باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1146
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ لِبِلَالٍ:يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِاَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْاِسْلَامِ فَاِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ قَالَ:مَا عَمِلْتُ عَمَلًا اَرْجَى عِنْدِيْ مِنْ اَنِّي لَمْ اَتَطَهَّرْ طُهُوْرًا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ اَوْ نَهَارٍ اِلَّاصَلَّيْتُ بِذٰلِكَ الطُّهُوْرِ مَا كُتِبَ لِي اَنْ اُصَلِّيَ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لبلال:يا بلال حدثني بارجى عمل عملته في الاسلام فاني سمعت دف نعليك بين يدي في الجنة قال:ما عملت عملا ارجى عندي من اني لم اتطهر طهورا في ساعة من ليل او نهار الاصليت بذلك الطهور ما كتب لي ان اصلي.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا:”اے بلال! تم نے اِسلام میں سب سے زیادہ امید والا جو کام کیا ہے اس کے بارے میں مجھے بتاؤکیونکہ میں نے جنت میں تمہارے جوتوں کی آہٹ اپنے آگے سنی ہے۔“ حضرت سَیِّدُنابلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :میرے نزدیک سب سے زیادہ امید والا عمل یہ ہی ہے کہ میں دن یا رات کی کسی گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے میرےمقدر میں جو نماز ہوتی ہے اُس کو پڑھ لیتا ہوں۔“
شرح حدیث
شرح حدیث:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: غالِب یہ ہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو کسی شب خواب میں معراج ہوئی تب اس کے سویرے کو حضرت بلال سے یہ سوال فرمایا یا یہ سب حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے جسمانی معراج میں ملاحظہ فرمایا تھا مگر یہ سوال کسی اور دن فجر کی نماز کے بعد فرمایا،یہ ہی معنیٰ زیادہ ظاہر ہیں۔حضرت بلال کا حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے آگے جنت میں جانا ایسا ہے جیسے نوکر چاکر بادشاہوں کے آگے ہٹو بچو کرتے ہوئے چلتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اے بلال!تم نے ایسا کون سا کام کیا جس سے تم کو میری یہ خدمت مُیَسَّر ہوئی۔خیال رہے کہ معراج کی رات نہ تو حضرت بلال حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ساتھ جنت میں گئے نہ آپ کو معراج ہوئی بلکہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اس رات وہ واقعہ ملاحظہ فرمایا جو قیامت کے بعد ہوگا کہ تمام خلق سے پہلے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمجنت میں داخل ہوں گے اس طرح کہ حضرت بلال خادمانہ حیثیت سے آگے آگے ہوں گے۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہاﷲ تعالٰینے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو لوگوں کے انجام پر خبردار کیا کہ کون جنتی ہے اور کون دوزخی اور کون کس درجہ کا جنتی، دوزخی ہے،یہ علومِ خَمسہ میں سے ہیں اور دوسرے یہ کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے کان و آنکھ لاکھوں برس بعد ہونے والے واقعات کو سن لیتے ہیں،دیکھ لیتے ہیں۔یہ واقعہ اس تاریخ سے کئی لاکھ سال بعد ہو گا مگر قربان ان کانوں کے آج ہی سن رہے ہیں۔تیسرے یہ کہ انسان جس حال میں زندگی گزارے گا اسی حال میں وہاں ہوگا۔حضرت بلال نے اپنی زندگی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں گزاری وہاں بھی خادم ہو کر ہی اٹھے۔اﷲ تعالٰیحضرت بلال کے صدقے مجھے نصیب کرے کہ وہاں بھی اپنے پیارے محبوب کے گُن گاؤں،ان کی نعتیں لکھوں اور پڑھوں۔شعر
صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے
لوا کے تلے ثنا میں کھلے رضؔا کی زبان تمہارے لیے
