Main Icon

مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 243

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ ، قَالَ:اُتِیَ النَّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ خَمْرًا قَالَ : اضْربُوهُ قَالَ اَبُوْ هُرَيْرَةَ : فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ والضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعضُ القَومِ : اَخْزَاكَ اللهُ قَالَ : لَا تَقُوْلُوْا هٰكَذالَا تُعِيْنُوْا عَلَيهِ الشَّيْطَانَ.( )

وعنه ، قال:اتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم برجل قد شرب خمرا قال : اضربوه قال ابو هريرة : فمنا الضارب بيده والضارب بنعله والضارب بثوبه فلما انصرف قال بعض القوم : اخزاك الله قال : لا تقولوا هكذالا تعينوا عليه الشيطان.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص کو حا ضر کیا گیا جس نے شراب پی ہوئی تھی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اس کو مارو۔ ‘‘سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ہم میں سے بعض لوگوں نے اسے

ہاتھ سے مارا ، بعض نے جوتے سےاور بعض نے کپڑے سے ۔ ‘‘جب وہ واپس لوٹا تو کسی نے کہا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے رُسوا کرے۔ ‘‘تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’اِس طرح نہ کہو ، اِس کے خلاف شیطان کی مدد مت کرو۔ ‘‘

شرح حدیث

بددعا سےممانعت کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یعنی جب تم اُس کے خلاف ذلیل و رُسوا ہونے کی بد دعاکرو گےتو تم شیطان کی مدد کروگےکیونکہ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے اُس کے خلاف بدعا کی جائے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے منع نہ فرمائیں تو لوگ اس سے متنفر ہوں گے یا لوگ یہ گمان کریں گے کہ یہ شخص اس بد عا کا مستحق ہے ، پھر شیطان اس کے دل میں وسوسے ڈالےگا ۔ ‘‘( )
علامہ شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس پر دعائے بد کرنے سے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِس لئے منع فرمایا کہ اس کا اندیشہ تھا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے جس پر دعا ئےبد کی گئی ، اِس سے اُس کے دل میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نفرت پید ا ہو جائے ۔ ‘‘( )
شیطان کی اپنے مقصدمیں کامیابی:مذکورہ حدیث پاک میں فرمایاگیا : ’’اس کے خلاف شیطان کی مدد مت کرو۔ ‘‘عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اِس کے تحت فرماتے ہیں : ’’کیونکہ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ شخص گناہ کرے اور ذلیل و رُسوا ہوتا رہے اور جب تم اُس کے لئے بدعا کروگے تو شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا ۔ ‘‘( )
اِسلام میں شراب کی مذمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شراب پیناناجائز وحرام اور کبیرہ گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰)(پ۷ ، المائدۃ : ۹۰)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔
حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ہرنشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔ ‘‘( )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص شراب کاایک گھونٹ پئے گاتو چالیس دن تک اُس کی نماز قبول نہ ہوگی۔ ‘‘( )
شراب نوشی کی دس بُری خصلتیں:(1)یہ بندے کی عقل میں فتور ڈال دیتی ہے اِس طرح وہ بچو ں کے لئے تماشااور مذاق بن جاتاہے۔ امام ابن ابی الدنیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’میں نے ایک شرابی کوپیشاب کرتے ہوئے دیکھا وہ اپنے منہ پر پیشاب مل رہاتھا اور کہہ رہاتھا : ’’ یاالٰہی عَزَّوَجَلَّ ! مجھے کثرت سے تو بہ کرنے والوں اور پاکیز ہ رہنے والوں میں شامل فرما۔ ‘‘
(2)یہ مال کو ضائع اور بر باد کرتی ہے اور تنگدستی کا سبب بنتی ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دعا مانگی : ’’یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ!ہمیں شراب کے بارے میں واضح حکم ارشاد فرمادے کیونکہ یہ

