Main Icon

مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 242

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا زَنَتِ الْاَمَةُ فَتَبيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ اِنْ زَنَتِ الثَّانِيَةَ فَلْيَجْلِدْهَا الحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ اِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَر . ( )

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:اذا زنت الامة فتبين زناها فليجلدها الحد ولا يثرب عليها ثم ان زنت الثانية فليجلدها الحد ولا يثرب عليها ثم ان زنت الثالثة فليبعها ولو بحبل من شعر . ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جب کسی لونڈی کا زنا ظاہر ہو جائے تو اُسے بطورِ حد کوڑے لگائے جائیں لیکن اُسے ملامت نہ کیا جائے ، پھر اگر دوبارہ زنا کرے تو بطورِ حد کوڑے لگائےجائیں اور اِس پر اُسے ملامت نہ کیا جائے ، پھر اگر تیسری بار زنا کرے تو اسے بیچ دو اگر چہ بال کی رسی کے عوض۔ ‘‘

شرح حدیث

ملامت نہ کرنے کا معنٰی:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ملامت نہ کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ اُس کی حد میں اِضافہ نہ کیا جائے اور اُسے زبان سے ایذا نہ دی جائے۔ تیسری بار زنا کرنے پر اُس کو بالوں کی رسی کے عوض فروخت کیا جائے۔ اِس کلام سے فروخت کرنے میں مبالغہ کرنا مقصود ہے اور رسی کے ذِکر سے مراد اُس کو کم قیمت پر فرخت کرنا ہے ۔ ‘‘( )غلام اور لونڈی کو رجم نہیں کیا جائے گا:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں اِس بات کی دلیل

ہے کہ لونڈی اور غلام کو رجم نہیں کیا جائے گا ، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں ، کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے : ’’انہیں بطورِ حد کوڑے لگائے جائیں۔ ‘‘ اور یہاں اِس با ت کا ذکر نہیں کہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ اورزانی کو ملامت نہیں کیا جائے گا صرف اُس پر حد قائم کی جائے ۔ ‘‘( )
زانی یا زانیہ پر حد لگانے کے مختلف اَحکام:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’جب کسی لونڈی کا زنا کرنا ظاہر ہو جائے ، اِس طرح کہ کسی نے اُس کو دیکھ لیا ہو یا خود اُس نے اِقرار کیا ہویا اُس کے خلاف گواہ قائم ہو جائیں تو اُسے بطور ِحد کوڑے لگائے جائیں۔ حد سے پچاس 50کوڑے مراد ہیں لیکن اُسے گناہ کرنے پر جھڑکا نہ جائےمثلاًاے زانیہ! اے فاجرہ !وغیرہ یوں نہ کہا جائے کیونکہ یہ فحش گوئی ہے۔ پھر اگر ایک بار حد لگنے کے بعد دوبارہ زنا کرےتو بطور حد کوڑے لگائے جائیں لیکن اب بھی جھڑکا نہ جائے پھر اگر تیسری بار زنا کرے تو اسے بیچ دو۔ بیچنے والے کے لئے ضروری ہے کہ خریدنے والے کو لونڈی کا حال بتا دے کیونکہ یہ عیب ہےاور چیز بیچتے وقت اُس میں موجود عیب بتانا واجب ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جوچیز اپنے لئے پسند نہیں و ہ اپنے مسلمان بھائی کو بیچنا کیسا؟اس کا جواب یہ ہے کہ شاید خریدار کے پاس وہ اس گناہ سے باز آ جا ئے کہ وہ اپنی ذات کو پاک دامن کردےیا خریدار کے رُعب کی وجہ سے باز آ جائےیا اُس لونڈی پر اِحسان و توسیع کرنے کی وجہ سے وہ باز آجائے یا وہ خریدنے والا اُس کی شادی کرادے جس کی وجہ سے باز آجائے۔ ‘‘( )اِسلام میں زِنا کی مذمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں زِنا اور اُس کی سزا کابیان ہے ، واضح رہے کہ زِنا کی اِسلام میں بہت شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔ زانی یا زانیہ پر دنیا میں تو شرعی سزا مُقَرَّر ہے مگر اِن دونوں کو آخرت میں بھی نہایت ہی ذِلَّت کا سامنا ہوگا۔ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی

کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۴۸صفحات پر مشتمل کتاب ’’نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں ‘‘صفحہ ۳۴ تا ۳۸پرسے زنا کی مذمت پر چند روایات پیش خدمت ہیں :
حضور نبی پاک ، صاحب لَولَاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كافرمانِ عبرت نشان ہے : ’’زانی قیامت کے دِن اِس حال میں آئیں گے کہ اُن کے چہرے آگ کی طرح بھڑک رہے ہوں گے ، وہ اپنی بدبودار شرمگاہوں کی وجہ سے مخلوق میں پہچانے جائیں گے ، اُن کی شرم گاہیں بدبودار ہوں گی ، اُن کو منہ کے بل جہنم کی طرف گھسیٹاجائے گا ، جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو داروغہ جہنم حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام اُن کو آگ کی ایسی قمیص پہنائیں گے کہ اگر اُس کو اونچے اور مضبوط پہاڑکی چوٹی پرلمحہ بھر کے لئے رکھ دیاجائے تووہ جل کر راکھ ہوجائے ۔ پھر حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے : ’’اےعذاب کے فرشتو!اِن زانیوں کی آنکھوں کوآگ کی سلائیوں سے داغ دوجس طرح کہ یہ حرام دیکھتے تھے ، اِن کے ہاتھوں کوآگ کی زنجیروں سے جکڑدو جس طرح کہ یہ حرام کی طرف ہاتھ بڑھاتے تھے ، اِن کے پاؤں کو آگ کی بیڑیوں سے باندھ دو جس طرح کہ یہ حرام کی طرف چلتے تھے ۔ ‘‘عذاب کے فرشتے کہیں گے : ’’ہاں!ہاں! ضرور۔ ‘‘تو وہ اُن کے ہاتھوں اور پاؤں کوزنجیروں میں جکڑدیں گے اور اُن کی آنکھیں آگ کی سلائیوں سے داغ دیں گے تووہ چیخ وپکار کرتے ہوئے فریاد کریں گے : ’’اے عذاب کے فرشتو!ہم پر رحم کرو ، ایک لمحے کے لئے تو ہم سے عذاب کم کردو۔ ‘‘فرشتے کہیں گے : ’’ہم تم پرکیسے رحم کریں جبکہ ربّ العالمین قہاروجبار جَلَّ جَلَالُہُ تم پرغضب فرماتا ہے ۔ ‘‘
زِنا کے دُنیوی و اُخروی نقصانات:تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے : ’’زناسے بچو کیونکہ اس میں چھ نقصانات ہیں ، تین دنیامیں اور تین آخرت میں : دنیاکے تین نقصانات یہ ہیں : (1)زنا زانی کے چہرے کی خوبصورتی ختم کردیتاہے۔ (2)اسے محتاج وفقیر بنادیتاہے۔ (3)اور اُس کی عمر گھٹا دیتا ہے۔ آخرت کے تین نقصانات یہ ہیں : (1)زنااللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی(2) کڑے وبُرے حساب اور(3)جہنم میں مدّتوں رہنے کاسبب ہے۔ ‘‘
اِس اُمَّت کا نصف عذاب:نُور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جس نے کسی شادی شدہ عورت سے زنا کیا تو قبرمیں اِس اُمَّت کانصف عذاب اُس مَرد اور عورت کو ہوگا۔ اورجب قیامت کادن ہوگاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس زانی کی نیکیاں اُس عورت کے شوہر کو دے دے گااور اُس کے شوہر کے گناہ اُس زانی کے ذمہ ڈال دے گااور اُسے جہنم میں ڈال دے گااوریہ اُس وقت ہوگا جب شوہر کو زنا کاعلم نہ ہوا ، اور اگر اُس کے شوہر کو خبرہوئی کہ کسی نے اُس کی بیوی سے زناکیا اوروہ خاموش رہاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس پر جنت کوحرام فرمادے گا۔ اِس لئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جنت کے دروازے پر لکھ دیاہے کہ تُو ’’دُیُّوث‘‘پر حرام ہے۔ (اوردیّوث وہ ہوتاہے) جسے اپنے اہل خانہ کی ناپسندیدہ بات (یعنی کسی بدکاری) کا علم ہو اور وہ خاموش رہے ایساشخص کبھی بھی جنت میں داخل نہ ہوگااور بے شک ساتوں آسمان زانی اور دیوث پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ ‘‘شرمگاہوں پر آگ دہکتی ہوگی:بعض آسمانی صحیفوں میں ہے : زانی لوگ قیامت کے دِن اِس حال میں اُٹھائے جائیں گے کہ اُن کی شرمگاہوں پر آگ دہکتی ہوگی ، اُن کے ہاتھ اُن کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہوں گے ، عذاب کے فرشتے اُن کو گھسیٹتے ہوئے صدالگائیں گے : ’’اے لوگو!یہ زانی ہیں جن کے ہاتھ گردنوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اور جو اپنی شرمگاہوں میں آگ لئے ہوئے آئے ہیں۔ ‘‘پھر اُن کی شرمگاہوں کو وسیع کر دیاجائے گاجس سے ان کی شرمگاہوں سے نہایت ہی سخت بدبودار آگ کی بھاپ نکلے گی ، عذاب کے فرشتے کہیں گے : ’’یہ اِن زانیوں کی شرمگاہوں کی بدبوہے جنہوں نے زناکرنے کے بعد توبہ نہیں کی تھی۔ تم سب اِن پر لعنت کرو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِن پر لعنت ہو۔ ‘‘اس وقت ہر نیک وبد اُن پر لعنت کرتے ہوئے کہے گا : ’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ تُو ان زانیوں پر لعنت فرما۔ ‘‘زانی مَردوں وعورتوں کا ذلت ناک انجام:سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عِبرت نشان ہے : ’’شبِ

