ سے
(بھی)بڑا گناہ ہے ، (کیونکہ)یہ گناہ کی اِشاعت بھی ہے اور نڈر ہونا بھی ہے۔ ‘‘( )اپنی ہی برائی کرنے والے کی غیبت:شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اِس حدیثِ پاک سے ثابت ہوا کہ اُس شخص کی غیبت حرام ہے جو بُرائی کرے اور اُس کو مخفی رکھے لیکن جو بے حیاہو کر اِعلانیہ بُرائی کا اِرتکاب کرے اُس کی بُرائی بیان کرنا غیبت نہیں ۔ فاسِقِ مُعْلِنْ(اعلانیہ گناہ کرنے والا) ، ظالم حاکم اور بدعت کی طرف بلانے والے کی بُرائی کا بیان کرنا بھی جائز ہے یونہی ظلم و زیادتی کے خلاف فریاد رسی ، گواہوں کے تزکیہ اور اَحادیث کے راویوں کے بارے میں بھی یہ عمل جائز ہے البتہ ظلم کی صورت میں صبر افضل ہوتا ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’علانیہ گناہ کرنے والوں کی نہ آخرت میں پردہ پوشی کی جائے گی ، نہ دنیا میں اِن کی غیبت حرام ہوگی ، اِن کی غیبت جائز ہے کہ وہ خود ہی اپنے پر دہ دار نہیں۔ ‘‘( )بندوں پر رَحمت خداورَحمت حبیب خدا:دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۶۴۷ صفحات پر مشتمل کتاب ’’حکایتیں اورنصیحتیں‘‘ صفحہ ۶۳۸پر ہے : ٭∞ منقول ہےکہ قیامت کے دن جب اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی پردہ پوشی چاہے گا اور اُسے سب کے سامنے رُسوا نہ کرنے کا اِرادہ فرمائے گا تو اُس کا گناہوں بھرا نامۂ اعمال اُس کے دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گا۔ وہ بندہ اُس کی وجہ سے خوف زدہ ہو گا جو اُس کے نامۂ اعمال میں ہو گاکیونکہ اُسے معلوم ہو گا کہ اُس کے گنا ہ بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ ، نامۂ اَعمال میں جہاں گناہ لکھے ہوں گے وہاں وہ آواز
آہستہ کر لے گا اور اپنے دل میں کہے گا : ’’سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری تو ایک نیکی بھی نہیں۔ ‘‘جبکہ لوگ کہیں گے : ’’سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس بندے کے نامۂ اعمال میں تو ایک گناہ بھی نہیں۔ ‘‘جب وہ آہستہ آواز میں پڑھ کر فارغ ہو گاتواللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرمائے گا : ’’اے میرے بندے!تیری نیکیوں کو میں نے اپنی مخلوق پر ظاہر کیا اور تیر ی بُرائیوں کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی فرمائی ، اے میرے فرشتو! اس کو میرے عفوو کرم سے جنت میں لے جاؤ۔ ‘‘حضرتِ سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آد م صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بارگاہِ الٰہی میں اپنی اُمَّت کے گناہوں کے متعلق دعا کی اور عرض کی : ’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ !تو اِن کا حساب میرے حوالے کر دے تا کہ اِن کی بُرائیوں پر میرے علاوہ کوئی اور آگاہ نہ ہو۔ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی : ’’اے محبوب! یہ تیری اُمَّت ہے ، میں اِس پر تجھ سے زیادہ رحم فرمانے والا ہو ں ، میں اِن کا حساب کسی کے حوالے نہیں کروں گا تا کہ میرے علاوہ کوئی اِن کی برائیاں نہ دیکھے ۔ ‘‘مدنی گلدستہ
’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1)مجاہر یعنی اپنے گناہ کا خود اِظہار کرنے والے کے سوا ساری اُمَّت کے لیے معافی ہے۔
(2)گناہ کا اِعلان کرنا بھی گناہ ہے ، لہٰذا گناہوں سے بھی اپنے آپ کو ہردم بچایا جائے اور خدانخواستہ اگر گناہ ہو بھی جائے تو اُس کا اِظہار نہ کیا جائے بلکہ فوراً اُس گناہ سے توبہ کرلی جائے۔
(3)بہت بدنصیب ہے وہ شخص کہ جس کے گناہوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ چھپائے مگر وہ خود اُس کو ظاہر کردے۔
(4)اپنے گناہ کو ظاہر کرنے والے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے کہ کل بروزِ قیامت بھی اُس کی پردہ پوشی نہ کی جائے گی ، حتّٰی کہ اُس کی غیبت کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ خود اپنا پردہ دار نہیں لہٰذا گناہ اور گناہ کے اِظہار دونوں سے بچنا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچنے ، دوسروں کو بچانے ، نیکیاں کرنے دوسروں کو
ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے ، مسلمانوں کی پردہ پوشی کرنے یعنی اُن کے عیوب کو ظاہر نہ کرنے اور اپنے گناہوں یا عیوب کو بھی چھپانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 241