مال کو برباد اور عقل کو ختم کردیتی ہے۔ ‘‘
(3) یہ عداوت اور دشمنی کاسبب ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے :
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)(پ۷ ، المائدۃ : ۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان : شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔
(4) شراب کھانے کی لذت اور درست کلام سے شرابی کو محروم کردیتی ہے۔
(5)بعض اوقات شراب ، شرابی کی بیوی کو اس پر حرام کردیتی ہے او روہ زنا میں مبتلاہوجاتا ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ شرابی نشہ میں مدہوش ہوکراکثر طلاق دے دیتا ہے اور بعض اوقات لاشعوری طور پر قسم توڑڈالتا ہے تو اپنی حرام کی ہوئی بیوی سے زناکربیٹھتا ہے ۔
(6) یہ ہر برائی کی کنجی ہے اور شرابی کو بہت سے گناہوں میں مبتلاکر دیتی ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : ’’اے لوگو!شراب نوشی سے بچتے رہوکیونکہ یہ تمام بُرائیوں کی جڑ ہے۔ ‘‘
(7) شراب نوشی کاساتواں نقصان یہ ہے کہ یہ شرابی کو بدکاروں کی مجلس میں لے جاتی ہے اپنی بد بو سے اُس کے کاتب فرشتو ں کوایذا دیتی ہے ۔
(8) یہ شرابی پر آسمانوں کے دروازے بند کردیتی ہے ، چالیس دن تک نہ اِس کا کوئی عمل اُوپر پہنچتا ہے نہ ہی دُعا ۔
(9)شراب نوشی ، شرابی پر اَسّی کو ڑے واجب کردیتی ہے لہٰذا اگر وہ دنیا میں اِس سزا سے بچ بھی گیا تو آخرت میں مخلوق کے سامنے اُسے کوڑے مارے جائیں گے۔
(10) یہ شرابی کی جان اور ایمان کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اِس لئے مرتے وقت اِیمان چِھن جانے

کا خدشہ رہتاہے۔ ( )
شراب کی نحوست:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے شراب نوشی کتنی بُری خصلت ہے ، یہ بندے کو کہیں کا نہیں چھوڑتی ، شراب بُرائیوں کی ماں ہے ، فقط شراب نوشی کے سبب آدمی کئی گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے ، شراب کی نحوست کے سبب شرابی کی دنیا وآخرت دونوں تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں۔ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’میں نے ایک شخص کو نزع کے عالَم میں دیکھا کہ جب اُسے کلمۂ طیبہ کی تلقین کی جاتی تو وہ کہتا : ’’خود بھی پیو اورمجھے بھی پلاؤ ۔ ‘‘حضرت سیدنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جب شرابی مرجائے تو اُسے دفن کردو اور مجھے کسی جگہ نظر بند کر کے اُس کی قبر کھودو ، اگر اُسے قبلہ سے پھرا ہوا نہ پاؤ تو مجھے قتل کر دینا۔ ‘‘( )شرابی کی توبہ۔۔۔:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گناہوں سے بچنے کا ایک ذریعہ اچھی صحبت بھی ہے ، اچھی صحبت بندے کو اچھا بنادیتی ہے اور بری صحبت برا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوت اسلامی کا مدنی ماحول ہمیں ایک نیک اور اچھی صحبت فراہم کرتا ہے ، آپ بھی دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ، کئی ایسے نوجوان جو گناہوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے تھے ، شراب وکباب کی محفلیں ان کی زندگی کا جزو لازم تھیں ، دعوت اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہوگیا اور وہ گناہوں بھری زندگی سے تائب ہوکر سنتوں کے پیکر بن گئے۔ ترغیب کے لیے ایک مدنی بہار پیش خدمت ہے :
پنجاب(پاکستان) کے شہر گلزارِ طیبہ (سرگودھا)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُبَاب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل(مَعَاذَ اللہ)میں نہ صرف خُودشراب نوشی کا