’’حضرت سَیِّدُنابلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :میرے نزدیک سب سے زیادہ امید والا عمل یہ ہی ہے کہ میں دن یا رات کی کسی گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے میرے مقدر میں جونماز ہوتی ہے اُس کو پڑھ لیتا ہوں۔‘‘یعنی دن رات میں جب بھی میں نے وضو یا غسل کیا تو دو نفلتَحِیّۃُ الْوُضوپڑھ لیے مگر یہاں اوقاتِ غیرمکروہ میں پڑھنا مراد ہے تاکہ یہ حدیث ممانعت کی احادیث کے خلاف نہ ہو۔خیال رہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا حضرت بلال سے یہ پوچھنا اسی لیے تھا تاکہ آپ یہ جواب دیں اور اُمَّت اس پر عمل کرے ورنہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمتو ہر شخص کے ہر چھپے کھلے عمل سے واقف ہیں،نیز یہ درجہ صرف حضرت بلال کو ان نوافل کا ہے۔ہزار ہا آدمی یہ نوافل پڑھیں گے یا پابندی کریں گے مگر انہیں یہ خدمت نصیب نہیں۔حضرت بلالرَضِیَ اﷲ عَنْہُکو بتانے کی وجہ:علامہ فقیہ ابنِ ملک حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت ملاحظہ فرمائی اسے حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو بتانے کی وجہ یہ تھی تاکہ ان کا دل خوش ہووہ اس فضیلت والے عمل پر ہمیشگی اختیار کریں اور سننے والوں کو اس کی ترغیب ہو۔تحیۃ الوضو کی بدولت ملنے والا رتبہ:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ کتاب”بہشت کی کنجیاں“ صفحہ 77پر ہے: ”جنت میں حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے جوتوں کی آہٹ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے آگے سنی، اِس کا مطلب یہ ہے کہ شبِ معراج میں جب حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنت کی سیر فرما کر جنت میں اپنے اُمتیوں کے درجات کا حال دیکھاتوحضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکواپنے آگے آگے جنت میں چلتے ہوئے دیکھا۔ حضرت بِلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا جنت میں حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آگے آگے چلنا یہ کوئی بے ادبی کی بات نہیں۔ بادشاہ کے کچھ خادم بادشاہ کے پیچھے پیچھے اور کچھ خادم مثلاًنقیب اور چوبدار آگے آگے چلاکرتے ہیں اوریہ دونوں بادشاہ کے باادب خادم ہی ہوا کرتے ہیں۔ اس حدیث سے حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے بلند درجے کا پتا چلتا ہے کہ وہ جنت میں حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نقیب بن کر حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےآگے آگے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آمدآمد کا اعلان کرتے ہوئے چلیں گے اور حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رُتبہ بلند ان کو نمازتَحِیّۃُ الْوُضوکی بدولت ملا ہے۔نفلی کام پر ہمیشگی کرنا:علامہ ابنِ کمال پاشا حنفیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اس حدیثِ پاک میں یہ دلیل ہے کہ کسی نفلی کام پر ہمیشگی کرنااور اسے مختلف اوقات اور احوال میں اپنے اوپر لازم کرلینے میں عظیم فضل اور بڑا اجر ہےاگرچہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس پر ہمیشگی یا پابندی نہ کی ہو اور نہ وہ عمل صحابہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ہاں مشہور ہو۔ایسے شخص پر جس نے کسی نفلی کام کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہو رَدّ نہیں کیا جائے گاجبکہ وہ اس عمل کے سنتِ مُؤکدہ یا واجب ہونے کا اعتقاد نہ رکھےجیساکہ حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےکیا ۔اس حدیث پاک سے وضو کرنے کے بعدنمازِ تحیۃ الوضو اداکرنے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔مدنی گلدستہ’’نوافل‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) وضو یا غسل کے بعد اعضا خشک ہونے سے پہلے دو رکعات تحیۃ الوضوپڑھنا مستحب ہے۔
(2) وضو کرنے کے بعد فرض نماز پڑھی تو یہ نماز بھی تحیۃ الوضو کے قائم مقام ہوگئی ۔
(3) مکروہ وقت میں تحیۃ الوضو کے نوافل نہیں پڑھے جائیں گے۔
(4) نفلی کام پابندی سے کرنا اور اس پر ہمیشگی اختیار کرنا بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔
(5) کسی نفلی کام کو واجب یا سُنَّتِ مُؤکدہ سمجھ کے کرنا جائز نہیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں پابندی سے نمازِتحیۃ الوضو ودیگرنوافل وسُنَن ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1146