Main Icon

باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1146

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ لِبِلَالٍ:يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِاَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْاِسْلَامِ فَاِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ قَالَ:مَا عَمِلْتُ عَمَلًا اَرْجَى عِنْدِيْ مِنْ اَنِّي لَمْ اَتَطَهَّرْ طُهُوْرًا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ اَوْ نَهَارٍ اِلَّاصَلَّيْتُ بِذٰلِكَ الطُّهُوْرِ مَا كُتِبَ لِي اَنْ اُصَلِّيَ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لبلال:يا بلال حدثني بارجى عمل عملته في الاسلام فاني سمعت دف نعليك بين يدي في الجنة قال:ما عملت عملا ارجى عندي من اني لم اتطهر طهورا في ساعة من ليل او نهار الاصليت بذلك الطهور ما كتب لي ان اصلي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا:”اے بلال! تم نے اِسلام میں سب سے زیادہ امید والا جو کام کیا ہے اس کے بارے میں مجھے بتاؤکیونکہ میں نے جنت میں تمہارے جوتوں کی آہٹ اپنے آگے سنی ہے۔“ حضرت سَیِّدُنابلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :میرے نزدیک سب سے زیادہ امید والا عمل یہ ہی ہے کہ میں دن یا رات کی کسی گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے میرےمقدر میں جو نماز ہوتی ہے اُس کو پڑھ لیتا ہوں۔“