عادی تھا بلکہ شراب کشید کر کے (یعنی بناکر)سپلائی کرنے کا دھندہ بھی کرتاتھا۔ لوگوں کو تنگ کرنا ، فحش گالیاں دینا ، فائرنگ کرکے خوف وہراس پھیلانا میری پہچانِ بد بن چکا تھا۔ فائرنگ کرنے کے جُرم میں گرفتار ہو کرکئی مرتبہ جیل کی سزا بھی کاٹی ۔ الغرض میری غلط کاریوں کی فہرست کافی طویل ہے ۔ میں وقت کی دولت عذاباتِ جہنم کی خریداری میں صرف (یعنی خرچ) کرنے میں مصروف تھاکہ ایک دن میری ملاقات سبز سبز عمامہ شریف سجائے سنّت کے مطابق سفید لباس میں ملبوس ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ہوئی۔ اُس اسلامی بھائی کی ملنساری اور عاجزی بھرا لہجہ مجھے ایسا پسند آیا کہ میں اُن کی نیکی کی دعوت سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوگیا ۔ انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی اور بانیٔ دعوتِ اسلامی امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمداِلیاس عطّاؔرقادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مختصر تعارُف کروایا اور مجھے اُن کے سنّتوں بھرے بیان کی کیسٹ سننے کی ترغیب دلائی ، میں نے حامی بھر لی ۔ اُن کی انفرادی کوشش نے میری آتشِ شوق کو کچھ ایسا بھڑکا دیا کہ میں پہلی فرصت میں مکتبۃ المدینہ پہنچا اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کی کیسٹ ’’قبرکی پہلی رات‘‘ خریدی اور گھر جا کر یکسوئی سے سننا شروع کر دی۔
بیان کیا تھا !عبرت کے تازیانے تھے جو مجھ گناہ گار کے دل ودماغ پر برس رہے تھے۔ قبر میں طویل عرصہ رہنا اس قدر تکلیف دہ بھی ہوسکتا ہے اس کا اندازہ مجھے زندگی میں پہلی بار یہ بیان سن کر ہوا۔ عذاباتِ قبر کے بارے میں سُن کر تومیری سانسیں رُکنا شروع ہوگئیں ، میں پہلی بار اپنے انجام کے بارے میں فکر مند ہوا کہ’’ مرنے کے بعد میرا کیا بنے گا؟‘‘آنکھوں سے اشکِ ندامت بہہ نکلے ۔ میں نے اسی وقت اپنے سارے گناہوں سے توبہ کی اور چہرے پر سرکارِ دو عالم ، نور مجسم ، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کی نشانی یعنی داڑھی شریف سجانے کی بھی نیت کر لی ۔
میںدعوتِ اسلامی کے مہکتے مہکاتے مَدَنی ماحول سے منسلک ہوگیا جس کی بَرَکت سے نماز پنجگانہ کی ادائیگی اور عاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنالیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّتادمِ تحریر دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول میں ذیلی مشاورت کے خادم (یعنی نگران)

کی حیثیت سے سنتوں کی خدمت کی سعادت حاصل کر رہاہوں۔
چھوڑیں مے نوشیاں ، مت بکیں گالیاں … آئیں توبہ کریں ، قافلے میں چلو
اے شرابی تو آ ، آ جواری تو آ … چھوٹیں بد عادتیں ، قافلے میں چلو
ہوگا لطف خدا ، آؤ بھائی دعا … مل کے سارے کریں ، قافلے میں چلو
مدنی گلدستہ
’’لُطْفِ خُدا ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)بدکاری کرنے والے شخص کو قاضی یا حاکم کے سامنے پیش کیا جائے اور وہی اُسے سزا دے۔
(2)گناہ کرنے پر کسی کو ذلیل و رُسوا ہونے کی بد دعا دینا گو یا کہ اُس کے خلاف شیطان کی مدد کرنا ہے کہ شیطان یہی چاہتا ہے یہ بار بار گناہ کرے اور لوگوں کے سامنے ذلیل و رُسوا ہوتا رہے ۔
(3)شراب بُرائیوں کی ماں ہےکہ شراب نوشی کے سبب آدمی کئی گناہوں میں مبتلا ہوجاتاہے۔
(4)شرابی دنیا وآخرت دونوں میں ذِلَّت ورُسوائی کا شکار ہوتاہے۔
(5)شراب کے دُنیوی نقصات کے ساتھ ساتھ اُخروِی نقصانات بھی ہیں۔
(6)شرابی کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا ، شرابی کے لیے آسمانوں کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ، چالیس دن تک اُس کا کوئی عمل اُوپر نہیں پہنچتا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں گناہوں سے توبہ کرنے والے یا جسے اُس گناہ کی شرعی حد لگادی گئی ہو اُسے ذلیل ورُسوا کرنے سے محفوظ فرمائےاور شراب نوشی جیسی مُوذی بیماری کے قُرب سے دُور فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 243