باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 612
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ. قَالَ رَجُلٌ:اِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ اَنْ يَكُونَ ثَوْ بُهُ حَسَناً، ونَعْلُهُ حَسَنَةً َ؟ قَالَ:اِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ،اَلْكِبْرُ بَطَرُ الحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ.
عن عبدالله بن مسعودرضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر. قال رجل:ان الرجل يحب ان يكون ثو به حسنا، ونعله حسنة ؟ قال:ان الله جميل يحب الجمال،الكبر بطر الحق وغمط الناس.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہووہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی: کوئی شخص یہ پسند کرتاہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں ( تو کیا یہ بھی تکبر ہے )؟ فرمایا :’’بے شک!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجمیل ہے، جمال کو پسند فرماتا ہے،تکبر تو حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کانام ہے۔‘‘
شرح حدیث
رائی کے دانے برابرتکبر:حدیثِ مذکور میں فرمایا گیا کہ ”جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہووہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔“حکیم الامت مفتی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناس کی شرح میں فرماتے ہیں :”اس فرمانِ عالی کے چند معنیٰ ہوسکتے ہیں:*ایک یہ کہ دنیا میں جس کے دل میں رائی برابر کفر ہو وہ جنت میں ہرگز نہ جاوے گا۔کِبْرسے مراداللّٰہورسول کے سامنے غرور کرنا یہ کفر ہے۔*دوسرے یہ کہ دنیا میں جس کے دل میں رائی کے برابر غرور ہوگا وہ جنت میں اوّلاً نہ جائے گا۔*تیسرے یہ کہ جس کے دل میں رائی برابر غرور ہوگا وہ غرور لے کرجنت میں نہ جائے گا پہلے ربّ تعالیٰ اس کے دل سے تکبر دور کردے گا پھراسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۷))(پ۱۴، الحجر:۴۷)( ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئےآپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔)(مزید فرماتےہیں)خیال رہے کہ آگ میںکِبْروغرورہے خاک میں عجز واِنکساری،دیکھ لو باغ، کھیت خاک میں لگتے ہیں آگ میں نہیں لگتے،ایسے ہی ایمان وعرفان کا باغ خاک جیسے عاجِز و مُنکسر دل میں لگتے ہیں آگ جیسے متکبر دل میں نہیں لگتے ہیں۔“اللّٰہجمیل ہے :اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”شارِحینِ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنےاس کے مختلف معانی بیان فرمائے ہیں:*بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکاہرحکم حسین وجمیل ہے ،اس کے سب نام اچھے ہیں اس کی سب صفات جمال وکمال والی ہیں۔*بعض نے فرمایا:جمیل بمعنیمُجْمِلہے یعنی جمال عطا فرمانے والاجیسے کریم بمعنیمُکْرِمیعنی کرم کرنے والا اورسمیع بمعنیٰمُسْمِعیعنی سنانے والا ہے۔*حضرت سیدناامامقُشَیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جمیل بمعنیٰ جلیل ہے۔*علامہ خطّابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:*جمیل کا معنیٰ ہے جمال کامالک ۔*ایک مطلب یہ بیان کیا گیاہےکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے اَفعال جمیل ہیں،وہ تم پر لُطف و کرم فرماتاہے، تم پر تھوڑے کام لازم کرتا ہے،ان کی ادائیگی میں بھی تمہاری مدد فرماتا ہےاور پھربہت زیادہ اَجرعطا فرماتاہے۔‘‘مرآۃُالمناجیح میں حدیث پاک کے اِس حصے ”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجمیل ہے ۔“ کا یہ مطلب بیان کیا گیاہے کہ ربّ تعالیٰ ذات و صفات میں اچھا ہے،جمیل ہے۔ مخلوق اس کی صفات کی مَظہرہے تو مسلمان کو چاہیے کہ اپنی عادات،صورت،لباس،اعمال اچھے رکھے تاکہ ربّ تعالیٰ کی صفتِ جمیل کامَظہر بنے،نیز اِس لباس میں رب تعالیٰ کی نعمت کا اِظہار ہے جومحبوب ہے۔تکبرومتکبرکی مذمت:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!مغرورشخص نہ دنیا میں معزز ہے نہ آخرت میں جبکہ عاجزی وانکساری کرنے والا دنیامیں بھی معزز ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی عزت افزائی ہو گی۔جودنیا میں لوگوں کو حقیر جانتے ہیں بروزِ قیامت انہیں ایسی ذلت و رُسوائی کا سامنا ہوگا کہ لوگ انہیں قدموں سے روندتے ہونگےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں ان کا کوئی مرتبہ و مقام نہ ہوگا ۔چنانچہ*منقول ہے کہ بروزِقیامت مُتکبِّرِین کوانسانی شکل والی چیونٹیوں کی صورت میں ا ٹھایا جائے گا، ہرطرف سے ان پرذِلَّت طاری ہو گی،انہیں جہنم کے’’بُولَس‘‘ نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گااوربہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آ جائے گی، انہیں’’طِیْنَةُ الْخَــبَال‘‘یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔*اورایک روایت میں ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں ان کی کوئی قدرومنزلت نہ ہوگی اس لئے لوگ انہیں اپنے قدموں تلے روندتے ہوں گے۔*حضرت سیِّدُنا وَہْب بنمُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے جب جنتِ عدن کو پیدا فرمایا تو اس کی طرف دیکھ کرفرمایا:”تو ہر مُتکبرشخص پر حرام ہے۔“*حضرت سیِّدُنا نُعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتےہیں :”بے شک !شیطان کے بہت سے پھندے اور جال ہیں جن میں سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں پر اِترانا، اس کے انعامات پر فخر کرنا، بندگانِ خُدا پر تکبُّر کرنا اورغیرُ اللّٰہکے لئے خواہش کے پیچھے چلنابھی ہے۔“عاجزی کی فضیلت:تکبر کی ضد عاجزی ہے۔*آقائے دو جہان، رحمتِ عالَمیانصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتعلیمِ اُمَّت کے لئےوقتاً فوقتاًعاجزی کا اظہار فرماتے اور اپنے صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوبھی عاجزی و اِنکساری کا درس دیتے۔رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:” جو شخص عاجزی کرےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے بلندی عطافرماتا ہے اور جو تکبر کرےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاسے ذلیل کرتا ہے۔*حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:ہرشخص کے سرمیں ایک لگام ہوتی ہے جسے ایک فرشتہ تھامے ہوتا ہے، اگر وہ تواضع کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: ’’اس کی قدرومنزلت کو بلند کردو۔‘‘اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے: ’’اس کی قدرومنزلت کو پَست کردو۔‘‘مدنی گلدستہ’’اِنکِساری‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) تکبر جنت سے دوری کا باعث ہے ۔
(2) ایمان وعرفان عاجز و مُنکسردلوں میں ہی آتا ہےمُتکبر دلوں میں نہیں۔
(3) جوحق بات جھٹلائے اور لوگوں کو حقیر سمجھےوہ متکبر ہے۔
(4) بروزِ قیامت متکبرین چیونٹیوں کی شکل میں لائے جائیں گے اور لوگ انہیں قدموں سے روندتے ہوں گے۔
(5)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں پر اِترانا،انعامات پر فخر کرنااوراس کے بندوں پر تکبُّر کرنا شیطان کے جال ہیں ۔
(6) جو عاجزی کے مقام پر تکبر کرے تو وہ عزت والے مقام پر بھی پر ذلیل و رُسوا کر دیا جاتا ہے۔
(7) متکبرین جہنم میں ”بولَس“ نامی قید خانے میں ہوں گے جہاں انہیں جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تکبر سے محفوظ فرمائےاور عاجزی وانکساری عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 612