شرح حدیث

شرح حدیث:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: غالِب یہ ہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو کسی شب خواب میں معراج ہوئی تب اس کے سویرے کو حضرت بلال سے یہ سوال فرمایا یا یہ سب حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے جسمانی معراج میں ملاحظہ فرمایا تھا مگر یہ سوال کسی اور دن فجر کی نماز کے بعد فرمایا،یہ ہی معنیٰ زیادہ ظاہر ہیں۔حضرت بلال کا حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے آگے جنت میں جانا ایسا ہے جیسے نوکر چاکر بادشاہوں کے آگے ہٹو بچو کرتے ہوئے چلتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اے بلال!تم نے ایسا کون سا کام کیا جس سے تم کو میری یہ خدمت مُیَسَّر ہوئی۔خیال رہے کہ معراج کی رات نہ تو حضرت بلال حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ساتھ جنت میں گئے نہ آپ کو معراج ہوئی بلکہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اس رات وہ واقعہ ملاحظہ فرمایا جو قیامت کے بعد ہوگا کہ تمام خلق سے پہلے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمجنت میں داخل ہوں گے اس طرح کہ حضرت بلال خادمانہ حیثیت سے آگے آگے ہوں گے۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہاﷲ تعالٰینے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو لوگوں کے انجام پر خبردار کیا کہ کون جنتی ہے اور کون دوزخی اور کون کس درجہ کا جنتی، دوزخی ہے،یہ علومِ خَمسہ میں سے ہیں اور دوسرے یہ کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے کان و آنکھ لاکھوں برس بعد ہونے والے واقعات کو سن لیتے ہیں،دیکھ لیتے ہیں۔یہ واقعہ اس تاریخ سے کئی لاکھ سال بعد ہو گا مگر قربان ان کانوں کے آج ہی سن رہے ہیں۔تیسرے یہ کہ انسان جس حال میں زندگی گزارے گا اسی حال میں وہاں ہوگا۔حضرت بلال نے اپنی زندگی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں گزاری وہاں بھی خادم ہو کر ہی اٹھے۔اﷲ تعالٰیحضرت بلال کے صدقے مجھے نصیب کرے کہ وہاں بھی اپنے پیارے محبوب کے گُن گاؤں،ان کی نعتیں لکھوں اور پڑھوں۔شعر
صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے
لوا کے تلے ثنا میں کھلے رضؔا کی زبان تمہارے لیے
’’حضرت سَیِّدُنابلال
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :میرے نزدیک سب سے زیادہ امید والا عمل یہ ہی ہے کہ میں دن یا رات کی کسی گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے میرے مقدر میں جونماز ہوتی ہے اُس کو پڑھ لیتا ہوں۔‘‘یعنی دن رات میں جب بھی میں نے وضو یا غسل کیا تو دو نفلتَحِیّۃُ الْوُضوپڑھ لیے مگر یہاں اوقاتِ غیرمکروہ میں پڑھنا مراد ہے تاکہ یہ حدیث ممانعت کی احادیث کے خلاف نہ ہو۔خیال رہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا حضرت بلال سے یہ پوچھنا اسی لیے تھا تاکہ آپ یہ جواب دیں اور اُمَّت اس پر عمل کرے ورنہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمتو ہر شخص کے ہر چھپے کھلے عمل سے واقف ہیں،نیز یہ درجہ صرف حضرت بلال کو ان نوافل کا ہے۔ہزار ہا آدمی یہ نوافل پڑھیں گے یا پابندی کریں گے مگر انہیں یہ خدمت نصیب نہیں۔حضرت بلالرَضِیَ اﷲ عَنْہُکو بتانے کی وجہ:علامہ فقیہ ابنِ ملک حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت ملاحظہ فرمائی اسے حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو بتانے کی وجہ یہ تھی تاکہ ان کا دل خوش ہووہ اس فضیلت والے عمل پر ہمیشگی اختیار کریں اور سننے والوں کو اس کی ترغیب ہو۔تحیۃ الوضو کی بدولت ملنے والا رتبہ:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ کتاب”بہشت کی کنجیاں“ صفحہ 77پر ہے: ”جنت میں حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے جوتوں کی آہٹ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے آگے سنی، اِس کا مطلب یہ ہے کہ شبِ معراج میں جب حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنت کی سیر فرما کر جنت میں اپنے اُمتیوں کے درجات کا حال دیکھاتوحضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکواپنے آگے آگے جنت میں چلتے ہوئے دیکھا۔ حضرت بِلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا جنت میں حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آگے آگے چلنا یہ کوئی بے ادبی کی بات نہیں۔ بادشاہ کے کچھ خادم بادشاہ کے پیچھے پیچھے اور کچھ خادم مثلاًنقیب اور چوبدار آگے آگے چلاکرتے ہیں اوریہ دونوں بادشاہ کے باادب خادم ہی ہوا کرتے ہیں۔ اس حدیث سے حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے بلند درجے کا پتا چلتا ہے کہ وہ جنت میں حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نقیب بن کر حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےآگے آگے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آمدآمد کا اعلان کرتے ہوئے چلیں گے اور حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رُتبہ بلند ان کو نمازتَحِیّۃُ الْوُضوکی بدولت ملا ہے۔نفلی کام پر ہمیشگی کرنا:علامہ ابنِ کمال پاشا حنفیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اس حدیثِ پاک میں یہ دلیل ہے کہ کسی نفلی کام پر ہمیشگی کرنااور اسے مختلف اوقات اور احوال میں اپنے اوپر لازم کرلینے میں عظیم فضل اور بڑا اجر ہےاگرچہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس پر ہمیشگی یا پابندی نہ کی ہو اور نہ وہ عمل صحابہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ہاں مشہور ہو۔ایسے شخص پر جس نے کسی نفلی کام کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہو رَدّ نہیں کیا جائے گاجبکہ وہ اس عمل کے سنتِ مُؤکدہ یا واجب ہونے کا اعتقاد نہ رکھےجیساکہ حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےکیا ۔اس حدیث پاک سے وضو کرنے کے بعدنمازِ تحیۃ الوضو اداکرنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔مدنی گلدستہ’’نوافل‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) وضو یا غسل کے بعد اعضا خشک ہونے سے پہلے دو رکعات تحیۃ الوضوپڑھنا مستحب ہے۔
(2) وضو کرنے کے بعد فرض نماز پڑھی تو یہ نماز بھی تحیۃ الوضو کے قائم مقام ہوگئی ۔
(3) مکروہ وقت میں تحیۃ الوضو کے نوافل نہیں پڑھے جائیں گے۔
(4) نفلی کام پابندی سے کرنا اور اس پر ہمیشگی اختیار کرنا بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔
(5) کسی نفلی کام کو واجب یا سُنَّتِ مُؤکدہ سمجھ کے کرنا جائز نہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں پابندی سے نمازِتحیۃ الوضو ودیگرنوافل وسُنَن ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1146