Main Icon

باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 612

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ. قَالَ رَجُلٌ:اِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ اَنْ يَكُونَ ثَوْ بُهُ حَسَناً، ونَعْلُهُ حَسَنَةً َ؟ قَالَ:اِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ،اَلْكِبْرُ بَطَرُ الحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ.

عن عبدالله بن مسعودرضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر. قال رجل:ان الرجل يحب ان يكون ثو به حسنا، ونعله حسنة ؟ قال:ان الله جميل يحب الجمال،الكبر بطر الحق وغمط الناس.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہووہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی: کوئی شخص یہ پسند کرتاہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں ( تو کیا یہ بھی تکبر ہے )؟ فرمایا :’’بے شک!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجمیل ہے، جمال کو پسند فرماتا ہے،تکبر تو حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کانام ہے۔‘‘

شرح حدیث

رائی کے دانے برابرتکبر:حدیثِ مذکور میں فرمایا گیا کہ ”جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہووہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔“حکیم الامت مفتی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناس کی شرح میں فرماتے ہیں :”اس فرمانِ عالی کے چند معنیٰ ہوسکتے ہیں:*ایک یہ کہ دنیا میں جس کے دل میں رائی برابر کفر ہو وہ جنت میں ہرگز نہ جاوے گا۔کِبْرسے مراداللّٰہورسول کے سامنے غرور کرنا یہ کفر ہے۔*دوسرے یہ کہ دنیا میں جس کے دل میں رائی کے برابر غرور ہوگا وہ جنت میں اوّلاً نہ جائے گا۔*تیسرے یہ کہ جس کے دل میں رائی برابر غرور ہوگا وہ غرور لے کرجنت میں نہ جائے گا پہلے ربّ تعالیٰ اس کے دل سے تکبر دور کردے گا پھراسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۷))(پ۱۴، الحجر:۴۷)( ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئےآپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔)(مزید فرماتےہیں)خیال رہے کہ آگ میںکِبْروغرورہے خاک میں عجز واِنکساری،دیکھ لو باغ، کھیت خاک میں لگتے ہیں آگ میں نہیں لگتے،ایسے ہی ایمان وعرفان کا باغ خاک جیسے عاجِز و مُنکسر دل میں لگتے ہیں آگ جیسے متکبر دل میں نہیں لگتے ہیں۔“اللّٰہجمیل ہے :اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”شارِحینِ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنےاس کے مختلف معانی بیان فرمائے ہیں:*بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکاہرحکم حسین وجمیل ہے ،اس کے سب نام اچھے ہیں اس کی سب صفات جمال وکمال والی ہیں۔*بعض نے فرمایا:جمیل بمعنیمُجْمِلہے یعنی جمال عطا فرمانے والاجیسے کریم بمعنیمُکْرِمیعنی کرم کرنے والا اورسمیع بمعنیٰمُسْمِعیعنی سنانے والا ہے۔*حضرت سیدناامامقُشَیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جمیل بمعنیٰ جلیل ہے۔*علامہ خطّابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:*جمیل کا معنیٰ ہے جمال کامالک ۔*ایک مطلب یہ بیان کیا گیاہےکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے اَفعال جمیل ہیں،وہ تم پر لُطف و کرم فرماتاہے، تم پر تھوڑے کام لازم کرتا ہے،ان کی ادائیگی میں بھی تمہاری مدد فرماتا ہےاور پھربہت زیادہ اَجرعطا فرماتاہے۔‘‘مرآۃُالمناجیح میں حدیث پاک کے اِس حصے ”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجمیل ہے ۔“ کا یہ مطلب بیان کیا گیاہے کہ ربّ تعالیٰ ذات و صفات میں اچھا ہے،جمیل ہے۔ مخلوق اس کی صفات کی مَظہرہے تو مسلمان کو چاہیے کہ اپنی عادات،صورت،لباس،اعمال اچھے رکھے تاکہ ربّ تعالیٰ کی صفتِ جمیل کامَظہر بنے،نیز اِس لباس میں رب تعالیٰ کی نعمت کا اِظہار ہے جومحبوب ہے۔تکبرومتکبرکی مذمت:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!مغرورشخص نہ دنیا میں معزز ہے نہ آخرت میں جبکہ عاجزی وانکساری کرنے والا دنیامیں بھی معزز ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی عزت افزائی ہو گی۔جودنیا میں لوگوں کو حقیر جانتے ہیں بروزِ قیامت انہیں ایسی ذلت و رُسوائی کا سامنا ہوگا کہ لوگ انہیں قدموں سے روندتے ہونگےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں ان کا کوئی مرتبہ و مقام نہ ہوگا ۔چنانچہ*منقول ہے کہ بروزِقیامت مُتکبِّرِین کوانسانی شکل والی چیونٹیوں کی صورت میں ا ٹھایا جائے گا، ہرطرف سے ان پرذِلَّت طاری ہو گی،انہیں جہنم کے’’بُولَس‘‘ نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گااوربہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آ جائے گی، انہیں’’طِیْنَةُ الْخَــبَال‘‘یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔*اورایک روایت میں ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں ان کی کوئی قدرومنزلت نہ ہوگی اس لئے لوگ انہیں اپنے قدموں تلے روندتے ہوں گے۔*حضرت سیِّدُنا وَہْب بنمُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے جب جنتِ عدن کو پیدا فرمایا تو اس کی طرف دیکھ کرفرمایا:”تو ہر مُتکبرشخص پر حرام ہے۔“*حضرت سیِّدُنا نُعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتےہیں :”بے شک !شیطان کے بہت سے پھندے اور جال ہیں جن میں سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں پر اِترانا، اس کے انعامات پر فخر کرنا، بندگانِ خُدا پر تکبُّر کرنا اورغیرُ اللّٰہکے لئے خواہش کے پیچھے چلنابھی ہے۔“عاجزی کی فضیلت:تکبر کی ضد عاجزی ہے۔*آقائے دو جہان، رحمتِ عالَمیانصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتعلیمِ اُمَّت کے لئےوقتاً فوقتاًعاجزی کا اظہار فرماتے اور اپنے صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوبھی عاجزی و اِنکساری کا درس دیتے۔رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:” جو شخص عاجزی کرےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بلندی عطافرماتا ہے اور جو تکبر کرےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے ذلیل کرتا ہے۔*حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:ہرشخص کے سرمیں ایک لگام ہوتی ہے جسے ایک فرشتہ تھامے ہوتا ہے، اگر وہ تواضع کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: ’’اس کی قدرومنزلت کو بلند کردو۔‘‘اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: ’’اس کی قدرومنزلت کو پَست کردو۔‘‘مدنی گلدستہ’’اِنکِساری‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) تکبر جنت سے دوری کا باعث ہے ۔
(2) ایمان وعرفان عاجز و مُنکسردلوں میں ہی آتا ہےمُتکبر دلوں میں نہیں۔
(3) جوحق بات جھٹلائے اور لوگوں کو حقیر سمجھےوہ متکبر ہے۔
(4) بروزِ قیامت متکبرین چیونٹیوں کی شکل میں لائے جائیں گے اور لوگ انہیں قدموں سے روندتے ہوں گے۔
(5)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں پر اِترانا،انعامات پر فخر کرنااوراس کے بندوں پر تکبُّر کرنا شیطان کے جال ہیں ۔
(6) جو عاجزی کے مقام پر تکبر کرے تو وہ عزت والے مقام پر بھی پر ذلیل و رُسوا کر دیا جاتا ہے۔
(7) متکبرین جہنم میں ”بولَس“ نامی قید خانے میں ہوں گے جہاں انہیں جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تکبر سے محفوظ فرمائےاور عاجزی وانکساری عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 612