معراج میں نے کچھ مَردوں اور عورتوں کو دیکھاکہ سانپوں اور بچھوؤں کے ساتھ قید ہیں اور وہ اُن کو ڈس رہے ہیں۔ ہر کسی کی شرمگاہ کو سانپوں اور بچھوؤں کے درمیان گھسیٹا جارہاہے۔ بچھواپنے ڈنکوں سے انہیں ذلیل کررہے ہیں اور ہر ڈنک میں زہر کی ایک تھیلی ہے وہ جسے بھی کاٹتے ہیں اس کے جسم میں زہریلی تھیلی اُنڈیل دیتے ہیں اور اُن کی شرمگاہوں سے پیپ بہتاہے جس کی بدبوسے جہنمی چیختے چلاتے ہیں اور وہ اپنے بالوں سے لٹکائے گئے ہیں۔ میں نے جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَامسے دریافت فرمایا : ’’اے جبرائیل! یہ کون ہیں؟‘‘جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی : ’’یہ زانی مَرد اور زانی عورتیں ہیں ۔ ‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! لرز جائیے ، خوفِ خدا سے کانپ جائیے ، جہنم کا عذاب سہنے کی کسی میں طاقت نہیں ، آج دنیا کی معمولی سی تکلیف پر بسا اَوقات ہماری چیخیں نکل جاتی ہیں تو جہنم کا دردناک عذاب کیسے سہیں گے؟ یقیناً سمجھداری اِسی میں ہے کہ موت سے پہلے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرلیجئے ، اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرلیجئے ، نیکیوں پر کمربستہ ہوجائیے ، گناہوں سے پیچھا چھڑا لیجئے۔ نہ جانے کب موت ہمیں دُنیا کی رونقوں سے اُٹھا کر ویران قبر کی تنہائیوں میں پہنچا دے ، جہاں نہ صرف گھپ اَندھیرا بلکہ وحشت کا بسیرا بھی ہوگا ، کوئی مُونس نہ کوئی ہمدرد ، آج موقع ہے تمام گناہوں سے توبہ کرکے ربّ عَزَّوَجَلَّ کو منالیجئے۔
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی
مدنی گلدستہ
سیدنا ’’عثمان‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)گناہ کرنے والے پر شرعی حد جاری کی جائے لیکن اُس کے گناہ کا چرچا نہ کیا جائے ۔
(2)گناہ کرنے والے پر شرعی حد قائم کر نے کے بعد اُسے ملامت کرنا گویا کہ شرعی حد میں اپنی طرف

سے اِضا فہ کرنا ہےاور اِس چیز سے ہمیں اِسلام نے منع فرمایا ۔
(3)زنا ناجائز وحرام ، گناہِ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے نیز زِنا کی اسلام میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔
(4)زانی مرد اور زانیہ عورت کے لیے دنیا میں تو شرعی سزا مقرر ہےلیکن آخرت میں بھی اِن دونوں کو نہایت ہی ذِلَّت ورُسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(5)زنا کرنے والا اگر بغیر توبہ کے مَر گیا تو آخرت میں قہر قہار و غضب جبار کا شکار ہوگا اور دنیا میں زنا کی نحوست یہ ہے کہ زانی کے چہرے کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے ، زنازانی کو محتاج و فقیر بنا دیتا ہے اور اُس کی عمر کم ہو جاتی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں زِنا جیسے قبیح گناہ سے بچنے اور دوسروں کے عُیُوب کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 242